انصاف کسے ملا، مودی کو یا فساد متاثرین کو؟

وسیم راشد 
p-5بارہ سال بعد جب ذکیہ جعفری کی کلوز رپورٹ پر احمد آباد کی نچلی عدالت کا فیصلہ مودی کے حق میں آیا اور اس کے بعد مودی کے حامیوں نے جس طرح سے خوشی کا مظاہرہ کیا اور خود مودی نے ٹویٹ کیا ’’ ستیہ میو جیتے‘‘۔ایسا لگا جیسے مودی کو 2002 کے فساد سے پوری طرح کلین چٹ مل گئی ہے اور پھر مودی نے نیا چولا پہنا اور اپنے بلاگ میں لکھا کہ انہیں اس فساد کا دکھ ہوا اور میں ان دنوں بہت تکلیف میں تھا۔بلاگ کو پڑھیں تو کہیں بھی مودی نے پچھتاوا جیسا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا ہے۔ انہوں نے جو بھی انگریزی کے لفظ استعمال کیے ، اس میں دکھ، تکلیف اور غم کے الفاظ استعمال کیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی اگر بے گناہ تھے تو کیا آئینی طور پر اس فساد کو روکنے کی ذمہ داری مودی پر نہیں تھی۔ آج مودی نے پھر سے الیکشن 2014 کے مد نظر جو الفاظ استعمال کیے ہیں اور جو دائوں کھیلا ہے وہ ایک بار پھر مسلمانوں کے زخموں کو ہرا کرنے کے لئے کافی ہے۔
کچھ حادثات ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ ہمارا پیچھا کرتے ہیں۔مسلمانوں پر ظلم و ستم، ان کو زندہ جلا دینا، ان کی بستیوں میں آگ لگا دینا، گجرات فساد اور مسلمانوں کی نسل کشی اور مسلمانوں سے مودی کی نفرت کے تعلق سے اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ اب اس موضوع پر قلم اٹھانے کو جی نہیں کرتا لیکن کسی کسی سانحہ کے زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ وہ ناسور بن جاتے ہیں اور رستے رہتے ہیں اور شاید کبھی نہیں بھرتے۔2002 میںگجرات میں جو بھی ہوا وہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس فساد سے آج بھی گجرات کے برباد ہوئے مسلمانوں کی زندگی عذاب ہے ،بازآبادکاری کا کام نہ کے برابر ہوا ہے۔مسلمان مالی اعتبار سے بہت پچھڑے ہوئے ہیں۔نوکریوں میں بھی ان کے ساتھ تعصب برتاجارہا ہے۔

کـب کـیا ہـوا

 جون 2006 کو ذکیہ جعفری نے اپنے شوہر احسان جعفری کے قتل پر ایک شکایت درج کرائی جس میں نریندر مودی اور دیگر 58 لوگوں کو نامزد کیا۔
 مارچ 2008 سپریم کورٹ نے سابق سی بی آئی ڈائریکٹر آر کے راگھون کی لیڈر شپ میں SIT ٹیم تشکیل دی۔
 فروری 2009 SIT نے 9 کیسوں کی تفتیش شروع کی۔
 اپریل 2010 SIT سیل بند رپورٹ سپریم کورٹ کو سونپی۔
 فروری 2012 SIT نے کلوز رپورٹ سپریم کورٹ کو سونپی جس میں مودی کو تمام الزامات سے بری کردیا۔
 اپریل 2013 ذکیہ جعفری نے SIT کلوز رپورٹ کے خلاف ایک پروٹسٹ پٹیشن داخل کی۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جس نریندر مودی کو آج وزیر اعظم کا دعوے دار بتا یا جارہا ہے ۔ اس کو اگر بے گناہ مانتے ہیں اور اب احمد آباد کی میٹرو پولیٹن عدالت میں ذکیہ جعفری کی جو پٹیشن رد ہوئی ہے اس کو دیکھا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گجرات کے 2002 فساد میں مسلمانوں کو کس نے مارا ہے؟نریندر مودی چیف منسٹر تھے ۔اگر وہ فساد روکنے میں ناکام رہے تو پھر انہیں اس عہدے پر رہنے کا کیا حق تھا اور اگر گجرات کے عوام نے ان کو دوبارہ چنا تو اس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں لگایا جانا چاہئے کہ مودی عوام میںاور خاص کر مسلمانوں میں مقبول تھے۔ڈر اور خوف سے بھی ووٹ دیا جاسکتا ہے اور جبراً بھی ووٹ لیا جاسکتاہے۔
75 سالہ ذکیہ جعفری ایک بوڑھی نحیف و نزار خاتون ہیں مگر ان کی آنکھوں میں شوہر کو بے دردی سے جلائے جانے کا کرب آج بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بوڑھی عورت کیوں عدالتوں کے چکر لگارہی ہے اور ایک با اثر اور با رسوخ وزیر اعلیٰ کے خلاف کھڑی ہوئی ہے۔ ایس آئی ٹی مودی کو کلین چٹ دے چکی تھی۔ لیکن اس باہمت عورت نے پھر سے اس کلین چٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی اور اس میں 61 لوگوں کے نام درج تھے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے سابق سی بی آئی ڈائریکٹر آر کے راگھون کی قیادت میں معاملہ کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ ایس آئی ٹی نے بھی فسادات میں مودی کو صاف بچا دیا تھا۔
مودی نے ٹویٹ پر لکھا ’’ ستیہ میو جیتے‘‘ ۔لیکن کیا مودی اس سچائی سے انکار کریں گے کہ اگر ان کو اس فساد سے صاف بچا دیا جائے تو ان کے ساتھی ،ان کے افسران ،ان کے اعلیٰ عہدیداران اس فساد میں غیر جانبدارانہ کردار ادا نہیں کر رہے تھے۔ عینی شاہدین نے جن میں ایک عبد الشیخ کا بیان آج بھی ہمیں یاد ہے ۔2012 میں جب 31افراد کو مسلمانوں کے قتل کا مجرم مانا گیا تھا ،اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا جب مایا کوڈنانی جو ایک گائنا کولوجنٹ ہیں ۔انہوں نے ہزاروں فسادیوں کو یہ کہتے ہوئے اکسایا کہ ان حرامیوں کو قتل کردو‘۔ یہ وہی مایا کوڈنانی ہیں جسے عدالت سے سزا سنائی جا چکی ہے۔ اس مایا کوڈنانی نے عبد الشیخ کی حاملہ بیوی کا کئی بار الٹرا سائونڈ کیا تھا اور اس فساد میں ان کی بیوی بھی ماری گئی تھی۔ آج جب ذکیہ جعفری کی درخواست پر عدالت کا فیصلہ آیا ہے تو سیاسی تجزیہ نگار امولیا گنگولی کا بیان یاد آرہا ہے کہ بی جے پی کا مرکزی حلقہ انتہا پسند ہے،لیکن کسی ریاست کے وزیر اعلیٰ کو یا اس کے افسران کو انتہا پسند ہونے کا حق نہیں ہے۔ ریاست کا سربراہ بمقام باپ کے ہوتا ہے جسے سب کی فکر ہونی چاہئے۔ آج مودی کے حامی بڑی بے شرمی سے کہہ رہے ہیں کہ کیا ہندوستان میں گجرات کا فساد اکیلا فساد تھا؟پھر اس بے شرمی پر ان سے سوال کیا جانا چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ اس فساد کی وجہ سے مودی پوری دنیا میں بد نام ہیں ۔کیوں امریکہ ان کو ویزا نہیں دیتا ۔کیوں انگلینڈ میں ان کی آمد ممنوع ہے؟کیوں سنجیو بھٹ جیسے اعلیٰ آئی پی ایس مودی کے خلاف کھڑے ہیں۔ تیستا سیتلواڑ لگاتار ذکیہ جعفری کیس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تیستا کا کہنا تھا کہ اس پورے فساد کے دوران آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے لوگوں نے ذاتی طور پر مرد و خواتین کو اس بات کی یقین دہانی کراتے ہوئے انہیں ریلوے یارڈ میں بھڑکایا کہ مودی کی قیادت میں حکومت اور انتظامیہ کے ذریعہ گودھرا کا انتقام لینے کے لئے کافی وقت دیا جائے گا۔ آج جو مودی کو معصوم مانتے ہیں ان کو اگر ثبوت درکار ہے تو تہلکہ کے وی ایچ پی کے رمیش دوبے ، راجندرویاس ،بی جے پی اور بجرنگ دل کے ہریش بھٹ کے ٹرانسکرپٹ، وی ایچ پی کے انل پٹیل ، وغیرہ ایس آئی ٹی کے ریکارڈ میں موجود ہیں اور ان کے یہ بیانات انکسچر 1 اور 2 میں موجود ہیں ۔ اسی طرح کرفیو نافذ کرنے سے بھی گریز کیا گیا اور احمد آباد میں دانستہ طور پر کرفیو نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ جب کہ 3 ہزار سے زیادہ آر ایس ایس کے کارکنان کو سولا سول اسپتال میں جمع ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ یہ بھی الزام ہے کہ بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ احمد آباد کے دو مقامات کی سڑکوں پر کئی گھنٹوں تک آخری رسوم ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی اور اسی دن 28 فروری کو نرودہ پاٹیہ، نرودہ گام اور گلبرگ سوسائٹی میں دن دہاڑے 200 سے زیادہ افراد کا قتل عام ہوا۔ عصمت دری کی گئی اور اسی میں کانگریس کے سابق ایم پی احسان جعفری کو زندہ جلا دیا گیا۔ حالانکہ پولیس کنٹرول روم کے ریکارڈ میں میسج موجود تھا اور پہلے ایس آئی ٹی نے اسے دکھانے سے انکار کردیا تھا لیکن 15 مارچ 2011 کو سپریم کورٹ نے مزید تفتیش کرنے کے لئے یہ میسیج مانگے تو سابق پولیس کمشنر پی سی پانڈے نے ایک سی ڈی پیش کی تھی جس میں میسیج توڑ مروڑ کر سنوائے گئے اور دکھائے گئے۔ ایس آئی ٹی ریکارڈ کے صفحہ 5794،5796,976 اور 5826 انسکچر 1VفائلX1V پر موجود ہے۔گلبرگہ سوسائٹی میں جو قتل عام ہوا اور جو وحشت و بربریت کا ننگا ناچ ہوا اس کے گواہ بہت ہیں اور مودی کی لاتعلقی کے گواہ بھی بہت ہیں ۔لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس،کل بھی گجرات کا بادشاہ مودی تھا اور آج بھی گجرات کا بادشاہ مودی ہی ہے پھر کس سے دادو فریاد۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *