حکومت کی چالاکی ہے کہ اپنے کاموں کی تائید کا اعلان کسی مسلم لیڈر سے کراتی ہے: ڈکٹر مفتی مکرم

p-11دہلی کے چاندنی چوک پر واقع تاریخی مسجد فتح پوری تقریباً 400 برس کے نشیب و فراز کی گواہ ہے۔ اس نے آزادی کی لڑائی دیکھی ہے،اس کی پوری جد و جہد دیکھی ہے اور اس لڑائی میں بے شمار لوگوں کی قربانیاں دیکھی ہے۔ 1650 میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی ایک اہلیہ فتح پوری بیگم کے ذریعے تعمیر کرائی گئی اس مسجد کی شروع سے مختلف شاہی ائمہ امامت کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد گزشتہ 44 برسوں سے شاہی امام ہیں۔ یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ 1952 میں پیدا ہوئے مفتی مکرم کئی کتابوں کے مصنف اور کالم نویس بھی ہیں۔ان کی خدمات اور سرگرمیوں پر جلال الدین اسلم ،سعید اختر اعظمی اور نوشاد احمد نے 616 صفحات پر مشتمل کتاب بھی لکھی ہے۔ اپنے جمعہ کے خطبوں اور کتابوں و مضامین میں یہ ملک کو درپیش مسائل و چیلنجز پر اظہار خیال کرتے رہتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ملک کے مقتدر و دیگر اہم شخصیات ان سے گفت و شنید کرنے آتے رہتے ہیں۔ حتی کہ راجدھانی میں مختلف اسکولوں کے طلباء جب اس تاریخی مسجد کو دیکھنے آتے ہیں تو وہ خصوصی سیشن میں ان سے استفادہ بھی کرتے ہیں۔ اس انٹرویو کے دوران بھی ٹیگور اسکول بسنت وہار کے تقریباً ایک سو طلباء سے انکا انٹریکشن پروگرام (سوال و جواب) ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نئی نسل کے درمیان بہت ہی مقبول ہیں۔ اب سے قبل ان کا ایک انٹرویو ’’چوتھی دنیا ‘‘کے ڈاکٹر قمر تبریز نے ( شمارہ 4 نومبر تا 11 نومبر 2011 ) لیا تھا اور اب اے یو آصف اور وسیم احمد کے ذریعے لئے گئے اس انٹرویو سے بہت سے نکات سامنے آئے ہیں جو کہ چونکانے والے ہیں۔

ملک کو آزاد ہوئے 66 برس ہوچکے ہیں۔کیا اس دوران ملک آزادی کے مقصد کو پاسکا ہے یا نہیں ؟
مجاہدین آزادی اور رہنمائوں نے ملک کی آزادی کے بعد کا جو خواب دیکھا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔دراصل ملک کا جو نظام بنایا گیا تھااس کو نافذ کرنے میں سنجیدگی نہیں برتی گئی۔ اگر ہمیں ملک کو ترقی یافتہ اور پُر امن دیکھنا ہے تو گاندھی جی کے اس قول کو اختیار کرنا ہوگا کہ ’’ملک کو چلانے کے لئے ہمیں حضرت عمر جیسا انصاف لانا چاہئے‘‘۔ آج ملک کے اندر فرقہ واریت، نا انصافی، بد عنوانی اور عدم مساوات ہر طرف عام ہے۔ملک میں جو نظام چل رہا ہے اس میں جھول ہے یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کو انصاف اور اس کا حق نہیں مل پارہا ہے۔ اسی طرح بیرونی سطح پر بھی ہماری پالیسی بدل گئی ہے۔جواہر لال نہرو سے لے کر اندرا گاندھی تک سب کی پالیسی یہی رہی کہ ہندوستان ہمیشہ فلسطین کے ساتھ کھڑا تھا اور عربوں کی دوستی کو فروغ دیتا تھا مگر اب فلسطین کو چھوڑ کر اسرائیل کو گلے لگایا جارہا ہے۔ظاہر ہے کہ بیرونی پالیسی میں تبدیلی اور اندرونی پالیسی میں عدم توجہ کی وجہ سے ملک افرا تفری کا شکار ہے۔
کیا علماء کرام اور مذہبی لوگوں کو سیاست میں دلچسپی لینی چائے؟
یہ اپنی اپنی دلچسپی کی بات ہے۔اگر دلچسپی ہو تو سیاست میں حصہ لینا چاہئے۔ ویسے جمعہ کے خطبے میں جو بیان آتا ہے اس میں بھی دین اور دنیا دونوں طرح کی رہنمائی شامل ہوتی ہے۔جہاں تک میری اپنی بات ہے تو مجھے سیاست میں حصہ لینے کا شوق تو نہیں ہے لیکن جب کبھی مسلم سماج کے تعلق سے ضرورت پڑتی ہے اور معاملہ ملت کے تعلق سے ہوتا ہے تو میں جمعہ کے بیان میں اس طرف عوام کی توجہ بھی دلاتا ہوں۔ علاو ہ ازیں ضرورت پڑنے پر صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کے علاوہ صدر کانگریس سونیا گاندھی و دیگر کو خطوط لکھ کر اس طرف دھیان بھی دلاتا ہوں۔
فی الوقت ملک کو درپیش بنیادی مسائل کیا کیا ہیں؟
اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ ہے انصاف کا نہ ہونا۔اس کے علاوہ بد عنوانی ، تعلیم کی کمی اورفرقہ واریت یہ تمام نیشل ایشوز ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ذات و برادری کی سطح سے اوپر اٹھ کر مرکزی و ریاستی حکومتوں کو دھیان دینا چاہئے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت میں بیٹھے لوگ صاف و شفاف کردار کے حامل ہوں۔ آج حالت یہ ہے کہ انتخابات کے موسم میں امیدواروں کے ٹکٹ بڑی قیمتوں پر بکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نااہل لوگ پیسہ کے بل پر اقتدار تک پہنچ جاتے ہیں ۔ ملک میں بد نظمی فروغ پاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب ان رہنمائوں کو ملک کے کسی مسئلے کی طرف توجہ دلانے کے لئے خطوط لکھے جاتے ہیں تو وہ ان خطوں کے جواب دینے تک کی زحمت نہیں کرتے۔ اگر امیدواروں کے انتخاب میں شفافیت ہو تو بہت سے قومی مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں۔
بد عنوانی کے خاتمے کے لئے انا ہزارے کی لوک پال کے تعلق سے کوشش کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
میں اسے اچھی نظر سے دیکھتا ہوں لیکن خطرہ یہ ہے کہ اس قانون میں بد عنوانی داخل ہوسکتی ہے۔کیونکہ لوک پال کے لئے جو لوگ ذمہ دار بنائے جائیںگے ان کی ایمانداری کی ضمانت کون لے گا؟ لیکن پھر بھی انا ہزارے نے ایک اچھی تحریک چلائی اور ان کی تحریک کے نتیجے میں یہ قانون بنا ۔ لہٰذامیں انہیں اس کامیاب تحریک پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
آپ کی نظر میں ہندوستانی مسلمانوں کے اصل ایشوز کیا ہیں؟
مسلمانوں کے سامنے اصل ایشو روزگار اور تحفظ کے ہیں۔روزگاری کی جو حالت ہے وہ سچر کمیٹی رپورٹ سے واضح ہے۔بے روزگاری کی ایک وجہ تعصب ہے۔ تعصب کی یہ ذہنیت آزادی کے بعد سے ہی کہیں نہ کہیں کام کررہی ہے۔ آزادی کے وقت مسلمانوں کی موجودگی سرکاری ملازمتوں میں 28 فیصد تھی جو گھٹتے گھٹتے اب 2 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے چنانچہ ایک مرتبہ معروف کانگریسی لیڈر آنجہانی ایچ کے ایل بھگت نے خود مجھ سے بتایا کہ دہلی میں ماتا سندری روڈ پر ایک کالج کے انٹرویو میں علی گڑھ کا ایک با صلاحیت امیدوار شامل تھا مگر مینجمنٹ نے اس کو نہیں لیا کیونکہ وہ مسلم تھا اور سیکنڈ یا تھرڈ درجے پر جو ایک غیر مسلم تھا اس کو منتخب کرلیا۔غرضیکہ مسلمانوں کے ساتھ تعصب کا یہ سلسلہ مستقل جاری ہے اور انہیں کسی نہ کسی طرح روزگار سے الگ رکھا جاتا ہے اور یہی صورت حالمسلمانوں کے تحفظ کی بھی ہے ۔ انہیں فسادات میں تباہ و برباد کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے تو فرقہ پرستوں نے باضابطہ لسٹیں بنا رکھی ہیں کہ مسلمان کہاں اور کتنی تعداد میں ہیں اور کہاں ان کی مالی حیثیت کیسی ہے۔ اس طرح وہ منصوبہ بند طریقے سے مسلمانوں کو تباہ کرتے ہیں۔
اگر سرکاری ملازمت نہیں ملتی ہے تو انہیں کاروبار کی طرف دھیان دینا چاہئے لیکن انہوں نے اپنے روایتی صنعتی کام کو چھوڑ کر نوکری پر تکیہ کرلیا ہے۔آخر کیوں؟
اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ مالی اعتبار سے کمزور ہوگئے ہیں۔ جو لوگ یہ کارو بار کرتے تھے ان کی فیکٹریوں کو لوٹ لیا گیا۔ دوبارہ کام شروع کرنے کے لئے ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ لہٰذا ان کا یہ کام بھی دھیرے دھیرے غیرمسلموں کے ہاتھوں میں ہی چلا گیا اور اس طرح وہ ایک طرف سرکار کی غلط پالیسی کی وجہ سے نوکریوں سے محروم کیے گئے تو دوسری طرف فرقہ پرستوں کی وجہ سے ان کی فیکٹریاں تباہ و برباد ہوگئیں۔اب اگر کچھ کارو بار مسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں تو اس میں بھی ہر وقت خطرہ لگا رہتا ہے کہ کب وہ فرقہ پرستوں کے ہتھے چڑھ جائیں۔
راہل گاندھی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ نچلی سطح سے لے کر اوپر تک مسلمانوں کی قیادت نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی بھرپائی ہونی چاہئے۔کیا آنے والی قیادت مسلمانوں کے لئے کچھ کرے گی؟
راہل گاندھی ابھی طفل ِ مکتب ہیں ۔انہیں سیاسی شعور نہیں ہے۔راہل گاندھی مسلم قیادت والی بات تو کہہ رہے ہیں لیکن اس پر عمل نہیںہوسکے گاکیونکہ انتظامیہ میں وہی لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو فرقہ پرست ذہنیت کے حامل ہیں۔لہٰذا وہ مسلمانوں کا کام کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔اگر راہل گاندھی واقعی مسلمانوں کا بھلا چاہتے ہیں تو انہیں انتظامیہ میں صاف ذہنیت کے لوگوں کو لانا چاہئے۔
کیا بابری مسجد،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور فرقہ وارانہ فسادات جیسے مسائل کو پیدا کرکے مسلمانوں کو الجھانے کی کوشش نہیںکی جاتی ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ یہ مسئلے یا اس طرح کے دیگر مسئلوں کو اٹھا کر مسلمانوں کے حوصلوں کو پست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ایسے مسائل کی وجہ سے ہی فرقہ پرستوں کو مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔چنانچہ ان ایشوز کو لے کر ان جگہوںپر جہاں پر مسلمان کچھ خوشحال ہیں فسادات کرانے کا ماحول بنایا جاتا ہے۔
سچر کمیٹی رپورٹ کے بارے میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کی 76 میں سے 73 سفارشوں پر عمل ہوچکا ہے ۔اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟
ہمیں تو نظر نہیں آتا ہے کہ کسی سفارش پر واقعی عمل ہوا ہو۔البتہ حکومت ایک ہوشیاری ضرور کرتی ہے کہ اپنے دعوے کی تائید اور اعلان کسی مسلمان لیڈر کے ذریعہ ہی کراتی ہے تاکہ مسلم کمیونیٹی کو حکومت کے دعوے پر یقین آجائے مگر سچی بات یہ ہے کہ تمام سفارشوں کی محض خانہ پُری ہوئی ہے، عملی طور پر کام نہیں ہوا ہے۔جن سفارشوں پر عمل ہوا ہے وہ بھی ناقص ہی ہیں۔ تعلیمی وظیفے کی ہی مثال لے لیجئے۔ اسکالر شپ دینے کے لئے شرط رکھی گئی ہے کہ طالب علم کو’ٹاپر‘ ہونا چاہئے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو غریب بچے ہیں اورٹاپر نہیں ہیں مگر آگے تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں تو وہ اپنی تعلیم کیسے جاری رکھیں گے؟ اس لئے بہتر طریقہ تو یہ ہوتا کہ پسماندگی کی بنیاد پر وظیفہ دیا جاتا تاکہ جو بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہے،اس کے لئے مواقع مہیا ہوں۔ اس سلسلے میں مسلم لیڈروں کا کردار بھی بہتر نہیں ہے۔ وہ حکومت کو تعمیری مشورہ دینے کے بجائے خوشامد میں لگے رہتے ہیں۔
مدرسہ بورڈ کے قیام کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
میں چاہتا ہوں کہ مدرسہ بورڈ بنے تاکہ بچے دینی و عصری دونوں طرح کی تعلیم حاصل کریں اور حکومت میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچیں ۔جب دینی شعور لے کر بچے اعلیٰ عہدوں پر پہنچیں گے تو ملک سے بد عنوانی اور عدم مساوات کا خاتمہ ہوگا۔
کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخاب میں ملک کا سیاسی منظر نامہ بدلنے جارہا ہے؟
عوام بہت پریشان ہیں۔ لوگ جو تلاش رہے ہیں وہ موجودہ سیاسی پارٹیوں میں دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی میں جب ایک نئی پارٹی آئی تو لوگوں نے اسے اپنا ووٹ دیا اس امید پر کہ شاید ان کی امید اس نئی پارٹی سے پوری ہو۔مجھے لگتا ہے کہ آئندہ پارلیمانی الیکشن میں بھی لوگ بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ کسی متبادل کو ترجیح دیںگے۔
ملک میں وقف املاک بڑی تعداد میں ہیں۔ اگر انہیں مسلمانوں کو دے دیا جائے تو مسلمانوں کی تمام ضرورتیں ان سے پوری ہوسکتی ہیں۔اس پرآپ کیا سوچتے ہیں؟
یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ حکومت کی مدد اور پیش رفت کے بغیر وقف املاک کی بازیابی ممکن نہیں ہے۔ہم نے کئی مرتبہ مطالبہ کیا ہے کہ وقف املاک کے لئے ایک بورڈ بنایا جائے اور اس کے رکن غیر سیاسی لوگوں کو بنا یا جائے توان املاک سے استفادہ کیا جاسکتا ہے مگر اس تجویز پر دھیان نہیں دیا گیا۔ویسے اس تعلق سے یہ خبر اچھی ہے کہ حکومت دہلی میں 123 املاک کو ڈی نوٹیفائی کرکے دہلی وقف بورڈ کے حوالے کرنے جارہی ہے جنہیں کولکاتا سے راجدھانی نئی دہلی منتقل ہونے پر برطانوی حکومت نے 1911 سے لے کر 1915 تک ایکوائر کرلیا تھا۔ ان املاک میں سے 61 فی الوقت لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس تو بقیہ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی تحویل میں ہیں۔
انسداد فرقہ واریت بل اس مرتبہ پاس نہیں ہوا۔ اس پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟
سچ تو یہ ہے کہ حکومت اس بل کو پاس کرنے کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا اگر کانگریس کو اگلا پانچ سال مل جائے تو بھی وہ اس بل کو پاس نہیں کرے گی۔
رنگناتھ مشرا کمیشن کی پوری رپورٹ کو لے کر ’’چوتھی دنیا‘‘ نے چھاپی تھی جس کو ملائم سنگھ نے پارلیمنٹ میں لہرایا تھا۔ آپ اس قدم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
میڈیا کا کام ہی ہے کہ وہ غیر جانبدار ہوکر سچائی کو سامنے لائے۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے مشرا کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا جو عظیم کام انجام دیاہے وہ قابل مبارکباد ہے۔ اس عمل سے’’ چوتھی دنیا‘‘کا شفاف صحافیانہ کردار سامنے آیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *