اسکول کی حالت میں کس طرح سدھار ہوگا

ہمارا ملک ہندوستان، جہاں کی 70فیصد آبادی گاؤں میں بستی ہے، ترقی پذیر اس ملک میں ابھی بنیادی ضروریات کا فقدان ہے۔ ایسے میں جبکہ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد زیادہ ہے،تعلیم جیسی ثانوی ضرورت کیسے پوری کی جائے۔ ظاہر ہے پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم پانا تو امیروں کا کھیل ہے ۔ ایسے میں سرکاری اسکول اس ملک کے کروڑوں بچوں کے لیے کسی لائف لائن سے کم نہیں ہیں۔ اس آبادی کے لیے جو 20روپے یومیہ سے کم آمدنی پر اپنی زندگی کی گزربسر کرتی ہے، اس کے لیے سرکاری اسکول ہی ایک راستہ بچتا ہے، جہاں غریب بچوں کو تعلیم مل سکتی ہے۔ سرکار نے تعلیم اور خاص طور سے بیسک تعلیم کے فروغ کے لیے بہت سی اسکیمیں بنائی ہیں اور وہ ان اسکیموں پر اربوں روپے خرچ بھی کر رہی ہے۔ ’سرو شکشا ابھیان‘ اس کی بہترین مثا ل ہے، لیکن اس کے باوجود گاؤوں میں زیادہ تر اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالت میں ہیں۔ کبھی ان اسکولوں میں بلیک بورڈ ہوتا ہے، تو چاک نہیںہوتی ہے۔ چاک ہوتی ہے، تو بیٹھنے کے لیے کرسیاں نہیں ہوتیں، اگر کرسیاں ہیں بھی، تو ٹوٹی پھوٹی حالت میں ہوتی ہیں، جب کہ ا ن ضروری چیزوں کے لیے ہر اسکول کو ہر سال بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر پیسہ ملنے کے باوجود بیسک اسکولوں کی حالت خراب کیوں رہتی ہے؟
ایسی حالت میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے اس بات پر نظر رکھیں کہ آخر اسکول کی ترقی کے آنے والے پیسوں کا کہیں غلط استعمال تو نہیں ہو رہا ہے۔ ایسی خبریں اکثرسننے کو ملتی ہیں کہ اسکول کی ترقی کے لیے آنے والی رقم کو ہیڈ ماسٹر، مکھیا، پردھان اور افسران مل کر خوردبرد کردیتے ہیں۔ ہمیں پیسوں کی اس چوری کو روکنے کے لیے قدم تو اٹھانا ہی ہوگا، کیونکہ یہ ہمارا ہی پیسہ ہے، جو ہم ٹیکس کی شکل میں سرکار کو دیتے ہیں اور پھر سرکار ان پیسوں کو ہماری ترقی کے لیے خرچ کرتی ہے۔ تو کیا ہم اپنی ترقی کے لیے آنے والے پیسوں کا حساب نہیں مانگنا چاہیں گے؟ آئیے اس شمارے میں شائع ہوئی درخواست کا استعمال کیجئے اور اپنے علاقے کے سرکاری اسکول کی ترقی سے متعلق اخراجات کا حساب مانگئے۔ آپ اس درخواست کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں کہ کسی خاص سال میں آپ کے علاقے کے اسکول کی ترقی کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی، کن ایجنسیوں کے ذریعے یہ کام کرائے گئے، کن لوگوں نے مذکورہ کام کو صحیح بتایا اور ٹھیکیدار کوادائیگی کی اجازت دی، ٹھیکیدار کو مذکورہ کام کے لیے کتنی رقم ادا کی گئی؟ اگر آپ اس طرح کی اطلاع مانگتے ہیں، تو سمجھ لیجئے کہ اس طرح کی درخواست سے ان لوگوں پر ایک قسم کا دباؤ بنے گا، جو ترقی کے پیسے کو ہضم کر جاتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس طرح کی درخواست کا استعمال ضرور کریں گے اور دیگر لوگوں کو بھی اس بارے میں بیدار کریں گے۔
انفارمیشن کے سپاہی ویر پال لاکھا
ایٹہ (اتر پردیش) کے اواگڑھ میں رہنے والے ویر پال لاکھا ایک عام شہری ہیں، لیکن وہ عام ہوتے ہوئے بھی خاص ہیں، کیونکہ ان کے کام کی نوعیت خاص ہے۔ وہ عام آدمی ہوتے ہوئے بھی عام آدمی کو بااختیار بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ ویر پال لاکھا دراصل اپنے علاقے میں حق اطلاع کے انقلاب کو فروغ دے رہے ہیں، مقامی سطح پر آر ٹی آئی قانون کولیکر عوام کو بیدا کر رہے ہیں۔ لوگوں کو اس قانون کے بار ے میں بتا کر انھیں باخبر اور بااختیار شہری بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ویر پال لاکھا بتاتے ہیںکہ اس کام کو شروع کرنے میں انھیں سب سے زیادہ مدد ’چوتھی دنیا‘میں شائع ہونے والے آر ٹی آئی کے مستقل کالم سے ملی۔گزشتہ ایک سال سے وہ اس کالم کو سنبھال کر رکھ رہے ہیں اور لوگوں کے درمیان پہنچ کر انھیں آر ٹی آئی کے بارے میں بتاتے ہیں، لوگوں کو اس قانون کے استعمال کے طریقے سکھاتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں۔ چوتھی دنیا اخبار خریدنے کے لیے ویر پال لاکھا کو کبھی کبھی ضلع ہیڈ آفس تک جانا پڑتا ہے، لیکن وہ باقاعدگی سے اخبار خریدتے ہیں اور لوگوں میں مفتتقسیم کرتے ہیں۔ ویر پال لاکھا بذات خود بھی آر ٹی آئی کا استعمال کر کے بدعنوانی کے کئی معاملوں کا انکشاف کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیںکہ گاؤںکے لوگ بھلے ہی زیادہ پڑھے لکھے نہ ہوں، لیکن اس اخبار میں شائع ہونے والے آر ٹی آئی کالم کو دیکھ کر آر ٹی آیئے تیار کر لیتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *