ہندوستان پر کیوں مہربان ہے فیفا؟

نوین چوہان 

ہندوستان میں آئی ی ایل کے دھماکیدار آغاز نے کھیل کی دنیا کی تصویر ہی بدل دی تھی۔ آئی پی ایل نے ہندوستان کو دنیا کے ایک بڑے اسپورٹ مارکیٹ کی شکل میں بدل دیا۔ جس کے بعد فیفا جیسا کھیل ادارہ کسی بھی طرح ہندوستان میں فٹبال کو قائم کر کے دنیا کے سب سے بڑے اور ابھرتے اسپورٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

p-12bہندوستان آج ایک اسپورٹنگ نیشن کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کرکٹ کے علاوہ یہاں دیگر کھیل بھی دھیرے دھیرے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، لیکن دنیا کے سب سے مقبول ترین کھیل یعنی فٹبال کی پوزیشن یہاں جوں کی توں برقرار ہے۔ روایتی طور پر ہندوستان میں جن مقامات پر فٹبال کھیلی جاتی رہی ہے، ان جگہوں کو چھوڑ دیں تو فٹبال گلیوں ،محلوںمیں کھیلے جانے والے کھیل میں کبھی تبدیل نہیں ہو سکا کیونکہ یہاں اس کا سیدھا مقابلہ کرکٹ سے رہا ہے۔ ہندوستان میں فٹبال کو مقبول بنانے کی سمت میں فٹبال کے سب سے بڑے ادارے فیفا نے اب سرگرمیاں شروع کر دی ہیں اور جس کی پہل اس نے ہندوستان کو 2017میں ہونے والے انڈر-17عالمی کپ کی میزبانی دے کر کی ہے۔ فیفا ہندوستان کے سال 2022میں دوحہ میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائی کرنے کے امکانات کو تقویت دینے کی سمت میں بھی کام کرتا نظر آ رہا ہے۔اس کے علاوہ اے آئی ایف ایف ملک میں فٹبال کے معیار کو اوپر اٹھانے کے لئے آئی پی ایل کی طرز پر کھیلی جانے والی فٹبال لیگ کے منصوبہ پر غور وخوض کر رہا ہے، جس میں ریلائنس جیسے ہندوستان کے بڑے کارپوریٹ گھرانے دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی کھلاڑیوں کو یوروپی لیگ میں کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ کوکا کولا جیسی کمپنیاں ہندوستان میں فٹبال کی ترقی کے لئے اتاولی نظر آ رہی ہیں۔ اس کے پیچھے کوئی مثبت سوچ نہیں بلکہ کارپوریٹ گھرانوں کا کمائی کرنے کا حساب کتاب نظر آ رہا ہے۔ کیونکہ آج ہندوستان کا سب سے بڑا کھیل بازار ہے۔ یوروپ میں کھیلی جانے والے فٹبال ٹورنامنٹس ہندوستانیوں کو فٹبال سے جوڑنے میں کامیاب تو ہوئیں،لیکن وہ انہیں فٹبال کے میدان تک نہیں لا سکیں۔ اس وجہ سے فیفا نے اب دوسرے منصوبہ پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ فٹبال کو ہندوستان میں کرکٹ کی طرح مقبول بنانے کے لئے وہ انڈر 17عالمی کپ جیسے ٹورنامنٹ کا سہارا لے رہا ہے اور اسی راہ پر چل کر وہ ہندوستان کو فیفا ورلڈ کپ کے مین ڈرا میں بھی پہنچاناچاہتا ہے۔
دراصل فیفا نے ہندوستان میں فٹبال کو فروغ دینے کا منصوبہ کوئی سماجی سروکار کو دھیان میں رکھ کرنہیں بنایا ہے، بلکہ یہ ایک طویل مدتی سرمایہ کاری منصوبہ ہے۔ ہندوستان میں فٹبال کے فروغ کے مدنظر فیفا نے 2011میں اپنا جنوبی ایشیا کا علاقائی دفتر سری لنکا میں کھول رکھا تھا، لیکن اب اسے دہلی منتقل کر دیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فیفا ہندوستان میں چل رہے منصوبوں پر راست طور پر نظر رکھنا چاہتا ہے، جس سے کہ کم سے کم ہندوستان میں فٹبال کو زیادہ سے زیادہ مقبول بنایا جا سکے۔ ایشیامیں فیفا کی ترجیحی فہرست میں ہندوستان پہلے نمبرپر ہے۔ فیفا ہندوستان میں یوتھ اورئنٹیڈ فٹبال ڈیولپمنٹ پروگرام چل رہا ہے۔ ’دی ون ان انڈیا وِد انڈیا‘ نام سے چلائے جا رہے پروگرام کے تحت فیفا نے ہندوستان کے ساتھ مختلف علاقوں میں تکنیکی مراکز اور آٹھ مصنوعی ٹرف کی تعمیر کے لئے 80لاکھ امریکی ڈالر خرچ کئے ہیں۔اس کے علاوہ فیفا نے سال 2012میں ’پروجیکٹ گول‘ کے تحت دہلی، ممبئی کولکاتہ اور بنگلور میں چار علاقائی اکادمی کی تعمیر کے لئے اضافی فنڈ بھی مہیا کرایا ہے۔ ان بنیادی پروگراموں کے علاوہ کوچز کو تربیت دینے کے لئے بھی ایک پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے۔ علاقائی اکادمیوں میں جنوری 1999کے بعدپیدا ہونے والے کھلاڑیوں کو جگہ دی گئی ہے، جس سے کہ وہ مستقبل میں ہندوستانی فٹبال کو بلندیوں پر لے جا سکیں۔ ایک صدر اکادمی کے علاوہ پانچ اضافی اکادمیوں کے 2013میں کھیلے جانے کا منصوبہ تھا۔ ان اکادمیوں کا اہم ہدف اے ایف سی کپ اور فیفا عالمی کپ جیسے ٹورنامنٹ کے لئے تمام عمر کے کھلاڑیوں کو تیار کرنا ہے۔ انفراسٹرکچر مہیا کرانے کے علاوہ ہندوستانی نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ میچ کھیلنے کا تجربہ دینا بھی ضروری ہے۔ وہ بھی تب جب ہندوستان کی انڈر-16ٹیم 2007اور 2011میں اے ایف سی ٹورنامنٹ میں کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ اس کے لئے بھی فیفا کام کر رہا ہے۔ اسی کڑی میں ہندوستان کو 2017میں ہونے والے انڈر-17عالمی کپ کا میزبان بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ہندوستان 2015اور 2016میں سینئر سطح پر ہونے والی کلب چمپئن شپ کی میزبانی کے لئے بھی اپنی دعویداری پیش کرنے جا رہا ہے۔ اس بات کے پورے امکانات ہیں کہ فیفا مستقبل کے فائدوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے میزبانی کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
کچھ سالوں سے دنیا بھر کے بیشتر کھیلوں کا انعقاد برکس ممالک (برازیل، روس، ہندوستان ، چین اور جنوبی افریقہ ) میں ہو رہا ہے۔ جیسا کہ 2008کے اولمپک چین کے بیجنگ میں، 2010میں دولت مشترکہ کھیل ہندوستان کے نئی دہلی میں، 2010کے ایشیائی کھیل چین کے گوانگجو میں، 2010میں فیفا عالمی کپ جنوبی افریقہ میں، 2014میں ونٹر اولمپک سوچی رو س میں، 2014کا فیفا ورلڈ کپ برازیل میں، 2018کا فیفا عالمی کپ روس میں، 2016کا اولمپک ریو ڈی جنیوریو برازیل میں منعقد ہو رہے ہیں۔ دنیا میں کھیلوں کا پہیہ انہیں پانچ ممالک کے ارد گرد ہو کر گزر رہا ہے۔ اس لئے بڑے کھیلوں کے انعقاد کے لئے ہندوستان کو تیار کرنا مغربی ممالک کی مجبوری ہے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مستحکم معیشت ہندوستان جیسے ملک کو ٹورنامنٹ کا میزبان بنا سکنے میں معاون ہو سکتی ہے، لیکن کھیل کا معیار سدھارنے کے لئے وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ فیفا کس طرح اس بات کو یقینی بنانے میں لگا ہے کہ ہندوستان فٹبال کے میدان میں ایک بار پھر سے اپنے شباب پر یا اس سے بہتر پوزیشن میں پہنچے۔ دونوں صورت میں دونوں فریقین کی جیت ہوگی۔ فیفا ہندوستانی فٹبال کے فروغ کے نام پر ہندوستانی کھیل بازار پر نظریں جمائے ہوئے ہے اور ہندوستانی فٹبال کی دنیا میں اپنے ستاروں کو چمکتے دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی دونوں کو ہندوستانی فٹبال کی کایا پلٹنے کے لئے راغب کر رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *