کارپوریٹ کے کندھوں پر سوار مودی لہر

نومبر میں انگریزی میگزین ’اوپین‘‘نے ٹی وی چینلوں پر چلنے والی کچھ خبروں کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ کیسے نیٹ ورک 18 کے سبھی چینلوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نریندر مودی کے خلاف نرم رخ اپنائیں۔ نیٹ ورک 18 پر صنعتکار مکیش امبانی کا قبضہ ہے۔ کئی صحافیوں نے کہا کہ انہیںسخت ہدایت ہے کہ مودی کے خلاف کچھ نہ چھاپیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک 18 میڈیا گروپ کی خبریں پوری منصوبہ بندی سے طے ہوتی ہے۔ اس گروپ کے سبھی چینلوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو پتہ ہے کہ مودی مخالف خبروں کو دکھانے کے بجائے ٹھکانے لگانا ہے۔ اس گروپ میں کام کر رہے بڑے بڑے صحافی مودی کے بارے میں صرف میٹھا بولتے ہیں۔ دیگر چینل جیسے’ آج تک‘، ’ٹائمس نائو‘ وغیرہ بھی کس طرح سے مودی کی حمایت میں ہی خبریں چلاتے ہیں،میگزین اس کا بھی تجزیہ کرتا ہے ۔جن چینلوں پر کارپوریٹ گھرانوں کا قبضہ ہے، انہیں بھی ہدایت ہے کہ مودی کے تئیں نرمی برتیں اور زیادہ سے زیادہ کوریج دیں، ان کی ریلی کو بنا کاٹے ہوئے سیدھے نشر کریں۔ میڈیا، جسے جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتاہے، وہ کسی ایک شخص یا پارٹی کے لئے کام کرنے لگے تو اس کے کیا مضمرات ہیں۔

لرشن کانت 

p-4پچھلے کچھ مہینوں میں پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں نریندر مودی کو خوب جگہ ملی ہے۔بہت سارے ٹی وی شائقین اور اخبار قارئین کے دل میں یہ سوال اٹھتا ہوگا کہ ہندوستانی سیاست میں اتنی سیاسی پارٹیوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے باوجود مودی کو ہی کیوں اس طرح سے دکھایا جارہا ہے۔ آخر نریندر مودی نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا ہے کہ میڈیا، خاص طور پر ٹی وی چینلوں پر مودی ہی مودی نظر آتے ہیں؟ کیا نریندر مودی کے دور حکومت میں گجرات نے باوقار اور اطمینان بخش زندگی کے لئے وہ سب کچھ حاصل کرلیا ہے جو ایک کامیاب ریاست کا ہدف ہونا چاہئے؟کیا گجرات ملک کی باقی تمام ریاستوں سے الگ نکل چکا ہے؟ کیا سڑک ، بجلی اور کچھ کارپوریٹ کمپنیوں کی چمک دمک کا نام ہی ترقی ہے؟ ان سب سوالوں کے جواب نہ میں ہی ہوںگے تو پھر نریندر مودی کی ایسی تعریف کیوں کی جاتی ہے؟
ان سوالوں کا جواب بہت دبے طور پر میڈیا میں اٹھنے لگا ہے۔ اوپین میگزین کے نومبر کے شمارے میں سندیپ بھوشن نے ایک مضمون لکھ کر اس کا جواب دیا ہے۔ سوشل میڈیا میں بھی بہت سارے لوگ اس پر چرچا کرر ہے ہیں۔ مودی پر کارپوریٹ میڈیا کیوں مہربان ہے، اس کے لئے آپ کو میڈیا کی مالی پوزیشن کا جائزہ لینا چاہئے۔ زیادہ تر جو بڑے بڑے میڈیا گروپ ہیں، ان میں صنعتکاروں کا پیسہ لگا ہے۔ ملک کے 27 ٹی وی نیوز اور انٹرٹینمنٹ چینلوں پر امبانی گروپ کا کنٹرول ہے۔ ان میں نیٹ ورک 18 گروپ کے سی این این ، آئی بی این، آئی بی این لائیو، سی این بی سی، آئی ای این 7،آئی بی این لوک مت اور تقریباً ہر زبان میں نشر ہونے والا ٹی وی گروپ شامل ہے۔ اسی طرح ایک مثال پرنٹ میڈیا کی دیکھتے ہیں۔ ڈی بی کورپ گروپ کا ہندی اخبار ’دینک بھاسکر‘ ہے جو 13 ریاستوں سے چار زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔ اس کے قارئین کی تعداد 75 لاکھ ہے۔یہ گروپ 69 دیگر کمپنیاں چلاتا ہے، جو کان کنی، انرجی، ریئل اسٹیٹ اور کپڑا میل سے منسلک ہیں۔ یہ دونوں صرف مثال کے لئے ہیں۔وہی حالت باقی میڈیا گھرانوں کا بھی ہے۔ زیادہ تر میڈیا گھرانوں کے طرز تجارتی ہے۔جس میڈیا گھرانے پر جن کمپنیوں کا کنٹرول ہے، وہ ان کے تجارتی مفاد کے لئے کام کرتا ہے۔ اب ان میڈیا گھرانوں کا سیدھا فائدہ نریندر مودی کی حمایت کرنے میں ہے، کیونکہ پورے کارپوریٹ کا مودی سے تجارتی رابطہ ہے اور وہ مودی کی زبردست حمایت کررہے ہیں۔
اوپین میگزین نے نیٹ ورک 18 گروپ میں کام کر رہے کئی صحافیوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ مودی سے جڑی منفی خبریں نہ دکھائی جائیں اور ان کی ریلیوں کو بنا رکاوٹ نشر کیا جائے۔ یہ حال دیگر میڈیا گروپوں کا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا میں مودی ہی مودی چھائے ہوئے ہیں اور باقی سیاسی پارٹیوں کے مقابلے مودی کو سبقت دلائی جارہی ہے۔ حال ہی میں کانگریس پارٹی کی طرف سے الزام لگایا گیا کہ میڈیا مودی کے حق میں کھڑا ہے اور راہل گاندھی اور کانگریس سے جڑی خبریں نہیں دکھاتا ہے۔ کانگریس کایہ الزام یوں ہی نہیں ہے۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے لئے تقریبا ًدو درجن کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو قومی اور عالمی سطح پر مودی اور گجرات ماڈل کی تشہیر بازی کا کام کرتی ہیں۔ ادھر کچھ مہینوں میں دنیا کے کئی بڑے میڈیا گروپس کی طرف سے نریندر مودی کی خوب تعریف کی گئی۔ وال اسٹریٹ جنرل نے سست ہوتے ’’ہندوستان کا ابھرتا ستارا‘‘ عنوان سے ایک مضمون چھاپا۔ وشیو پریشد ٹائمس میگزین نے بھی نریندر مودی پر کور اسٹوری چھاپی’مودی مطلب بیوپار‘مودی کے حامی اسے عالمی سطح پر مودی اور گجرات کی مقبولیت کہتے ہیں۔ مودی کے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ نریندر مودی کی میڈیا مشینری کا کمال ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے میڈیاگجرات کی مصنوعی اقتصادی ترقی اور مودی کی خوبیاں بیان کر رہیہیں۔ اس کی وجہ وہ کمپنیاں ہیں جو مودی کے لئے کام کرتی ہیں۔

پچھلے سال’ دی نیویارک‘ کے ایک صحافی کو ایک کول مین کمپنی کے مالک وینیت جین نے کہا تھا کہ ہمارا اخبار کا کام نہیں ہے،ہمارا اشتہار کا کام ہے۔ ظاہر ہے کہ کارپوریٹ گروپ اپنے ہر کام میں فائدہ دیکھتے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا اور نو بھارت ٹائمس اخبار اور ٹائمس نائو چینل اسی گروپ کا ہے۔ یہ گروپ وہی بیچتا ہے جو بک سکتا ہے۔ ابھی تک ان کی ٹی آر پی کا ذریعہ انا ہزارے تھے، اب نریندر مودی ہیں۔
کچھ مہینے پہلے نیٹ ورک 18 گروپ سے بنا وجہ بتائے 325 صحافیوں کو نوکری سے نکال دیا گیا۔ اس کی وجہ یہی بتائی جارہی ہے کہ میڈیا میں کارپوریٹ مخالف آوازوں کو دبایا جائے۔ جو لوگ میڈیا کے ایجنڈے سیٹنگ میں گروپ کے وفادار ثابت نہیں ہو سکتے ، ان سے نجات پا لی جائے۔ میڈیا اب اظہار خیال کا ذریعہ نہ ہوکر شاید کارپوریٹ کے مفاد کا محافظ ہے۔ ان گروپوں کو آزادی رائے کی صحافت نہیں ،اپنے مفاد مالی فائدے کو تقویت دینے کے لئے تاجرانہ معاون چاہئے۔میڈیا کے ایک دھڑے میں یہ چرچا ہے کہ ان کے یہاں کام کرنے والے جو بھی لیفٹ ویوز کے لوگ ہیں، انہیں باہر کا راستہ دکھایا جائے۔ اس سے میڈیا اور مودی کا اتحاد صحیح ڈھنگ سے چل سکے گا۔
گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے لئے تقریبا ًدو درجن کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو قومی اور عالمی سطح پر مودی اور گجرات ماڈل کی تشہیر بازی کا کام کرتی ہیں۔ ادھر کچھ مہینوں میں دنیا کے کئی بڑے میڈیا گروپس کی طرف سے نریندر مودی کی خوب تعریف کی گئی۔ وال اسٹریٹ جنرل نے سست ہوتے ’’ہندوستان کا ابھرتا ستارا‘‘ عنوان سے ایک مضمون چھاپا۔ وشیو پریشد ٹائمس میگزین نے بھی نریندر مودی پر کور اسٹوری چھاپی’مودی مطلب بیوپار‘مودی کے حامی اسے عالمی سطح پر مودی اور گجرات کی مقبولیت کہتے ہیں۔ مودی کے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ نریندر مودی کی میڈیا مشینری کا کمال ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے میڈیاگجرات کی مصنوعی اقتصادی ترقی اور مودی کی خوبیاں بیان کر رہیہیں۔ اس کی وجہ وہ کمپنیاں ہیں جو مودی کے لئے کام کرتی ہیں۔
سینئر صحافی کنچن گپتا کی ہدایت میں پالیسی سینٹر نام سے ایک ویب پورٹل تیار کیا گیاہے۔ اس پر مودی اور بی جے پی سے جڑی خبریں، تصوریں، ویڈیو، ریڈیو پروگرام اور مودی کی سبھی ریلیوں کی تفصیلی کوریج ہوتی ہیں۔ کنچن گپتا کے علاوہ تولین سنگھ، سوپن داس گپتا، سندھیا جین، جئے بھٹہ چارجی سمیت درجنوں صحافی اور بی جے پی کے کئی بڑے لیڈر اس پورٹل کے لئے پرموشنل تحریر لکھتے ہیں۔ اس پورٹل پر کانگریس و دیگر پارٹیوں سے جڑی وہی خبر نظر آتی ہے، جس سے انہیں نقصان ہوتا ہو یا ایک پارٹی کی شکل میں اس کی شبیہ خراب ہوتی ہو۔ پورٹل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ’’ تبدیلی ‘‘ کے لئے فکری تبدیلی ‘ لانا ہے۔
اسی طرح انڈیا 272+ سیٹوں کا عدد جٹانا ۔ یہ ویب سائٹ بڑی تعداد میں مہم چلا کر رضا کار کارکنوں کو جوڑ رہی ہیں جو مودی کے لئے آن لائن اور گرائونڈ پر تشہیر کریں گے۔ اس پر مودی کی تقریر، ان کی پارٹی لیڈروں سے جڑی خبریں اور مودی کی خوبیاں بتانے والی رپورٹ لگائی جاتی ہیں۔ اس طرح سے اور بھی کئی میڈیا گروپ ہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ مودی کی تشہیری مہم میںلگے ہیں۔ ایسے سبھی پورٹل اور ویب سائٹ کا ہدف ہے بی جے پی کارکنوں کو مودی کی تشہیر کے لئے اسباب مہیا کرانا، تاکہ وہ سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر بازی کرسکیں۔ ان کے ذریعہ سے مودی اور گجرات سرکار کے بارے میں سیاہ و سفید اعدادو شمار پیش کر کے سوشل میڈیا پر موجود لوگوں کا برین واش کیا جاتاہے۔ اس پوریمہم کے پیچھے گوئبلس کا وہ فارمولہ کام کر رہا ہے کہ ایک جھوٹ کو سو بار دہرایا جائے تو وہ سچ میں تبدیل ہو جاتاہے۔
نریندر مودی اپنے تشہیری مہم کے لئے دہلی کی ایک پی آر کمپنی ’میوچل پی آر‘‘ کو لگایا ہے جو گجرات کی ایک دوسری پی آر کمپنی میڈیا کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ الگ الگ سطح پر کئی ٹیمیں بنی ہوئی ہیں جو ملک و بیرون ملک میں مودی کی شبیہ چمکانے کے لئے کام کرتی ہیں۔ میو چل پی آر میںمینجنگ پارٹنر کویتا دتّا ہیں، جن کی 18 لوگوں کی ٹیم ہے۔ اس ٹیم کا کام ہے کہ ہندوستانی میڈیا میں گجرات سرکار اور مودی کے بارے میں تسلی بخش کوریج ہو۔کویتا کہتی ہیں کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ گجرات سرکار کے منصوبوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانکاریاں لوگوں تک پہنچائیں۔
مودی ہندوستانی میڈیا میں گجرات فسادات کے بعد سے ہی موجود رہے ہیں، لیکن حال میں ان کا اچانک چھا جانے کا راز یہی نیشنل اور انٹرنیشنل کمپنیاں ہیں جو لگاتار مودی کو پرموٹ کرنے کے لئے کام کرر ہی ہیں۔ مودی کے چاروں طرف ایک ایسی ٹیم ہے جو انفارمیشن ٹکنالوجی کو سمجھتی ہے۔ ان کی ٹیم کے ممبر انہیں کے انداز میں جارحانہ انداز میں تشہیر کرتے ہیں۔
ان کمپنیوں اور مودی کی تشہیر کا ہی کمال ہے کہ حال میں ہوئے ہر انتخاب اور ہر سروے رپورٹ میں مودی کا اثر ڈھونڈا جا رہا ہے۔ یہ بھی میڈیا کا پھیلایا گیا جال ہے۔کیونکہ مودی کی تشہیر سے حالیہ کسی انتخاب میں کوئی خاص فرق پڑا ہو، ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔ حال میں کئی بڑے میڈیا ہائوس کے سروے کے مطابق، آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی کو ملنے والی سیٹوں میں صرف 15سے 20 سیٹ کا فاصلہ ہے۔ 80 کی دہائی سے دونوں پارٹیوں کے ووٹ فیصد میں صرف دو یا ڈھائی فیصد کا فرق رہتا ہے۔اس مرتبہ بھی سارے انتخابی اندازے یہی کہہ رہے ہیں۔ تمام سروے بتا رہے ہیں کہ دونوں بڑی پارٹیاں یعنی بی جے پی اور کانگریس 150 سیٹوں کے آس پاس رہیں گی۔ این ڈی اے اور یو پی اے میں سے کوئی بھی دو یا سوا دو سو سیٹوں کے پار جاتا نہیں دکھ رہاہے۔ اب جب کوئی پارٹی 543 سیٹوں میں سے 150 کے آس پاس ہی رہے گی تو کس لہر کا شور مچایا جارہا ہے۔ اس سے صاف ہے کہ نریندر مودی کا میڈیامینجمنٹ اتنا مضبوط ہے کہ بی جے پی کو 150 سیٹیں ملنے کے اندازے کے بعد بھی مودی نام کی آندھی بتائی جارہی ہے۔ اگر یہ مانیں کہ سروے بہت بار غلط ثابت ہوتے ہیں تو حالیہ انتخابوں نے جو اشارے دیے ہیں، اس سے بھی مودی لہر کی ہوا نکلتی دکھ رہی ہے۔ چار ریاستوں کے انتخابات میں مودی کا اثر کہیں بھی نہیں دیکھا گیا ۔ چھتیس گڑھ میں کانگریس نے سخت ٹکر دی۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی نے کانگریس اور بی جے پی دونوں کو دھول چٹا دی۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی زبردست جیت کی وجہ وہاں کے بی جے پی لیڈر ہیں ۔ لیکن پروپیگنڈہ کے تحت میڈیا میں مودی لہر کی تشہیر کی جارہی ہے۔
مختلف سروے پر غور کریں تو ملک کے محض 2 فیصد عوام مودی اور بی جے پی کو ووٹ دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔اب سوال اٹھ رہا ہے کہ وہ کون سے عوام ہیں جہاں مودی کی لہر چل رہی ہے؟ظاہر ہے کہ مودی لہر کا شور مچا کر عوام کے ووٹ بٹورنے کا ایجنڈا کام کر رہا ہے۔ مغربی شمال ہند میں بی جے پی کا نام و نشان نہیں ہے۔چار جنوبی ہندوستان کی ریاستوں میں بھی بی جے پی کا کھاتہ کھلنے کے آثار نہیں ہیں۔ یو پی، بہار ، اوڈیشہ ، مغربی بنگال میں بھی مقامی پارٹیوں کا ہی تذکرہ ہے اور آئندہ انتخابات میں وہ سخت مقابلے میں ہوں گے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ مودی کی لہر کہاں ہے؟ظاہر ہے، حقیقت سے دور مودی کا شاندار میڈیا مینجمنٹ انہیں سارے ملک میں مقبول بتا رہا ہے۔ مودی کس میڈیا کو اپناتے ہیں، اسے ایسے سمجھا جاسکتا ہے کہ جیسے ہی اتر پردیش کی کمان مودی کے قریبی امیت شاہ کو سونپی ، وہ اتر پردیش میں پہنچتے ہی اخباروں کے دفتر میں بھی پہنچے۔ آج اتر پردیش کے میڈیا میں ہوابدلی دکھ رہی ہے۔ یہ مودی کے میڈیا مینجمنٹ کا ہی کما ل ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر میڈیا نے وزیر اعظم کی تقریر سے زیادہ مودی کی تقریر کو کوریج دی۔ دراصل مودی کی پالیسیاں کارپوریٹ سپورٹر ہیں، جس کی وجہ سے کارپوریٹ مودی کی حمایت کر رہے ہیں۔ مودی بھی اپنے کو پوری طرح کارپوریٹ ایجنڈے پر چل رہے ہیں، جہاں میڈیا کے ذریعہ نجی ایجنڈے کو پبلک ایجنڈے میں تبدیل کرکے پیش کیا جاتاہے۔
نریندر مودی گجرات فسادات کے بعد سے میڈیا میں چرچا کا موضوع بنے تھے۔ تب سے لگاتار وہ میڈیا میں چھائے رہے۔ میڈیا انہیں گجرات فساد کا قصوروارٹھہراتا رہا۔ مودی سے سوال کرتا رہا لیکن مودی نے اس معاملے پر لگ بھگ خاموشی اختیار کرلی۔ اس دوران مودی کا جتنا بھی تذکرہ ہوا تھا، یا کہیں فسادات کی وجہ سے بد نامی ملی تھی، اسے انہوں نے اپنی خوبیوں میں بدل دینے کی مہم چلائی۔ کارپوریٹ میڈیا اور ایڈورٹائز کمپنیوں کی مدد سے مودی نے اس 12 سال کی اپنی ملک بھر میں تنقید کو اپنے حق میں موڑ لیا، کیونکہ نیشنل میڈیا میں جتنی تنقید ہوئی، اسے انہوں نے گجرات بنام میڈیا بنایا۔ اپنی تنقید کو مودی نے گجرات ترقی سے جوڑ کر عوام کی ہمدردی حاصل کی اور وہاں ایک کے بعد ایک انتخاب جیت کر اقتدار میں بنے رہے۔
نریندر مودی جس گجرات کی ترقی ماڈل کا ڈھول پیٹتے ہیں، اس میں تمام ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس اور دوسرے پیمانے پر بڑی خامیاں ہیں، لیکن میڈیا اس پر سوال نہیں اٹھاتا۔ میڈیا میں صرف مودی سے جڑی ریلیاں اور پرچار کو ہی پیش کیا جاتاہے، ان کی تنقید نہیں ۔ میڈیا مودی کی ہر ریلی کی پیشگی جانکاری دیتا ہے کہ وہ کب، کہاں ریلی کریں گے۔ اس کی وجہ سے جتنے لوگ مودی کی ریلی میں پہنچتے ہیں،اس سے زیادہ لوگ ٹی وی پر انہیں سنتے ہیں۔ چینل اور کسی بھی لیڈر کی تشہیری مہم کو اتنا کوریج نہیں دے رہے ہیں ۔مودی کی ریلیوں میں اکٹھا ہونیوالی بھیڑ کا یہ سچ ہے کہ وہ میدیا کے ذریعہ مچائے گئے شور کا انجام ہے۔ مودی پر میڈیا اس طرح سے مہربان اس لئے ہے، کیونکہ مودی نے کارپوریٹ ورلڈ کو گجرات میں کافی مقام دیا ہے، جہاں پر وہ بنا کسی رکاوٹ کے پھل پھول سکتے ہیں۔ وہ ملک بھر میں کارپوریٹ کو زیادہ اسپیس دینے کا وعدہ بھی کررہے ہیں۔ وہ مارکیٹ پالیسی کو اور کھولنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس وعدے پر کارپورٹ باغ باغ ہے اور وہ مودی کو مرکز کی کرسی پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اندر کا یہ کھیل عام عوام نہیں سمجھتے ۔ اب دیکھنے والی بات ہے کہ کارپوریٹ مودی اور میڈیا کا یہ اتحاد کتنا رنگ لاتا ہے اور عوام کے لئے کتنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *