چوتھی دنیا کی کوششوں کا نتیجہ: ہمدرد یونیورسٹی کو سپریم کورٹ کا نوٹس

کیا یہ ممکن ہے کہ کسی کورس میں داخلہ پہلے مل جائے اور پھر داخلہ کا فارم بعد میں بھرا جائے اور فیس بھی تقریباً آٹھ مہینے کے بعد جمع کی جائے؟ ضروری شرائط یا تعلیمی صلاحیت کو پورا کیے بغیر کیا کسی کو پی ایچ ڈی میں داخلہ مل سکتا ہے؟ ان دونوں سوالوں کا جواب ’نا‘ ہے، لیکن دہلی میں واقع ہمدرد یونیورسٹی کے غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر غلام نبی قاضی ناممکن کو ممکن بنانے میں ماہر ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ان سب کا نوٹس لیتے ہوئے ہمدرد یونیورسٹی کو کیوں نوٹس بھیجا ہے …

--10چوتھی دنیا نے اپنے پچھلے شماروں (12 تا 18 اگست، 2013، 9 تا 15 ستمبر، 2013 اور 14 تا 20 اکتوبر، 2013) میں قارئین کو یہ بتایا تھا کہ دہلی میں واقعہ جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر کیسے غیر قانونی طریقے سے اپنے عہدے پر فائز ہیں، کیسے تمام قوانین و ضوابط کی اندیکھی کرتے ہوئے جامعہ کے اسٹاف کی تقرری کر رہے ہیں، کیسے میڈیکل کورس میں داخلہ کے نام پر بدعنوانیاں زوروں پر ہیں، کیسے وائس چانسلر غلام نبی قاضی اپنے مفادات اور پوشیدہ عزائم کو پورا کرنے کے لیے ہمدرد کے کیمپس میں غیر قانونی طریقے سے تعمیراتی کام کرا رہے ہیں اور کیسے طلبہ سے حاصل کی گئی فیس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ 14 تا 20 اکتوبر، 2014 کے شمارے میں ’چوتھی دنیا‘ نے پہلی بار اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ یو جی سی کے چیئر مین کی بیوی شملا کو جامعہ ہمدرد میں جنوری 2008 میں پی ایچ ڈی میںداخلہ ملا، جب کہ انہوں نے ایڈمیشن فارم 24 مارچ، 2008 کو بھرا اور فیس 5 اگست، 2008 کو جمع کی۔ یہی نہیں، شملا کے پاس فیڈرل اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے لیے ضروری ڈگری بھی نہیں تھی، پھر بھی انہیں یہاں داخلہ مل گیا۔

جامعہ ہمدرد کا پروسپیکٹس کہتا ہے کہ سنٹر فار فیڈرل اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ لینے کے لیے کینڈیڈیٹ نے ماسٹر ڈگری (ایم اے) پولیٹکل سائنس، پبلک ایڈمنسٹریشن، سوشیالوجی، ہسٹری اور ایکانومکس میں سے کسی ایک سبجیکٹ میں کر رکھا ہو اور ساتھ ہی ایم اے میں اس نے کل 55 فیصد نمبرات حاصل کیے ہوں، ساتھ ہی اس نے پہلے سے ایم فل بھی کر رکھا ہو۔ لیکن شملا کے پاس ان میں سے کوئی ڈگری نہیں تھی، نہ تو انہوں نے ان میں سے کسی ایک سبجیکٹ میں ایم اے کیا، نہ ہی ایم اے میں 55 فیصد نمبرات حاصل کیے اور نہ ہی ایم فل کیا۔ شملا نے میرٹھ یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی میں کر رکھا ہے، جس میں انہیں 52.4 فیصد نمبرات حاصل ہوئے تھے۔ شملا ہمدرد یونیورسٹی میں ٹیچر بھی نہیں تھیں، جس کی بنیاد پر پی ایچ ڈی داخلہ میں انہیں وہاں پر کوئی رعایت ملتی۔
حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ شملا کو 2013 میں جامعہ ہمدرد سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل ہو چکی ہے۔ یہ معاملہ جب عدالت میں پہنچا، تو رِٹ پٹیشن WP(C)4605/2013 پر سماعت کرتے ہوئے 24 جولائی، 2013 کو دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس بدر دُریز احمد اور جسٹس وبھو بکھرو کی بنچ نے کہا کہ چونکہ اب شملا کو جامعہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری مل چکی ہے، اس لیے اس معاملہ کو دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا۔ ہائی کورٹ کو دراصل اس معاملے میں ہمدرد یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے گمراہ کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی کی طرف سے عدالت میں غلط افیڈیوٹ داخل کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ کے لیے ماسٹرس ڈگری میں 55 فیصد نمبر حاصل کرنے کی لازمی شرط کو پہلی بار یونیورسٹی میں سال 2009 میں متعارف کرایا گیا تھا، جب کہ شملا نے اپنی پی ایچ ڈی 2008 میں ہی مکمل کر لی تھی۔ یونیورسٹی کی طرف سے عدالت میں بولا گیا یہ سراسر جھوٹ تھا، کیوں کہ جامعہ ہمدرد کے ذریعے جاری کیے گئے 2007 اور 2008 کے پراسپیکٹس میں بھی پی ایچ ڈی میں داخلہ کے لیے ایم اے میں 55 فیصد نمبر حاصل کرنے کی شرط درج تھی۔ لہٰذا، اس سلسلے میں جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر اور وہاں کی انتظامیہ پر عدالت کو گمراہ کرنے کا مقدمہ بھی چلنا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اب، جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا، تو وہاں پر اسے سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور گزشتہ 3 جنوری کو جسٹس آر ایم لوڑھا اور جسٹس ایس کے سنگھ پر مبنی سپریم کورٹ کی بنچ نے اس معاملہ پر سماعت کے بعد ہمدرد یونیورسٹی، شملا اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) سے 10 ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے یہ نوٹس ’سوسائٹی فار ویلیو اینڈ ایتھکس اِن ایجوکیشن‘ نامی ایک این جی او کے ذریعے داخل کی گئی پٹیشن پر سماعت کے بعد جاری کیا ہے۔ اسی این جی او نے ہمدرد یونیورسٹی کی اس دھاندلی کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کی تھی، جسے مذکورہ عدالت نے خارج کر دیا تھا۔ یہی نہیں، مذکورہ این جی او کے وکیل پیوش شرما نے سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ کو یہ بھی بتایا کہ جس وقت شملا ہمدرد یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی تھیں، اس دوران وہ ہریانہ کے فرید آباد میں واقع وائی ایم سی اے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی میں فل ٹائم اسٹاف کے طور پر بھی کام کر رہی ہیں اور اس دوران انہوں نے یونیورسٹی سے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں لی تھی۔ لہٰذا، اس بنیاد پر سپریم کورٹ نے ہریانہ اسٹیٹ یونیورسٹیز کے چانسلر کو بھی ایک نوٹس جاری کیا ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر نے یہ سب کیوں کیا؟ دراصل، ڈاکٹر جی این قاضی کے غیر قانونی کاموں کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ یو جی سی یا وزارتِ فروغِ انسانی وسائل بڑی آسانی سے ان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ خود چوتھی دنیا نے جی این قاضی کے ذریعے کیے گئے غیر قانونی کاموں کا پردہ فاش کیا ہے، لیکن یو جی سی یا وزارتِ فروغِ انسانی وسائل کو خوش کرنے کی جی این قاضی اپنی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں برت رہے ہیں۔ قانون و ضوابط کی اندیکھی کرنے کے لیے صرف جی این قاضی کے خلاف ہی کارروائی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ شملا کے شوہر اور یو جی سی کے چیئر مین پروفیسر وید پرکاش کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ شملا نے پی ایچ ڈی میں غیر قانونی طریقے سے اپنا داخلہ کراکے ایک صحیح امیدوار کا حق مارا ہے، جسے ان کی وجہ سے پی ایچ ڈی کے کورس میں داخل نہیں ملا۔ امید ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں سخت کارروائی کرکے ایک ایسی مثال قائم کرے گا، جس سے ایسا کرنے والی دوسری یونیورسٹیوں کو بھی سبق ملے اور وہاں کی انتظامیہ مستقبل میں ایسا کوئی بھی غیر قانونی قدم اٹھانے سے پرہیز کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *