بہار کے لئے مایوس کن رہا سال 2013

اشرف استھانوی 

سال 2013 تلخ و شیریں یادوں کو چھوڑ کر رخصت ہوگیا۔ یہ سال بہار اور اہل بہار، خصوصاً مسلمانوں اور اہل اردو کے لیے انتہائی مایوس کن رہا۔ بہار کو جہاں راجن کمیٹی کی سفارش کے باوجود خصوصی ریاست کا درجہ نہیں ملا، وہیں اہل بہار کو سیریل بلاسٹ کا غم سہنا پڑا اور ریاستی سطح پر حکمراں اتحاد این ڈی اے میں ٹوٹ کے نتیجے میں جنتادل یو اور بی جے پی میں علیحدگی کے بعد بہار اور اہل بہار کو فرقہ پرستی کے جنون کے مضر اثرات سے دوچار ہونا پڑا۔

p-9بہار کی نتیش حکومت نے ریاست کو خصوصی درجہ دلانے کے لیے پٹنہ سے لے کر دہلی تک ادھیکار ریلی کا انعقاد کرکے بہار کے لیے انصاف اور خصوصی درجہ کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل حکمراں جنتادل یو نے لاکھوں بہاریوں کے دستخط کے ساتھ صدر جمہوریہ کو عرضداشت پیش کرکے اس پسماندہ ریاست کو ترقی کا موقع فراہم کرکے اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد جب مرکزی حکومت نے یہ کہہ کر بہار کا مطالبہ ٹھکرادیا تھا کہ بہار خصوصی ریاست کا درجہ پانے کے لیے ضروری شرائط پوری نہیں کرتا، تو وزیراعلیٰ نتیش کمار نے خصوصی ریاست کے لیے مقررہ پیمانہ ہی تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا تھا اور بہار سمیت تمام ریاستوں کو خصوصی ریاست کا درجہ دلانے کے لیے مہم چھیڑدی تھی۔ اس مہم کا اثر یہ ہوا کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں کی پسماندگی کا پیمانہ طے کرنے اور انہیں خصوصی مراعات فراہم کرانے کے لیے ریزروبینک کے موجودہ گورنر رگھورام راجن کی قیادت میں ایک کمیٹی کی تشکیل کردی تھی۔ اس کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی، اس سے نہ صرف بہار، بلکہ اس جیسی سات پسماندہ ریاستوں کے لیے خصوصی مراعات کے حصول کا راستہ ہموار ہوگیا تھا۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد یہ امید کی جانے لگی تھی کہ مرکزی حکومت بہار اور اس جیسی دوسری ریاستوں کو ان کا حق دے کر ان کے ساتھ انصاف کرے گی۔
اسی دوران بہار میں ایک بڑا سیاسی واقعہ یہ پیش آیا کہ نریندر مودی کو تھوپنے کے خلاف احتجاجاً نتیش کمار کی پارٹی جنتادل یونے بی جے پی سے اپنا 17 سالہ پرانا رشتہ منقطع کرلیا اور اپنے بل بوتے پر بہار میں حکومت چلانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس مرحلے میں نتیش کو کچھ سیٹوں کی کمی پڑرہی تھی، تو اس وقت کانگریس نے سیکولرازم کی کی حفاظت کے نام پر بہار کی نتیش حکومت کو باہر سے حمایت دے کر نہ صرف نتیش کو بڑی راحت دی، بلکہ انہیں بطور سیکولر لیڈر خراج تحسین بھی پیش کیا۔ اس کے بعد بہار میں ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ جنتادل یو اور کانگریس دونوں طرف سے ان دونوں پارٹیوں میں انتخابی مفاہمت کی وکالت ہونے لگی اور عوام بھی یہ سمجھنے پر مجبور ہوگئے کہ شاید آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ان دونوں پارٹیوں میں انتخابی معاہدہ ہوجائے گا۔ دونوں پارٹیوں کے بڑے رہنمائوں کے بیانات بھی اسی بات کی طرف اشارہ کررہے تھے، مگر پھر اچانک حالات نے پلٹا کھایا۔ کانگریس نے راجن کمیٹی کی رپورٹ پر عمل آوری کو ٹھنڈے بستے میں ڈال کر نتیش کو ناراض کردیا، تو نتیش نے بھی آستینیں چڑھالیں اور مرکز کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے پر آمادہ ہوگئے اور کانگریس کے ساتھ مل کر فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے بجائے تیسرے مورچہ کی وکالت کرنے لگے۔ 5ریاستوں کے اسمبلی انتخاب کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے بھی نتیش نے جو کچھ کہا، اس کا ایک ہی مطلب تھا کہ نریندر مودی یا بی جے پی کا کوئی اثر نہیں تھا، کیوں کہ اگر ایسا ہوتا، تو دہلی میں بی جے پی اقتدار سے دور نہیں رہ جاتی۔ نتیش کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں کوئی تیسری طاقت نہیں تھی، وہاں وہاں اس کا فائدہ بی جے پی کو ملا، مگر دہلی جہاں تیسری طاقت موجود تھی، وہاں بی جے پی منھ دیکھتی رہ گئی۔ نتیش کے مطابق یہی عمل لوک سبھا انتخابات میں بھی دوہرایا جائے گا۔ اس لیے بی جے پی اور کانگریس کے خلاف تیسری طاقت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ بہار میں تیسری طاقت کا کردار جنتادل یو نبھائے گا۔ اس کے بعد کانگریس کے بھی سُر بدل گئے اور کل تک جہاں وہ جنتادل یو کے ساتھ انتخابی معاہدہ کی بات کررہی تھی، آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد کے جیل سے باہر آنے کے بعد وہ آر جے ڈی سے معاہدہ کی بات کرنے لگی ہے۔
ادھرجنتادل یو کی بی جے پی سے علیحدگی کے بعد بی جے پی نے اپنے اصلی تیور دکھانے شروع کردیے اور پورے بہار میں فرقہ پرستی کا برہنہ رقص شروع کردیا۔ جگہ جگہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی شعوری کوشش شروع ہوگئی، جس کا سیدھا اثر ریاست کے مسلمانوں پر پڑا۔ نوادہ اور بہار کے کئی دیگر مقامات پر فسادات یا فرقہ وارانہ تصادم کے واقعات رونما ہوئے۔ پٹنہ میں نریندر مودی کی ہنکار ریلی کے دوران سیریل بلاسٹ کے سنگھی کھیل اور اس کے بعد این آئی اے کی کارروائی نے بھی پورے بہار میں مسلم مخالف ماحول پیدا کرنے میں اہم رول ادا کیا اور اچانک بہار میں ایسا ماحول پیدا ہوگیا، جس میں مسلمان خود کو بے یار و مددگار محسوس کرنے لگے۔ تہواروں کے دوران جو آپسی بھائی چارہ اور بے خوفی کا ماحول ہوتا تھا، وہ بھی اچانک ختم ہوگیا۔ ایسے ماحول میں نتیش حکومت بھی بیک فٹ پر نظر آئی اور وہ محض حالات پر قابو پانے میں مصروف رہی، جس سے ترقیاتی کام متاثر ہوئے۔
27ہزار اردو اساتذہ کی تقرری کے لیے اسپیشل ٹی ای ٹی اردو امتحان لینے کا فیصلہ ہوا، تو پہلے تو ضابطہ نامہ میں ہی گڑبڑی محسوس کی گئی اور جب چاروں طرف سے اس کے خلاف آوازیں بلند کی گئیں، تو حکومت نے اس ضابطہ میں ترمیم کرکے 60 نمبر کا اردو امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد جب نتیجہ سامنے آیا، تو صرف 15 ہزار امیدوار ہی کامیاب قرار دیے گئے، جب کہ تقرباً تین لاکھ طلبا شریک امتحان ہوئے تھے۔ پتہ چلاکہ غلط سوال اور جواب کے نتیجہ میں بہت سارے طلبا ناکام قرار دیے گئے۔ حد تو یہ ہوئی کہ ایم اے اردو ٹاپر بھی پرائمری ٹی ای ٹی امتحان میں ناکام قرار دیے گئے۔ اس کے خلاف آواز بلند کی گئی، تو حکومت اس کو بروقت سدھارنے میں ناکام رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سال گزر گیا، مگر اردو اساتذہ کی بحالی کا عمل شروع بھی نہیں ہوسکا۔ اب اگر اسی نتیجہ پر بحالی ہوئی بھی، تو مطلوبہ تعداد میں اردو اساتذہ کا تقرر عمل میں آنا محال ہے۔ سال 2013 کے دوران اردو اور اہل اردو کو اور بھی جھٹکے سہنے پڑے۔ مشہور شاعر اور نقاد پروفیسرلطف الرحمن اور بہار اردو اکادمی کے سابق سکریٹری شکیب ایاز اس دارفانی سے رخصت ہوگئے۔ اسی سال بہار کی اردو صحافت کو بھی ایک بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب معمر صحافی شارق اجے پوری انتہائی بے بسی اور کسمپرسی کے عالم میں اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ اسی سال بہار کے دہلی میں مشہور و معروف صحافی ٖطر عدیم بھی رحلت فرماگئے۔ محکمہ راج بھاشا کے اردو ملازمین کو سروس رول کے تحت عہدے کی ترقی یا مالی فائدہ اس سال بھی نہیں مل سکا، جو سروس رولس تیار کیے گئے، وہ بھی اتنے ناقص ہیں کہ ان سے اردو ملازمین کو کوئی فائدہ ملنے والا نہیں، کیوں کہ اس میں محض آئی واش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ترقی کا کوئی راستہ ہی نہیں رکھا گیا ہے۔
حکومت بہار اردو کے معاملے میں اپنی ناکامی کو چھپانے ہی کی خاطر نئے سال کے آغاز میں ہی دوروزہ جشن اردو کا اہتمام کررہی ہے۔ اس جشن اردو میں بھی ایک خاص گروپ کی جلوہ گری ہے اور پوری طرح سیاست حاوی ہے، مگر اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ جب اردو اور اہل اردو کا کچھ بھلا ہی نہیں ہورہا ہے، تو پھر ایسے میں جشن اردو منانے کا کیا جواز ہے اور یہ جشن کس کے لیے اور کس قیمت پر منایا جارہا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *