اروند کیجریوال اپنی یادداشت اوروعدوں کو سنبھالیں

سنتوش بھارتیہ
دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار ایک امید لے کر آئی تھی، حالانکہ انا ہزارے اسمبلی کا الیکشن نہیں لڑنا چاہتے تھے، ان کی رائے تھی کہ اگر الیکشن لڑنا ہے تو لوک سبھا کا الیکشن لڑا جائے، تاکہ نظام میں تبدیلی کی صحیح شروعات ہو سکے۔ ان کا ماننا تھا اور آج بھی ماننا ہے کہ پالیسیاں لوک سبھا بناتی ہے، اس لیے لوک سبھا کا الیکشن لڑنا چاہیے۔ لیکن اروِند کجریوال اس سے اختلاف رکھتے تھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ انہوں نے طے کیا کہ وہ پہلے دہلی کا الیکشن لڑیں گے، دہلی اسمبلی میں وہ جیت گئے، تو ملک جیتنا ان کے لیے آسان ہوگا۔ انا ہزارے کا اس میں صرف اتنا کہنا تھا کہ اگر اسمبلی میں غلطی ہوتی ہے، ایسے لوگ منتخب ہو کر آتے ہیں، جو آئڈیالوجی کو نہیں سمجھتے ہیں یا خود اپنے قدموں میں کوئی تضاد ہو جاتا ہے، تو اس سے پورے ملک میں تحریک کو لے کر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو جائے گا اور یہ مانا جائے گا کہ لوگ ملک میں نظام میں تبدیلی کے لائق نہیں ہیں۔
یہ کہنا جلد بازی ہو گی کہ انا ہزارے کا ڈر صحیح ثابت ہو رہا ہے۔ لیکن جس طرح ایم ایل اے ونود کمار بِنّی نے اپنی پارٹی کے لیڈروں کے اوپر الزام لگائے، وہ الزام بہت سارے لوگوں کے الزام نہ بن جائیں، یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اروِند کجریوال نے شاید بغیر سوچے سمجھے ایک ٹیم ٹائم ٹیبل کا اعلان کر دیا۔ اِتنے دن میں یہ کام، اُتنے دن میں وہ کام۔ 15 دنوں کے اندر رام لیلا میدان میں خصوصی اجلاس بلا کر جن لوک پال پاس کرانے جیسے وعدے انہوں نے کر لیے، جو اسمبلی کر ہی نہیں سکتی۔ اب اِن سوالوں کی الجھن میں عام آدمی پارٹی الجھ گئی ہے۔
ونود کمار بنی نے اروِند کجریوال پر تانا شاہ ہونے اور جھوٹ بولنے کے الزام لگائے ہیں۔ تانا شاہ ہونے کے الزام میں دَم ہے یا نہیں، اس کا جواب عام آدمی پارٹی کے کارکن یا عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے دے سکتے ہیں۔ ایک طبقہ ہے، جو کہتا ہے کہ اروِند کجریوال تانا شاہ ہیں، شارٹ ٹیمپرڈ ہیں، اپنی باتیں منواتے ہیں۔ لیکن ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس الزام میں کوئی دَم نہیں ہے۔ تب اس کا فیصلہ تو عام آدمی پارٹی کو ہی کرنا ہے اور ہو سکتا ہے کہ کام کی زیادتی، کام کا تناؤ اروِند کجریوال کو چڑچڑا بنا گیا ہو اور چڑچڑے پن کو اکثر لوگ بے رخی یا تانا شاہی مان لیتے ہیں۔
اروِند کجریوال جھوٹے ہیں یا جھوٹ بول رہے ہیں، اس بات سے بھی میں متفق نہیں ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ وہ بھول جاتے ہیں۔ ان کی یادداشت تھوڑی کمزور ہے اور کمزور یادداشت کی وجہ سے لوگ انہیں جھوٹا مان لیتے ہیں۔ اس کی اگر مثال دینی ہو، تو میں اپنی مثال دینا چاہوں گا۔ دہلی اسمبلی کی ووٹنگ سے تقریباً تین یا چار دن پہلے انا ہزارے نے ایک خط اروِند کجریوال کو لکھا۔ اروِند کجریوال نے اس خط کو پریس کانفرنس میں اجاگر کیا اور خط میں اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دیے بغیر یہ کہہ دیا کہ یہ خط انا سے لکھوایا گیا ہے اور اس خط کو لکھوانے میں بی جے پی اور کانگریس نے تقریباً سو کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ اروِند کجریوال نے خود ٹیلی ویژن پر کہا کہ انا ہزارے کو بہکا کر اس خط کو ایک شخص نے لکھوایا ہے۔ جب صحافیوں نے پوچھا کہ آپ اُس شخص کا نام بتائیے، تو اروِند کجریوال نے کہا کہ ایک آدمی ہے، اس نے لکھوایا۔ صحافیوں نے کہا کہ آپ نام بتائیے۔ تب اروِند کجریوال کا لفظ بہ لفظ یہی جواب تھا کہ ’جی، کوئی سنتوش بھارتیہ نام کا آدمی ہے، جو خود کو صحافی کہتا ہے اور میں اسے نہیں جانتا‘۔
اسی بات سے مجھے لگا کہ اروِند کجریوال کی یادداشت کمزور ہے، کیوں کہ صحافی اپوروجوشی کے دفتر میں کچھ صحافیوں سے اروِند کجریوال ملنا چاہتے تھے۔ اپورو جوشی نے صحافیوں کو اپنے دفتر میں بلایا اور وہیں پر میرا اور میرے ساتھی ڈاکٹر منیش کا تعارف اروِند کجریوال سے ہوا۔ اروِند کجریوال سے پہلے کوئی سیدھا رابطہ ہوا ہو، مجھے یاد نہیں۔ یہ واقعہ رام لیلا میدان پر ہوئے اَنشن کے تقریباً سال بھر کے بعد کا ہے۔ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک اپورو جوشی کے دفتر میں اروِند کجریوال سے ہم لوگوں کی کئی موضوعات پر بات ہوئی۔ اروِند کجریوال نے کہا کہ سنتوش جی، میں آپ کے ساتھ الگ سے بیٹھنا چاہوں گا۔ اس کے بعد اروِند کجریوال سے میری ملاقات ’چوتھی دنیا‘ کے ساؤتھ دہلی کے دفتر میں ہوئی، جہاں وہ جنرل وی کے سنگھ سے ملنے کے لیے پرشانت بھوشن کے ساتھ آئے تھے۔ وہاں پر بھی اروِند کجریوال تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے بیٹھے۔ اس بات چیت میں پرشانت بھوشن تھے، جنرل وی کے سنگھ تھے، اروِند کجریوال تھے اور میں تھا۔ اروِند کجریوال سے ایک ملاقات ’چوتھی دنیا‘ کے نوئیڈا دفتر میں ہوئی اور جہاں پر وہ دو بار آئے اور دونوں بار انہوں نے ’چوتھی دنیا‘ کے انٹرنیٹ ٹی وی کے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر دنیا بھر میں اپنے چاہنے والوں سے لائیو بات چیت کی اور ان کے سوالوں کے جواب دیے۔ اروِند کجریوال سے ایک اور ملاقات پرشانت بھوشن کے گھر پر ہوئی، جس میں جنرل وی کے سنگھ، اروِند کجریوال، میں اور پرشانت بھوشن شامل تھے۔ اتنی ساری ملاقاتوں کے بعد بھی اروِند کجریوال یہ بھول گئے اور ان کا آخری بیان تھا کہ میں اِس شخص کو نہیں جانتا، جس کا نام سنتوش بھارتیہ ہے اور جو خود کو صحافی کہتا ہے۔ اروِند کجریوال کے کئی فون میرے پاس آئے اور کئی فون میں نے ان کو وقت وقت پر کیے۔ اروِند کجریوال یہ بھی بھول گئے۔ میں اروِند کجریوال جتنا ہمت ور نہیں ہوں، جو اتنی ملاقاتوں کے بعد بھی یہ کہہ دوں کہ ایک شخص ہے، جس نے 100 کروڑ لیے ہیں اور اس کا نام سنتوش بھارتیہ ہے، لیکن میں اسے نہیں جانتا۔
یہ واقعہ میں نے اس لیے لکھا، تاکہ میں بِنّی کو کریکٹ کر سکوں کہ اروِند کجریوال جھوٹ نہیں بولتے، ان کی یادداشت کمزور ہے۔ وہ بھول گئے ہوں گے کہ بنی نے ان سے کچھ کہا تھا یا انہوں نے بنی سے کیا کہا۔ یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کوئی بھی پارٹی کا لیڈر اپنی پارٹی کو صحیح راستے پر لے جاتا ہے، اپنی پارٹی میں بداطمینانی نہیں پیدا ہونے دیتا۔ اروِند کجریوال ایک طرح سے اپنی پارٹی میں بد اطمینانی کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ اروِند کجریوال پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے کچھ لیڈروں کی زبان کو بے لگام چھوڑ دیا ہے۔ زبان میں شائستگی ہوتی ہے، نرم مزاجی ہوتی ہے۔ لیکن سیاست کی ایک زبان ہوتی ہے، جس میں آپ مخالف لیڈر کی بھی بات کرتے ہیں، تو اس کو بے عزت نہیں کرتے۔ لیکن ایسی زبان یا تیکھا پن انگریزی میں کہیں تو ایروگینس، وہ سیاست میں کافی نقصاندہ ہوتی ہے۔ اروِند کجریوال کی پارٹی کے بہت سے لیڈر اس ایروگینس کے شکار ہیں۔
اروِند کجریوال کی پارٹی میں پالیسیوں کو لے کر اتفاقِ رائے نہیں ہے۔ ان کی اقتصادی پالیسیاں کیا ہیں، کسی کو پتہ نہیں ہے۔ ضرور اروِند کجریوال کو پتہ ہوں گی، لیکن ان کی کتاب ’سوراج‘ کو پڑھنے سے ان کی اقتصادی پالیسیاں کیا ہیں، اس کا خلاصہ نہیں ہوتا۔ اقتصادی پالیسیاں اس لیے ضروری ہیں، تاکہ جو بھی پارٹی میں شامل ہو، وہ یہ طے کرکے آئے کہ اگر ہم ان پالیسیوں کو مانتے ہیں، تو پارٹی میں چل پائیں گے، نہیں تو ہمیں پارٹی میں جانا نہیں چاہیے۔ کیپٹن گوپی ناتھ ایک بڑا نام ہے۔ وہ پارٹی میں شامل ہوتے ہیں، لیکن اروِند کجریوال کی ایف ڈی آئی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کی پارٹی میں کارپوریٹ سیکٹر سے جڑے لوگ تیزی سے شامل ہو رہے ہیں، لیکن ان کے نئے ساتھی، صحافی آشوتوش کا ٹویٹ مجھے دیکھنے کو ملا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہم اپنے یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کی مخالفت کر رہے ہیں، تو ہمیں ٹاٹا کو بھی بیرونی ممالک میں جانے سے روکنا چاہیے۔ میرا خیال ہے، یہ دلیل صحیح نہیں ہے۔ اقتصادی پالیسیوں کی اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ ہم کہاں پر کتنی مقدار میں، کس طرح کے سرمایے کا خیر مقدم کریں گے اور کہاں پر کس سرمایے کی ہم مخالفت کریں گے۔ جب ٹیلی ویژن کے اوپر پالیسیوں کی بات ہوتی ہے، تو عام آدمی پارٹی کی لیڈر جو کہ اگر الیکشن جیت جاتیں تو وہ وزیر بنتیں، وہ پارٹی کی طرف سے کہتی ہیں کہ پالیسیوں کے سوال ووٹ بینک کے سوال ہیں۔ ان کی نظر میں رنگناتھ مشرا کمیشن جیسی باتوں پر بحث نہیں ہونی چاہیے۔ یہی بات دوسرے لیڈر بھی کہتے ہیں۔
لیکن یہ اتفاق کی بات ہے کہ اسی پارٹی میں یوگیندر یادو اور پروفیسر آنند کمار جیسے لوگ بھی ہیں، جن کی پوری زندگی پالیسیوں کے اوپر چلنے میں گزر گئی، لیکن اب ایسا لگنے لگا ہے کہ پروفیسر آنند کمار اور شری یوگیندر یادو بھی عام سیاست کی یا تو زبان بول رہے ہیں یا بولنے کے لیے مجبور ہو رہے ہیں۔
میرا یہ ماننا ہے کہ بہت امید سے دہلی کے لوگوں نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا، کیوں کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس سے عاجز آ گئے تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عام آدمی پارٹی اپنے اندر اٹھتی بد اطمینانی کو بی جے پی یا کانگریس کے ذریعے اسپانسرڈ نہ مانے۔ اگر وہ یہ مانے گی، تو وہ لوگوں کی نظر میں انہی پارٹیوں کی طرح ہو جائے گی، جس کے خلاف وہ الیکشن جیتی ہے۔ صفر سے 28 تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا۔ اگر عام آدمی پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اس نے یہ کرشمہ کر دکھایا ہے، تو مجھے ان کی سمجھ پر شک پیدا ہو جائے گا۔ میں یہ مانتا ہوں کہ انا ہزارے کی تحریک سے پیدا ہوئے غصے سے اور امید سے لوگوں کو عام آدمی پارٹی کے روپ میں ایک ایسا ہتھیار ملا، جس کا استعمال انہوں نے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہرانے کے لیے کیا۔ اس لیے عام آدمی پارٹی کو اور خاص کر اروِند کجریوال کو دہلی کے عوام کے اس جذبے کا دھیان رکھتے ہوئے، اپنی پارٹی کے لیڈروں سے زیادہ بات چیت کرنی چاہیے۔ ممبرانِ اسمبلی اور کارکنوں سے ملنے کے طریقے نکالنے چاہیے، تاکہ اگر کوئی بداطمینانی ہے، تو اسے وہیں روکا جا سکے اور جن وعدوں کو اروِند کجریوال نے دہلی کے عوام سے کیا ہے، انہیں پورا ہوتے دیکھا جا سکے۔
اروِند کجریوال کو بغیر بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالفت کی فکر کیے ہوئے نئے سرے سے ایک ٹائم ٹیبل کا اعلان کرنا چاہیے۔ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے ایک روڈ میپ دہلی کے لوگوں کو دے دیا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اب سوچ سمجھ کر انہیں روڈ میپ بنانا چاہیے اور ایک دو مہینے کا وقت لے کر بنیادی مانگوں کو پورا کرنے کا وعدہ پھر سے دہلی کے عوام سے کرنا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ دہلی کے عوام اتنی آسانی سے اپنی امیدیں نہیں کھوئیں گے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اروِند کجریوال اپنے وعدوں کو اور اپنی یادداشت کو تھوڑا سنبھالیں اور اپنے ساتھیوں کو اپنے ساتھ ملنے اور بات کرنے کا تھوڑا زیادہ موقع دیں۔ یہ ضروری ہے، ورنہ دہلی کے لوگوں کا دل اگر ٹوٹ گیا، تو یہ اتنا خطرناک ہوگا کہ اگلے کچھ سالوں تک پھر لوگ دوبارہ تبدیلی کے لیے آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کر پائیں گے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *