اگلا الیکشن ملک کی تقدیر بلے گا

سنتوش بھارتیہ 

Mastاروند کجریوال نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ جیت لیا اور اعتماد کا ووٹ بھی اس انداز میں جیتا کہ کانگریس کے سامنے حمایت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا اور بھارتیہ جنتا پارٹی ٹُکُر ٹُکُر اروِند کجریوال کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بے بس سی دیکھتی رہی۔ دراصل، بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ مان لیا تھا کہ کانگریس کی پالیسیوں کے خلاف ملک میں غصہ ہے، نریندر مودی کا ساتھ ہے، پندرہ سال کا اُن کا وَن واس ہے، جو 2013 میں ختم ہو جائے گا اور ڈاکٹر ہرش وَردھن دہلی کے نئے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اتنی زیادہ پرجوش، پر اعتماد تھی کہ اس نے پرچار میں سبھی لیڈروں کو ٹھیک ڈھنگ سے لگایا ہی نہیں۔ ان کی خود اعتمادی تو صرف کانگریس کے خلاف غصہ اور نریندر مودی کی ریلیوں میں امنڈی بھیڑ کو لے کر حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اپنے اسی چشمے کی وجہ سے وہ دہلی کے لوگوں کا غصہ نہیں دیکھ پائے، جو جتنا کانگریس کے خلاف تھا، اتنا ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف بھی تھا۔ لوگوں کو لگتا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کا رول ٹھیک سے ادا نہیں کیا۔ نہ اس نے دہلی میں کیا، نہ اس نے مرکز میں بیٹھی سرکار کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر کیا۔ سڑکوں پر تو بھارتیہ جنتا پارٹی رسمی طور پر ہی دکھائی دی۔ اس نے کہیں پر بھی کانگریس کی پالیسیوں کی مخالفت ہی نہیں کی۔ وہ پالیسیوں کی مخالفت کر بھی نہیں سکتی تھی، کیوں کہ اقتصادی پالیسیاں اس کی اور کانگریس کی ایک جیسی ہیں۔ بی جے پی کی شکایت صرف اتنی ہے، جو نریندر مودی اپنی ریلیوں میں کہتے ہیں کہ کانگریس نے کھلی لبرل اقتصادی پالیسیوں کو ٹھیک سے نافذ نہیں کیا، اسے وہ ٹھیک سے نافذ کریں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اتنی زیادہ پرجوش، پر اعتماد تھی کہ اس نے پرچار میں سبھی لیڈروں کو ٹھیک ڈھنگ سے لگایا ہی نہیں۔ ان کی خود اعتمادی تو صرف کانگریس کے خلاف غصہ اور نریندر مودی کی ریلیوں میں امنڈی بھیڑ کو لے کر حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اپنے اسی چشمے کی وجہ سے وہ دہلی کے لوگوں کا غصہ نہیں دیکھ پائے، جو جتنا کانگریس کے خلاف تھا، اتنا ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف بھی تھا۔ لوگوں کو لگتا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کا رول ٹھیک سے ادا نہیں کیا۔ نہ اس نے دہلی میں کیا، نہ اس نے مرکز میں بیٹھی سرکار کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر کیا۔ سڑکوں پر تو بھارتیہ جنتا پارٹی رسمی طور پر ہی دکھائی دی۔ اس نے کہیں پر بھی کانگریس کی پالیسیوں کی مخالفت ہی نہیں کی۔ وہ پالیسیوں کی مخالفت کر بھی نہیں سکتی تھی، کیوں کہ اقتصادی پالیسیاں اس کی اور کانگریس کی ایک جیسی ہیں۔

اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوتا کہ اروِند کجریوال کو اتنی سیٹیں ملیں گی، تو یہ طے تھا کہ اروِند کجریوال کو دہلی میں واضح اکثریت سے زیادہ سیٹیں ملتیں۔ اگر انا ہزارے ان کی حمایت میں دہلی میں پرچار کر دیتے، تو بھی اروِند کجریوال کو واضح اکثریت مل جاتی۔ لیکن اروِند کجریوال کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کا دل سے ساتھ دینے والے لوگ بھی انہیں 12 سے 14 سیٹوں سے زیادہ دینے کو تیار نہیں تھے۔ پورا میڈیا اس معاملے میں ناکام ثابت ہو گیا۔ سارے تجزیہ کار ناکام ثابت ہو گئے۔ کانگریس اور بی جے پی کے حکمت ساز اس مسئلے میں مات کھا گئے۔ مات تو ویسے اروِند کجریوال کے ساتھیوں نے بھی کھائی۔ جب یوگیندر یادو نے دہلی میں سروے کرایا، تو انہوں نے عام آدمی پارٹی کو 47 سیٹیں دیں۔ یہ 47 سیٹیں اروِند کجریوال کے پرچار کا ہتھیار بنیں۔ دراصل، اروِند کجریوال نے ہر اُس چیز کا پرچار کے لیے استعمال کیا، جس کا وہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے یوگیندر یادو کی ساکھ کا، ان کے انسٹیٹیوٹ کا بھرپور استعمال کیا، بغیر یہ بتائے کہ یوگیندر یادو ان کی ہی پارٹی کے لیڈر ہیں۔ جو لوگ یوگیندر یادو کو مختلف ٹی وی چینلوں میں الیکشن کا تجزیہ کرتے ہوئے دیکھتے تھے، انہوں نے یوگیندر یادو کی اسی شبیہ کو دھیان میں رکھا۔ اسی لیے جتنا میڈیا ناکام ہوا، جس نے زیادہ سے زیادہ تعداد 12 سے 14 بتائی، وہیں میرا ماننا ہے کہ یوگیندر یادو بھی فیل ہوئے، جنہوں نے 47 سیٹیں بتائیں، لیکن آئیں 28۔

لیکن یہ 28 سیٹیں آنا اہم نہیں ہے۔ اہم ہے دہلی کا وہ غصہ، دہلی کے لوگوں کی وہ تکلیف، جو انہیں گزشتہ 60 برسوں سے جھیلنے کو مل رہی ہے۔ ان کی سنوائی نہ کانگریس میں ہوتی تھی، نہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہوتی تھی۔ ایسی پارٹیاں، جو دہلی اسمبلی میں دو یا تین سیٹیں لے کر اپنی موجودگی درج کراتی تھیں، ان کے خلاف بھی لوگوں کا غصہ تھا۔ اسی لیے مایاوتی جی کی بہوجن سماج پارٹی دہلی کے الیکشن میں فیصد کے طور پر بھی صاف ہوئی اور عدد کے طور پر تو بالکل ہی صاف ہو گئی۔ دراصل، کانگریس کی ساری کی ساری بنیاد کھسک کر عام آدمی پارٹی کے ساتھ چلی گئی۔ دہلی میں یہ پہلی بار ہوا کہ جھگی جھونپڑیوں میں لوگوں نے پیسے نہیں لیے، جھگی جھونپڑیوں میں شراب کم بنٹی۔ عام طور پر یہ مانا جاتا رہا ہے کہ جھگی جھونپڑیاں اور غیر منظور شدہ کالونیاں کانگریس کا ٹرمپ کارڈ ہیں، جہاں پر ایک رات یا دو رات پہلے شراب بنٹتی ہے، پیسہ بنٹتا ہے اور ووٹ کانگریس کے پاس آ جاتا ہے۔ اس بار ایسا نہیں ہوا۔ اس بار لوگوں نے اپنے آپ اروِند کجریوال کو اپنے یہاں میٹنگ کرنے کو بلایا۔ لوگوں نے اپنے آپ اروِند کجریوال کو حمایت دی۔ انہوں نے اروِند کجریوال کو سیاسی مشینری کے خلاف پنپے اپنے غصے کا ہتھیار بنا لیا۔ یہ ہتھیار لوگوں کا ہتھیار تھا، جس کا الیکشن میں انہوں نے استعمال کیا۔ اس کے بعد کی کہانی تو اور مزیدار ہے، کیوں کہ اروِند کجریوال لوگوں کے غصے کی علامت بن رہے ہیں، اس بات کا پتہ نہ میڈیا کو چلا اور نہ انتخابی تجزیہ نگاروں کو چلا اور نہ انتخاب سے قبل سروے کرنے والوں کو چلا۔ اس سے ایک چیز صاف ہوتی ہے کہ سارے تجزیے، سارے سروے ڈھاک کے تین پات ہیں۔ یہ لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔
یہی حالت سیٹوں کی راجستھان میں رہی۔ کسی نے وسندھرا راجے کی اتنی سیٹیں آنے کا تصور نہیں کیا تھا۔ حالانکہ اشوک گہلوت کی وجہ سے وسندھرا راجے اقتدار میں آئیں گی، یہ تو انہوں نے مان لیا تھا، لیکن اتنی سیٹوں کے ساتھ آئیں گی، یہ کسی نے نہیں مانا تھا۔ اروِند کجریوال نے پورا پرچار بالکل ، جس طرح طلبہ کی تحریکوں میں پرچار ہوتا ہے، اس طرح کیا۔ انہوں نے ویسے ہی نوجوانوں کو آمادہ کیا۔ انہوں نے ویسے ہی کارکنوں کو ملک بھر سے بلایا۔ بہت سارے کارکن تو ملک بھر سے اپنے آپ آئے۔ وہ یہاں پر آکر پریشانی میں بھی رہے۔ کچھ اچھی طرح بھی رہے، لیکن کام سب نے برابر کیا۔ اور دہلی میں ہر جگہ عام آدمی پارٹی کے حق میں ماحول بنانے کا کام جس طرح سے کارکنوں نے دہلی میں کیا، وہ ایک ایسا انوکھا واقعہ تھا، جسے لوگ بھول چکے تھے۔ 90 کی دہائی سے پہلے اسی طرح سے پرچار ہوتا تھا۔ سیاسی پارٹیوں کے پاس کارکن تھے، لیکن اس بار سیاسی پارٹیوں کے پاس کارکن نہیں رہے۔ سیاسی پارٹیوں نے الزام لگایا کہ اروِند کجریوال نے پیسہ دے کر دو ہزار دہاڑی پر لوگوں کو اپنے حق میں پرچار کرنے کے لیے ریزرو کر لیا ہے۔ دراصل، وہ یہ سمجھ نہیں پائے کہ اروِند کجریوال کے حق میں نوجوان کیوں پرچار کرنے کو اتر گیا ہے؟ ان کے حق میں کیوں بیرونی ممالک سے لوگ پرچار کرنے کے لیے آ رہے ہیں؟ یہ کوئی سمجھ نہیں پایا۔ ہم بھی سمجھ نہیں پائے۔ ہم اروِند کجریوال کو نہایت پرجوش انتخابی جنگجو کے روپ میں دیکھتے رہے۔ لیکن اروِند کجریوال کا وہ بے انتہا جوش دہلی کے عوام کو یہ بھروسہ دے گیا کہ یہی شخص ہے، جو ان کے غصے کا ہتھیار بن سکتا ہے۔ اروِند کجریوال نے روایتی سیاست نہیں کی، غیر روایتی سیاست کی۔ انہوں نے سیدھی سیاست کی، جس میں کانگریس اور بی جے پی یا صحافی، میڈیا، انتخابی تجزیہ نگار ان کی حکمت عملی سمجھتے رہے۔ اروِند کجریوال نے کوئی حکمت عملی نہیں بنائی۔ انہوں نے صرف ایک کام کیا۔ لوگوں کے درمیان جاکر انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے خلاف اپنے سخت رویے کو لے کر یہ یقین دلا دیا کہ وہ کانگریس اور بی جے پی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے اور یہی دہلی کے لوگوں کے دل کو جیت گیا۔ اب جب اسمبلی میں اروِند کجریوال کی جیت ہو گئی ہے اور انہوں نے کانگریس کے تئیں ذرا بھی نرم رویہ اپنائے بغیر، جس طرح سے اسمبلی میں تقریر کی، وہ یہ بتاتا ہے کہ اروِند کجریوال نے کرسی کے لیے سمجھوتہ نہیں کیا۔
حالانکہ دہلی کے گلیاروں میں ایک خبر گرم ہے کہ لودی کالونی کے امن ہوٹل میں راہل گاندھی جِم جاتے ہیں۔ راہل گاندھی سے شیلا دکشت نے کہا کہ اروِند کجریوال کو اگر حمایت دی، تو یہ کانگریس کے حق میں ہوگا، ورنہ بھارتیہ جنتا پارٹی، عام آدمی پارٹی کے ممبرانِ اسمبلی کو استعفیٰ دلا دے گی یا کانگریس کے ممبرانِ اسمبلی کو خرید لے گی۔ چونکہ 8 ہی کانگریس کے ایم ایل اے منتخب ہو کر آئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ ان میں پانچ لوگ بی جے پی کی طرف چلے جائیں، کیوں کہ کوئی بھی الیکشن نہیں چاہتا۔ اس لیے انہیں عام آدمی پارٹی کی حمایت کرنی چاہیے۔ راہل گاندھی کو شیلا دکشت نے لگاتار دو دن جب یہ سمجھایا، تو راہل گاندھی کے دماغ میں یہ آگیا کہ عام آدمی پارٹی کی حمایت کرنی چاہیے۔ اسی جِم میں ان کی ملاقات کچھ لوگوں سے ہوئی، جن لوگوں کو راہل گاندھی نے گرین سگنل دے دیا کہ عام آدمی پارٹی کی حمایت کرنی چاہیے۔ حالانکہ کانگریس میں لوگ یہ مانتے ہیں کہ اب کانگریس اگلے دس سالوں تک دہلی کی سیاست سے غائب ہو گئی ہے، کیوں کہ اروِند کجریوال کا ایجنڈا لوگوں کا ایجنڈا ہے۔
کانگریس اور بی جے پی اس ایجنڈے پر کبھی نہیں چلتیں۔ لوگوں کو اگر اروِند کجریوال کے قدم بھا گئے، تو اگلے الیکشن میں، چاہے وہ چھ مہینے میں ہوں یا سال بھر میں ہوں، اروِند کجریوال ایک زبردست اکثریت کے ساتھ دہلی میں آئیں گے۔ اس لیے کانگریس میں بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ شیلا دکشت اور راہل گاندھی نے مل کر دہلی کی کانگریس کو سائنائڈ (ایک قسم کا زہر) کھلا دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانگریس نے عام آدمی پارٹی کی حمایت کرکے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ وہ اب قومی سطح پر بھی ناکارہ ہونے کے لیے تیار ہے اور اس کی ساری بنیاد اروِند کجریوال کے ساتھ اگر چلی جائے، تو انہیں کوئی فکر نہیں ہوگی۔
دراصل، بی جے پی اور کانگریس اروِند کے سیاست کے اس تجربہ کو سمجھ ہی نہیں پائیں، کیوں کہ اروِند کجریوال کا دہلی میں کیا گیا تجربہ سوچا سمجھا، منصوبہ بناکر کیا گیا تجربہ نہیں تھا اور ٹیڑھا میڑھا تجربہ بھی نہیں تھا، اس لیے ہر چیز میں راز دیکھنے والے لوگ اروِند کجریوال کے اس قدم کو نہیں سمجھ پائے۔ لیکن اروِند کجریوال کے اس تجربہ کا اثر کانگریس اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں دکھائی دینا شروع ہو گیا ہے۔ مہاراشٹر میں بجلی کی قیمتیں کم ہوں، اس کے لیے حکومت فکرمند ہوگئی اور سنجے نروپم نے ایک خط لکھ کر کانگریس کی سیاست میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ وہی ہریانہ حکومت نے بجلی کی قیمت کم کردی ہے۔ اتر پردیش کی حکومت نے کسانوں کو 12 گھنٹے بجلی دینے کا وعدہ کر دیا ہے۔ وسندھرا راجے نے عام رہن سہن اور گاڑیوں کے قافلے کی تعداد کو گھٹانے کا فیصلہ لیا ہے۔ اور بھی ریاستیں ہیں، جو دہلی کے لوگوں کو ملک کی نبض مان کر شاید کچھ فیصلے کریں گی۔ اس لیے اروِند کجریوال کا دہلی میں جیتنا قومی سطح پر کئی طرح کے مستقبل کے اشارے دیتا ہے۔
لیکن اروِند کجریوال کے دہلی میں جیتنے کا تھوڑا سا اور تجزیہ کرنا چاہیے۔ اروِند کجریوال نے مسائل کو آئڈیالوجی کی شکل دے دی۔ مسئلہ چاہے بجلی کا ہو، چاہے پانی کا ہو، انہوں نے دہلی میں اسی کو آئڈیالوجی بنا دیا، جب کہ آئڈیالوجی کی بنیاد پر مسائل کو سلجھانے کے قدم اٹھائے جاتے ہیں اور جو قدم آئڈیالوجی کی بنیاد پر نہیں اٹھائے جاتے، ان قدموں کی افادیت بہت دنوں تک نہیں رہتی۔ سوال یہ ہے کہ پانی کا تحفظ کیسے ہو، پانی لوگوں کو کیسے ملے، پانی فروخت ہونے کے پیچھے کون لوگ ہیں، اس کا پیسہ کہاں کہاں جاتا ہے اور کیاد ہلی میں ہر ایک کو پانی دینے کی پالیسی بنائی جانی چاہیے؟ اسی طرح بجلی اور اس کی پیداوار پر غور کیا جانا چاہیے۔ کوئلہ ختم ہو رہا ہے، پانی ختم ہو رہا ہے، بجلی دہلی میں خود بن نہیں رہی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ سورج کی روشنی کا استعمال کیا جائے اور ہر محلے کا اور ہر صنعت کا ایک بجلی گھر بن جائے؟ ممکن ہے، لیکن یہ منحصر کرتا ہے پالیسی پر۔ حالانکہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اروِند کجریوال کے دماغ میں یہ ساری باتیں نہیں ہوں گی۔ لیکن جو چیز ہمیں دکھائی دی، وہ یہ کہ مسائل کو آئڈیالوجی نہیں بنانا چاہیے، بلکہ آئڈیا لوجی یا پالیسی بناکر مسائل کو ان کی بنیاد پر حل کرنا چاہیے، تبھی غریب اور محروم طبقہ کو فائدہ مل پائے گا۔
ملک کے عوام سیاست کے رنگ ڈھنگ سے ناراض ہیں۔ لوگوں کے مسائل سیاست کے رنگ ڈھنگ نے بڑھائے ہیں، ان کے راستے اس سیاست نے بند کیے ہیں۔ چاہے وہ کسی بھی ذات کے ہوں، کسی بھی فرقہ کے ہوں یا کسی بھی اقتصادی طبقہ کے ہوں، ملک میں کوئی بھی خوش نہیں ہے، کیو ںکہ کسی کو زندگی کی امید نہیں دکھائی دیتی، ترقی کی امید نہیں دکھائی دیتی۔ اسی لیے لوگ اس جاری سیاست کو توڑنا چاہتے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ سیاست میں اچھے لوگ آئیں، سلجھے ہوئے لوگ آئیں، عوام کے بیچ کے لوگ آئیں، لیکن جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، اروِند کجریوال بھی اب کسی بھی طرح کے لوگوں کو ساتھ لینے میں کوئی پرہیز نہیں برت رہے۔ ان کی پارٹی میں بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس یا سماجوادی پارٹی کے لیڈر دھڑلے سے شامل ہو رہے ہیں اور شامل ہونے کے بعد لوگوں میں اثر ڈال رہے ہیں کہ اب وہی اروِند کجریوال کے خاص ہیں اور اروِند کجریوال نے انہیں ٹیم کجریوال میں شامل کر لیا ہے۔
دہلی عام طور پر خوش حال ہے۔ یہاں جھگی جھونپڑی میں رہنے والا بھی کولر، ہیٹر، ایئر کینڈیشن جیسی چیزوں کا استعمال کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دہلی میں لوگوں کے پاس کھانے کو، رہنے کو جگہ نہیں ہے۔ اگر دہلی میں یہ حال ہے یا دہلی کا عام آدمی اپنی زندگی کو لے کر غصہ میں ہے، تو اندازہ لگانا چاہیے کہ ملک کا کیا حال ہوگا؟ ملک کی جتنی بھی سرحدی ریاستیں ہیں، ان سب میں نکسل واد یا انتہا پسندی بری طرح سے بڑھ رہی ہے۔ کشمیر سے دیکھنا شروع کریں اور بنگال، تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور کیرالہ ہوتے ہوئے کہیں بھی چلے جائیں، آپ کو ہر جگہ نکسل واد اور انتہا پسندی کی فصل دکھائی دے گی۔ یہ نکسل واد اب کنارے کی ریاستوں سے ہوکر بیچ کی ریاستوں میں آ گیا ہے۔ بہار میں آ گیا ہے، مہاراشٹر میں آ گیا ہے، چھتیس گڑھ میں آ گیا ہے، مدھیہ پردیش میں آ گیا ہے، اتر پردیش میں آ گیا ہے۔ یہ مسائل کو حل نہ کر پانے کے غصے سے اُپجا نکسل واد ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ پرامن طریقے سے مسائل نہیں سلجھائے جا سکتے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہاں پر اروِند کجریوال کی اہمیت ہے۔ اروِند کجریوال اگر مسائل کو سلجھانے میں ایک سمجھدار انسان کا رول نبھاتے ہیں اور ایک ایسے وزیر اعلیٰ بنتے ہیں، جو لوگوں کے مسائل کو لے کر 24 گھنٹے فکرمند رہتا ہے، تو اروِند کجریوال ملک میں ایک نئی امید پیدا کریں گے اور نکسل واد یا نکسل واد جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک نیا دروازہ کھولیں گے۔
دراصل، ملک کا بنیادی سوال اقتصادی، سماجی اور تعلیمی ہے۔ لوگ اروِند کجریوال سے جاننا چاہیں گے کہ ان کی اقتصادی پالیسیاں کیا ہیں؟ کیا چلتے ہوئے موجودہ بازار سسٹم کے حق میں وہ ہیں یا اس پورے اقتصادی نظام کو بدل کر وہ عوام کے فائدے والے اقتصادی نظام کو شروع کرنا چاہیں گے، جس میں ہر آدمی کو کرنے کے لیے کچھ ہو؟ اگر اروِند کجریوال یہ اصول صفائی سے سامنے رکھتے ہیں، تو اقتصادیات کو لے کر، سماجی نظام کو لے کر اور تعلیمی نظام کو لے کر ملک کے لوگوں کو ان میں ایک نیا لیڈر دکھائی دے گا۔ اور اگر اروِند کجریوال بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کی طرح بازار پر مبنی اقتصادی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں، تو اروِند کجریوال اپنے لیے ناکامی کا دروازہ خود کھول لیں گے۔
اروِند کجریوال کو یہ بھی صاف کرنا ہے کہ کیا بازار پر مبنی اقتصادی پالیسیاں چلیں گی؟ کسان کی فصل اور اس کی زمین کا کیا ہوگا؟ جل (پانی)، جنگل، زمین کا پرائیویٹائزیشن ہو رہا ہے۔ کیا اروِند کجریوال اسے روکیں گے یا اس کا ساتھ دیں گے؟ ملک کی ندیاں غیر ملکی کمپنیوں کو فروخت کی جا رہی ہیں۔ اروِند کجریوال اس کی حمایت کریں گے یا اس کی مخالفت کریں گے؟ یہ سوال ہیں، جن سوالوں کا جواب اروِند کجریوال کو جلدی سے جلدی دینا پڑے گا، کیوں کہ 2014 کا لوک سبھا الیکشن سر پر ہے۔ اسی لیے جب تک نئیں اقتصادی پالیسیاں نہیں بنتیں، اقتدار کا ڈی سنٹرلائزیشن نہیں ہوتا، تب تک اٹھائے گئے سارے قدم کاؤنٹر پروڈکٹیو بھی ہو سکتے ہیں، یہ خطرہ بنا رہے گا۔
اروِند کجریوال نے اپنی ٹیم بنائی ہے۔ ان کا ساتھ مشہور و معروف وکیل پرشانت بھوشن، منیش سیسودیا، سنجے سنگھ، کمار وشواس اور شاذیہ علمی جیسے لوگ دے رہے ہیں۔ یہ سارے لوگ سمجھدار لوگ ہیں اور انہوں نے اپنی زبان سے بتایا ہے کہ ان کی حمایت عوام کی طرف ہے، ان کا رخ عوام کے ساتھ ہے۔ اس کے باوجود ان کے ایک ساتھی کی زبان غیر مہذب اور گالی گلوج بھری اور ادب سے پرے ہے۔ اروِند کو یہ کہاوت دھیان میں رکھنی چاہیے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے۔ لیکن اروِند کجریوال کی سب سے بڑی تعریف اس لیے کرنی چاہیے کہ انہوں نے نوجوانوں کی ایک ایسی فوج کھڑی کر دی، جو دماغی طور پر کانگریس اور بی جے پی کے نوجوان لیڈروں کے سامنے دانشورانہ چنوتی پیش کر رہے ہیں۔ اروِند کجریوال نے پوری ایک نوجوانوں کی نسل کو دماغی طور پر متاثر کیا ہے۔ یہ بی جے پی اور کانگریس کے نوجوانوں کا مقابلہ، جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں، بخوبی ہر جگہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ سارے پرجوش نوجوان، جن میں تبدیلی کے تئیں اعتماد نئے سرے سے پیدا ہوا ہے، اگر یہ پالیسیوں پر بھی صاف ہو جائیں، تو ہندوستانی سیاست میں اروِند کجریوال کی یہ بے مثال دین ہوگی۔ امید ہے کہ اس بارے میں اروِند کجریوال ضرور سوچ رہے ہوں گے۔
اروِند کجریوال اور انا ہزارے میں شروع سے ایک اختلاف رہا۔ انا ہزارے کا یہ ماننا تھا کہ تبدیلی کا راستہ لوک سبھا سے جاتا ہے، جب کہ اروِند کا یہ ماننا تھا کہ اگر ہم دہلی اسمبلی جیت جاتے ہیں، تو اس سے ملک میں ایک نئی امید پیدا ہوگی۔ آج پھر دو راستے ہمارے سامنے ہیں۔
اگر انا ہزارے جی کی بات کے پیچھے کی حکمت عملی کو پرکھیں، اگر یہی ماحول اروِند کجریوال دہلی اسمبلی کی جگہ لوک سبھا کے لیے ملک بھر میں بناتے اور لوک سبھا کا الیکشن لڑتے، تو آج لوگ پاگلوں کی طرح ملک بھر سے انا ہزارے اور اروِند کجریوال کے پیچھے کھڑے دکھائی دیتے، کیوں کہ لوگوں کا غصہ انا نے سمجھا تھا کہ وہ سسٹم کے خلاف ہے۔ اروِند نے اس غصے کی ایک شکل دیکھی۔ اروِند کے دہلی کے تجربہ کا ایک خطرہ ہے۔ اگر اروِند کا تجربہ دہلی میں اگلے چار مہینے میں، تین مہینے میں ناکام ہو گیا یا کہیں پر تھوڑا سا ڈائلیوٹ ہوگیا، تو پورے ملک میں لوگوں کو لگنے لگے گا کہ یہ تجربہ کرنے لائق نہیں ہے۔ شاید اسی لیے انا ہزارے پورے طور پر لوک سبھا کا الیکشن لڑنا چاہتے تھے۔ حالانکہ اروِند کے ساتھ دو شخص ایسے ہیں، جو اروِند کو دماغی طور پر باندھ کر رکھنے والی شخصیت ہیں، جن میں پہلا نام توگیندر یادو کا ہے، جو بنیادی طور پر ہندوستان کے غریب عوام کے حمایتی ہیں اور دوسرا نام پروفیسر آنند کمار کا ہے، جو شروع سے ڈاکٹر لوہیا اور جے پرکاش نارائن جی کی آئڈیالوجی کے ملے جلے ٹھوس روپ ہیں۔ پروفیسر آنند کمار جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، لیکن ان کا طرزِ بیان، ان کا رہن سہن اور چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت اروِند کجریوال کے لیے ایک بڑی مدد ہے۔ جہاں تک یوگیندر یادو کا سوال ہے، تو وہ کشن پٹنائک کے بھروسے مند ساتھی رہے ہیں اور کشن پٹنائک نے اپنی ساری زندگی ہمیشہ غریبوں کی فکر میں کاٹی اور ان کے لیے لڑے۔ وہ ڈاکٹر لوہیا کے ایسے نوجوان دوست تھے، جنہوں نے پارلیمنٹ میں بڑی بڑی بحثوں کو جنم دیا تھا۔ مجھے آج بھی کشن پٹنائک اور اوم پرکاش دیپک کی جوڑی یاد ہے۔ اوم پرکاش دیپک بے مثال شخصیت تھے۔ شاید آج کا زمانہ جس طرح سے اروِند کجریوال کا استقبال کر رہا ہے، اگر اروِند کجریوال اور انا ہزارے کو کشن پٹنائک اور اوم پرکاش دیپک جیسی شخصیتوں کا ساتھ ملا ہوتا، تو آج یہ لڑائی سماجی سلسلے کی اب تک کی سب سے بڑی لڑائی بن جاتی۔
ابھی بھی وقت ہے۔ اروِند کجریوال ملک کے بارے میں جو بھی سوچتے ہیں، اسے وہ جاکر انا ہزارے کو بتائیں۔ انا ہزارے کو اپنی حکمت عملی سمجھائیں، کیوں کہ انا ہزارے کا ماننا ہے کہ وہ پارٹی اور فریق کی حمایت نہیں کریں گے، کیوں کہ آئین میں ’پارٹی‘ لفظ نہیں ہے اور انا ہزارے سچی جمہوریت کے لیے پارٹیوں کو صحیح نہیں مانتے۔ لیکن اس کے باوجود بحران کے اس دور میں اگر اروِند کجریوال انا ہزارے کے پاس جاتے ہیں اور انا کو پورا پس منظر بتاتے ہیں اور 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں وہ کس طرح سے اور کن لوگوں کو ساتھ لے کر ہندوستان کی سیاست میں مداخلت کرنا چاہیں گے، تو شاید ہندوستان کی سیاست میں یہ ٹرننگ پوائنٹ ہو سکتا ہے۔ اروِند کجریوال اگر یہ سمجھتے ہیں کہ بغیر انا ہزارے کے وہ لوک سبھا کا الیکشن لڑ کر جیت سکتے ہیں، تو مجھے لگتا ہے کہ ان کی سوچ میں کہیں زیادتی ہے۔ آج بھی دہلی کی حکومت کو ملک کے زیادہ تر حصوں میں انا کی حکومت کہا جا رہا ہے۔ لوگ یہ سر عام کہہ رہے ہیں۔ ایسی مثال اتر پردیش، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش کی ہے، جہاں کہا جا رہا ہے کہ دہلی ریاست میں انا کی حکومت بن گئی۔ اس میں انا کا کوئی رول نہیں ہے، انا کا رول ہے تو صرف اتنا کہ اروِند کجریوال نے اپنی پوری مہم کو نفسیاتی طور پر انا کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔ یہ رام لیلا میدان، جہاں انا کا اَنشن ہوا تھا، انا کا جن لوک پال کا خواب جیسے جملے دہلی کے لوگوں کو انا تحریک کی یاد دلا رہے تھے۔ آج اروند کجریوال کے پاس بڑا موقع ہے کہ وہ جائیں، انا ہزارے سے بات کریں، انہیں اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کریں اور ملک میں غریب کی امید، غریب کا اعتماد، ملک کے لوگوں کی آنکھوں کا خواب، جو انا کی تحریک نے جگایا تھا، اس خواب کو پورا کرنے کے لیے انا کو تیار کریں۔ انہیں ساتھ لیں۔ تبھی ان کے لیے 2014 کے انتخابات میں کامیابی کی امید ہے، ورنہ 2014 کا الیکشن کسی کے بھی حق میں جا سکتا ہے۔
میں آخری سطور اروِند جی کے لیے کہنا چاہتا ہوں۔ اروِند جی، انا جی کا کہنا ہے کہ وہ فرقہ واریت کے خلاف ہیں، کیوں کہ فرقہ واریت ملک کو توڑ دے گی، لیکن وہ سیکولر ازم کے نام پر بدعنوانی کے بھی خلاف ہیں، کیوں کہ سیکولر ازم کے نام پر بدعنوانی وہ کبھی برداشت ہی نہیں کر سکتے اور یہاں سے 2014 کے انتخابات میں انا کی مداخلت اور اروِند کے دماغ کی ایک بڑی گنجائش دکھائی دیتی ہے۔ دیکھتے ہیں مستقبل اس ملک کے عوام کی تقدیر میں کوئی اچھا صفحہ جوڑتا ہے، نئی عبارت لکھتا ہے یا نہیں۔ میرا ماننا ہے کہ 2014 کا الیکشن ملک کی تقدیر کو بدلنے والا الیکشن ثابت ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *