عام آدمی پارٹی کو مسلمانوں کے مسائل بھی حل کرنے ہوں گے

ڈاکٹر وسیم راشد 
تو جناب ’’آپ ‘‘ کی دہلی میں حکومت بن گئی ۔جی ہاں آپ کی حکومت یعنی عام آدمی پارٹی کی حکومت۔ جمہوریت کی تعریف کی جاتی ہے ’عوام کی حکومت عوام کے لئے،عوام کے ذریعے‘ ۔اب اسی جمہوریت کی تعریف میں’ آپ کی حکومت ، آپ کے لئے ،آپ کے ذریعہ بھی‘ کہا جائے تو یقینا یہ عام آدمی کی ہی بات ہوگی۔کبھی یہ ’’آپ‘‘ ہمارے لئے ایک بڑا ہی مہذب مخاطب کرنے کا لفظ تھا۔ آج اگر آپ کہو تو سبھی اسے مذاق میں عام آدمی پارٹی سمجھ لیتے ہیں۔
یہ ہے جیت کجریوال کی۔یہ ہے جیت عام آدمی پارٹی کی۔کیسی تبدیلی آئی ہے۔کتنا بڑا انقلاب کہ اس تبدیلی نے نہ صرف دہلی کی سیاست کو بلکہ پورے ہندوستان کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جس پارٹی کا لگاتار مذاق اڑایا جارہا تھا۔ جس کجریوال کو لوp-5گ بے وقوف پاگل، سرپھرا اور نہ جانے کیا کیا کہہ رہ تھے ،وہی کجریوال آج دہلی کا بادشاہ بن گیا۔ اسی پارٹی نے نہ صرف دہلی کی کمان سنبھالی لی بلکہ قدم قدم پر یہ ثابت بھی کرتی گئی کہ حوصلوں سے ہی جیت ملتی ہے۔
کئی مثالیں مجھے یاد آرہی ہیں جو ہم سنا کرتے ہیں کہ پانی اب سر سے اونچا ہوگیا۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ آتش فشاں کب پھٹ پڑے نہیں معلوم وغیرہ وغیرہ۔ یہی سب ہوا دہلی کے عوام کے ساتھ، عام آدمی پارٹی نے جو وعدے کیے ،جو منشور میں عام انسان کے دل کو چھوا اس نے عوام کو جیسے نیا متبادل دے دیا۔ یہی عام آدمی پارٹی اگر یو پی ، گجرات، بہار وغیرہ کے اسمبلی انتخابات کے وقت بن جاتی تو شاید آج ان ریاستوں میں بھی ’آپ ‘ ہی کی حکومت ہوتی۔ اس وقت پورا ملک مہنگائی ، بدعنوانی ، رشوت خوری، فرقہ واریت، تعصب ، نفرت سے بری طرح نبرد آزما ہے۔ سیاسی لیڈر وں کے چہروں کی سیاہی اور ان کے دل کی بے ایمانی سب کو نظر آنے لگی ہے ۔ یہ خوش قسمتی تھی کجریوال کی کہ ان کو دہلی کا اسمبلی الیکشن مل گیا۔ کیونکہ عوام تبدیلی چاہتے تھے اور جو اس وقت ان کے دل کا درد سمجھ لیتا وہ اس کے ہی ہوجاتے ۔ پورا ملک کانگریس اور بی جے پی سے نجات چاہتا ہے۔ کانگریس نے تو آزادی کے بعد تقریبا آدھی صدی حکومت کرلی لیکن پورے ملک کو جیسے بیچ ڈالا۔ اربوں کھربوں کے گھوٹالے اور غیر ممالکمیں بڑے بڑے کھاتے اور سیاسی لیڈران کا بے پناہ بے ایمان اور بد عنوان ہونا یہ سب کچھ عام آدمی پارٹی کے جنم دینے اور بڑھنے کے لئے کافی تھا۔ شاید کجریوال کی جگہ کوئی اور پارٹی ہوتی تو بھی عوام اس کو اسی طرح ووٹ دیتے ۔وجہ ظاہر ہے بی جے پی، کانگریس، سماجوادی پارٹی، جے ڈی یو ،آر جے ڈی سبھی نے عوام کو بری طرح مایوس کیا ہے۔
مسلمانوں کی بات کریں تو اس آدھی صدی میں کانگریس نے مسلمانوں کو کیا دیا۔ میرٹھ،ملیانہ ہاشم پورا، گجرات،گوپال گڑھ،رودر پور اور مظفر نگر کا فساد، ریزرویشن کے نام پر مسلمانوں کو بیوقوف بنانا۔رنگاناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کی سفارشات کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دینا۔ مسلم نوجوانوں کو بنا کسی وجہ کے پکڑ کر جیلوں میں ڈال دینا اور پھر مسلم لیڈران کو وقتاً فوقتاً خریدلینا۔

کانگریس نے ایک اور کھیل کھیلا ہے اور وہ ہے مسلمانوں کے دل میں مودی کا خوف پیدا کرنا۔کانگریس اچھی طرح سے جانتی ہے کہ مسلمان گجرات کے فساد کے بعد مودی سے کتنی نفرت کرتا ہے اس کو کانگریس نے ہمیشہ کیش کرنے کی کوشش کی ۔اسی نفرت کو ملائم سنگھ نے خوب بھنایا ۔اسی نفرت سے دہلی میں بھی مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیا لیکن عام آدمی پارٹی جو عوام کو اپنے جیسے لوگوں کی پارٹی محسوس ہوئی۔اسے دہلی کے عوام نے دل کھول کر ووٹ دیا۔ ایک بات اور اچھی ہوئی ۔وہ یہ کہ یہ تبدیلی دہلی سے شروع ہوئی ہے ۔دہلی کے عوام باہوش، پڑھے لکھے ہیں اور وہ بجلی ، پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔

کانگریس نے ایک اور کھیل کھیلا ہے اور وہ ہے مسلمانوں کے دل میں مودی کا خوف پیدا کرنا۔کانگریس اچھی طرح سے جانتی ہے کہ مسلمان گجرات کے فساد کے بعد مودی سے کتنی نفرت کرتا ہے اس کو کانگریس نے ہمیشہ کیش کرنے کی کوشش کی ۔اسی نفرت کو ملائم سنگھ نے خوب بھنایا ۔اسی نفرت سے دہلی میں بھی مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیا لیکن عام آدمی پارٹی جو عوام کو اپنے جیسے لوگوں کی پارٹی محسوس ہوئی۔اسے دہلی کے عوام نے دل کھول کر ووٹ دیا۔
ایک بات اور اچھی ہوئی ۔وہ یہ کہ یہ تبدیلی دہلی سے شروع ہوئی ہے ۔دہلی کے عوام باہوش، پڑھے لکھے ہیں اور وہ بجلی ، پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔ بیشتر کالونیوںمیں کئی کئی دن پانی نہیں آتا، شیلا سرکار نے دہلی کو پیرس بنانے کی کوشش تو کی لیکن جس طرح گھرکے باہری حصے کو صاف کرنے کے لئے گندگی اندر کردی جاتی ہے بالکل اسی شہر کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ بڑے بڑے فلائی اوور بڑے بڑے خوبصورت اسٹیڈیم ، آسمان چھوتے مالز اور خوبصورت باغ یہ سب تو دہلی کو خوبصورت بنانے کے لئے ہوا لیکن اندرونی طور پر گلیوں، محلوں او سڑکوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ، تعفن سے بھری ہوئی گلیاں، کوڑا گھر کے سامنے گھومتے، جنگل والے پوری دہلی کا اندرونی طور پر یہی حال ہے اور پھر ظاہر ہے مہنگائی ، بد عنوانی یہ سب اپنی جگہ ہے اور اسی سب نے ہی شاید عام آدمی پارٹی کو جنم دیا۔
حالانکہ مسلمانوں کے لئے ابھی بھی ’’ آپ ‘‘ کا موقف واضح نہیں ہے کیونکہ جو چار یا پانچ مسلم امیدوار کھڑے کیے تھے وہ تو سب ہار گئے۔ اس کی وجہ کچھ بھی رہی ہو لیکن کجریوال کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس کی اڑان لوک سبھا الیکشن ہے تو اب انہیں مسلمانوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ شیلا دیکشت نے خوب مسلمانوں کو بے وقوف بنایا۔افطار پارٹی دے کر ان کو اپنا غلام بنالیا۔ اردو کے نام پر چند ایوارڈز دے کر مسلمانوں کو جیسے خرید لیا لیکن دہلی میں ہی مسلمانوں کو جو پریشانیاں تھیں وہ شیلا حکومت کبھی نہیں سمجھ پائی۔ کبھی کم تعلیم یافتہ ہونے کی بنا پر اور کبھی تعصب کی بنا پر مسلم بچوں کو داخلہ نہیں مل پاتا۔ پرانی دہلی، اوکھلا ، سیلم پور ، جعفر آباد، صدر بازار ان علاقوں کو نیگیٹیو ایریا قرار دیا ہے اور اس کے نتیجے میں نہ تو ان علاقے کے مسلمانوں کو نوکریاں ملتی ہیں نہ سرکاری اور غیر سرکاری لون ملتا ہے اور نہ ہی بچوں کو داخلے۔ اگر عام آدمی پارٹی واقعی مسلمانوں کو بھی اس ترقیاتی ماڈل میں شامل کرنا چاہتی ہے تو اسے مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میںسروے کرا کر وہاں خصوصی ٹیم بھیج کر جانچ کرانی چاہئے کہ کسی طرح ان علاقوں کے لوگ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر زندگی گزار رہے ہیں ۔نہ تو ہمارے پاس اچھے اسکول ہیں نہ ہی ہمارے مسلم لیڈران کے پاس وقت ہے کہ وہ ہمارے بچوں کے لے اچھے اسکول کھول سکیں۔ زمین کے نرخ اتنے زیادہ ہیں کہ اگر مسلم ادارے اسکول ،کالج ، بنانے کے لئے زمین خریدنا بھی چاہتے ہیں تو نہیں خرید سکتے کیونکہ بے پناہ مہنگی زمین ہیں۔
جس طرح اس وقت دہلی کے عوام عام آدمی پارٹی کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں اسی طرح مسلمان بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ عام آدمی پارٹی ان پر بھی توجہ دے گی ۔ان کے بچوں کے لئے اسکول کھلوا ئے گی اور جو اسکول کھنڈر بن چکے ہیں اور جس پرشیلا سرکار نے بالکل توجہ نہیں دی۔مسلمان یہ امید کرتے ہیں کہ نئے نئے اسکول کے ساتھ اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کا تقرر بھی کیا جائے۔دہلی میں کئی سال پہلے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کی بات شیلا سرکار نے کی تھی لیکن ابھی تک بس ناموں کی تختیوں تک ہی یہ وعدہ پورا ہوا۔ نہ تو اردو اساتذہ دیے گئے نہ کتابوں کا مسئلہ حل ہوا، نہ ہی کالجوں میں اردو کی پڑھائی شروع ہوئی۔ نہ ہی حکومت کا کوئی کام اردو میں ہوتا ہے۔ دہلی سکریٹریٹ میں کوئی اردو ٹرانسلیٹر نہیں ہے نہ ہی کوئی اردو سمجھنے والا ہے نہ ہی کوئی پڑھنے والا ہے ۔مختلف کمیٹیوں جیسے دہلی وقف بورڈ، دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی وغیرہ میں نئی نوکریاں نکالی جاسکتی تھیں جو نہیں نکالی گئیں۔ عام آدمی پارٹی نے ایک بات بڑی اہم کہی ہے اور وہ ہے دہلی وقف بورڈ کو دلالوں سے آزاد کرانے کی۔ اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ پہلے وقف ایکٹ بنایا جائے ۔ عام آدمی پارٹی کو مسلمانوں کی پسماندگی ، ان کے ریزرویشن ، ان کے علاقوں کی حالت زار وغیرہ سب ہی پر توجہ دینی ہوگی ورنہ یہ بھی شیلا سرکار کی پارٹی بن جائے گی۔
جانے کیوں اس عام آدمی پارٹی پر یقین کرنے کو جی تو چاہتا ہے مگر کبھی کبھی لگتا ہے کہ اس کی بھی کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہے۔ جیسے کجریوال نے اپنے بچے کی قسم کھا کر کہا تھا کہ نہ حمایت لیں گے نہ دیں گے۔لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔انہیں حمایت لینا پڑی وہ تو ٹھیک تھا لیکن پھر انہوں نے کہا کہ سرکاری گاڑی نہیں لیں گے اور لال بتی استعمال نہیں کریں گے ۔لال بتی پر تو خیر سپریم کورٹ نے ہی روک لگا دی ہے مگر گاڑی بھی لے لی گئی۔ عام آدمی کی لیڈر راکھی بڑلا کا کہنا ہے کہ لیں گے ضرور لیں گے ڈنکے کی چوٹ پر لیں گے۔ پھر کجریوال نے 10 کمروں کا ڈوپلکس قبول کرلیا۔ جو کسی بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس کے جواز میں منیش سسودیا کہتے ہیں کہ بنگلہ لینے کو منع کیا تھا گھر نہیں،کجریوال کا کہنا ہے کہ دہلی میں رہیں گے تو صبح جلدی کام شروع کر پائیںگے۔ عام آدمی پارٹی کے ہر لیڈر کے تیور ہی بدل گئے ہیں ۔ کمار وشواس جسے دو کمروں کا فلیٹ بتا رہے ہیں وہ 10 کمروں کے دو فلیٹ ہیں۔ حمایت حاصل ہوتے ہی سب کے مزاج بدل گئے۔ خود کجریوال کی باڈی لنگویج بدلی بدلی سی ہے۔
اگر گاڑی لینی تھی تو پھر میٹرو یا آٹو رکشا سے آنے کا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔مجھے کجریوال کا ایک جملہ یاد آرہاہے جو انہوں نے حلف لیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ہمیں گھمنڈ نہیں کرنا ہے ،ہمیں عام آدمی کی طرح ہی رہنا ہے ورنہ پھر ہمیں ختم کرنے کے لئے کوئی اور پارٹی جنم لے گی۔کجریوال کو اس جملے کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ شاید وہی ہو جیسا انہوں نے کہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *