اروند کیجریوال اپنی یادداشت اوروعدوں کو سنبھالیں

دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار ایک امید لے کر آئی تھی، حالانکہ انا ہزارے اسمبلی کا الیکشن نہیں لڑنا چاہتے تھے، ان کی رائے تھی کہ اگر الیکشن لڑنا ہے تو لوک سبھا کا الیکشن لڑا جائے، تاکہ نظام میں تبدیلی کی صحیح شروعات ہو سکے۔ ان کا ماننا تھا اور آج بھی ماننا ہے کہ پالیسیاں لوک سبھا بناتی ہے، اس لیے لوک سبھا کا الیکشن لڑنا چاہیے۔ لیکن اروِند کجریوال اس سے اختلاف رکھتے تھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ انہوں نے طے کیا کہ وہ پہلے دہلی کا الیکشن لڑیں گے، دہلی اسمبلی میں وہ جیت گئے، تو ملک جیتنا ان کے لیے آسان ہوگا۔ انا ہزارے کا اس میں صرف اتنا کہنا تھا کہ اگر اسمبلی میں غلطی ہوتی ہے، ایسے لوگ منتخب ہو کر آتے ہیں، جو آئڈیالوجی کو نہیں سمجھتے ہیں یا خود اپنے قدموں میں کوئی تضاد ہو جاتا ہے، تو اس سے پورے ملک میں تحریک کو لے کر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو جائے گا اور یہ مانا جائے گا کہ لوگ ملک میں نظام میں تبدیلی کے لائق نہیں ہیں۔

Read more

اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کی پالیسی اور نیت صاف نہیں ہے

عام آدمی پارٹی کی کرکری تب سے ہی شروع ہو گئی، جب سے سرکار بنی۔ پارٹی نے کہا تھا کہ الیکشن جیتنے کے بعد گاڑی، بنگلہ نہیں لیں گے، لال بتی نہیں لیں گے۔ ہم عام آدمی کی طرح ہی رہیں گے۔ عام آدمی پارٹی نہ تو بی جے پی اور کانگریس سے حمایت لے گی اور نہ دے گی، لیکن جیسے ہی سرکار بنی، اروِند کجریوال بے نقاب ہو گئے۔ عام آدمی پارٹی نے وہی سارے کام کیے، جن کی وہ الیکشن سے پہلے مخالفت کر رہی تھی۔ عام آدمی پارٹی، دراصل نظام اور سیاسی پارٹیوں کے تئیں لوگوں کی ناراضگی کا فائدہ اٹھا رہی ہے، لیکن اس کے پاس لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کا کوئی نقشہ نہیں ہے۔

Read more

پرانے پڑ چکے ہیں سیاسی مدعے

ملک کا سیاسی ماحول اس وقت گرمایا ہوا ہے۔ دو بڑی پرانی پارٹیاں اپنے پرانے ایجنڈے سیکولر ازم اور کمیونل ازم کے درمیان سمٹ کر رہ گئی ہیں۔ اب اس لڑائی میں ایک اور نئی پارٹی آ گئی ہے اور اس کی آمد سے دونوں بڑی پارٹیوں کو یہ طے کر پانے میں مشکل ہو رہی ہے کہ آخر لڑائی کس مدعے کو لے کر ہوگی؟ اس کے باوجود دونوں پارٹیاں جب بھی اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کا مسئلہ اٹھتا ہے، تو سیاست کرنے سے نہیں چوکتیں۔ کچھ تو ایسا ہے، جو اِن پارٹیوں کے دماغ کو اقلیتوں کے مدعے پر منجمد کر دیتا ہے اور وہ کچھ متعینہ دائرے میں ہی رہ کر جواب دیتی ہیں، چاہے حقائق کچھ بھی ہوں۔

Read more

سیاست کا این جی اونائزیشن

نیرج سنگھ
سیاسی سطح پر سرگرم غیر سرکاری تنظیموں کی شروعات 70 کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں ہوئی۔ غیر سرکاری تنظیموں نے اسی بنیاد پر اندرا گاندھی کی مخالفت کرنی شروع کی کہ اندرا گاندھی لامرکزیت کی سیاست کر رہی ہیں اور عدالتی نظام پر سرکاری کنٹرول کر رہی ہیں۔جو لوگ اندرا گاندھی کے نظریات سے متفق نہیں تھے، ان کا سجھائو گاندھی وادی کی اہمیت کی طرف ہو رہا تھا اور وہ لوگ گاندھی وادی کی ڈکشنری سے نکلی زبان کا استعمال کر رہے تھے۔ جے پی مومنٹ میں بھی بہت ساری گاندھی وادی تنظیمیں لگی ہوئی تھیں۔جن کے توسط سے یہ اشارہ مل رہا تھا کہ ہندوستانی جمہوریت کسی فیملی یا ایلیٹ گروپ کی وراثت نہیں ہے۔دراصل این جی او کی شکل میں تب سول سوسائٹی ہی تھی جو کہ نعرہ لگاتی تھی کہ سنگھاسن خالی کرو کہ عوام آتے ہیں۔اس طرح پہلی مرتبہ سیاسی سطح پر سرگرم غیر سرکاری تنظیموں کو سرگرم اپوزیشن کے طور پر دیکھا گیا۔

Read more

یو پی اے سرکار مسلمانوں کو کب تک بے وقوف بناتی رہے گی؟

ہندوستانی مسلمان ملک کی دیگر برادریوں کے مقابلے کافی پچھڑا ہوا ہے۔ انہیں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا، ایسا ہمارا آئین کہتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارا آئین یہ بھی کہتا ہے کہ اگر ملک میں کوئی بھی طبقہ یا برادری سماجی و تعلیمی اعتبار سے پچھڑی ہوئی ہے، تو اس کے پچھڑے پن کو دور کرنے کے لیے ریزرویشن دیا جانا چاہیے۔ دلتوں کو آئین نے صرف 20 سالوں کے لیے ریزرویشن دینے کی بات کہی تھی، لیکن انہیں آج تک ریزرویشن مل رہا ہے۔ اوبی سی کو جو 27 فیصد ریزرویشن مل رہا ہے، اس میںاقلیتیں بھی شامل ہیں، لیکن مسلمانوں کے مقابلے دوسری اقلیتوں کو اس سے زیادہ فائدہ مل رہا ہے۔ سچر کمیٹی نے بھی اپنی تحقیقات کے بعد اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ہندوستانی مسلمان دلتوں سے بھی پچھڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ پس ماندگی کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت مسلمانوں کو ریزرویشن کیوں نہیں دے رہی ہے؟

Read more

جموں و کشمیر: سرحد پر تعمیر ہونے والی دیوار کتنی مضبوط ہوگی ؟

ایک ایسے وقت میں، جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں سدھار آنے کے چرچے ہورہے ہیں اور اس ضمن میں کچھ مثبت اشارے بھی مل رہے ہیں، حکومت کے ذریعے جموں و کشمیر میں سرحد پر دراندازی روکنے کے لیے ایک دیو قامت دیوار کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ سرحد پر دیوار بندی کے اس مجوزہ منصوبے پر جموں و کشمیر کی علیحدگی پسند جماعتوں کے ساتھ ساتھ کئی مین اسٹریم لیڈران نے بھی مخالفانہ ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ ریاست میں سرحد پر دیوار کی تعمیر کا مقصد دراندازی کو روکنا تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے کشمیر کی متنازع حیثیت کے متاثر ہوجانے کا خطرہ بھی ہے۔

Read more

دہلی کے 123وقف املاک کی ملکیت کا متوقع فیصلہ: جمعیت علماء ہند کے مرکزی دفاتر خطرے میں؟

اس کمیٹی نے ایسی 250 املاک کی شناخت کی جو وقف کی املاک تھیں، ان پر عمل درآمد کے لیے میر نصر اللہ کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی قائم کی گئی، جس نے ان 250 املاک میں سے 123 ایسے املاک کا خلاصہ کیا، جنہیں وقف بورڈ کو ٹرانسفر کیا جاسکتا تھا۔ حکومت نے اوائل 1984 میں فیصلہ کیا کہ ان 123 املاک کا مالکانہ حق دہلی وقف بورڈ کو واپس کر دیا جائے اور اس سلسلے میں 27 مارچ، 1984 کو ایک نوٹی فکیشن جاری کیا گیا، مگر اس وقت دو غلط واقعات ہوئے۔ نوٹی فکیشن شائع ہونے سے دو دنوں قبل یہ بات میڈیا تک پہنچ گئی، جس کی وجہ سے نوٹی فکیشن سے ایک روز قبل اس خبر کو اس طرح شائع کیا گیا کہ حکومت ان املاک کو ایک روپیہ سالانہ فی ایکڑ کی شرح سے لیز پر دے رہی ہے۔ پھر دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ نوٹی فکیشن میں ان املاک کو وقف املاک کے طور پر دہلی وقف بورڈ کو سونپنے کے بجائے ایک روپیہ سالانہ فی ایکڑ کی شرح سے اسی بورڈ کو لیز پر دینے کی بات کہی گئی، جو کہ کھلے طور پر ناجائز تھی اور حکومت کے فیصلہ اور منشا کے برعکس بھی تھی۔ اس وقت محترمہ محسنہ قدوائی مرکزی وزیر برائے ورکس اینڈ ہاؤسنگ تھیں۔ راتوں رات ایک تنظیم اندر پرستھ ہندو مہا سبھا کے نام سے بن گئی، جس نے نوٹی فکیشن جاری ہوتے ہی دہلی ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کی اور نوٹی فکیشن پر اسٹے لے لیا۔ یہ اسٹے ایک چوتھائی صدی تک برقرار رہا۔ پھر 2008 کے شروع میں دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ججوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ وقف املاک اللہ کے نام پر فلاحِ عام کے لیے بنائے جاتے ہیں، لہٰذا حکومت ہند اس طرح کے املاک کی مالک نہیں بن سکتی ہے۔ اس لیے اگر وہ انہیں وقف املاک مانتی ہے، تو اسے انہیں دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر یا حوالے کر دینا چاہیے اور یہ کام پر پیچوئل لیز ہولڈ بیسس پر نہیں ہونا چاہیے۔ ریکارڈ سے یہ بات صاف تھی کہ لیز کی بنیاد پر دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر کرتے وقت وقف املاک کا مالکانہ حق قائم رکھنے میں ایک رائے نہیں تھی۔ عدالت کو اس پر حیرت تھی، تبھی تو اس نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلے میں حکومت سے مشورہ لیں اور پھر حکومت کی رائے سے عدالت کو واقف کرائیں۔

Read more

یقیناً مہنگائی ہی یو پی اے کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے

یو پی اے کے تقریباً 10 سال پورے ہوگئے ہیں اور کیا کھویا کیا پایا جیسے سوالات بہت پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔ اب صرف ایک ہی سوال باقی رہ جاتاہے کہ کانگریس کے پاس اب اپنے بچائو کے لئے کون سا رام بان بچا ہے۔یو پی اے اول اور یو پی اے دوم میں یقینا یوپی اے اول کا وقت بہتر تھا لیکن بعد کے 5 سالوں میں کانگریس نے جیسے بالکل ہی اپنا مقام کھودیا ہے۔
خود وزیر اعظم نے اپنی ہار تسلیم کرلی ہے اور اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دہلی اسمبلی الیکشن میںہار کی وجہ صرف اور صرف مہنگائی تھی۔ سونیا گاندھی نے بھی ہار کی وجہ مہنگائی بتائی ہے۔

Read more

انّا کو ابھی بھی کجریوال جیسے پانچ سو افراد پیدا کرنے ہیں

گزشتہ دنوں ایک حیران کن بات ہوئی۔ ایک تحریک سے وابستہ دوست میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ انا ہزارے نے بھسما سُر پیدا کر دیا ہے۔ میں چونکا! میں نے ان سے پوچھا، بھسما سُر! کون؟ تو انہوں نے اروِند کجریوال کا نام لیا اور کہا کہ انا نے تحریک کی حصولیابی کے روپ میں اروِند کجریوال ملک کو دیا۔ میں نے پوچھا، اس میں بھسما سُر والی کیا بات ہوئی، تو انہوں نے جواب دیا کہ اروِند کجریوال اگر صرف انا سے اپنے راستے جدا ہونے کی بات کو سچ ثابت کرتے، تو کوئی بات نہیں تھی، کیوں کہ دونوں نے الگ الگ کہا ہے کہ ہماری منزل ایک ہے، لیکن ہمارے راستے الگ ہیں۔ لیکن اروِند کجریوال تو انا کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

Read more

یو پی اے کا فلاپ شو : دس برس مسلمانوں کو سبز باغ دکھاتے گزر گئے

اگراقلیتوں بشمول مسلمانوں کی پسماندگی دورکرکے انہیں ترقی کی دوڑ میں شامل کرانے کے لیے محض اعلانات اور فیصلے کافی ہیں تو پھر مرکزمیں کانگریس قیادت والی یوپی اے حکومت سب سے آگے ہے۔ اسی طرح یہ حکومت اس معاملے میں بھی سب سے آگے ہے کہ اس کے اتنے ڈھیر سارے اعلانات اور فیصلوں کے باوجود گزشتہ تقریباًدس برسوں میں مسلم اقلیت امپاور نہیں ہوپائی۔ حکومت اس میں بھی سب سے آگے رہی کہ فنڈ ’نئی روشنی‘ اسکیم کے تحت مختص ہوئے اقلیتی خواتین کے لیے مگر یہ گئے اقلیتی تنظیموں کے بجائے اکثریتی تنظیموں کی جھولی میں۔ گزشتہ دس برسوں میں مسلم اقلیت کے نتاظر میں یوپی اے کے فلاپ شو پر پیش ہےتنقیدی جائزہ:

Read more
Page 1 of 612345...Last »