سچن کا دنیائے کرکٹ کو آخری سلام

نوین چوہان
p-12eمیرے عزیز دوستوں ، مجھے بات کرنے دیں ، نہیں تو میں اور جذباتی ہو جائوں گا۔ یقین کر پانا بے حد مشکل ہے کہ 22گز کے درمیان میرا 24سال کا بہترین سفر ختم ہو گیا ہے، لیکن اس موقع پر میں ان سبھی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، جنھوں نے میری زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ زندگی میں پہلی بار میرے ہاتھ میں ایک فہرست ہے تاکہ میں کسی کا نام نہ بھولوں، اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میرے لئے آج بات کرنا تھوڑا مشکل ہے، لیکن میں سنبھال لوں گا۔ میرے والد محترم میرے لئے سب سے اہم شخص ہیں، 1999میں ان کے انتقال کے بعد مجھے ان کی سب سے زیادہ کمی محسوس ہوئی۔ مجھے نہیں لگتا کہ ان کی رہنمائی کے بغیر میں آج یہاں آپ کے لوگوں کے سامنے کھڑا ہوتا۔ انھوں نے مجھے گیارہ سال کی عمر میں آزادی دی اور کہا کہ تم اپنے خواب پورے کرو، لیکن کبھی شارٹ کٹ مت اپنانا۔ آگے کاراستہ مشکل ہو سکتا ہے لیکن کبھی ہار مت ماننا، میں نے سیدھی طرح ان کی ہدایتوں کی تعمیل کی۔ جب بھی میں نے کچھ الگ کیا اور اپنا بلا اوپر کیا تو وہ میرے والد محترم کو وقف تھا۔
میری والدہ ! مجھے نہیں معلوم وہ مجھ جیسے نٹ کھٹ بچے سے کیسے نمٹتی تھیں۔مجھے سنبھال پانا آسان نہیں تھا، ان کے پاس بے حد صبر و تحمل رہا ہوگا۔ میرے لئے ماں بہت متفکر اور سنجیدہ رہتی تھیں۔ گزشتہ 24سال تک میں نے ہندوستان کے لئے کھیلا، تب بھی انھوں نے میرا خیال رکھا، لیکن میں نے جب سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا، تبھی سے انھوں نے میرے لئے دعائی کرنا شروع کر دی تھیں۔ انھوں نے دعا اور صرف دعا ہی کی، مجھے ایسا لگتا ہے کہ ان کی دعائوں اور آشیرواد نے مجھے میدان میں جا کر بہترین کارکردگی کرنے کی طاقت دی ۔ اسکول کے دنوں میں میں چار سال تک میں اپنے چاچا چاچی کے ساتھ رہا تھا کیونکہ ہمارے گھر سے اسکول کافی دور تھا۔ انھوں نے مجھے اپنے بیٹے کی طرح رکھا دن بھر سخت مشق کے بعد میرے نیند میں ہونے باوجود میری چاچی مجھے کھانا کھلاتی تھیں تاکہ میں اگلے دن پھر سے کھیل سکوں۔ میں ان لمحوں کو کبھی نہیں بھول سکتا ہوں۔ میں ان کے بیٹے کی طرح ہوں اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آگے بھی یہ ایسا ہی رہا۔
میرے سب سے بڑے بھائی نتن اور ان کے کنبے نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی ۔ زندگی کا پہلا بلا میری بہن نے مجھے گفٹ میں دیا تھا۔ وہ کشمیر ولو بیٹ تھا۔بھائی اجیت کے بارے میں کیا کہوں، میں جانتا ہوں ہم دونوں نے اس خواب کو ایک ساتھ جیا ہے۔ انھوں نے میرے کرکٹ کے لئے اپنا کریئر قربان دیا۔ 1990میں میری زندگی کا سب سے خوبصورت دور آیا، جب میں اپنی اہلیہ انجلی سے ملا۔ وہ بہت ہی بہترین سال تھے، جو اب بھی ہیں اور آنے والے وقت میں بھی رہیں گے۔ مجھے معلوم تھا کہ ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے انجلی کے سامنے ایک سنہرا کریئر تھا۔ جب ہم نے اپنی زندگی بڑھانے کا فیصلہ کیا تو انجلی نے کہا کہ آپ اپنی کرکٹ جاری رکھئے میں پریوار سنبھال لوں گی۔ اس کے بعد میری زندگی کے دو انمول ہیرے سارا اور ارجن آئے۔ وہ اب بڑے ہو چکے ہیں۔ میری بیٹی 16سال کی ہے اور میرا بیٹا 14سال کا ۔ وقت گزرتا گیا۔ میں ان کے ساتھ اہم مواقع جیسے کہ ان کے جنم دن ، ان کی اسکول کے پروگراموں میں ان کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا، میرے بچوں کو میری پریشانی سمجھنے کے لئے شکریہ۔اسکول کے دنوں میں جب میں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو میڈیا نے میرا بہت تعاون کیا۔ انھوں نے آج صبح تک ایسا کیا۔ میڈیا کو میرا بے حد شکریہ۔ تمام فوٹوگرافرس کا بھی شکریہ جنھوں نے ان لمحات کو اپنے کیمرے میں قید کیا جو آنے والی زندگی میں میرے ساتھ رہیں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ میری اسپیچ کچھ زیادہ ہی لمبی ہو رہی ہیل لیکن یہ آخری ہے۔ میں ان سبھی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جو لوگ دنیا بھر سے یہاں آئے اور میری بے انتہا پذیرائی کی، خواہ میں نے ایک بھی رن نہیں بنایا ہو یا سنچری نہ لگائی ہو۔ آپ کا پیار مجھے بہت پیارا ہے اور آپ نے جو کچھ بھی میرے لئے کیا وہ میرے لئے بہت معنی رکھتا ہے۔ میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں اور ملا ہوں، جنھوں نے میرے لئے ورت رکھے، میرے لئے دعائیں اور بہت کچھ میرے لئے کیا۔ اس کے بنا آج میری زندگی ایسی نہیں ہوتی۔ میں تہہ دل سے آپ سبھی کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور یہ بھی کہوں گاکہ وقت بہت جلدی گزر گیا، لیکن آپ نے جو بھی یادیں میرے ساتھ جوڑی ہیں، وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی اور سب سے خاص سچن۔۔۔۔سچن۔۔۔سچن میرے کانوں میں میری سانسوں کے تھمنے تک گونجتا رہے گا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اگر میں کچھ بھول گیا ہوں تو آپ سمجھ سکتے ہیں۔ g
گڈ بائے
سچن رمیش تیندولکر

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *