سعودی میں ہندوستانی گھریلو ملازمائوں کی مانگ

کے این واصف 

سعودی حکومت کی یہ دوہری پالیسی سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ ایک طرف تو وہ وہاں سے غیر سعودی ملازمین کو باہر نکالنے پر تلی ہوئی ہے اور دوسری طرف وہ سعودی میں ہندوستانی خواتین کو بحیثیت ملازمہ کے رکھنے کے لئے حکومت ہند سے معاہدہ کرنے جارہی ہے۔ہندوستانی ملازمائوں کو سعودی میں بہت ہی برے حال میں رکھا جاتاہے ۔ وہا ں جاکر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا پھر بھی نہ جانے کیوں ہندوستانی غریب خواتین وہاں جاکر کام کرنے کو تیار ہوجاتی ہیں۔ اس دوہری پالیسی کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا ہے۔لیکن یہ طے ہے کہ اگر ہندوستانی غریب خواتین وہاں ملازمت کے لئے جاتی ہیں تو ان پر ہونے والے ظلم و ستم کی ذمہ دار کوئی لینے کو تیار نہیں ہوتا۔

p-8bسعودی عرب میں ہندوستانی خواتین کا بحیثیت گھریلو ملازمہ کے کام کرنا نسبتاً کم ہے۔وہاں انڈونیشیائی،فلپائنی، سری لنکن اور کچھ افریقی ممالک کی عورتیں زیادہ تر اس پیشہ سے وابستہ ہیں۔ لیکن سعودی معاشرے میں ہندوستانی عورتوں کی بحیثیت گھریلو ملازمہ مقبولیت اور مانگ زیادہ ہے۔ ملازمہ کا ویزا حاصل کرنے والے اکثر سعودی گھرانوں کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں ملازمہ ہندوستان سے حاصل ہو۔لہٰذا اعلیٰ سطح پراس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہند و سعودی عرب میں کوئی ایسا معاہدہ طے ہو جس کے تحت ہندوستانی عورتوں کو بحیثیت گھریلو ملازمہ بآسانی سعودی عرب لایا جاسکے۔ ہندوستان نے سعودی عرب کو گھریلو ملازمہ فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے اور اس سلسلے میں وزیر محنت انجینئر عادل فقیہ گھریلو ملازمائوں کے معاہدے پر دستخط کے لئے جلد ہی دہلی کا سفر کرنے والے ہیں۔ابھی تک ہندوستانی ملازمائوں کو دی جانے والی تنخواہیں مقرر نہیں کی گئی ہیں۔دوسری جانب جدہ ایوان تجارت میں ریکروٹنگ کمیٹی کے ایک رکن نے مطالبہ کیا ہے کہ گھریلو ملازمائوں کے حوالے سے شرائط مقرر کیا جانا ضروری ہے۔اگر ملازمہ فرار ہوتی ہے تو ایسی صورت میں سعودی شہری کو بھاری نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ہندوستان گھریلو ملازمائوں کی درآمد کی لاگت لگ بھگ اتنی ہی آئے گی جتنی کہ سری لنکا سے ملازمائیں درآمد کرنے پر آرہی ہے۔
ہندوستانی گھریلو ملازمائوں کی درآمد کے معاہدے میں جو دفعات شامل ہیں ان کے بموجب ہندوستان کو ملازمائیں بر آمد کرنے سے قبل ان کی تربیت کرنی ہوگی ۔ گزشتہ برسوں کے دوران مملکت میں با قاعدہ کوئی بھی ہندوستانی ملازمہ نہیں تھی۔حکومت ہند ماضی میں گھریلو ملازمائوں کو بر آمد کرنے پر پابندی عائد کئے ہوئے تھی ۔ بہر کیف دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے میں فریقین کے حقوق کو تحفظ دیا جائے گا۔ توقع یہ کی جارہی ہے کہ ہندوستان سے مملکت کی ضرورت بھر گھریلو ملازمائیں آجائیں گی۔خلیج کے دیگر ممالک سعودی اور ہند کے درمیان معاہدے کی گھڑی کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ ان سب کو یقین ہے کہ اگرسعودی اور ہند کا معاہدہ ہوجاتا ہے تو اچھا رہے گا اور ہندوستان خلیج کے دیگر ملکوں کو بھی گھریلو ملازمائیں فراہم کرنے لگے گا۔
سعودی عرب میں ایک بہت بڑی غیر ملکی افرادی قوت کا م کرتی ہے اور یہ خارجی باشندے یہاں کے کچھ سرکاری اور سارے نجی شعبہ کی ضرورت بن گئے ہیں۔سعودی کے نجی اداروں اور کمپنیوں میں تو اکثریت غیر ملکی باشندے ہی کام کرتے ہیں۔ اسی طرح گھریلو ملازمین عینی ہائوس ڈرائیور اور گھریلو کام کاج کے لئے خاتون ملازمائیں وغیرہ بھی سعودی معاشرے کی ضرورت ہیں۔ دوسری جانب جن ممالک سے یہ گھریلو درآمد کئے جاتے ہیں۔ ان ممالک کی حکومتوں نے اب ان کے یہاں لانے پر یا تو پابندی عائد کردی ہیں یا سخت شرطیں لگادی ہیں ،جس کی وجہ سے یہاں گھریلو ملازمین حاصل کرنے میں سعودی گھرانوں کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔ دریں اثنا ریکروٹنگ کے شعبے میں سرمایہ لگانے والوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گھریلو ملازمین میں 60 فیصد قلت کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ آئندہ ایام بہت مشکل ہوں گے ۔مارکیٹ میں گھریلو ملازمین کی تعداد میں کمی، نیز غیر قانونی باشندوں کے خلاف تعاقب کی مہم اور گھریلو ملازم فراہم کرنے والے ممالک کی محدود تعداد کے پیش نظر گھریلو ملازمائوں کا بحران شدت اختیار کرسکتا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ 60 فیصد تک کمی کا بحران پیدا ہوگا۔ سرمایہ کاروں نے مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی تعداد میں کمی کا بحران دھماکہ خیز ہوسکتا ہے کہ نئی ریکروٹنگ کمپنیاں ملازمین کی بڑھتی ہوئی طلب پوری نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے وزارت محنت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے ممالک سے افرادی قوت درآمد کرنے کی سبیل پیدا کرے جہاں سے اب تک افرادی قوت درآمد نہیں کی گئی۔
ان حقائق کی روشنی میں یہ ات واضح ہوکر سامنے آرہی ہے کہ سعودی گھریلو ملازمین کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا۔ اب جبکہ ہندوستان گھریلو ملازمائوں کی سپلائی میں سعودی عرب سے نئے معاہدے کرنے جارہا ہے تو ان معاہدوں میں گھریلو ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنانے پر پورا زور دیا جاناچاہئے اور اس سلسلے میں ایک موثر میکانزم ہماری ایمبیسی کے پاس ہونا چاہئے جس میں وہ ان گھریلو ملازمین کی نگرانی اور ویلفیئر کا خیال رکھ سکیں۔دوسری طرف خود ہندوستانی عورتوں کو جو سعودی میں گھریلو خادمہ کے طور پر ملازمت اختیار کرنے کی خواہش مند ہیں انہیں اچھی طرح سوچ لینا چاہئے کہ وہ ایک ایسے غیر ملک میں ملازمت کرنے جارہی ہیں جس کی زبان ، تہذیب اور رہن سہن کے طریقوں سے بالکل ناواقف ہیں۔ یہاں اکثر عورتیں جو بطور گھریلو ملازمہ کام پر آتی ہیں،وہاں کے ماحول میں اپنے آپ کو ڈھال نہیں پاتی ہیں یا وہ بیمار ہوجاتی ہیں اور آنے کے ایک آدھ مہینہ بعد ہی یہاں سے واپس ہوجانا چاہتی ہیں اور روتے دھوتے اپنے رشتہ داروں کو فون کرتی ہیں۔اسی لئے ہندوستانی عورتوں کو سعودی جانے سے پہلے سو بار سوچ لینا چاہئے۔ خصوصاً مسلم عورتوں کو تو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا انہیں تن تنہا کسی غیر ملک میں نا واقف افراد اور غیر مانوس ماحول میں کام کرنے جانا چاہئے۔ کیا چند سکوں کے عوض ایک اجنبی جگہ ایک طویل عرصہ تنہا گزارنا چاہئے۔ جب کسی گھر میں ملازمہ کا کام ہی کرنا ہے تو کیوں نہ یہ کام اپنے وطن میں رہ کر کیا جائے۔ آج کل ملک میں خود گھریلو ملازمہ کی طلب کافی ہے۔ اپنا گھر بار چھوڑ کر دور دراز غیر ملک میں جاکر کسی کے گھر کام کرنے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ اپنے گھر اور افراد خاندان سے قریب رہ کر ملازمت کی جائے اور گھر کی معیشت کو سہارا دیا جائے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *