خواتین کے ساتھ بڑھتے جنسی استحصال کے واقعات

میگھناد دیسائی 

ہندوستانی عورتوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے، جن پر ظلم نہ صرف اجنبی لوگوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، بلکہ ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوتا ہے، جنہیں وہ جانتی ہیں اور جن پر اعتماد کرتی ہیں؟ نربھیہ کا کیس اندوہناک تھا، کیوں کہ اسے نہ صرف زبردست جسمانی تکلیف پہنچائی گئی تھی، بلکہ حملہ آوروں نے بھی درندگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن ہم یہ جانتے ہیں، اور اس کے بعد سے ہی اس قسم کی اطلاعات آ رہی ہیں کہ عورتوں کو ہر وقت ہراساں کیا جا رہا ہے، ان کی عصمت دری ہو رہی ہے، انہیں قتل کیا جا رہا ہے اور ایسا کرنے والے زیادہ تر لوگ وہ ہیں، جنہیں یہ عورتیں پہلے سے جانتی ہیں۔الیکشن کے اس ماحول میں ہراساں کیے جانے سے متعلق دعوے اور پھر ان دعووں کی تردید کے سلسلہ کا متاثرہ پر مرکوز ہونا تو فطری ہے ہی، لیکن اس کی وجہ سے اب مخالف سیاسی پارٹیوں کے درمیان بھی جنگ چھڑ چکی ہے۔ لیکن ابھی جو دومعاملے منظر عام پر آئے ہیں، اگر ان میں سچائی ہے، تو یہ جدید ہندوستان میں عورتوں کی حالت سے متعلق ایک دردناک کہانی ہے۔
ترون تیج پال کا معاملہ، جو ابھی کچھ دنوں پہلے ہی منظر عام پر آیا ہے، افسوس ناک اور دہشت انگیز ہے۔ یہ افسوس ناک اس لیے ہے، کیوں کہ وہ ایک باصلاحیت قلم کار اور صحافی ہیں۔ میں انہیں برسوں سے جانتا ہوں اور انہیں ایک دوست تصور کرتا ہوں۔ تہلکہ اس وقت مشہور ہوا، جب اس نے بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دوران وزارتِ دفاع کے گھوٹالے کو اجاگر کیا تھا۔ اس نے حکومت کو ناکارہ کر دیا تھا اور اسے کوئی بڑی اصلاح کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
تہلکہ پر کانگریس کا ماؤتھ پیس ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا۔ تہلکہ نے اور بھی کئی بڑے انکشافات کیے۔ ابھی ترون تیج پال جس طرح کے معاملے میں پھنسے ہوئے ہیں، اگر یہ کسی اور کا معاملہ ہوتا، تو اسے منظر عام پر لانے کی شروعات تہلکہ سے ہی ہوئی ہوتی۔

تہلکہ جدید ہندوستانی میڈیا کا ایک حصہ ہے، اسی لیے یہ جمہوریت کی جان ہے۔ لیکن ساتھ ہی ہمارے سامنے گجرات حکومت اور بی جے پی بھی ہے۔ اگر ہم ’صاحب کے ٹیپ‘ پر اعتبار کریں، حالانکہ ابھی اس کی پوری طرح تصدیق نہیں ہو پائی ہے، تو یہ بھی ایک نوجوان عورت کی جاسوسی اور نگرانی کا معاملہ ہے۔ بی جے پی کے مطابق، یہ سب اس کے والد کی درخواست پر کیا گیا۔ جیسا کہ کہا جا رہا ہے، والد نے اپنی بیٹی پر نظر رکھنے کے لیے گجرات کے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کیا۔ ہم صرف قیاس ہی لگا سکتے ہیں کہ آخر ایسا کرنے کے لیے کیوں کہا گیا ہوگا۔

اس قسم کا فعل حیرت میں ڈالتا ہے، کیوں کہ ان کے اور متاثرہ کے درمیان کا رشتہ، جس وقت یہ شروع ہوا تھا، والد جیسا ہونا چاہیے تھا، لیکن بعض دفعہ باپ ہی شکاری بن جاتے ہیں۔ اس خاتون سے چھیڑ چھاڑ صرف ایک بار نہیں، بلکہ دو بار کی گئی۔ اس لیے یہ انجانے میں پیش آ نے والا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اسے جان بوجھ کر انجام دیا گیا۔ بعد کا برتاؤ تو اور بھی بدتر تھا۔ پورے ادارہ کی طرف سے اس معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی اور متاثرہ کو شکایت نہ کرنے کے لیے ڈرایا دھمکایا گیا۔ یہی نہیں، چھ مہینے تک نوکری سے دور رہنے کی کمزور پیش کش کی گئی۔ اس طرح کی کوشش کی اور بھی مذمت کی جانی چاہیے، کیو ںکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس قسم کے دباؤ سے نہ جانے کتنی عورتوں کو تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہوگی اور نہ جانے کتنے شکاری اپنے فعل کی سزا پانے سے بچ جاتے ہوں گے۔
تہلکہ جدید ہندوستانی میڈیا کا ایک حصہ ہے، اسی لیے یہ جمہوریت کی جان ہے۔ لیکن ساتھ ہی ہمارے سامنے گجرات حکومت اور بی جے پی بھی ہے۔ اگر ہم ’صاحب کے ٹیپ‘ پر اعتبار کریں، حالانکہ ابھی اس کی پوری طرح تصدیق نہیں ہو پائی ہے، تو یہ بھی ایک نوجوان عورت کی جاسوسی اور نگرانی کا معاملہ ہے۔ بی جے پی کے مطابق، یہ سب اس کے والد کی درخواست پر کیا گیا۔ جیسا کہ کہا جا رہا ہے، والد نے اپنی بیٹی پر نظر رکھنے کے لیے گجرات کے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کیا۔ ہم صرف قیاس ہی لگا سکتے ہیں کہ آخر ایسا کرنے کے لیے کیوں کہا گیا ہوگا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے آدمی ہیں اور اسی لیے ان کا رابطہ وزیر اعلیٰ سے براہِ راست رہا ہوگا۔ اگر والد کی باتوں پر یقین کیا جائے، تو لڑکی وہ چیزیں کر رہی تھی، جس کی اسے اجازت نہیں تھی۔ شاید وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی آدمی سے ملے۔
یہ جسمانی حملہ کی بجائے قانون مخالف حالت ہے، لیکن کم سنگین نہیں ہے۔ ایشو یہ ہے کہ جس طرح سے جاسوسی کرائی گئی، اس کا قانونی جواز کیا ہے۔ ہندوستانی عاملہ اکثر قانون سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہے اور اپنے اختیارات کا استعمال مشکوک طریقے سے کرتی ہے۔ ہم اس بات کو جانتے ہیں، کیوں کہ سی بی آئی سیاسی لیڈروں کے خلاف جتنی تیزی سے معاملے درج کرتی ہے، اتنی ہی تیزی سے انہیں واپس بھی لے لیتی ہے۔ اب سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ اس قسم کی ہر کارروائی پر نظر رکھی جائے اور اس پر ہنگامہ کیا جائے۔ صرف اسی سے بدعنوانی کو روکا جا سکتا ہے، یعنی اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق اخلاقی بدعنوانی کو۔عام طور پر عاملہ اس قسم کی تادیبی کارروائیوں سے بچ جاتی ہے، لیکن ان کا انکشاف ہو جائے، تو اس پر کارروائی ہونی چاہیے۔ اختیارات کا غلط استعمال بہت بری چیز ہے اور پیسوں کے گھوٹالوں کے مقابلے شہریوں کی آزادی کے لیے زیادہ خطرناک بھی ہے۔
اگر ہندوستان کو ترقی کرنی ہے، تو اسے احترام کی تعریف کو بدلنا ہوگا۔ احترام سیاسی لیڈروں کا نہیں، بلکہ بزرگوں اور والدین کا ہونا چاہیے۔ ہمیں ان نوجوان مردوں اور عورتوں کا احترام کرنا چاہیے، جو اپنے کریئر کی شروعات کر رہے ہیں اور جو مستقبل کے ہندوستان کی ذمہ داری سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں، لیکن سب سے زیادہ احترام بزرگوں اور والدین کی طرف سے ہونا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *