خلیج تعاون کونسل اجلاس میں اہم پیش رفت

p-8bکویت میں خلیج تعاون کونسل کا 34 واں اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہواہے جب ملک شام میں حالات پیچیدہ تر ہوتے جارہے ہیں۔عصمت دری اور قتل کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں ۔دوسری طرف مصر میں سیاسی فضا ایک نیا رنگ لے رہی ہے۔ جامعہ ازہر کے مشہور عالم شیخ قرضاوی جن کو فوجی حکومت کا مخالف سمجھا جاتا تھا کے استعفیٰ کو قبول کرلیا گیا ہے ۔ان کے استعفیٰ کو قبول کیے جانے کے پیچھے حکومت کی طرف سے ازہر کے انتظامیہ پر سیاسی دبائو کہا جارہا ہے جس کی وجہ سے کئی یونیورسٹیوں کے طلباء نے سڑک پر اترنا شروع کردیا ہے۔اس کے علاوہ باراک اوبامہ کی فلسطین میں بازآبادکاری کی مخالفت کے باجود اسرائیلی ضد بھی اجلاس میںزیر بحث آئی۔نیز خلیج تعاون کونسل کے ممبر ملکوں کے کچھ ایسے قومی مسائل ہیں جن پر بات چیت کسی نتیجے تک نہیں پہنچی۔
خلیج تعاون کونسل کے 6بنیادی ممبر ہیں۔ان میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سعودی عرب ، قطر ، کویت اور عمان شامل ہیں۔ البتہ اجلاس میں عراق کو عرب ملک ہونے کی وجہ سے مدعو کیا جاتا ہے اور یمن کی عرب ملکوں کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات ہیں اور عرب ملکوں میں شامل ہے لہٰذا اسے بھی اس اجلاس میں شامل کیا جاتاہے۔البتہ اردن اور مراکش کچھ معاملوں میں جیسے کھیل ، صحت اور کلچر کے موضوع پر اس کونسل کا ممبر بننے کی خواہش مند ہیں ۔کونسل کی بنیاد 1981 میں رکھی گئی۔اس کا مقصد تھا ممبر ملکوں کے شہریوں کے درمیان باہمی ربط،اقتصادی، تجارتی،کسٹم ، نقل و حمل،ترقیاتی ، تعلیمی، ثقافتی،سماجی، صحت ،میڈیا،سیاحت، صنعت،کان کنی،زراعت،جانوروں کے وسائل،سائنسی و تکنیکی کے مشترکہ منصوبوں پر غور و خوض کرنا۔اجلاس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں وزرائے خارجہ کے علاوہ سربراہان مملکت شرکت کرتے ہیں ۔ حالیہ کانفرنس میں جن اہم سربراہان مملکت نے شرکت کی ان میں بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد سلمان بن عبد العزیز، نائب صدر متحدہ عرب امارات محمد بن راشد آل مکتوم اور عمان کے نائب وزیر اعظم فہد بن محمود آل سعید نے شرکت کی ۔اس اجلاس میں امیر کویت شیخ صباح الاحمد سمیت تمام سربراہوں نے خطہ عرب کے قومی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بدترین حالات کے باوجودخلیجی ممالک نے عوام کو ہرقسم کی سہولتیں فراہم کیں، خلیجی ممالک کے عوام دنیا کی ہر جدید سہولت سے استفادہ کررہی ہے۔ اجلاس میں فلسطین پر بھی بحث ہوئی اور اس سلسلے میں امریکہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسرائیل کو بازآبادکاری کے عمل اور ظلم و جبر سے باز رکھنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔ خطے میں شام کی وجہ سے پورا عرب علاقہ بے چینی کی زد میں ہے اور اس بے چینی سے باہر نکلنا عربوں کی ترجیحات میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موقع پر امیر کویت سمیت تمام سربراہوں نے شام میں پناہ گزینوں سمیت باغی گروپ پر ہورہے مظالم کو روکنے اور بے گھر ہونے والوں کی بازآبادکاری کے لئے زیادہ سے زیادہ چندہ اکٹھا کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر شام میں اپوزیشن کی جماعت شامی قومی اتحاد ( ایس این سی ) کے سربراہ صدر احمد جربا کی اس اپیل کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں خانہ جنگی کے شکار لاکھوں افراد کی امداد کے لئے فنڈ تشکیل کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔ بشار الاسد اور باغیوں کے درمیان گزشتہ ڈھائی برسوں سے جاری تصادم میں تقریبا ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اقوام متحدہ کے مطابق تقریبا 65 لاکھ افراد اندرون ملک ہی بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ23 لاکھ افراد ہجرت کرکے بیرون ملک جاکر پناہ لئے ہوئے ہیں۔ظاہر ہے ان افراد کو دوبارہ آباد کرنے پر پوری دنیا کو توجہ دینی ہوگی، ساتھ ہی عربوں کو زیادہ سے زیادہ چندہ اکٹھا کرنا ہوگا جس کے لئے جنوری 2014کے وسط میں ایک کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں اقوام متحدہ کی سکریٹری جنرل بانکی مون بھی شرکت کریں گے۔
خاص طور پر اجلاس میں ایران کے تئیں تمام سربراہوں کا مثبت اظہار خیال کرنا اور امریکہ- ایران حالیہ معاہدے کو خطے میں امن کی طرف پیش قدمی کے طور پر دیکھنا خلیجی ممالک کے بدلتے نظریے کی طرف اشارہ کررہا ہے ۔ ورنہ اس سے قبل کئی خلیجی ملکوں نے خاص طور پر سعودی عرب نے اس معاہدے کو خطے کے لئے ایک خطرہ قرار دیا تھا مگر دھیرے دھیرے ان کے نظریات میں تبدیلی آرہی ہے ،جس کا اظہار اس اجلاس میں ہوا۔اگرچہ اس تبدیلی کو ایک عارضی تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہاہے، خاص طور پر عمان کے سلطان قابوس کا اس اجلاس میں شریک نہ ہونا خلیجی ممالک کے ایران کے تئیں سخت موقف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔دراصل سلطان قابوس کا جھکائو ایران کی طرف ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایران و امریکہ معاہدہ بھی سلطان قابوس کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا ہے۔ دوسری طرف خلیجی تعاون کونسل کو 2011 میں یورپین یونین کے طرز پر خلیجی یونین بنانے کی تجویز سامنے آئی تھی اور اس تجویز کی تائید بحرین نے کی تھی لیکن بعض تحفظات کو لے کر یہ معاملہ عمل میں نہیں آسکا ہے لیکن سعودی عرب مسلسل اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ اس کونسل کو یورپین یونین کے طرز پر بنایا جائے جبکہ عمان اس کی مخالفت کررہا ہے ۔ عمان کا کہنا ہے کہ اگر تعاون کونسل ( جی سی سی) کو یورپین یونین کے طرز پر بنادیا گیا تو یہ یونین ایران مخالف اتحاد میں تبدیل ہوجائے گا اور یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ سلطان قابوس نے حالیہ اجلاس میں شرکت سے گریز کیا ۔
البتہ مصر کے تئیں کوئی ایسی بات نہیں کہی گئی جس سے خلیجی ممالک کے نظریے میں کسی طرح کی تبدیلی کا اشارہ ملے ۔جبکہ محمد مرسی کے تختہ پلٹنے میں خلیجی ممالک کے کئی ملکوں کے ہاتھ ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔اس کے علاوہ اس وقت مصر میں ایک مرتبہ پھر سے طلباء تحریک کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ قاہرہ یونیورسٹی اور طیوس سمیت کئی تعلیمی اداروں کے طلباء مظاہرے کررہے ہیں اور پولیس انہیں گرفتار کررہی ہے اس کے باوجود اس سلسلے میں اجلاس میں کسی حتمی موقف کا اختیار نہ کرنا اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کے ممبر ملک مصر میں حکومت کی کارروائیوں سے مطمئن ہیں ۔جبکہ حالیہ طلباء تحریک میں حکومت کی طرف سے طاقت کے استعمال کو پوری دنیا میں منفی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ g
چوتھی دنیا بیورو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *