جھوٹے وعدے ، جھوٹے دعوے: جمہوریت کو بچانے کے لئے پھر سے انشن ضروری

انا ہزارے 
Mastہندوستان کو جمہوریہ بنے ہوئے 64 برس ہو گئے، لیکن جمہوریت کہاں ہے؟ مجھے تو دکھائی نہیں دیتی۔ اتنے برسوں میں ملک کے لوگوں کو ہم صاف پانی تک نہیں دے پائے ہیں۔ طبی خدمات فراہم نہیں کر سکے۔ تعلیم نہیں دے سکے۔ گھر نہیں، روزی روٹی نہیں۔ ہمارے ملک میں دوسرے ممالک کے مقابلے نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، یعنی ہمارا نوجوانوں کا ملک ہے۔ لیکن ان نوجوانوں کو دینے کے لیے ہمارے پاس کیا ہے؟ یہ بے روزگار رہیں گے، تو کیا کریں گے؟ یہ سوچ کر تشویش ہوتی ہے۔ ہم نے ایسے معاشرہ کی تعمیر کی ہے، جس میں ایک طرف بے تحاشہ امیری ہے اور دوسری طرف جہنم کی طرح غریبی ہے۔ ہندوستان آج بھی گاؤں کا ملک ہے اور گاؤں ہی پچھڑ رہے ہیں۔ جو شہر میں ہیں اور امیر ہیں، ان کی زندگی میں تو تھوڑی بہت خوشیاں ہیں، لیکن جو گاؤں میں رہتے ہیں، وہ غریب ہیں۔ وہ وقت سے پیچھے چل رہے ہیں اور پیچھے ہی چھوٹتے چلے جا رہے ہیں۔ ملک کا ایک بڑا حصہ اقتصادی، سماجی و تہذیبی طور پر پچھڑ گیا ہے۔ صرف پچھڑا ہی نہیں ہے، سرکار کی پہنچ سے باہر چلا گیا ہے۔ وہاں نکسلیوں کی متوازی سرکار چل رہی ہے۔
ملک کی موجودہ حالت کو دیکھ کر تشویش ہوتی ہے۔ ملک انتشار کے دہانے پر کھڑا ہے، لیکن جنہیں فکر ہونی چاہیے، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ ملک کی پارلیمنٹ اور اس میں حصہ دار سیاسی پارٹیاں سماج اور وقت سے کٹی ہوئی ہیں۔ انہیں صرف الیکشن جیتنا ہے۔ سیاست کرنی ہے۔ انہیں عام لوگوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی ہو، بھارتیہ جنتا پارٹی ہو یا پھر لیفٹ پارٹیاں ہوں، کیا پارلیمنٹ میں کوئی یہ پوچھتا ہے کہ سرکار کی پالیسیاں صرف ملک کے پانچ فیصد لوگوں کے لیے ہی کیوں بنائی جاتی ہیں؟ میں نے کبھی نہیں سنا کہ کسی سیاسی پارٹی نے نیو لبرل اقتصادیات کے عوام مخالف زاویہ کو لے کر کبھی سوال کھڑے کیے ہوں۔ سرکار ہر چیز کا پرائیویٹائزیشن کر رہی ہے۔ اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔ ہندوستان میں ویلفیئر اسٹیٹ کہاں ہے؟ میں نے پی سائیں ناتھ کی رپورٹ پڑھی ہے، جس میں یہ کہا گیا کہ ہر آدھے گھنٹہ میں کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ ان باتوں سے تکلیف ہوتی ہے۔ دل غم زدہ ہوتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا آزادی کا یہی مطلب ہے؟ کیا آزادی کے لیے شہیدوں کی قربانی بیکار چلی گئی؟

جمہوریت کہاں ہے؟ جمہوریت کا مطلب تو یہی ہوتا ہے کہ ایسی حکومت، جو عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہو۔ ملک میں عوامی جمہوریت تو ہے، لیکن اس میں عوام کہاں ہیں؟ ان کی حصہ داری کہاں ہے؟ مہاتما گاندھی، بابا بھیم راؤ امبیڈکر، پنڈت جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل اور مولانا آزاد جیسی عظیم شخصیات کا تو یہی خواب تھاکہ ہندوستان کی جمہوریت اور جمہوری ڈھنگ سے منتخب ہونے والی حکومت ملک کے لوگوں، خاص کر محروم افراد کی زندگی کے تحفظ اور ان کی بہتری کے لیے کام کرے گی۔ ان کے لیے پالیسیاں بنائے گی۔ لیکن آج کی سرکار تو بازار کے سامنے سرنڈر کر چکی ہے۔ 1991 کے بعد سے جتنی بھی سرکاریں آئی ہیں، سب نے یہی کیا۔ اپوزیشن نے بھی پارلیمنٹ میں سوال تک نہیں اٹھایا۔کئی لوگوں کو یہ لگ سکتا ہے کہ میرے خیالات پرانے ہیں، لیکن ایسے لوگوں کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے آئین میں آج بھی آئین کا باب 4 موجود ہے، جسے ہم مملکت کی حکمت عملی کے ہدایتی اصول کہتے ہیں۔

جمہوریت کہاں ہے؟ جمہوریت کا مطلب تو یہی ہوتا ہے کہ ایسی حکومت، جو عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہو۔ ملک میں عوامی جمہوریت تو ہے، لیکن اس میں عوام کہاں ہیں؟ ان کی حصہ داری کہاں ہے؟ مہاتما گاندھی، بابا بھیم راؤ امبیڈکر، پنڈت جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل اور مولانا آزاد جیسی عظیم شخصیات کا تو یہی خواب تھاکہ ہندوستان کی جمہوریت اور جمہوری ڈھنگ سے منتخب ہونے والی حکومت ملک کے لوگوں، خاص کر محروم افراد کی زندگی کے تحفظ اور ان کی بہتری کے لیے کام کرے گی۔ ان کے لیے پالیسیاں بنائے گی۔ لیکن آج کی سرکار تو بازار کے سامنے سرنڈر کر چکی ہے۔ 1991 کے بعد سے جتنی بھی سرکاریں آئی ہیں، سب نے یہی کیا۔ اپوزیشن نے بھی پارلیمنٹ میں سوال تک نہیں اٹھایا۔
کئی لوگوں کو یہ لگ سکتا ہے کہ میرے خیالات پرانے ہیں، لیکن ایسے لوگوں کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے آئین میں آج بھی آئین کا باب 4 موجود ہے، جسے ہم مملکت کی حکمت عملی کے ہدایتی اصول کہتے ہیں۔ یہی میری تشویش ہے کہ ملک کی سیاسی پارٹیوں نے آئین کی روح اور اس کے جذبات کو درکنار کر دیا ہے۔ اس کی پوری طرح سے اندیکھی ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غریبوں اور عام لوگوں کے مفادات کے بجائے پرائیویٹ کمپنیوں کے مفادات کے لیے پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔ پارلیمنٹ میں اس کے خلاف کوئی آواز بھی نہیں اٹھا رہا ہے۔
آئین کے تحت سرکار کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ جو بھی غریب ہیں اور جو بھی محروم ہیں، ان کی زندگی کو بہتر کرنے کے لیے سرکار پالیسیاں بنائے گی۔ ملک کے فیصلے میں ان لوگوں کی حصہ داری ہوگی۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ انہیں یکساں مواقع اور اقتدار میں حصہ داری ملے۔ ہمارے آئین میں تو انتظام ہے، لیکن اب تک اس پر عمل نہیں ہوا۔ اس لیے میں لگاتار یہ مطالبہ کرتا رہا ہوں کہ گاؤں کو طاقتور بنانا ضروری ہے۔ جب تک گاؤں کو طاقت نہیں ملے گی، تب تک گاؤں کی حالت نہیں بدلے گی اور جب تک گاؤں کی ترقی نہیں ہوگی، تب تک ملک کی ترقی نہیں ہوگی۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ملک میں گرام سبھا کا نظام نافذ ہو، جو مہاتما گاندھی چاہتے تھے۔ آج پنچایتی راج کے نام پر پنچایتوں کو عاملہ بنا دیا گیا ہے، لیکن اگر گاؤں کی گرام سبھا کو مقننہ کی طاقت دے دی جائے، تو گاؤں کو مضبوط بنانے کا عمل پورا ہو جائے گا۔ ملک میں سچی جمہوریت آ جائے گی۔ گاؤں کے لوگ اپنی ضرورت کے حساب سے خرچ کرنے کو آزاد ہوں گے۔ لوگوں کو افسروں پر منحصر نہیں رہنا پڑے گا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ زمینی سطح پر بدعنوانی ختم ہو جائے گی۔ اسکیمیں فیل نہیں ہوں گی۔ پھر کسی وزیر اعظم کو یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ مرکز سے اسکیموں کے لیے ایک روپیہ بھیجا جاتا ہے، لیکن صرف 15 پیسہ لوگوں تک پہنچتا ہے اور باقی پیسہ بیچ میں غائب ہو جاتا ہے۔
ملک میں کئی جگہ گرام سوراج کے اچھے تجربے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے گاؤں رالے گن سدھی میں ایک تجربہ کیا۔ یہاں ہم نے کوئی انڈسٹری نہیں لگائی، بس لوگوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ پٹرول، ڈیزل، کوئلہ کا استعمال نہیں کیا۔ ہم نے صرف قدرتی وسائل کا استعمال کیا۔ گاؤں والوں کی ضرورتیں محدود ہوتی ہیں۔ اس کے لیے بہت زیادہ دماغ کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہم نے بارش کی ایک ایک بوند کو روکا، پانی کو جمع کیا، ریچارج کیا، گراؤنڈ واٹر لیول بڑھایا، گاؤں کی مٹی گاؤں میں رکھی، جس سے زرعی ترقی ہوئی۔ جو جگہ پہلے خشک ہونے کی وجہ سے غریب تھی، وہاں لوگ کھیتی کرکے ہی با اختیار بن گئے۔ ایک بار با اختیار بنے، تو لوگوں نے مویشی پالنا شروع کیا۔ ہاتھ کے لیے کام، پیٹ کے لیے روٹی گاؤں میں ہی مل گئی۔ اس کی وجہ سے شہر کی طرف جانے والے لوگوں کی روک تھام ہو گئی۔ آج اس چھوٹے سے گاؤں سے 4000 لیٹر دودھ ہر دن باہر جاتا ہے۔ اس گاؤں میں تعلیم ہے، صفائی ہے، سب کچھ ہے۔ کیا ہم ایسے گاؤں پورے ملک میں نہیں بنا سکتے؟ ضرور بنا سکتے ہیں۔ ملک کو اگر انتشار سے بچانا ہے، تو گاؤں کی ترقی کی واحد ایک راستہ ہے۔ یہی گاندھی جی بھی کہتے تھے کہ ملک بدلنے کے لیے پہلے گاؤں بدلنا ہوگا۔ جب تک گاؤں نہیں بدلے گا، تب تک ملک نہیں بدلے گا۔
گاندھی جی کے بتائے راستے سے ہم بھٹک گئے، جس کی وجہ سے آج ملک کئی مسائل میں ایک ساتھ مبتلا ہو چکا ہے۔ ترقی کے اعداد و شمار کی زیادہ اہمیت نہیں رہ گئی ہے، کیوں کہ ملک کے شہریوں کا پورے نظام پر سے ہی بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے۔ اب تو جمہوریت کی ساکھ پر سوال اٹھنے لگا ہے۔ جل (پانی)، جنگل، زمین کے ایشو پر ملک کے غریبوں کا بھروسہ ختم ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکار ترقی کے بہانے قومی وسائل کا پرائیویٹائزیشن کر رہی ہے۔ سرکار ندیوں اور آبی ذرائع کا پرائیویٹائزیشن کر رہی ہے۔ کانوں کے نام پر جنگلوں کو پرائیویٹ کمپنیوں کو بیچا جا رہا ہے اور آدیواسیوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں، کسانوں کی زرخیز زمین پر قبضہ کرکے سرکار پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس کی بندر بانٹ کر رہی ہے۔ جن وسائل پر ملک کے لوگوں کا حق ہے، وہ پرائیویٹ کمپنیوں کو بانٹی جا رہی ہے۔ سرکار کی ان پالیسیوں کے ذریعے ملک میں کئی ایسٹ انڈیا کمپنیوں کو آنے کا راستہ دکھائی پڑ رہا ہے، اس لیے اس کا فیصلہ ہونا ضروری ہے کہ ملک کے جل، جنگل، زمی پر کس کا حق ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنے کا حق بھی ملک کے عوام کو ہے۔ ترقی کا ماڈل کیسا ہو، اقتصادی پالیسی کیسی ہو، وسائل کے استعمال کا طریقہ کیا ہو؟ یہ اہم مدعے ہیں، جن پر ملک کے عوام کو سوچنا ہوگا اور فیصلہ لینا ہوگا۔
ایک طرف ملک میں غریبی ہے، بھکمری ہے، بے روزگاری ہے، ناخواندگی ہے اور دوسری طرف ملک میں بنیادی سہولیات کو بحال کرنے کے لیے سرکار قرض لیتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کے لیے ملک کے سارے دروازے کھولنے کو سرکار واحد متبادل بتا رہی ہے، جب کہ غیر ملکی بینکوں میں ہندوستان کا کالا دھن جمع ہے۔ اگر یہ کالا دھن واپس آجاتا ہے، تو ملک کی اقتصادی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے ملک اپنے ملک کا کالا دھن واپس لاکر اپنی اقتصادی حالت سدھارنے میں لگے ہیں، لیکن سرکار کالے دھن کو واپس لانے کے مدعے پر خاموش ہے۔ ملک کے لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ کن کن لوگوں کا کتنا کالا دھن غیر ملکی بینکوں میں جمع ہے۔ سیاسی پارٹیاں ان مدعوں پر اپنے رائے عوام کے سامنے رکھیں، تاکہ اس بات کافیصلہ ہو سکے کہ کیا ہم آئین کے مطابق ملک میں پالیسیاں بنانا چاہتے ہیں یا پھر بازار کے مطابق پالیسیوں کے حق میں ہیں۔ کانگریس پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور ساری سیاسی پارٹیاں اپنی رائے عوام کے سامنے رکھیں۔ وہ بتائیں کہ وہ بازار واد کے اصولوں پر سرکار چلانا چاہتے ہیں یا پھر آئین کی روح اور جذبے کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر اقتصادی پالیسیوں پر سبھی پارٹیوں کی رضامندی ہے، تو سرکار کے بدلے جانے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ملک میں سرکار، لیڈر اور پارٹی کے بدلے جانے کے ساتھ ساتھ پالیسیوں میں بھی تبدیلی ہونی چاہیے۔ یہی آج سب سے بڑی تشویش ہے کہ جو پارٹی سرکار چلا رہی ہے اور جو پارٹی سرکار چلانا چاہتی ہے، ان کی پالیسیوں میں زیادہ فرق نہیں ہے، تو ایسے میں تبدیلی کیسے آئے گی؟
اب ملک کے عوام کے لیے سوچنے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر عوام آج نہیں سوچیں گے، تو ہماری آنے والی نسلیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ تب تک یہ لوگ کچھ باقی رکھیں گے یا نہیں، اس میں شک ہے۔ انگریزوں نے جتنا نہیں لوٹا، اس سے زیادہ یہ لوگ لوٹ رہے ہیں۔ انگریزوں نے ڈیڑھ سو سال میں جتنا ہندوستان کو نہیں لوٹا، 65 برسوں میں انہوں نے ملک کو ان سے زیادہ لوٹ لیا۔ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ اور اقتدار میں بیٹھی سرکار ملک کو اچھا مستقبل نہیں دیں گے۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں 10 دسمبر کو رالے گن سدھی میں اَنشن کرنے جا رہا ہوں، کیوں کہ میرے اور ملک کے ساتھ کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ جن لوک پال بل لانے کے لیے میں نے رام لیلا میدان میں 16 اگست، 2011 کو اَنشن شروع کیا تھا۔ مجھے وزیر اعظم نے خط لکھ کر یہ یقین دلایا تھا کہ وہ جن لوک پال قانون لائیں گے، ساتھ ہی یہ یقین بھی دلایا تھا کہ نچلی سطح کے افسر بھی لوک پال کے دائرے میں آئیں گے۔ سٹیزن چارٹر لائیں گے، ساتھ ہی ہر ریاست میں جن لوک آیکت مقرر کریں گے۔ وزیر اعظم کی یقین دہانی کے بعد دو سال گزر گئے، لیکن آج مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میرے ساتھ دھوکہ دھڑی ہوئی ہے۔
میں ہمیشہ سے یہی سمجھتا تھا کہ وزیر اعظم صاحب اچھے آدمی ہیں۔ میں نے کئی بار یہ کہا بھی ہے۔ لیکن اقتدار کے لیے لوگ ملک سے جھوٹ بول سکتے ہیں، اس پر میں یقین نہیں کر سکتا تھا۔ اگر مجھے پہلے پتہ چل جاتا کہ میرے ساتھ دھوکہ دھڑی ہونے والی ہے، تو میں رام لیلا میدان کا اَنشن ختم نہیں کرتا۔
میں ایسا اس لیے کہہ رہا ہوں، کیوں کہ اس درمیان میں نے کئی بار وزیر اعظم کو خط لکھے۔ ان کو ان کا وعدہ یاد دلایا۔ مجھے وزیر اعظم کی طرف سے شری نارائن سامی جی کے کئی خطوط بھی آئے۔ وہ بھی یقین دہانی کراتے رہے۔ مجھے تشویش ہوتی ہے کہ اگر ایسے جھوٹ بولنے والے لوگ سرکار چلائیں گے، تو ملک کا کیا ہوگا؟ کیوں کہ جھوٹ بولنے والے اگر ملک چلائیں گے، تو ملک کبھی ترقی نہیں کرے گا۔ ستیہ میہ جیتے (سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے) ہمارے ملک کا علامتی جملہ ہے۔ سچائی کے راستے سے ہی ملک کی بھلائی ہو سکتی ہے۔ لیکن مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ اتنے جھوٹ بولنے والے لوگ سرکار میں کیسے جمع ہو گئے۔ سرکار میں تو کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جو مجھ پر بھی الزام لگا دیتے ہیں۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ انسان کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو، کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، لیکن اگر اس کے من میں بے ایمانی ہے، تو ایسے لوگوں کو ایئر کنڈیشن بنگلے میں بھی نیند کی گولی لے کر سونا پڑتا ہے۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہے، لیکن پھر بھی لوگ غلطی کرتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں کروڑوں روپے کا منصوبہ بنایا، لیکن ایمان نہیں چھوڑا۔ کہیں پر بھی بینک بیلنس نہیں رکھا اور نہ کبھی جھوٹ بولا۔ میرے پاس کوئی اقتدار نہیں ہے، لیکن میں لکھ پتی اور کروڑ پتی سے زیادہ خوشی محسوس کرتا ہوں۔ یہ خوشی مجھے ملک اور لوگوں کی خدمت کرکے ملتی ہے، کیوں کہ میں نے اپنی زندگی پر چھوٹا سا بھی داغ نہیں لگنے دیا۔
جن لوک پال بل لوک سبھا میں اتفاق رائے سے پاس ہوا تھا، پھر یہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس گیا۔ راجیہ سبھا میں جانچ کے لیے سلیکٹ کمیٹی بنائی گئی، اس کی بھی رپورٹ آ گئی۔ اب صرف راجیہ سبھا میں بحث ہونی باقی ہے، لیکن اس میں بھی ایک سال گزر گیا۔ اب تک بحث نہیں ہوئی۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ سرکار کی نیت صاف نہیں ہے۔ وزیر اعظم کی طرف سے کہا گیا کہ وہ جن لوک پال بل بجٹ اجلاس میں لائیں گے، لیکن بل نہیں لایا گیا۔ پھر کہا گیا کہ مانسون اجلاس میں لے کر آئیں گے، لیکن نہیں آیا۔ اب سرمائی اجلاس آ چکا ہے۔ اب تک اسے کیوں نہیں لایا گیا؟ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ صرف نیت صاف نہیں ہے۔ راجیہ سبھا میں تو کانگریس پارٹی کے 71 ممبر ہیں اور کوئی مخالفت بھی نہیں کر رہا ہے، پھر بھی یہ بل نہیں لا رہے ہیں، جب کہ لیڈروں اور پارٹیوں کی مخالفت کے باوجود سرکار نے فوڈ سیکورٹی بل، پنشن بل اور تحویل اراضی بل کو پاس کیا، ساتھ ہی صدارتی عہدہ کے انتخاب میں مخالفت کے باوجود آپ نے کامیابی حاصل کی۔ لیکن سرکار جن لوک پال نہیں لا رہی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ دن بہ دن بڑھتی ہوئی بدعنوانی کے سبب عوام ناراض ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے جینا مشکل ہو گیا ہے۔ عوام سب دیکھ رہے ہیں، سب سمجھ رہے ہیں۔
میں نے سرمائی اجلاس کے پہلے دن سے دہلی کے رام لیلا میدان میں اَنشن کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن میرا آپریشن ہونے کے سبب اور طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے میں نے یہ طے کیا ہے کہ میں اپنے گاؤں رالے گن سدھی کے یادو بابا مندر میں 10 تاریخ سے اَنشن شروع کروں گا۔ اس بار میں نے ملک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ سب لوگ اپنے اپنے شہروں، محلوں اور گاؤں میں رہ کر ہی احتجاج و مظاہرہ کریں اور اَنشن میں شامل ہوں۔ اس بار ملک کے ہر شہر اور ہر گاؤں میں جن لوک پال کے لیے مظاہرہ ہوگا۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ اس بار بھی جن لوک پال تحریک کو پہلے سے زیادہ حمایت ملے گی۔
ملک کے لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ 2014 کے انتخابات میں وہ کسے ووٹ دیں۔ میں اس پر غور کر رہا ہوں کہ میں ملک کے لوگوں سے کیا کہوں۔ ایک طرف فرقہ وارانہ طاقتیں ہیں، تو دوسری طرف سیکولر ازم کے نام پر بدعنوانی کو گھر گھر پہنچانے والی طاقتیں ہیں، جنہوں نے ترقی کو ہضم کر لیا ہے۔ دونوں فریقین کی اقتصادی پالیسیاں ایک طرح کی ہیں۔ بازار پر مبنی کھلی لوٹ کو بڑھاوا دینے والی ہیں۔ یہ پالیسیاں گاؤں کے خلاف ہیں، کسان مخالف ہیں، طلبہ و نوجوانوں کو بے روزگار بنانے والی اور ترقی کے دائرے میں صرف 8-10 فیصد لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی ہیں۔ اسی لیے ملک کا ایک تہائی حصہ سرکار نام کے ادارہ میں یقین نہیں کر رہا ہے۔ جمہوریت سے بھی بھروسہ کم ہو رہا ہے۔
میں ایسی طاقتوں کی کھوج میں ہوں، جو لوک سبھا میں جاکر غریب کو ترقی کے عمل کے دائرے میں لائیں، گاؤں کو مقننہ کی طاقت دیں، ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنائیں، تعلیم کو روزگار سے جوڑیں اور طبی خدمات سبھی کو مہیا کرائیں، سب کو انصاف ملے اور وقت پر ملے، جو بے روزگاری کا مکمل خاتمہ کر سکیں اور گاؤں پر مبنی صنعتی پالیسی بنائیں۔ جن لوک پال، رائٹ ٹو رجیکٹ اور رائٹ ٹو ریکال کے قانون پاس کرنے کے ساتھ ساتھ جن کا بھروسہ لوگوں کے تئیں ہو، غیر ملکی کمپنیوں کے تئیں نہ ہو۔ یہ ملک کے مستقبل اور جمہوریت کے تئیں اعتماد کا سوال ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *