ہم سوئیں گے یا ایک نئی صبح کا آغاز کریں گے؟

ستوش بھارتیہ 
شاید یہی الیکشن کا جادو ہے۔ ہمارے ملک کے لوگ کسی بھی الیکشن میں، چاہے وہ کارپوریشن کا الیکشن ہو، اسمبلی کا الیکشن ہو یا ملک کا الیکشن ہو، تماشہ دیکھنے میں لگ جاتے ہیں۔ عجوبہ کی طرح لیڈروں کی تقریر سنتے ہیں اور تقریریں سن کر کوئی سوال نہیں اٹھاتے ہیں۔ وہ یہ بھی دھیان نہیں دیتے کہ جو سوال کارپوریشن کے الیکشن میں اٹھانے چاہئیں، وہ اسمبلیوں میں کیوں اٹھاتے ہیں، ان کے وعدے اسمبلیوں میں کیسے ہوتے ہیں؟ اور جن سوالوں کوپارلیمنٹ کے انتخابات میں اٹھانا چاہیے، ان سوالوں کو اسمبلیوں کے ذریعے کیسے حل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہمارا ملک گزشتہ 65سال سے تماشہ دیکھنے کا عادی ہے، تماشہ دیکھ رہا ہے اور تماشہ دیکھتا رہے گا۔ شاید لوگ انتخابات کو تفریح کا ایک ذریعہ مانتے ہیں۔
پارلیمانی انتخاب کی بات کریں۔ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، خراب تعلیم، خراب صحت، خراب انفراسٹرکچر، لوگوں کے کام نہ آنے والی ترقی، جیسے سوال جب سے ملک آزاد ہوا ، اٹھتے رہے اور سوالوں کے جواب میں ہر انتخاب میں بازیگری ہوئی اور اور بازیگری کا یہ تماشہ لوگوں نے خوب دیکھا۔ لوگوں نے ان سوالوں پردھیان ہی نہیں دیا کہ ان سب کی جڑ میں کیا ہے؟ 2014کا انتخاب بھی ایک ایسا ہی بڑا گرینڈ اسکیل پر شاندار تماشہ بننے والا ہے۔ کوئی بھی یہ سوال نہیں پوچھ رہا ہے کہ ان سب کی جڑ میں کیا ملک کی اقتصادی پالیسی ہے؟ کیونکہ اقتصادی پالیسی ہی طے کرتی ہے کہ پیداوار کیسی ہوگی؟ کون لوگ پیداوار میں شامل ہوں گے؟ کون ترقی کی دھارا میں جائے گا؟ سڑکیں کہاں بنیں گی؟ اسکول کہاں کھلیں گے؟ اسپتال کہاں کھلیں گے؟ یا نہیں کھلیں گے؟ اقتصادی پالیسی ہی طے کرتی ہے کہ کتنے فیصد لوگوں کو غریبی کے دائرے سے نکالنا ہے اور کتنے فیصد لوگوں کو غریبی کے دائرے میں لانا ہے اور بڑھانا ہے؟ لیکن اقتصادی پالیسی پرکبھی بھی کوئی پارٹی ، جو مرکز میں سرکار بنانا چاہتی ہے، اپنے پتّے نہیں کھولتی ہے۔
اس بار توحالت او رمزیدار ہے۔ کانگریس لبرلائزیشن کی پالیسی، کھلے بازار، کھلی معیشت کی پالیسی پچھلے 22سال سے نافذ کیے جارہی ہے۔ بیچ میں اور سرکاریں آئیں، دیوگوڑا کی سرکار آئی، گجرال صاحب کی سرکار آئی، اٹل جی کی سرکار آئی، کسی نے بھی اقتصادی پالیسی کی بارے میں ایک بھی سوال کھڑا نہیں کیا۔ سب نے اسی اقتصادی پالیسی کو آگے بڑھایا۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کہہ رہی ہے کہ کانگریس لبرلائزیشن کی پالیسی کو ٹھیک طرح سے نافذ نہیں کر رہی ہے، ہم اس پالیسی کو ٹھیک سے نافذ کریں گے۔یعنی کانگریس کے ذریعے غلط ڈھنگ سے نافذ کی گئی لبرلائزیشن کی پالیسی سے بے روزگاری کا، کھیتی کے اَن اکونومک ہونے کا، غیر ملکی کمپنیوں کے پاس پانی، جنگل، زمین کے جانے کے جو بھی اعداد و شمار ہیں، اگر بھارتیہ جنتا پارٹی آئے گی، تو اسے ٹھیک سے نافذ کرے گی اور ان کے پاس یہ ساری چیزیں اور اعداد و شمار بڑھیں گے۔ اس کا مطلب ملک میں ترقی سب کے لیے نہیں، کچھ خاص کے لیے ہوگی۔ ملک میں غریبوں کی تعداد بڑھے گی، ملک میں جرائم بڑھیں گے۔
یہ صورتحال لوگوں کی سمجھ میںنہیں آرہی ہے،کیونکہ لوگ ملک کو نہیں، خود کو پیار کرتے ہیں۔ اکثر کہتے ہیں کہ عوام کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتے، لیکن عوام کے پاس کوئی متبادل ہی نہیں ہے۔ وہ فیصلہ دیں تو کیادیں۔ جب ساری پارٹیاں، سرکار بنانے کا دعویٰ کرنے والی بڑی پارٹیاں یا ان کی دُم بننے کی حسرت رکھنے والی چھوٹی پارٹیاں، یہ پارٹیاں جب ایک ہی طرح کی اقتصادی پالیسی کی وکالت کریں، تو عوام فیصلہ کریں تو کیا کریں؟ درمیان میں مشروم کی طرح کچھ چھوٹی پارٹیاں آئیں، جنھوں نے اسمبلی کا انتخاب میونسپلٹی کے سوالوں پر لڑا۔ لوگوں نے تالیاں بجائیں اورکہا کہ ہم نے سب کو دیکھ لیا، اب ان کو بھی دیکھ لیں۔ یہ ہمارے ملک میں ایک کمال کی چیز ہے کہ ہم نے اِن کو دیکھ لیا، اِن کو دیکھ لیا، اب اِن کو بھی ایک بار دیکھ لیں۔ دیکھیں شاید اس بار کچھ اچھا ہو بہتر ہو، لیکن پانچ سال کا وقت گزرنے کے بعد ہم اپناسر پیٹتے ہیں کہ ارے ہم تو بیوقوف بن گئے۔ کس نے بیوقوف بنایا ؟
میں گایتری پریوار کے بانی پنڈت شری رام شرما آچاریہ کی ایک کتاب پڑھ رہا تھا، جس میں انھوں نے اپنے تجربوں کی بنیاد پر ملک کے عام آدمی کی نفسیات کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ملک عجیب ہے۔ ہم جب پانچ روپے کا گھڑا خریدنے جاتے ہیں، تو اسے دس جگہ ٹھوک بجا کے دیکھتے ہیں کہ کہیں وہ چٹخا ہوا تو نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم اس کا مول بھاؤ کرتے ہیں۔ چار دکانوں پر جاتے ہیں، تب ہم گھڑا خریدتے ہیں۔ پنڈت شری رام شرما آگے کہتے ہیں کہ جب ہمارے ملک کا عام آدمی اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کرنے جاتا ہے، تو وہ سو طرح سے پتہ لگاتا ہے کہ جس کے یہاں وہ شادی کر رہا ہے، وہ خاندان کیسا ہے، اس کا چال چلن کیسا ہے، اس کی اقتصادی حالت کیسی ہے، اس کی نیک نامی یا بدنامی کیسی ہے اور تب وہ شادی کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے، لیکن ہمارے ملک کے لوگ عظیم ہیں، جو ملک کی قسمت پانچ سال کے لیے جس کے ہاتھ میں دیتے ہیں، اس کے بارے میں اتنا بھی پتہ نہیں کرتے کہ جس کے ہاتھ میں وہ قسمت دے رہے ہیں، کیا وہ قسمت دینے کے لائق ہے۔ اس کی اقتصادی پالیسیاں کیا ہیں؟ اس کے لیڈر داغدار تو نہیں ہیں، مجرم تو نہیں ہیں؟ جیتنے کے بعد وہ عوام کے پاس آئیں گے بھی یا نہیں آئیں گے؟ اتنا ہی نہیں، یہ پوچھتے بھی نہیں کہ بھائی تم کو ہم ووٹ دینے کے بارے میں فیصلہ کریں ، تو کم سے کم یہ تو وعدہ کرو کہ ہمارے پاس تم آؤگے۔ ہمارے دکھ، درد، تکلیف سنوگے اور جہاں بھی اس کاازالہ ہوسکتا ہے، وہاں پر کم سے کم سفارش کر دوگے۔یہ نہیں دیکھتے کہ اس پارٹی میں یا اس شخص میں یہ اہلیت ہے کہ وہ ملک کے مستقبل کوسدھارنے والے سوالوں کی سمجھ رکھتا بھی ہے یا نہیں۔ ہم ذات، مذہب، زبان، علاقے اور فرقے کا نام پر ووٹ دیتے ہیں اور پھر اپنا سر پیٹتے ہیں۔
گزشتہ 65 برسوں سے ایسا ہی ہوتا آرہا ہے۔ کاش ! آئین کے مطابق انتخاب ہوتے ، تو سیاسی جماعتوں کے نمائندے پارلیمنٹ میں، اسمبلیوں میںنہ جاتے۔ آئین کے مطابق انتخاب نہ ہونے سے جتنے نمائندے پارلیمنٹ جاتے ہیں، وہ ایک بڑے مافیا گروپ کی طرح کام کرتے ہیں۔ سیاست کے مافیاؤں کی طرح سے چنے جانے کے بعد انھیں عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ انھیں پرواہ ہوتی ہے صرف مختلف طرح سے آنے والے پیسوں کے ذرائع کو بڑھانے کی۔ اور جب سرکار پالیسیاں بنانے کے لیے میٹنگ کرتی ہے، تو ان میں بھی یہ ایم پی نہیں جاتے۔ آج کسی بھی ایم پی کی سوچ کا دائرہ اپنے علاقے اور اپنے ضلع سے بڑا نہیں ہے، جبکہ ایم پی کی سوچ کا دائرہ پورا ملک ہونا چاہیے۔
2014کا انتخاب آرہا ہے اور ہم نے اس انتخاب میں ایک نئی چیز دیکھی۔ وہ نئی چیز ہے کہ کچھ نئی سیاسی پارٹیاں بنی ہیں، جواسمبلی یا پارلیمنٹ میں جانے سے پہلے ہی سیاسی مافیاؤں کی طرح سلوک کرنے لگی ہیں۔ ان کا سب سے بڑا لیڈر بھی وہی زبان بولتا ہے۔ ان کے دائیں جانب کھڑا رہنے والا چاپلوس بھی وہی زبان بولتا ہے۔ ان کے بائیں جانب کھڑا ہونے والا دانشور بھی وہی زبان بولتا ہے اور ان کے امیدوار چنے جانے سے پہلے ہی زمین پرقبضہ کرنے بات، پیسے لینے کی بات، ایک کمپنی کے مفاد کے مقابلے دوسری کمپنی کے مفادکو بڑھانے میں مدد کرنے کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کسی ایم ایل اے یا ایم پی کا کام نہیں ہے کہ دو کمپنیوں کی لڑائی میں وہ کسی ایک کاساتھ دے، لیکن پیسے کے بدلے سب کچھ ممکن ہے۔ اگر 2014کے پارلیمانی انتخابات میں بھی یہی سب ہونے والا ہے، تو پھر یہ جمہوریت کس کام کی، اس کا ایک جملہ میں مطلب نکالیںکہ کیا ہم نے آزادی کا مطلب سمجھا ہے؟ کیا ہم نے ملک کا مطلب سمجھا ہے؟ کیا ہم نے جمہوریت کا مطلب سمجھا ہے؟ اگر نہیں سمجھا ہے تو یہ ماننا چاہیے کہ ہمارے سامنے ایک الگ طرح کا مستقبل کھڑا ہے۔ بہت سارے ملک ہیں، جہاں جمہوریت آئی، لیکن جمہوریت کی جگہ بہت جلدی تانا شاہی آگئی،فوج کی تاناشاہی۔ اور فوج کی تاناشاہی سے ان ممالک میں لمبی لڑائی ہوئی ااور وہاں پھر جمہوریت، لڑکھڑاتے ہوئے ہی سہی، لیکن آرہی ہے۔ ہمارے ملک میں جہاں جمہوریت سب سے زیادہ مضبوط تھی، جہاں بولنے کی آزادی ہے، کام کی آزادی ہے، خیالات کی آزادی ہے، وہاں پر ہماری ان کمزوریوں کی وجہ سے، ملک کے لوگوں کی کمزوریوں کی وجہ سے، ایسے لوگ پارٹیوں کے نام پر پھل پھو ل رہے ہیں، جو اس ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنے میں سب سے بڑا رول ادا کر رہے ہیں۔ چلیے، سوچیں کہ ہم سوئیں گے یا کم سے کم 2014کے انتخاب میں جاگ کر ایک نئی صبح کا آغاز کریں گے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *