فسطائی طاقتوں کے خلاف متحد ہونے لگا بہار

اشرف استھانوی 
p-9قومی شاعر دنکر نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’جب سیاست لڑکھڑاتی ہے تو ادب اسے سنبھالتا ہے۔‘‘ دنکر کی زبان سے نکلنے والا یہ جملہ آج پوری طرح سچ ثابت ہو رہا ہے۔ آج جہاں ایک طرف کچھ لوگ سیاست کو پراگندہ کر رہے ہیں اور سماج، مذہب، فرقہ، ذات اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرکے مفاد پرستی کی سیاست کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ادیب، شاعر، صحافی، قلم کا ر اور فنکار کثرت میں وحدت کا پیغام عام کرنے کی کوشش میں مصروف ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ سماجی ہم آہنگی کے تئیں انسانیت، محبت، رواداری اور اتحاد و اتفاق کی شمع روشن کرکے ملک کے شیرازہ کو بکھیرنے کی سیاسی سازش میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ویسے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اتنی سنگین ہو گئی ہے کہ عام لوگوں کے لیے یہ سمجھ پانا مشکل ہو گیا ہے کہ ملک کا مستقبل گاندھی جی کے اصولوں پر عمل پیرا ہوگا یا گوڈسے کے منفی نظریات کی تقلید کرے گا۔ قومی سطح پر اگر دیکھا جائے، تو صاف طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ موجودہ سیاست میں دو متضاد نظریات و نفسیات کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ ملک میں فرقہ پرستی اور مذہب پرستی کی سیاست سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ ملک کے ایماندار اور ذمہ دار شہریوں میں جو اضطراب اور بے چینی ہے وہ فطری ہے۔ سیاست کے اس خوفناک ماحول نے بہار کے حساس او ربا شعور لوگوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صورت حال کی نزاکت کے مد نظر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بھی پچھلے دنوں یہ کہنے کی ضرورت پڑ گئی کہ بہار کے عوام بہت حساس اور با شعور ہیں، اگر خدا نخواستہ خلاف توقع کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے، تو اس سے نمٹنے کے لیے سماج کے لوگ تیار ہیں۔ ادھر ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ کئی ملی، سماجی اور ثقافتی اور سیاسی تنظیموں نے بھی مذہبی منافرت پھیلا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوںسے ہوشیار رہنے اور ہر حال میں ہم آہنگی، امن و بھائی چارہ، پیار و محبت اور مشترکہ تہذیبی اقدار کی حفاظت کے لیے عوام کو بیدار رکھنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ اس مہم میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ ساتھ ان کے ثقافتی صلاح کار پون کمار ورما بھی پیش پیش ہیں۔ فرقہ پرستی اور مذہبی جنون کے سہارے اقتدار حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کے دوران بی جے پی کو یکایک بہار کے اقتدار سے بے دخل کر دیے جانے سے بھی ریاست کے عوام، خاص کر سماجی و ملی تنظیموں میں خوشی کی لہر دیکھی جا رہی ہے اور سچ کہا جائے، تو گاندھی وادیوں اور گوڈسے وادیوں کے درمیان سرد جنگ کا خاموش اعلان ہو چکا ہے۔
گزشتہ دنوں پٹنہ کے تاریخی ایس کے میموریل ہال میں حکومت بہار کے محکمہ فن و ثقافت کے تحت منعقد شاندار ثقافتی پروگرام ’’جہان خسرو‘‘ کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ اقتدار و روایت کو کوئی بھی طاقت پامال نہیں کر سکتی ہے۔ پروگرام کا افتتاح وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کیا۔ اپنی افتتاحی تقریر میں انہوں نے کہا کہ جہان خسرو کا سفر لکھنؤ سے شروع ہو کر جے پور اور برطانیہ کی راجدھانی لندن تک پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو پٹنہ میں منعقد کرنے کی ہماری شروعات کو ’’امرائو جان‘‘ جیسی مقبول فلم کے تخلیق کار او رمشہور فلمی شخصیت مظفر علی صاحب نے قبول کرکے اعزاز بخشا، یہ بڑی بات ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’جہان خسرو‘‘ کا پٹنہ ایڈیشن شروع ہونے پر ہمیں بے انتہا مسرت ہو رہی ہے، کیوں کہ اس وقت امیر خسرو کے پھیلائے گئے انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کی بھر پور ضرورت ہے۔ پوری دنیا میں بد امنی کا ماحول ہے۔ لوگ مضطرب، بے چین اور پریشان ہیں۔ اسے دور کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔ عالمی امن کے لیے ’’جہان خسرو‘‘ جیسے روحانی اور پاکیزہ پروگرام کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امیر خسرو کی شاعری اور ان کا پیغام دلوں کو جوڑتا ہے۔ خدا سے رشتہ مضبوط کرتا ہے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
پروگرام کی شروعات سے قبل مظفر علی نے کہا کہ ’’جہان خسرو‘‘ حضرت امیر خسرو سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔ حضرت امیر خسرو کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے نا موافق حالات میں بھی انسانیت کے اصول سے انحراف نہیں کیا او رمحبت و انسانیت کی شمع جلاتے رہے۔ وہ عربی، فارسی، ہندستانی، برج بھاشااور ہندی جیسی کئی زبانوں کے اشتراک سے ایک ایسی زبان کی تشکیل کرتے کہ سبھوں کے دلوں میں اتر جاتی تھیں۔ مظفر علی نے اپنی تقریر میں کہا کہ انسان اور انسان کی تفریق کو ختم کرکے صرف ایک محبوب کے رنگ میں رنگ جانے اور اس کے قدموں میں سر جھکا دینے کے جادوئی احساس کا ہی نام تصوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصوف پیار و محبت کا راستہ ہے۔ یہ انسا نیت کا درس دیتا ہے۔ ’’جہان خسرو‘‘ کے تحت صوفی گیت اور سنگیت کے ذریعہ نہ صرف سامعین کی تفریح کا سامان مہیا ہوتا ہے، بلکہ حضرت امیر خسرو کے کلام کے ذریعہ ان کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔
کچھ اسی طرح کا پروگرام مہاتما گاندھی کی عملی سرزمین چمپارن کے نرکٹیا گنج میں 16 نومبر 2013 کو منعقد کیا گیا۔ مشترکہ تہذیب او رساجھی وراثت کی طاقت سے عوام کو آگاہ کرنے والے اس بے مثال پروگرام کے تحت منعقد سمینار اور کوی سمیلن کا اہتمام ثقافتی تنظیم ’’بزم کہکشاں‘‘ نے کیا تھا۔ اس پروگرام کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس میں مشترکہ تہذیب و ثقافت اور گنگا جمنی اقدار و روایت کے تحفظ اور اس کے فروغ پر نہ صرف زور دیا گیا، بلکہ متعدد تاریخی حقائق کی روشنی میں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ہندستان کی اصلی طاقت یہی ہے۔ سمینار سے خطاب کرنے والوں نے کہا کہ ساجھی سنسکرتی زندہ ہے اور زندہ رہے گی، کیوں کہ دلوں کو جوڑنے والے لوگ ہر دور میں رہے ہیں اور رہیں گے۔ محبت کی شمع نہ کبھی بجھی ہے او رنہ کبھی بجھے گی۔ دلوں کو توڑنے والے لوگ بھی ہر دور میں رہے ہیں اور آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں، مگر ان کی سازشوںسے ہمیں دل برداشتہ اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے لوگوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا بس ایک ہی راستہ ہے کہ دلوں کو جوڑنے اور محبت کا چراغ روشن رکھنے کی مہم کو مسلسل جاری رکھا جائے۔ تاریکی او رروشنی کے درمیان مقابلہ تو فطری ہے، لیکن یہ بھی فطرت کی کرشمہ سازی ہے کہ جیت بالآخر روشنی کی ہی ہوتی ہے اور ہوتی رہے گی۔ خطاب میں کہا گیا کہ محبت کی طاقت جیسے جیسے کمزور ہوتی ہے، اسی تناسب سے نفرت کا اندھیرا بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس ملک میں دلوں کو جوڑنے کا کام خسرو نے کیا، ملک جائسی نے کیا، رحیم، رسخان اورتلسی نے کیا۔ آج ایک بار پھر فیصلے کی گھڑی آن پڑی ہے۔ یہ ملک گاندھی کے سپوتوں کا رہے گا یا گوڈسے کے فرزندوں کے ہاتھوں چلا جائے گا، اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
کثرت میں وحدت کی مثال صرف ادبی اور سماجی تنظیمیں ہی نہیں ہیں، بلکہ موجودہ سیاست کو چیلنج دینے کے لیے سیاسی پارٹی جنتا دل یو بھی سامنے آگئی ہے۔ پٹنہ کا دل کہے جانے والے سبزی باغ میں گزشتہ 21 نومبر کو منعقدہ ایک ملن تقریب میں مذہبی تشدد پر حملہ کرتے ہوئے سینئر لیڈر اورراجیہ سبھا کے رکن آر سی پی سنگھ نے کہا کہ بھاجپا کی گندی سیاست سے پورا ملک پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے پرانے جمہوری ملک میں مذہبی تشدد پسندی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں ہندو مسلمان کی موجودگی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ پٹنہ کے سبزی باغ میں منعقد یہ پروگرام پورے بہار کے لوگوں، بالخصوص مسلمانوں پر اثر انداز ہوگا، اس لیے کہ سبزی باغ کے لوگ اگر کوئی فیصلہ لیتے ہیں اور یہاں کوئی حکمت عملی تیار کی جاتی ہے، تو اس کے دور رس نتائج پورے بہار کے لوگوں پر پڑتے ہیں۔ اس موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں بی جے پی، آر جے ڈی، کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے لوگوں نے جنتا دل یو پارٹی کی رکنیت حاصل کی اور بہار میں فرقہ پرستی اور فسطائی قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کا عہد کیا گیا۔
اسی درمیان راجدھانی پٹنہ کی ایک تنظم نور س اسکول آف پرفارمینگ آرٹس کے زیر اہتمام شہنشاہِ تغزل میر تقی میر کی یاد میں پریم چندر رنگ شالا میں ساز و آواز کی ایک شاندار محفل سجائی گئی۔ اس موقع سے خوشبو خانم اور روشن بھارتی کی آواز میں میر تقی میر کی غزلیں پیش کی گئیں، جس سے سامعین بھر پو رمحظوظ ہوئے۔ اس کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ پروگرام ہال کے اندر اور باہر کو اس خوبصورت انداز سے سجایا گیا تھا، جس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میرؔ کی غزلوں کا سوز و ساز سامعین کے دل و دماغ میں اتر آیا ہے اور میرؔ کا ایک ایک لفظ سامعین سے باتیں کرتے اور گلے ملتے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہورڈنگ، بینر او رپوسٹر پر اردو اور ہندی زبان میں میر تقی میرؔ کے دل کو لبھا لینے والے اشعار زبان حال سے یہ کہہ رہے تھے کہ میر تقی میرؔ کے قدر داں صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ غیر مسلم اور وہ حضرات بھی ہیں جن کا رسم الخط اردو نہیں ہے۔
ملک میں سماجی ہم آہنگی قائم کرنے اور مشترکہ وراثت و ثقافت کی حفاظت کے مقصد سے ’’شہری پہل‘‘ کی جانب سے 26؍ نومبر 2013 کو پٹنہ میں مشترکہ وراثت اور قومی اتحاد و اتفاق کے موضوع پر سمینار منعقد کیا گیا، جس کے خصوصی مہمان آئی آئی ٹی ممبئی کے پروفیسر رام پنیانی تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذہب کے نام پر جو سیاست ہو رہی ہے، وہ اب صرف دہشت گردی تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ فرقہ پرستی کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ فرقہ پرست سیاست سب سے پہلے دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے تئیں نفرت پھیلانا ہے۔ کبھی دلوں میں خوف پیدا کرکے، تو کبھی بہو بیٹیوں کی عزت کو تار تار کرکے سیاست ہو رہی ہے۔ اس سے دور رہیں۔ مذہب لوگوں کو جوڑتا ہے، توڑتا نہیں ہے، مگر آج کی سیاست لوگوں کو ذات پات او رمذہب کی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *