ایکسپورٹ زیادہ ہو تو ملک کی معیشت بہتر ہوگی

وقار انور 
p-11امریکی ڈالر کے مقابلہ میں ہندوستانی روپیہ کی قیمت میں پچھلے چند ہفتوں میں یکایک تیزی کے ساتھ کمی واقع ہوئی ہے۔ کسی ملک کی کرنسی کے ذریعہ دوسرے کسی ملک کی کرنسی (خصوصاً امریکی ڈالر) کی قوت خرید کا سیدھا تعلق اس بات سے ہے کہ پہلے یہ پتہ ہو کہ ملک کے امپورٹ کا تناسب کیا ہے۔ اگر اکسپورٹ زیادہ ہے اور وہ ملک اس طرح دوسری کرنسی زیادہ حاصل کررہاہے تو اس کی پوزیشن مضبوط ہے۔ لیکن اگر اکسپورٹ کے مقابلہ میں امپورٹ زیادہ ہے تو صورت حال خراب ہوتی جائے گی کیوں کہ اس ملک کو دوسرے ملکوں سے خریداری کرنے کے لئے دیگر کرنسیاں خصوصاً امریکی ڈالر کی زیادہ ضرورت ہوگی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی تجارت میں مختلف ملکوں کے درمیان لین دین کے لئے ان ملکوں کی اپنی کرنسی کا استعمال نہیں ہوتا ہے بلکہ امریکی ڈالر میں ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ہندوستان جاپان سے کوئی سامان درآمدکرے تو اسے ادائیگی جاپانی کرنسی میں نہیں کرنی ہوگی بلکہ امریکی ڈالر میں کرنی ہوگی۔ اس طرح امریکی ڈالر کی اہمیت اور قدر میں اضافہ ہوجائے گا۔ دنیا میں ملکوں کے درمیان تجارت (لین دین) کا جتنا اضافہ ہوگا اس کا فائدہ امریکہ کو پہنچتا رہے گا۔
ہندوستان کے امپورٹ، اس کے اکسپورٹ کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں اپنا مال اور اپنی خدمات فروخت کرکے ہم جتنا ڈالر حاصل کرتے ہیں اس سے بہت زیادہ ہمیں ڈالر میں ادائیگی دوسرے ملکوں کے اس مال اور ان خدمات کے لئے کرنی ہوتی ہے جو ہم اپنے ملک میں امپورٹ کرتے ہیں۔ اس سے ہماری کرنسی (یعنی روپیہ) کی قیمت کم اور امریکی کرنسی (یعنی ڈالر) کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ کرنسی کی عالمی منڈی میں سٹہ اور جوا کا بہت زیادہ دخل ہے اور کرنسی کے سٹہ باز ان کی خرید و فروخت کے کھیل کے ذریعہ اپنی مرضی کے مطابق قیمتوں کو بڑھاتے اور گھٹاتے رہتے ہیں۔ اس کی تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ کسی چیز کی قیمت کے زیادہ یا کم ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں بازار میں پایا جانے والا تأثر (Perception) بھی ہے۔ اگر کسی ملک کی معیشت کے بارے میں عام تأثر یہ ہو کہ وہ ترقی پذیر ہے تو اس کی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوگا اور اگر تأثر خراب ہوجائے تو اس کا اثر اس کی کرنسی پر بھی پڑے گا۔ یہ بات واضح ہے کہ تأثر کے اچھے یا برے ہونے کی بنیادی وجہ تو کارکردگی ہے لیکن ایسے احساسات ہمیشہ معروضی نہیں ہوتے ہیں۔ تاثرات پیدا بھی کئے جاتے ہیں اور اس کھیل کے پیچھے فاسد نیتوں کابھی دخل ہوسکتا ہے۔

ہندوستان کے امپورٹ، اس کے اکسپورٹ کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں اپنا مال اور اپنی خدمات فروخت کرکے ہم جتنا ڈالر حاصل کرتے ہیں اس سے بہت زیادہ ہمیں ڈالر میں ادائیگی دوسرے ملکوں کے اس مال اور ان خدمات کے لئے کرنی ہوتی ہے جو ہم اپنے ملک میں امپورٹ کرتے ہیں۔ اس سے ہماری کرنسی (یعنی روپیہ) کی قیمت کم اور امریکی کرنسی (یعنی ڈالر) کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

اس مسئلہ کا سادہ حل اس طرح ہوسکتے ہیں:
(i) امپورٹ کو کم کیاجائے اور اکسپورٹ میں اضافہ کیاجائے۔
(ii) امپورٹ سے متعلق ایسی تجاویز پر عمل کیاجائے جہاں ادائیگیاں ڈالر میں نہ کرنی پڑیں اور اکسپورٹ کرنے والا ملک ہماری کرنسی میں قیمت لینے کے لئے تیار ہو۔
(iii) معیشت کو ان ٹھوس بنیادوں پر استوار کیاجائے کہ اس کے بارے میں اچھے تصورات پیدا ہوں اور بین الاقوامی طورپر سٹہ بازوں کو زیادہ مواقع نہ ملیں۔
امپورٹ میں پچھلے20 برسوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جب کہ اکسپورٹ میں اضافہ کی رفتار نسبتاً سست رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ1991 میں جب ملک کی معاشی پالیسی میں تبدیلیاں کی گئیں اس وقت یہ طے کیاگیاتھا کہ ہندوستانی صارفین کی دنیا میں بنائے جانے والے اشیاء اور دی جانے والی خدمات تک رسائی آسان کردی جائے۔ ایک طرف امپورٹ سے متعلق سہولیات فراہم کی گئیںتو دوسری طرف اکسپورٹ سے متعلق سہولیات کی طرف رجحان نہیں رہا۔ اکسپورٹ میں اضافہ کے لئے خصوصی سہولیات کے علاوہ خود ملک کے اندر پیداوار کا عمل اور بننے والی چیزوں کے معیار کی بہتری کے لئے حکومت کی طرف سے ٹیکس اور ڈیوٹی کے مناسب قوانین اور دیگر سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اْس وقت کے وزیراعظم ، وزیرخزانہ اور ہم گلوبلائزیشن کے نعرے سے متأثر تھے۔ نتیجہ وہی ہوا جس کا ہم آج مشاہدہ کررہے ہیں۔ پالیسی کی اس کمی کا احساس دیر سے ہوا اور2010 میں پیداوار میں اضافہ کے لئے نئی پالیسی بنائی گئی جس پر ہنوز خاطرخواہ عمل نہیں ہوا ہے۔
امپورٹ میں اضافہ کی ایک وجہ تو تیل کی قیمت میں اضافہ ہے اور چونکہ ہماری تیل کی خریداری ڈالرمیں ہوتی ہے اس لئے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ایران ہمیں روپے میں تیل فروخت کرنے کے لئے تیار ہے لیکن اس بڑھے ہوئے ہاتھ کی طرف ہاتھ بڑھانے میں شاید عالمی (یعنی امریکی) دباؤ مانع ہے۔ بہرحال اب جبکہ امریکہ کی قیادت میں 6 طاقتور ملکوں کے ساتھ ایران کا معاہدہ ہوچکا ہے اور پابندیاں ختم ہونے والی ہیں تو ہمیں اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈالر کی جگہ روپے میں لین دین کی بات یقینی بنانی چاہئے اور اگر ایران سے خام تیل امپورٹ کرتے ہیں تو دیگر زیادہ سے زیادہ اشیاء کو ایران اکسپورٹ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
امپورٹ سے متعلق ایسی غیراہم اور غیرضروری اشیاء بھی ہیں جن سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ مثلاًہمارا ملک بڑی مقدار میں سونا امپورٹ کرتا ہے جس سے بچاجاسکتا ہے۔ اسی طرح ملک میں کھانے پینے اور سہولتوں کے سامان جو امپورٹ کیے جاتے ہیں میں کمی کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم دو ایسی چیزیں بھی امپورٹ کرتے ہیں جن کی ہمارے ملک میں بڑی مقدار موجود ہے اور وہ ہیں کوئلہ اور لوہا بنانے والے معدنیات۔ ایک طرف ملک کی عدلیہ نے ان کی اکسپورٹ پر پابندیاں لگارکھی ہیں جس کی وجہ ان معاملات میں ہونے والے کرپشن کی رپورٹیں ہیں۔ دوسری طرف خام صورت میں موجود معدنیات کو قابل استعمال بنانے کے لئے جس تکنیک اور پیداوار کے لئے پلانٹ کی ضرورت ہے وہ ہم مناسب تعداد میں حاصل نہیں کرسکے۔ مثلاً کوئلہ کے لئے معیاری اور مناسب تعداد میں ریفائنری ہمارے پاس نہیںہیں۔ یہ ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں جن کے منفی نتائجِ خود ہم پر پڑرہے ہیں۔
پڑوسی ملک چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جس نے پیداوار کی سہولیات اپنے ملک کے اندر پیدا کیں اوراکسپورٹ کی طرف توجہ دی۔ نتیجہ کے طورپر آج دنیا کے بیشتر ممالک چین کے قرضدار ہوچکے ہیں۔ اس ملک نے پیداوار کے لئے اندرون ملک موجود سرمایہ اور دیگر ملکوں میں مقیم چینی شہریوں کے بھیجے گئے رقوم پر اکتفا کیا اور باہر سے نہ سرمایہ آنے دیا نہ قرض۔ البتہ اگر کوئی ملک چین کی زمین پر اپنا سرمایہ لگاکر فیکٹری لگانا چاہے تو اسے اجازت ہے کیوں کہ اس صورت میں ملازمتیں بھی چینی کارکنوں کو ملتی ہیں اور فیکٹری اور دیگر اثاثہ جات ملک کے اندر رہتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *