مایاوتی کے حق میں بنتا ماحول

اجے کمار 
p-10مظفر نگر فسادات کی حقیقت کا پتہ لگانے کے لیے سپریم کورٹ کی کوششیں بی ایس پی سپریمو مایاوتی کو کافی راس آ رہی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر فسادات کی سازش کا انکشاف ہوگیا، تو سماجوادی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو زبردست جھٹکا لگے گا۔ ان کی سیاسی زمین کھسک سکتی ہے۔ کانگریس کا دامن بھی اس آگ میں بچ نہیں پائے گا۔۔ اگر لگاتار اٹھ رہی مانگ کے مطابق، فسادات کی جانچ کسی آزاد ایجنسی کو سونپ دی گئی، تو اکھلیش سرکار، ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو، ایس پی کے قد آور لیڈر اعظم خاں وغیرہ لیڈروں کو بی جے پی سے زیادہ فضیحت اٹھانی پڑ سکتی ہے۔ بی ایس پی اس کا فائدہ اٹھائے گی۔ لگاتار مظفر نگر فسادات کا موازنہ گجرات فسادات سے کر رہے بی ایس پی لیڈر کوئی بھی موقع گنوانا نہیں چاہتے ہیں۔ بی ایس پی کے حکمت سازوں کو لگتا ہے کہ کورٹ میں معاملہ جوں جوں آگے بڑھے گا، انہیں ایس پی اور بی جے پی کے خلاف عوام کے سامنے حملہ آور ہونے کا موقع مل جائے گا۔ ویسے بھی بی ایس پی کے لوگ مظفر نگر فسادات کو ایس پی – بی جے پی کی سازش بتا کر خوب پرچار کر رہے ہیں۔
اتر پردیش کے سیاسی حالات میں جو تبدیلی آ رہی ہے، اس میں بہوجن سماج پارٹی کے لیڈروں کو اپنی طاقت میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ موقع پر چوکا مارنے میں ماہر بی ایس پی سپریمو مایاوتی عوام کی ناراضگی کو بھنانے کے لیے جلد اتر پردیش میں انتخابی دورے اور بڑی ریلیوں سے شروعات کرنے والی ہیں۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے چناؤ پرچار سے نمٹنے کے بعد مایا سارا دھیان یو پی کی سیاست پر دیں گی۔ وہ جلد از جلد 2012 کی شکست کے داغ کو دھو دینا چاہتی ہیں۔ لوک سبھا الیکشن کو دیکھتے ہوئے بی ایس پی خیمہ نے کافی پہلے ہی زمینی تیاری شروع کر دی تھی۔ سب جانتے ہیں کہ اتر پردیش میں دیگر پارٹیوں کے مقابلے بی ایس پی کے کارکن زیادہ پر عزم اور مہذب مانے جاتے ہیں۔
آج جو حالات ہیں، اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ مظفر نگر میں ہوئے فسادات کے بعد ایس پی کی سیاسی سمجھ بوجھ کی کمی کے باعث سرکار اور سماجوادی پارٹی دونوں ہی بیک فٹ پر آ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ریاستی حکومت جرائم پر کنٹرول اور انتظامیہ کے محاذ پر ناکارہ ثابت ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے بی ایس پی کے پاس بڑھت بنانے کا اچھا موقع ہے۔ ایس پی سرکار نے دلتوں اور عظیم ہستیوں کے نام پر چل رہی کئی اسکیموں کو بند کرکے دلتوں کی ناراضگی مول لے لی ہے۔ بی ایس پی راج کی کچھ اسکیموں کا نام بدل کر اسے سماجوادی رنگ دینا بھی مایاوتی اور دلت مفکرین کو کافی برا لگ رہا ہے۔ ایسے میں مایاوتی کے لیے اپنی سیاست چمکانے کا یہ بہتر موقع ہے۔ وہ پوری ریاست میں چھا جانا چاہتی ہیں، خاص کر مغربی اتر پردیش میں مایاوتی دلت، مسلم اور اونچی ذات کے امیدواروں کے ذریعے اپنی طاقت بڑھانا چاہتی ہیں۔ مایاوتی کو امید ہے کہ مغربی یو پی کی جن سیٹوں پر بی جے پی سے بی ایس پی کا سیدھا مقابلہ ہوگا، وہاں مسلمانوں کا بڑا حصہ ان کے ساتھ آ سکتا ہے۔ سیاسی پنڈت بھی کہتے ہیں کہ مظفر نگر فسادات کے بعد ریاست کا سیاسی ماحول بدلا ہے۔ فسادات سے قبل بی ایس پی کمزور نظر آ رہی تھی، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ ہوا اس کے حق میں بہتی دکھائی دے رہی ہے۔ بدلے حالات آئندہ لوک سبھا انتخابات میں مایاوتی کو زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ مودی کی کی انٹری اور مسلمانوں کی ملائم سنگھ سے ناراضگی کی وجہ سے بی ایس پی کو لگتا ہے کہ سب سے زیادہ نقصان سماجوادی پارٹی اور کانگریس کو اٹھانا پڑے گا۔ راہل کی ریلی میں جس طرح سے بھیڑ ندارد ہو رہی ہے، اسے بھی بی ایس پی سپریمو کانگریس کے لیے اچھا اشارہ نہیں مانتی ہیں۔
مایاوتی مغربی اتر پردیش کو لے کر کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہیں۔ یہاں ان کی اچھی پکڑ ہے، تو مشرق میں بھی وہ اپنی طاقت بڑھانا چاہتی ہیں۔ اُدھر، مظفر نگر فسادات کے بعد ملائم پچھڑا ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لیے پوری طاقت جھونکے ہوئے ہیں۔ سماجک نیائے یاترا اس کی مثال ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مایاوتی اس یاترا کو ایس پی کا جھانسہ قرار دے رہی ہیں، جو پچھڑوں کو بھرم میں ڈالنے کے لیے نکالی جا رہی ہیں۔ ملائم کے پچھڑا پریم سے اگر مایاوتی فکرمند ہیں، تو اس کی وجہ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے نتائج ہیں۔ غور طلب ہے کہ پچھڑوں کی سیاست میں مذکورہ الیکشن میں مایاوتی کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ بی ایس پی کے 93 پچھڑے امیدواروں میں سے صرف 28 ہی جیت پائے تھے، جن میں سب سے زیادہ تعداد کرمی امیدواروں کی تھی۔ کل جیتے ہوئے 28 امیدواروں میں سے چھ امیدوار کرمی برادری کے تھے۔ دوسری طرف ایس پی کے 8 لودھ، 6 کرمی امیدواروں کے ساتھ 3 نشاد اور ایک کشواہا امیدوار جیتا تھا۔ دلت برادریوں میں بھی بی ایس پی کو جھٹکا لگا تھا۔ اس کے صرف 12 جاٹو اور 2 پاسی امیدوار جیت پائے تھے، جب کہ ایس پی کے 20 پاسی اور 13 جاٹو امیدوار جیتے تھے۔

مایاوتی مغربی اتر پردیش کو لے کر کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہیں۔ یہاں ان کی اچھی پکڑ ہے، تو مشرق میں بھی وہ اپنی طاقت بڑھانا چاہتی ہیں۔ اُدھر، مظفر نگر فسادات کے بعد ملائم پچھڑا ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لیے پوری طاقت جھونکے ہوئے ہیں۔ سماجک نیائے یاترا اس کی مثال ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مایاوتی اس یاترا کو ایس پی کا جھانسہ قرار دے رہی ہیں، جو پچھڑوں کو بھرم میں ڈالنے کے لیے نکالی جا رہی ہیں۔ ملائم کے پچھڑا پریم سے اگر مایاوتی فکرمند ہیں، تو اس کی وجہ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے نتائج ہیں۔ غور طلب ہے کہ پچھڑوں کی سیاست میں مذکورہ الیکشن میں مایاوتی کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

بی ایس پی مغربی یو پی کے ساتھ پوروانچل کو لے کر اس لیے بھی فکر مند ہیں، کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم کا جیسا فائدہ بی ایس پی کو مغربی اتر پردیش میں مل سکتا ہے، وہ مشرق (پورب) میں ملنا مشکل ہے۔ پوروانچل میں سیاسی حالات مغربی اتر پردیش جیسے نہیں ہیں۔ یہاں بھی مسلم ووٹ بنٹ جائے، اس کے لیے بی ایس پی سماجوادی پارٹی مخالف چالیں چل رہی ہے۔ مسلمانوں کو لبھانے کے لیے ہی مایاوتی بی جے پی کے پی ایم امیدوار نریندر مودی پر تیکھا حملہ بول رہی ہیں۔ وہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت میں چل رہے ٹکراؤ کے ساتھ ہندوتوا کے خطرے کو لے کر مسلمانوں کے حق میں پرچار کے لیے اتریں گی اور بی جے پی – ایس پی گٹھ جوڑ کو مدعا بنائیں گی۔
موجودہ حالات میں اتر پردیش میں ووٹنگ ہو جائے، تو پچھلے اسمبلی الیکشن کے مقابلے بی ایس پی کا ووٹ بڑھتا ہوا دکھائی دے گا۔ اس کے بعد مودی کے سہارے بی جے پی کا نمبر آ سکتا ہے۔ ابھی مایاوتی کی ریلی شروع نہیں ہوئی ہے۔ جب وہ میدان میں آئیں گی، تو مودی کو بھی سوچنے کو مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ مایا سے بڑی ریلی شاید ہی کوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ 2014 کی مہم اور مشن کا احساس وہ اپنی سنکلپ ریلی کے ذریعے کرا بھی چکی ہیں۔ پارٹی کے امیدوار طے ہو ہی چکے ہیں۔ کوئی خاص بدلاؤ اب ہونا نہیں ہے۔ وہیں پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں کو سمجھا دیا گیا ہے کہ وہ لوک سبھا الیکشن کی تیاریاں جنگی سطح پر شروع کر دیں۔ مایا نے اپیل کی ہے کہ پارٹی کے لوگ دلتوں – پچھڑوں کے علاوہ اقلیتوں، برہمنوں، پس ماندوں کو بھی اپنی طرف لانے کی کوشش کرتے رہیں اور انہیں بتایاجائے کہ انہیں مناسب نمائندگی دی جائے گی۔ مایا نہیں بھولی ہیں کہ 2012 کے اسمبلی الیکشن میں برہمنوں کی ناراضگی کے سبب ہی وہ اقتدار سے بے دخل ہو گئی تھیں۔
لوک سبھا کے مشن میں امن کے ساتھ آگے قدم بڑھا رہی مایا کے لیے لوک آیکت کی رپورٹ بھی تازگی کا احساس لے کر آئی ہے۔ اتر پردیش میں اقتدار میں رہتے لوک آیکت این کے مہروترا نے بھلے ہی کتنی مصیبتیں ان کی سرکار کے لیے کھڑی کی تھیں، لیکن حال میں ہی ان کی سابق سرکار کو کلین چٹ دے کر بڑی راحت دے دی۔ لوک آیکت نے جانچ میں پایا ہے کہ نوئیڈا فارم ہاؤس معاملے میں کوئی گھوٹالہ نہیں ہوا تھا۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے گزشتہ برس اگست ماہ میں اس کی جانچ لوک آیکت کو سونپی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *