دہلی کے بہاریوں نے نتیش کو خارج کیا

سروج سنگھ 

حال ہی میں ختم ہوئے دہلی اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی نے جہاں بے پناہ عوامی حمایت حاصل کرکے لوگوں کو چونکا دیا، وہیں بڑی بڑی اور پرانی پارٹیوں کو عوام نے دھول چٹا دی۔ بی جے پی کے ساتھ مل کر لالو یادو کی 15 سال کی سرکار کو اقتدار سے بے دخل کرنے والے نتیش کمار کو دہلی میں اپنی پکڑ مضبوط بنانے کی امید تھی، لیکن دہلی میں بڑی تعداد میں رہ رہے بہار کے لوگوں پر نتیش کا جادو نہیں چل سکا۔

p-5bبڑے لیڈروں کے بارے میں کہا اور سمجھا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ ملک میں کہیں بھی ووٹروں کو متاثر کر سکتے ہیں اور اپنے امیدواروں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ کیا دہلی اور کیا بہار، ہر جگہ جادو چلنے کی گارنٹی۔ لیکن لگتا ہے نتیش کمار اس معاملے میں چوک گئے۔ معاملہ دہلی اسمبلی الیکشن کا ہے، جہاں جے ڈی یو نے اپنے 27 امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا۔ میدان سجانے کی ذمہ داری بڑبولے صابر علی کے پاس تھی، کیوں کہ شرد یادو تو نہ کھیلنے والے کپتان کے رول میں آ گئے ہیں۔ دعویٰ بڑا کیا گیا کہ اس بار تو دہلی میں رہ رہے بہار کے لوگ نتیش کو ہی توجہ دیں گے، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ خصوصی ریاست کے درجے کے لیے دہلی میں ہوئی ریلی کی مثال بھی دی گئی کہ ریلی میں جمع ہونے والی بھیڑ نتیش کی عوامی حمایت بڑھنے کا اشارہ ہے۔ لیکن جب انتخاب کے نتائج سامنے آئے، تو پتہ چلا کہ ایک کو چھوڑ کر سارے امیدواروں کے رتھ کا پہیہ جہاں تھا، وہیں پھنسا رہ گیا اور سبھی کی ضمانت ہی ضبط ہو گئی۔ جس مٹیا محل سے جے ڈی یو امیدوار شعیب اقبال جیتے ہیں، وہاں بہاری ووٹر نہ کے برابر ہیں۔ نتیش کمار کی وہاں ریلی بھی نہیں ہوئی تھی۔ ایسے بھی شعیب اقبال سے جے ڈی یو کو زیادہ امید نہیں تھی۔ نتیش کمار نے دوارکا، سنگم وہار، اوکھلا، کراڑی اور براڑی میں ریلی کی تھی اور ان پانچوں سیٹوں پر جے ڈی یو امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ براڑی میں جہاں وزیر اعلیٰ نے خصوصی ریاست کے درجے کے لیے ریلی کی تھی، وہاں عام آدمی پارٹی کے سنجیو جھا کو 60,164 ووٹ ملے، جب کہ جے ڈی یو کے جتندر کمار کو صرف 2,643 ووٹ ہی ملے۔ براڑی اور کراڑی یہ دو ایسے علاقے ہیں، جہاں بہار کے لوگوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے اور ان دونوں ہی جگہوں پر بہاریوں نے جے ڈی یو کو خارج کر دیا۔ بی جے پی کے لیڈر گری راج سنگھ کہتے ہیں کہ دراصل یہ نتیش کمار کی طاقت کا سچ ہے جسے جے ڈی یو والے سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ بہاری اعزاز کے نام پر جے ڈی یو اور نتیش کمار نے صرف سیاست کی ہے۔ بہار اور بہاریوں کی ترقی اور عزت سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ دہلی میں بسے ہمارے بہاری بھائیوں اور بہنوں نے نتیش کمار کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ بہار میں اب جب بھی انتخابات ہوں گے، نتیش کمار کو اس سے بھی برا نتیجہ ہاتھ لگے گا۔ سنگھ کہتے ہیں کہ جے ڈی یو کو کل 68,441 ووٹ ملے ہیں، جب کہ اس سے کہیں زیادہ ووٹ بی جے پی کے کراڑی سے امیدوار انل جھا نے حاصل کیا ہے۔ اکیلے انل جھا ہی پوری جے ڈی یو پر بھاری پڑ گئے۔
کانگریس کے بہار کے ریاستی صدر اشوک چودھری کہتے ہیں کہ اس میں حیرانی جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ جے ڈی یو کا اثر بہار کے باہر ہے ہی نہیں اور بہار میں بھی ایک خاص صورتِ حال کی وجہ سے ان کا اثر بنا تھا۔ بہار کے باہر اگر کہیں بھی بہاری ووٹر ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ نتیش کے کہنے میں آ جائیں گے۔ ان کے امیدوار الیکشن جیتتے کیسے، نہ تو ان کی شبیہ قومی سطح کی ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی قومی ایشو ہے۔

کانگریس کے بہار کے ریاستی صدر اشوک چودھری کہتے ہیں کہ اس میں حیرانی جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ جے ڈی یو کا اثر بہار کے باہر ہے ہی نہیں اور بہار میں بھی ایک خاص صورتِ حال کی وجہ سے ان کا اثر بنا تھا۔ بہار کے باہر اگر کہیں بھی بہاری ووٹر ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ نتیش کے کہنے میں آ جائیں گے۔ ان کے امیدوار الیکشن جیتتے کیسے، نہ تو ان کی شبیہ قومی سطح کی ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی قومی ایشو ہے۔

وہیں لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے ترجمان روہت سنگھ کہتے ہیں کہ جس طرح 2005 میں بہار میں ایل جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں کو توڑ کر نتیش اقتدار میں آئے تھے، اسی طرح کا کام انہوں نے دہلی میں بھی کیا۔ شعیب اقبال مٹیا محل سے دو بار ایل جے پی کے ٹکٹ سے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ انہیں توڑ کر انہوں نے اس بار جے ڈی یو میں ملا لیا۔ اس میں جے ڈی یو کی کوئی حصولیابی نہیں ہے۔ دہلی میں انہیں یہ سیٹ ہمارے کارکنوں کی وجہ سے ملی ہے۔ ساتھ ہی روہت یہ بھی کہتے ہیں کہ دہلی الیکشن کی کمان نتیش نے صابر علی کے ہاتھ میں دے رکھی تھی اور دہلی کے عوام کو معلوم ہے کہ وہ ڈی کمپنی کا آدمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے جے ڈی یو کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیا۔ نتیش شمالی ہند کے لوگوں کا چہرہ بننے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انہیں لگاتار ناکامی ملتی جا رہی ہے۔
لیکن جے ڈی یو کے نیرج ایک ہی سیٹ ملنے کو اپنی کامیابی مانتے ہیں۔ نیرج کہتے ہیں کہ ہماری پارٹی تو صرف تین مہینے پہلے سے وہاں تنظیمی سطح پر کام کر رہی تھی، ایسے میں ایک سیٹ بھی آنی اہم ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا وجہ ہے کہ جہاں جہاں نتیش کمار نے خود پرچار کیا، وہاں کے امیدواروں کی ضمانت بھی ضبط ہو گئی، نیرج کہتے ہیں کہ آپ ووٹ کا فیصد اٹھا کر دیکھ لیجئے، جہاں جہاں سی ایم نے پرچار کیا ہے، وہاں ہمارا ووٹ فیصد بڑھا ہے۔ ہم تو اقتدار کے دعویدار تھے بھی نہیں، جن کا دعویٰ تھا ان کا ہی پانی اتر گیا۔
آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن رام کرپال یادو کہتے ہیں کہ نتیش کا جادو اب ختم ہو گیا ہے۔ بہار کے عوام جو دہلی میں رہ رہے ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ کیسے کاغذ پر ترقی کی جا رہی ہے۔ جہاں جہاں دہلی میں یہ پرچار کرنے گئے، وہاں وہاں سے ان کے امیدوار نیچے سے فرسٹ ہوئے ہیں۔ ان کی پارٹی کے اندر ہی گھماسان مچنے والا ہے۔ شرد یادو ان کے صدر ہیں اور ایک بھی دن دہلی الیکشن کے پرچار میں نہیں گئے۔ کیا ہے یہ سب؟ اتر پردیش اور آسام میں اپنی کرکری کروانے کے بعد اس بار دہلی میں بھی اپنی کرکری کروا گئے۔ جو ایک امیدوار شعیب اقبال جیتا ہے، وہ تو اپنی بدولت جیتا ہے۔ وہ تو جس بھی پارٹی میں رہا ہے الیکشن جیتتا رہا ہے، اس میں نتیش کا تو کوئی کرشمہ نہیں ہے۔ دیکھتے رہیے، بہار سے بھی ان کا وجود ختم ہو جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *