چوتھی دنیا اردو کی مہم کا نتیجہ: یو این آئی کے تین کارکنان کو جیل

اے یو آصف 
p-11گزشتہ 12 دسمبر2013 کو نئی دہلی میں واقع پٹیالہ ہائوس عدالت کے ذریعے اسٹیٹ بمقابلہ نیرج باجپئی و دیگر مقدمہ (ایس سی نمبر 167/13 اور ایف آئی آر نمبر 61/13 ماتحت سیکشن 3،ایس سی اینڈ ایس ٹی پریوینش آف ایٹروسیٹیزایکٹ )میں یو این آئی کی ایک دلت ملازمہ کے ساتھ بد سلوکی کے معاملہ میں ملزمین نیرج باجپئی جوائنٹ ایڈیٹر، یو این آئی ، اشوک اُپادھیائے ڈپٹی چیف آف بیورو یونیوارتا اور موہن لعل جوشی کلرک کی ضمانت کی عرضی کو مسترد کرکے جیل (جوڈیشیل کسٹڈی) بھیج دیے جانے پر ’’ چوتھی دنیا ‘‘(اردو و ہندو)کی اس کے مثبت اور فعال رول کی زبردست پذیرائی کی جارہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ عدالت کے اس عمل سے یو این آئی جیسی اندرون و بیرون ملک خبروں کی ترسیل کے معتبر ذریعہ کو چند مفاد پرست عناصرسے نجات دلانے اور معاشی بحران سے نکالنے میں مدد ملے گی اور اس خبر رساں ایجنسی کو بند کرنے کی سازش کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جاسکے گانیز اصل قضیہ میں الزام ثابت ہونے پر ملزمین کو سزا ملے گی اور مظلوم کو انصاف مل سکے گا۔
مذکورہ فیصلہ پٹیالہ ہائوس عدالت کے ایڈیشنل ضلع و سیشن جج دیا پرکاش نے تین بنیادوں پر لیا جن میں ایک یہ ہے کہ یہ مقدمہ ایس سی اینڈ ایس ٹی ( پریوینشن آف ایٹروسیٹیز) ایکٹ کے سیکشن 3 سے متعلق ہے جو کہ ایک سوشل لجسلیشن ہے اور اس کا مقصد ایس سی اور ایس ٹی کمیونٹی کے افراد کے خلاف نازیبا ریمارکس کے لئے کارروائی کرنا ہے جبکہ دوسرا یہ ہے کہ شکایت تفتیش کے دوران شکایت کنندہ کے ذریعے فائل کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ کے ساتھ دو آزاد گواہوں کے بیانات لئے گئے ہیں اور چالان کے مطابق الزامات کی تشریح کی گئی ہے۔ تیسری بنیاد یہ ہے کہ ملزمین کے خلاف الزامات بہت ہی سنگین ہیں۔ یو این آئی کی متأثرہ دلت ملازمہ کی جانب سے وکیل کے علاوہ الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر وکیل اے پی این گری اور دہلی ہائی کورٹ کے وکیل اروند کمار چودھری نے ملزمین کی طرف سے عدالت میں پیشگی ضمانت کی عرضی کی پُر زور مخالفت کی اور کہا کہ ملزمین کا جرم زبردست ہے۔لہٰذا انہیں فوراً ہی جوڈیشیل کسٹڈی میں بھیجا جانا چاہئے۔
اس معاملے میں ملزم اشوک اپادھیائے پر یو این آئی کی ایک سینئر خاتون صحافی کے ذہنی استحصال اور ہراسانی کا الزام ہے اور اس کی قومی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن ممتا شرما کی ہدایت پر دہلی پولیس تفتیش کرر ہی ہے۔ عیاں رہے کہ اس معاملے میں نام نہاد ورکرس لیڈر مکیش کوشک بھی ملزم ہیں۔
یو این آئی بچائو تحریک کے ترجمان سنجے کنوجیا نے ’’ چوتھی دنیا‘‘ کو بتایا کہ ان ملازمین کے خلاف کروڑوں روپے بد عنوانی کے معاملے کی بھی جانچ چل رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان ہی معاملوں کو لے کر 25 فروری 2013 کو نئی دہلی میں یو این آئی ہیڈ کوارٹرس اور آئی این ایس پر صحافیوں، شعرائ، ادیبوں،ٹریڈ یونینوں، سیاسی پارٹیوں اور این جی اوز نے مظاہرہ کیا تھا اور پھر 6 اگست 2013 کو بھی جنتر منتر پر بہت بڑا احتجاج بھی ہوا تھا۔
کنوجیا کا کہنا ہے کہ یو این آئی کے پورے معاملہ کو اجاگر کرنے میں ’’ چوتھی دنیا‘‘ کا ہی رول ہے جس میں اس کے خصوصی نمائندہ ڈاکٹر قمر تبریز کی 29 جولائی تا 4 اگست 2013 کے شمارہ میں ’’ یو این آئی کے مالی بحران کا انجام کیا ہوگا؟‘‘اور ا یسوسی ایٹ ایڈیٹر اے یو آصف کی 16 تا 22 ستمبر 2013 کے شمارہ میں تفصیلی انکشافاتی رپورٹیں شائع ہوئیں اور پھر دنیا نے جانا کہ یو این آئی پر قبضہ کرنے یا اسے ختم کرنے کی کیا کیا سازشیں ہورہی ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ تین ملزمین جن کی ضمانت کی عرضی خارج ہوئی ہے اور جن کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے کا تعلق یو این آئی سے ہے جو کہ زبردست مالی بحران کا شکار ہے۔ یو این آئی کے لئے یہ ستم ظریفی رہی ہے کہ یہ وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی مفاد پرست فرد کے استحصال اور زیادتی کا شکار رہی ہے۔ آج وشواس ترپاٹھی اس پر قابض ہیں تو کل پرفل مہیشوری اس پر قابض تھے اور اس سے قبل زی نیوز کی میڈیا واچ کے سبھاش چندرا کو غلط طریقہ سے یو این آئی کا مالکانہ حق دے دیا گیا تھا جسے آنند بازار گروپ جس کے پاس یو این آئی کا سب سے زیادہ شیئر ہے، نے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا۔ بعد ازاں سبھاش چندرا نے اپنے آپ کو اس سے الگ کر لیاتھا اور یہ کہا تھا کہ ’’ اب میرا یو این آئی سے کوئی مطلب نہیں ہے‘‘۔ اس وقت سبھاش چندرا نے یہ بھی کہا تھا کہ 32 کروڑ روپے جن میں سے جو کچھ خرچ ہوگیا ہے وہ پورے کا پورا انہیں واپس کیا جائے‘‘۔ دریں اثنا آنند بازار گروپ کے چیئرپرسن ڈی ڈی پور کائستھا اور ادین بھٹا چاریہ نے یو این آئی کے تمام ملازمین کی تنخواہیں و دیگر مراعات وغیرہ ریگولرائز کردیا جس سے یہ تاثر ملا کہ یو این آئی کی مالی حالت اب بہتر ہو رہی ہے جو کہ سراسر دھوکاتھا۔
توقع ہے کہ اب جبکہ یو این آئی کے تین ملازمین کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور عدالت نے معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر انہیں ضمانت پر رہا کرنے سے بھی انکار کردیا ہے، حکومت یو این آئی کے بحران پر مجموعی طور سے توجہ دے گی اور ایک ایسی خبر رساں ایجنسی جس کی پانچ دہائی سے زائد عرصہ قبل ملک کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے سنگ بنیاد رکھی تھی اور جو کہ تین زبانوں اردو، ہندو اور انگریزی میں خبریں تیار کرنے والی ہندوستان کی واحد خبر رساں ایجنسی ہے، کو مفاد پرست عناصر کے چنگل سے آزاد کراکے غیر جانبدار ، معروضی اور خود کفیل بننے کا موقع فراہم کرے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *