چوتھی دنیا کا مشرا کمیشن رپورٹ کو اٹھانا صحافت کا بلند ترین کردار ہے: مولانا اصغر امام مہدی

p-5b50 سالہ ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مدنی اپنی دانشوری کے ساتھ ساتھ تحریر و تقریر نیز تنظیمی صلاحیت کے لئے جانے جاتے ہیں۔عربی زبان و ادب پر مہارت حاصل ہے ۔گزشتہ برس دہلی کے رام لیلا میدان میں امام حرم کی آمد کے موقع پر انہوں نے عربی میں لاکھوں عوام کے سامنے جو خطاب فرمایا تھا، اسے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ گاندھی جی کی کرم بھومی چمپارن کی مردم خیز بستی ’برنداون‘ میں معروف مجاہد آزادی بخشش کریم کے خاندان کے چشم و چراغ مولانا اصغر 15 مارچ 1963کو پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ جیسے معروف ادارے سے لی۔ فی الوقت آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، مجلس انتظامیہ جامعہ سلفیہ بنارس اور مولانا آزاد ایجوکیشن فائونڈیشن کے رکن رکین کے علاوہ جریدہ ’ترجمان‘ کے مدیر اعلیٰ اور ملک کے متعدد تعلیمی اداروں سے منسلک ہیں نیز کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ آفات کے وقت ریلیف اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور اتحاد بین المسلمین کے لئے سرگرم عمل رہتے ہیں۔کئی برس قبل ان کی پیش رفت پر 36 علماء کرام کا اجتماعی فتویٰ اردو، ہندی اور انگریزی میں لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوکر مقبول عام ہوا۔ ان کی صلاحیتوں اور سرگرمیوں کے پیش نظر ’چوتھی دنیا‘ کے لئے اے یو آصف اور وسیم احمد نے مندرجہ ذیل انٹرویو لیا جو پیش خدمت ہے۔

ہندوستان کے سامنے کئی مسائل ہیں ،ان میں سے ملک کو درپیش قومی مسائل کیا کیا ہیں؟
ملک میں کئی اہم مسائل ہیں جن کے بارے میں بات کی جاسکتی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ہماری اخلاقی قدریں تیزی سے گرتی جا رہی ہیںاور بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس میں عوام سے لے کر تعلیم یافتہ طبقہ تک ملوث ہے۔اسی طرح سیاست سے لے کر عدلیہ تک اس سے متاثر ہے۔اس لئے ہم اخلاقی گراوٹ کو ملک کے بنیادی مسائل میں شمار کرتے ہیں۔اسی طرح ایک اور اہم مسئلہ ہے ملک میں فرقہ واریت اور ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کو بانٹنا ۔یہ ذہنیت ملک کو تیزی سے پیچھے دھکیل رہی ہے اور یہ سلسلہ مسلسل آزادی کے بعد سے ہی چلا آرہا ہے۔بنیادی قومی مسائل میں تعلیم میں کمی اور اقتصادیات میںعدم توازن بھی شامل ہیں۔اقتصادیات میں عدم توازن کی حالت تو یہ ہے کہ سرمایہ کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں سمٹ رہا ہے اور اکثریت پسماندگی کی طرف ڈھکیلی جارہی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اسی اقتصادی عدم توازن کا گہرا منفی اثر تعلیم پر پڑ رہا ہے اور ترقی یافتہ دورمیں ہونے کے باوجود ہندوستان میں تعلیم کا گراف بہت نیچے ہے۔خاص طور پر اس عدم توازن نے مسلمانوں کی تعلیم پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔اسی طرح بدعنوانی بھی ملک کا ایک اہم مسئلہ ہے۔
ذرا مسلم ایشوز کے بارے میں بھی بتائیں؟
ہندوستان میںمسلمانوں کا کوئی الگ سے ایشو نہ ہونا چاہئے اور نہ ہے۔مسلمان اس ملک کی سرزمین میں پیدا ہوئے ہیں اور اس کا لازمی حصہ ہیںاور کسی بھی دوسری کمیونٹی کی طرح ملک کے وہ اتنے ہی خیر خواہ ہیں۔مسلمان سب کی بھلائی چاہتے ہیں لیکن یہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ مسلمانوں کو عام دھارے سے الگ کرکے رکھنے کی کوشش کی گئی ،اس کوشش میں فسطائی طاقتوں کے ساتھ کچھ سیکولر ذہن بھی شامل ہوگئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے بنیادی مسائل جیسے تعلیم ، تشخص، یہاں تک کہ ان کے وجود کے مسئلے کو بھی ہدف بنایا جارہا ہے۔لہٰذا یہ ایشوز اب مسلمانوں کے بنیادی مسائل میں شامل ہوگئے ہیں اور اس بات کو انصاف پسند غیر مسلم بھی محسوس کررہے ہیں۔
کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ بابری مسجد اور علی گڑھ جیسے مسائل میں الجھا کر مسلمانوں کے اصل مسئلے کو پیچھے کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان اسباب کی وجہ سے مسلمان نیو بدھسٹ سے بھی پیچھے ہوگئے ہیں؟
سچر کمیٹی کی رپورٹ کے آنے کے بعد یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حکومت نے بھی مسلمانوں کی پسماندگی کو مان لیا ہے۔جہاں تک بابری مسجد اور علی گڑھ جیسے مسائل ہیں ، یہ یقینا مسلمانوں پر تھوپے گئے ہیں اور اس کے علاوہ بھی دیگر مسئلے ہیں جیسے دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات وغیرہ ۔سچ تویہ ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان مسائل میں مسلمانوں کو الجھادیا گیا ہے تاکہ وہ ان میں الجھ کر اپنی اقتصادی ترقی کی طرف دھیان نہ دے سکیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ جتنے بھی ایشوز ہیں ان میں سے ایک کو بھی حل نہیںکیا گیا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ یہ جو چند مسئلے بیان کیے گئے ہیں ،یہ وہ مسائل ہیں جن میں مسلمانوں کو الجھا کر رکھنے کے لئے سوچی سمجھی سازش کی گئی ہے۔
کیا سچر رپورٹ مسلمانوں کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے جبکہ اس رپورٹ میں سے 12فیصد سے زیادہ مسلمانوں کے جیل میں ہونے کی بات کو بعد میںہٹا دیا گیا۔کیا آپ اس رپورٹ سے پورے طور پر مطمئن ہیں؟
سچر کمیٹی رپورٹ سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ سرکار کی ہی تشکیل کردہ ایک ٹیم نے مسلمانوں کی پسماندگی کی شہادت دے دی ورنہ بصیرت رکھنے والے لوگ تو شروع سے ہی اس بات کو محسوس کررہے ہیں کہ مسلمانوں کے سامنے بے شمار مسائل ہیں جن کا ذکر اس رپورٹ میں نہیں ہے۔جہاں تک سچر رپورٹ سے جیل میں بند مسلمانوں کے حصہ کو ہٹانے کی بات ہے تو اس بات پرملک کے تمام لوگوں خاص طور پر سیکولر ذہن رکھنے والوں کو غور کرنا چاہئے کہ جب ایک چھوٹی سی رپورٹ میں مسلم اقلیت پر ہورہی زیادتیوں کو ہٹا دیا جاتا ہے تو پھر ان کے بڑے بڑے مسائل کو کس طرح سے چھپایا جارہا ہوگا۔
کہا یہ جاتا ہے کہ سچر رپورٹ اگر مرض کی تشخیص ہے تو رنگناتھ مشرا کمیشن اس مرض کی دوا لیکن حکومت چونکہ سنجیدہ نہیں ہے اس لئے اس رپورٹ کو پارلیمنٹ میں باضابطہ پیش نہیں کیا جاسکا، اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟
یہی تو افسوس کا مقام ہے کہ ایک رپورٹ میں مرض کی تشخیص ہوئی اور دوسرے میں اس کی دوا کی طرف اشارہ بھی کردیا گیا ۔ اس کے باوجود حکومت اتنی بے حس رہی کہ اس نے کمیونیٹی کی پسماندگی کو دورکرنے کے لئے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا ۔آج ملک کا ہر انصاف پسند شہری کہتا ہے کہ مسلمانوں کے تمام تو نہیں لیکن رپورٹ میں جن چند اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کے نفاذ کے جو طریقے رنگناتھ مشرا رپورٹ میں بتائے گئے ہیں اس پر عمل ہونا چائے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ سچررپورٹ کی 76 سفارشوں میں سے 72 کا نفاذ ہوچکا ہے۔ کیاآپ اس سے متفق ہیں؟
حکومت کہتی ہے کہ 72 کا نفاذ ہوا ہے مگر اس کے اثرات تو برائے نام نظر آرہے ہیں۔اگر یہ دعویٰ صحیح ہوتا تو اس کے اثرات بھی سامنے آتے۔حکومت کے دعووئوں کی قلعی کھولنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ قومی راجدھانی میں مسلمانوں کے علاقے میں ترقی کے لئے جو فنڈ پاس کیے گئے تھے، اس میں سے تھوڑا سا خرچ کرکے باقی رقم واپس کردی گئی جبکہ ان علاقوں کی حالت آج بھی ابتر بنی ہوئی ہے۔ لہٰذا سچر رپورٹ کے تعلق سے حکومت جو دعویٰ کررہی ہے وہ عملی طور پر تو قطعی نظر نہیں آرہا ہے۔
کیا ریزرویشن ہی پسماندگی سے نکلنے کا واحد راستہ ہے؟
من جملہ بہت سے راستوں میں سےایک راستہ ریزرویشن بھی ہے۔ ویسے یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے سامنے جتنے مسائل ہیں وہ صرف ریزرویشن سے حل نہیں کیے جاسکتے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اپنی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے ریزرویشن کے ایک حصے پر تکیہ کرنے کے بجائے دیگر میدانوں میں بھی آگے بڑھنے کے لئے خود میں صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔
مشرا کمیشن کو ابھی تک پارلیمنٹ میں ٹیبل نہیں کیا گیا ہے لیکن ’چوتھی دنیا‘ نے اس پوری رپورٹ کو چھاپا جس کو ملائم سنگھ یادو نے پارلیمنٹ میں لہرا کر عام کیا اور وہ موضوع بحث بنا ۔اس سلسلے میں چوتھی دنیا کے موقف کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
میڈیا کا رول ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔’چوتھی دنیا‘ نے مشرا کمیشن رپورٹ کے حساس مسئلے کو اٹھایا تھا۔ یقینا یہ صحافت کا بلند ترین قدم ہے جس پر یہ اخبار مبارکباد کا مستحق ہے۔اگر میڈیا اسی طرح سے اپنی ذمہ داری نبھاتا رہا تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ میں کالم نویس پروین سوامی نے مظفر نگر میں راہل کے بیان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ بالکل بے بنیاد نہیں ہے۔اس پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟
مجھے یقین ہی نہیں آتا ہے کہ راہل گاندھی جیسا انسان اتنی لچڑ بات کیسے کہہ سکتا ہے۔اگر یہ بات صحیح ہے تو انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ لوگ سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک ایسی زمین پر جہاں 1947 میں بھی ایسی افراتفری نہیں مچی تھی اور اب ان پریشان حال افراد کے بارے میں ایسی باتیں کہی جارہی ہیں۔
مسلمانوں کی گرفتاری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جبکہ ان گرفتار شدگان میں سے کسی پر جرم ثابت نہیں ہوسکا ہے ۔اس پر آپ کیا کہیں گے؟
ملک کے تمام انصاف پسندافراد اور تنظیموں سے یہ کہوں گا کہ حکومت کے اس رویے کے خلاف آواز اٹھائیں اور ان نوجوانوں کو انصاف دلانے کے تئیںجو ٹال مٹول ہورہاہے اس سے باز رکھنے کے لئے حکومت پر دبائو بنائیں۔اس کے ساتھ ہی میں مسلم نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس طرح کی نا انصافیوں پر اشتعال سے گریز کریں کیونکہ فسطائی قوتیں اشتعال انگیزی کرکے اپنا مقصد پورا کرنا چاہتی ہیں۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف فتویٰ آچکا ہے۔ اس کے باوجود ان دنوں مختلف ریاستوں میں اہل حدیث کے افراد کو بھی دہشت گردی کے الزام میں پکڑا جارہا ہے۔اس پر آپ کیا کہیں گے؟
یہ تو افسوس کی بات ہے کہ جس تنظیم کی طرف سے سب سے پہلے دہشت گردی کے خلاف سمینار منعقد کیے گئے اور فتوے جاری کیے گئے، اس کے ماننے والوں کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے ۔ اسی مسلک کے ماننے والے مولانا ابولکلام آزاد تھے جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر کو ملک میں امن بحال کرنے پر قربان کردیا۔اس لئے ہم چاہے وہ سلفی ہو یا کوئی اور نوجوان، ان کی غیر قانونی گرفتاری کو کسی بھی حال میں قبول نہیں کرسکتے ہیں۔
اب مسلمان بیدار ہوچکا ہے ،وہ کسی ایک پارٹی کا بندھوا نہیں رہا۔ لہٰذا ہوسکتاہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلمان بی جے پی کی طرف بھی چلا جائے؟
مسلمان کبھی کسی کا نہ بندھوا رہا ہے اور نہ رہے گا۔رہی بات آئندہ الیکشن کی تو میرا تجربہ کہتا ہے کہ جو پارٹی ہمیشہ غیر سیکولر باتیں کہتی رہی ہے، مسلمانوں کا جھکائو ادھر کبھی نہیں ہوگااور ہونا بھی نہیں چاہئے ۔اب اگر کوئی مسلمان ان تمام باتوں کو نظر انداز کرکے اس پارٹی کی طرف اس کے بغیر کسی کمیٹ مینٹ کے جاتا ہے تویہ نادانی کی بات ہوگی۔
نریندر مودی بحیثیت وزیر اعظم کیسے رہیں گے؟
آزمائے کو آزمانا دانشمندی نہیں ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ بی جے پی جو قومی سطح کی پارٹی ہے، اس نے ایک ایسے آدمی کو وزیر اعظم کا امیدوار کیسے بنا دیا جو بد نام ہے۔بی جے پی ایک طرف مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہے تو دوسری طرف ایسے آدمی کو وزیر کا امیدوار اعظم بنا کر پیش کررہی ہے جو مسلمانوں کی حق تلفی کا مرتکب ہے۔ یہ تضاد نہیں ہونا چاہئے۔ مودی جیسے تھے ویسے ہی آج بھی ہیں، بدلے نہیں ہیں۔اگر بدل گئے ہیں تو جن پر ظلم ہوا ہے وہ انہیں پہلے انصاف دلائیںاور اپنے کیے پر شرمندہ ہوں توپھر سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ مثبت انداز میں واقعی بدل گئے ہیں ،مگر اب تک تو ان میں ایسا کچھ نظر نہیں آیا ہے۔
مسلم ممالک خاص طور پر سعودی عرب میں ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں کیا رائے پائی جاتی ہے؟ان ممالک سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی سے کیا آپ مطمئن ہیں؟
ہندوستان سے عرب ملکوں کے تعلقات قدیم ہیں اور عرب ہندوستان کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں مگر جب کبھی وہ سنتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے تو انہیں تشویش ہوتی ہے ۔مگروہ ہندوستان کے اندرونی معاملوں میں کسی بھی طرح کی دخل اندازی کو پسند نہیں کرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *