بہار حکومت کے نئے داغدار

ششی ساگر 
p-9bبات 27 جنوری 2005 کی ہے۔تب بہار میں راشٹریہ جنتا دل کی حکومت تھی۔رابڑی دیوی وزیر اعلیٰ تھیں اور لالو وزیر ریلوے۔بہار میں اسمبلی انتخاب کا وقت تھا۔ انتخابی اجلاس کو خطاب کرنے کے لئے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی بہار میں تھے۔ اپنے خطاب میں باجپئی نے کہا تھا کہ بہار اغوا اور قتل عام کی فیکٹری بن چکا ہے۔اسکولی بچوں اور افسراغوا ہورہے ہیں۔جس وقت باجپئی ریاست کے راشٹریہ جنتا دل حکومت پر یہ سب الزام لگا رہے تھے، اسی مہینے کی 18 جنوری 2005 کو پٹنہ سے ڈی اے وی کا ایک طالب علم کسلَے کا اسکول بس سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ باجپئی نے سرکار سے سوال کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ریاستی سرکار بتائے کہ کہاں ہے ہمارا کسلے۔ باجپئی کے اس منچ پر این ڈی کے دیگر لیڈروں کے ساتھ نتیش کمار بھی تھے۔ سبھی نے ایک سُر میں جنگل راج کو کوسا تھا، رام راجیہ لانے کی بات کہی تھی اور کسلے واقعہ کے قصورواروں کو سزا دینے کی مانگ بھی کی تھی۔
ماضی کی یہ رام کہانی بس اس لئے کی کہ ان دنوں کسلے اغوا واقعہ میں چنو ٹھاکر گروپ کا نام سامنے آیا تھا اور اس گروہ کے کئی لوگ پکڑے بھی گئے تھے۔ آج وہی چنو ٹھاکر نتیش کے جنتا دل یو میں بڑی ہی عزت اور شان و شوکت کے ساتھ شامل کیے گئے ہیں۔ چنو ٹھاکر پر ایک درجن سے زیادہ اغوا اور قتل کے معاملے درج ہیں۔ لالو رابڑی دور میں پورے شمالی بہار میں اس کا خوف ہوا کرتا تھا۔ چنو ٹھاکر کے گروہ نے ہی دربھنگہ ، مظفرپور کے درمیان ایک لائن ہوٹل میں کھانا کھا رہے پی ڈبلو ڈی کے انجینئر سمیت پانچ لوگوں کا دن دہاڑے قتل کردیاتھا۔ اس میں چنو نامزد ملزم بنائے گئے تھے۔جنتا دل یو کے کئی لیڈر چنو کے معاملے پر بولنے سے کتراتے ہیں، وہیں کچھ لیڈروں کو یہ اچھا نہیں لگ رہا ہے، لیکن جنتا دل یو میں ان کی حیثیت اتنی نہیں ہے کہ وہ اس کی مخالفت کرسکیں۔ نتیش کے پاس دبنگوں کی کمی نہیں رہی ہے۔ لیکن حال کے دنوں میں کچھ چھٹے ہوئے بدمعاش کو پارٹی نے جگہ دی ہے، اس لئے یہ ایشو چرچے میں ہے۔ اس سے پہلے ضلع پریشد مظفر پور کے سابق نائب صدر و لوجپا سے انتخاب لڑ چکے شاہ عالم شبو بھی جنتا دل یو میں شامل ہو چکے ہیں۔ بتاتے چلیں کہ شاہ عالم پر قتل ، رنگ داری کے ساتھ ساتھ بی ایم پی شاسترا نگر سے اے کے 47 غائب کرنے جیسے سنگین الزام ہیں۔ گزشتہ نومبر کو بڑی شان کے ساتھ شاہ عالم کو جنتا دل یو میں شامل کروایا گیا تھا۔ اس گیٹ ٹوگیدر کے موقع پر دو لوگ شاہ عالم اور جنتا دل یو کے اہم چہرے اور ممبر پارلیمنٹ آر سی پی سنگھ بڑے ہی خوش نظر آرہے تھے۔ شاہ عالم کے چہرے پر اقتدار میں شامل ہونے کی وجہ سے فخر کا احساس جھلک رہا تھا تو ممبر پارلیمنٹ رام چندر پرساد سنہا ( آر سی پی ) کے چہرے سے لگ رہا تھا جیسے شاہ کو شامل کرواکر انہوں نے کوئی بڑا مقام حاصل کر لیا ہو۔ اس دن اپنے خطاب میں آر سی پی نے کہا تھا کہ شاہ کے شامل ہونے سے شمالی بہار میں پارٹی مضبوط ہوگی۔ ویسے آر سی پی کی ان باتوں سے جنتا دل یو کے ہی کئی لیڈر اتفاق نہیں رکھتے ہیں۔ ویسے شاہ عالم کے معاملے میں جنتا دل یو کے نمائندہ اور ممبر اسمبلی سنجے سنگھ کہتے ہیں کہ انہیں شاہ کے مجرمانہ معاملوں میں ملزم ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ اسی وجہ سے کیسریا سے راشٹریہ جنتا دل کے سابق ممبر پارلیمنٹ اور دبنگ ببلو دیو کو بھی جنتا دل یو میں شامل کروایا جا چکا ہے ۔ دیو 2005 میں راشٹریہ جنتا دل کے ممبر اسمبلی تھے۔ اس کے بعد 2010 میں وہ کانگریس سے انتخاب لڑے اور ہار گئے تھے۔ ان پر بھی کئی مجرمانہ معاملے درج ہیں۔
یہ داغ دھبے نتیش کے دامن پر حال ہی میں لگے ہیں۔ لیکن جنتا دل یو میں داغدار چہروں کی بھرمار پہلے سے ہی ہے۔ گڈ گورننس اور جرائم سے پاک بہار کی بات کرنے والے نتیش پر تنقید اس سے پہلے تب ہوئی تھی، جب انہوں نے دبنگ اجے سنگھ کی نئی نویلی دولہن کو جنتا دل یو کا ٹکٹ دیا تھا۔ سیوان ضلع کی دریندا اسمبلی سے جگ ماتو دیوی جنتا دل یو کی ممبر اسمبلی ہوا کرتی تھیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کے لڑکے کی خواہش تھی کہ وہ اس حلقے کی بھی نمائندگی کریں ۔ لیکن اجے پر تقریباً 30 کرمنل کیس ہیں، جن میں سے ایک قتل کا بھی معاملہ ہے۔ اس وقت نتیش کی صلاح پر ہی اجے نے شادی کی اور ان کی بیوی کویتا کو ٹکٹ دیا گیا۔ کہنے کو تو کویتا دروندا کی ممبر اسمبلی ہیں ،لیکن سارے کام کاج اجے ہینمٹاتے ہیں ۔ کویتا سے پہلے بھی نتیش نے کئی دبنگوں کی بیویوں کو اسمبلی تک پہنچانے کا کام کیا ہے۔ مظفرپور جیل میں راشٹریہ جنتا دل کے وزیر برج بہاری کے قتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے منا شکلا کی بیوی کو 2010 میں انہوں نے ٹکٹ دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 2000 میں بطور آزاد امیدوار منا شکلا نے نتیش کا ساتھ دیا تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ جب انہیں سزا ہوئی تو ان کی بیوی کو ٹکٹ دے دیا گیا۔ اپنے وفادار اور دبنگوں کا خیال بھی نتیش خوب رکھتے ہیں۔ اس کی کئی مثالیں ہیں۔ نومبر 2011 میں مظفرپور ضلع انتظامیہ نے بہار سرکار کو خط لکھ کر منا شکلا سمیت 15 قیدیوں کو ضلع سے 240 کلو یٹر دور بھاگل پور ضلع میں شفٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔ لیکن منا شکلا کو چھوڑ کر باقی 14 بھاگل پور بھیج دیے گئے۔یہ جانتے ہوئے کہ منا شکلا کے اوپر 17 کرمنل کیس ہیں، نتیش نے 2009 کے لوک سبھا چنائو میں راشٹریہ جنتا دل کے رگھونش پرساد سنگھ کے خلاف انتخاب میں کھڑا کیا تھا۔
دبنگوں سے نتیش کے تعلقات کی کہانی بہت پرانی رہی ہے۔ ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ نتیش نے 1989 میں باڑھ سے انتخاب جیتنے کے لئے مکاما کے مشہور مجرم دلیپ سنگھ کی مدد لی تھی۔ بعد میں 1990 میں انہوں نے جنتا دل سے دلیپ سنگھ کو ٹکٹ دے کر مکاما اسمبلی سے ممبر اسمبلی بنوایا تھا۔ کہا جاتاہے کہ مکاما کے دبنگ اور سابق ممبر پارلیمنٹ سورج بھان سے بھی ان کے رشتے اچھے رہے ہیں۔ سورج بھان تاجروں سمیت کئی سیاست دانوں کے قتل کے ملزم ہیں۔ فی الحال ، لوجپا میں ہیں۔ جنتا دل یو ممبر پارلیمنٹ للن سنگھ کے یہ قریبی بتائے جاتے ہیں۔ جانکار بتاتے ہیں کہ گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں لوجپا میں ہوتے ہوئے بھی مونگیر میں للن سنگھ کو جتوانے کے لئے ہتھیار لے کر ان کی مدد کی تھی۔دو درجن قتل کے ملزم دلار چند یادو بھی نتیش کے قریبی بتائے جاتے ہیں۔ سیوان کے دبنگ سنجے سنگھ کو 1995 میں انہوں نے جیرادئی سے سمتا پارٹی کا امیدوار بنوایا تھا۔ بہر حال نتیش کی صحبت میں پلنے والے دبنگوں کی فہرست لمبی ہے۔ 2000 کے اسمبلی انتخاب میں انہوں نے بہار کے چنے ہوئے مجرموں کو سمتا پارٹی کا امیدوار بنوایا تھا جس میں ستیش پانڈے ، ببلو دیو، سنیل پانڈے جیسے کچھ اہم نام تھے۔ دبنگوں کے جیل جانے یا مارے جانے پر نتیش ان کے خاندان کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ پورنیہ ضلع کے سمتا پارٹی کے صدر ہوا کرتے تھے دبنگ بوٹن سنگھ۔ ان کے انتقال کے بعد سب سے پہلے نتیش نے ان کی بیوی لیسی سنگھ کو اسٹیٹ ویمن کمیشن کے آئینی عہدے سے نوازا۔ لیسی فی الحال جنتا دل یو کی ممبر اسمبلی ہیں۔ موجودہ وقت میں نتیش کے مشہور دبنگ چہروں میں آننت سنگھ، منا شکلا ، رنویر یادو ، کوشل یادو ، سنیل پانڈے ، امریندر پانڈے وغیرہ ہیں۔ رنویر یادو کو لوگوں نے ان کے حق میں اور ان کی موجودگی میں کاربائن لہراتے دیکھا ہے۔ رنویر کی بیوی فی الحال کھگڑیا سے ممبر اسمبلی ہیں۔ نوادا ضلع سے کوشل یادو اور دونوں میاں بیوی جنتا دل یو کے ممبر اسمبلی ہیں۔ کوشل یادو فی الحال پولیس کی نظر میں فرار چل رہے ہیں۔ باوجود اس کے کوشل یادو نے اعتماد کے ووٹ میں حصہ لیا تھا۔ چھوٹے سرکار کے نام سے مشہور آننت سنگھ ان کے سب سے چہیتے دبنگ مانے جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ پچھلے لوک سبھا انتخاب کے دوران یہ بات اٹھی تھی کہ سورج بھان چونکہ للن سنگھ کے قریبی ہیں اور انتخاب میں ان کی مدد کر رہے ہیں تو انہیں جنتا دل یو میں لایا جائے۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ آننت سنگھ کی مخالفت کی وجہ سے ہی نتیش اس پر عمل نہیں کر سکے۔ بتاتے چلیں کہ جنتا دل یو کے 118 ممبروں میں سے 58 کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ ان 58 میں سے 48 ممبران اسمبلی ایسے ہیں جو سنگین معاملوں میں ملزم ہیں۔ 23 ممبر اسمبلی پر قتل اور 35 پر قتل کی کوشش کا معاملہ درج ہے۔ اتنا ہی نہیں جنتا دل یو کے 8 وزراء بھی ایسے ہیں جن پر مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ ان میں سے گوتم سنگھ اور شیام رزک پر تو قتل کی کوشش کا معاملہ چل رہا ہے ۔ حال کے دنوں میں تین دبنگ جنتا دل یو میں شامل ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں سابق نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کہتے ہیں کہ جنتا دل یو مجرمانہ کردار والوں کی چوپال بنتا جا رہا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے برے دورِ حکومت کے لوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ حال میں جو تین مجرمانہ کردار رکھنے والوں لوگ جنتا دل یو میں لائے گئے ہیں، اس پر کوئی بھی جنتا دل یو کے لیڈر کھل کر بولنے سے کتراتے نظر آتے ہیں۔’میں گیٹ ٹوگیدر اجلاس کے دن دہلی میں تھا‘۔’ میں اس روز پٹنہ سے باہر تھا‘،’ اس معاملے کی جانکاری مجھے نہیں ہے‘۔ عموماً اسی طرح کے بہانے جنتا دل یو لیڈروں سے سننے کو ملتے ہیں۔ جنتا دل یونمائندہ نیرج قبول کرتے ہیں کہ سیاست میں مجرموں کا آنا سنگین موضوع ہے۔ لیکن ان تینوں مجرمانہ چہرے کو کیوں شامل کیا گیا۔ اس پر کچھ بولنے سے کتراتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارٹی میں یہ لوگ شامل تو ضرور ہوئے ہیں ، لیکن ان کے ڈیٹیل ہمیں معلوم نہیں ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ جوبھی آئے ہوں، یہ قانون کے دبدبے کو متاثر نہیں کرسکتے ہیں۔ بی جے پی کے گیری راج سنگھ اس معاملے میں وزیراعلی پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب تو آر ٹی آئی کا زمانہ ہے۔ سی ایم معلوم کرلیں کہ کس پر کتنے سنگین الزام لگے ہیں اور انہیں اپنی پارٹی میں بھرتی کر یں۔ وہ کہتے ہیں کہ اقتدار پانے اور بچائے رکھنے کے لئے یہ مایوس کن قدم ہے۔ وہ یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ وہی سی ایم ہیں جنہوں نے این ڈی اے فرسٹ میں جگدیش شرما کی بیوی کو ٹکٹ نہیں دیا تھا، جیتن رام مانجھی پر ایک الزام تھا تو انہیں وزیر نہیں بنایا تھا۔ اسی وقت سے ڈرامہ کر رہے تھے۔ آج ان کا اصلی چہرہ سب کے سامنے آگیا ہے۔ لالو جی سے یہ انہیں ایشو پر لڑے تھے آج ان کے چاروں طرف دل بدلو اور داغداروں کی فوج کھڑی ہوگئی ہے۔
بہر حال، بہار میں مجرموں کا سیاست میں آنا یا سیاست کے ذریعہ مجرموں کا استعمال کیا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔طاقت کا استعمال سیاست میں لمبے وقت سے ہوتا رہا ہے۔ سماجیات کے ماہر ڈی ایم دیبا کر کہتے ہیں کہ ستپورا کانگریس میں شری کرشن سنگھ بہار سے گئے تھے۔ اس وقت انہوں نے بھی تو طاقت کا استعمال ہی کیا تھا۔ وزیر ریلوے رہتے ہوئے للت بابو نے تو ریل ہی رکوا دی تھی تاکہ عبدالغفور الیکشن نہ جیتیں۔وہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے انتخاب جیتنے کے لئے لیڈروں نے مجرموں کی مدد لینی شروع کی۔ بعد میں یہ مجرم خود انتخاب لڑنے لگے۔ سیاست میں مجرمانہ کردار رکھنے والوں کی پہلی مثال راجو ہیں۔ دیباکر کہتے ہیں کہ سیاست میں جرم کو صرف آپ پولیس سسٹم سے جوڑ کر نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے لئے عدالتی سسٹم کو بھی بیدار ہونا ہوگا۔ سماجی طاقتوں کو سامنے آنا ہوگا۔ جرائم سے پاک بہار کا تصور کرلینا،لیبر کمیٹی بنا دینا، اچھی بات کر لینا آسان ہے لیکن اسے نافذ کرنا مشکل کام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاست میں تضاد کی وجہ سے بے چینی بھی ہے۔ایسے میں سماجی طاقتوں کو آگے آنا ہوگا تبھی بات بنے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *