بہار: 2004جیسا ہو سکتا ہے بی جے پی کا انجام

بی جے پی ایک بار پھر اپنی بے پناہ عوامی مقبویت کے تعلق سے غلط فہمی کا شکار ہے اور اسے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پورے ملک میں پارٹی اور اس کے پی ایم امید وار نریندر مودی کے حق میں ہوا بہہ رہی ہے۔ اس کے کچھ بڑے رہنمائوں کو تو سونامی کی آہٹ محسوس ہو رہی ہے۔ انہیں ایسا لگ رہا ہے کہ اس سونامی میں کانگریس سمیت بی جے پی مخالف تمام طاقتوں کا صفایا ہو جائے گا او رپورے ملک میں کمل ہی کمل کھلے دکھائی دیں گے۔ حالانکہ یہ خوش فہمی یا غلط فہمی 2004 کے شائننگ انڈیا والی غلط فہمی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے اور عجب نہیں کہ اس کا انجام 2004 سے زیادہ عبرتناک ہو۔

اشرف استھانوی 
p-9کانگریس صدر سونیا گاندھی کا یہ خیال غلط نہیں ہے کہ بی جے پی کا خواب جاگتی آنکھوں کا خواب ہے۔ اس کے پاس ملک کو موجودہ مسائل سے نجات دلانے یا اسے ترقی کی راہ پر لے جانے کا کوئی پر وگرام نہیں ہے۔ اسے مرکز میں ایک بار نہیں دوبار مواقع ملے، مگر وہ قومی مسائل کے حل اور ملک کی مجموعی ترقی کا کوئی ٹھوس پروگرام نہیں پیش کر سکی۔ وہ صرف ہوائی قلعے تعمیر کرکے عوام کو اس کی تصوراتی سیر کراتی ہے، لیکن اس طرح کی خوش کن باتیں اور بڑے بڑے وعدے نہ کسی مسئلے کا حل ہیں اور نہ ہی سمجھدار ووٹر ان کے جھانسے میں آتے ہیں۔ حقیقتاً بی جے پی کا ایجنڈا ملک کے اقتدار پر قابض ہونا اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز کرکے پورے ملک میں گجرات کا تجربہ دہرانا اور سیکولر ہندستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنا ہے اور اسی ایجنڈے پر وہ کام کر رہی ہے۔ اسی لیے اسے نہ تو اپنے بڑے رہنمائوں کی پرواہ ہے او رنہ ہی اپنے حلیفوں کی۔ وہ سمجھ رہی ہے کہ نریندر مودی کو اس نے وزیر اعظم کے عہدہ کا امید وار مان لیا ہے، تو پورے ملک نے بھی مان لیا۔ اس لیے اب اس سلسلے میں مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ باقی سارے کام خود بخود انجام پاجائیں گے۔
بہار میں جہاں بی جے پی گزشتہ ساڑھے سات برسوں تک حکومت میں شامل رہ کر اقتدار کے مزے لوٹ چکی ہے، اب اس کا ایک ہی کام بچا ہے، اپنے سابق حلیف جنتا دل یو اور نتیش کمار کو ہدف تنقید بنانا، تمام مثبت باتوں کا کریڈٹ لینا اور منفی باتوں کے لیے جنتا دل یو کو ذمہ دار قرار دینا۔ پوری ریاست میں 27 اکتوبر کی پٹنہ ریلی کے دوران ہوئے بم دھماکوں کے تعلق سے عوام میں غلط باتیں پھیلا کر نفرت کا ماحول تیار کرنا اور نریندر مودی کے حق میں عوامی ہمدردی کی لہر پیدا کرنا ہے۔ اس کام میں بی جے پی کی مدد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کر رہا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بہار میں گھوم گھوم کر مسلمانوں او ردیگر سیکولر طاقتوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کا بہار میں اب ایک ہی ایشو ہے، نریندر مودی کو انڈین مجاہدین کے دہشت گردوں سے جان کا خطرہ ہے، مگر ان کے تحفظ کے تئیں نہ بہار کی نتیش حکومت سنجیدہ ہے اور نہ ہی مرکز کی منموہن سنگھ حکومت۔ نتیش حکومت نے مودی کی ہنکار ریلی کے دوران سیکورٹی کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، تو ادھر مرکز کی منموہن حکومت بھی مودی کو مطلوبہ سیکورٹی فراہم کرنے سے لگاتار انکار کر رہی ہے۔ گویا اب پورے ملک کا ایک ہی مسئلہ رہ گیا ہے، نریندر مودی کی تاجپوشی اور ان کی ہر سمت پر حفاظت۔ مودی حامی مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امید وار نہیں، بلکہ وزیر اعظم ہی مان کر چل رہے ہیں۔ پوری ریاست کا ماحول آلودہ ہو رہا ہے اور جگہ جگہ ٹکرائو کے حالات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ مگر نتیش حکومت کی مستعدی کے سبب بی جے پی اور سنگھ پریوار کو ماحول بگاڑنے اور نفرت کا کھیل کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا ہے۔ کانگریس، جنتا دل یو، راشٹریہ جنتا دل او رلوک جن شکتی پارٹی اتحاد، بایاں محاذ اور دوسری تمام چھوٹی بڑی سیکولر پارٹیاں اپنی عوامی بنیاد مضبوط کرنے اور آئندہ لوک سبھا انتخاب میں اپنے امکانات بہتر کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ کارکنوں کے اجلاس ہو رہے ہیں۔ یوتھ لیول پر کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں۔ ہر اسمبلی حلقہ میں ریلیوں او رجلسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور بالکل نچلی سطح پر جا کر ووٹروں کو پارٹی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف متحد ہونے او رملک کے سیکولر کردار کی بحالی کے لیے سیکولر طاقتوں کی حمایت کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ لیکن بی جے پی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہوائی باتیں او رخوش کن وعدے کے علاوہ نچلی سطح پر جا کر کردار کشی اور فرقہ وارانہ منافرت کی حکمت عملی اپنا رہی ہے، تاکہ مودی کے حق میں ووٹوں کا پولرائزیشن ممکن ہو سکے۔
سیکولر سیاسی پارٹیوں کا فی الحال ایک ہی مسئلہ ہے کہ وہ غیر سیکولر یا فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف متحد ہو کر کام نہیں کر پا رہی ہیں۔ آئندہ لوک سبھا انتخاب کے تعلق سے بھی فی الحال قومی یا ریاستی سطح پر بہتر او رموثر سیکولر اتحاد کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش یا تو ہونہیں رہی ہے یا اس کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں۔ بہار کی ہی بات کی جائے، تو اس ریاست میں بی جے پی کے مقابلے میں غیر بی جے پی ووٹوں کے دعویداروں میں کانگریس، جنتا دل یو، راشٹریہ جنتا دل، لوک جن شکتی پارٹی اور بایاں محاذ کی پارٹیاں شامل ہیں۔ ریاست میں حکمراں جنتا دل یو کا آر جے ڈی او رایل جے پی سے تو اتحاد ممکن ہی نہیں، کانگریس بایاں محاذ سے اتحاد کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ حالانکہ ریاست میں نتیش حکومت کی حمایت کانگریس او رلیفٹ دونوں کر رہی ہیں، مگر اتحاد کے سوال پر کوئی فریق ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کانگریس نتیش حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے بھی اب کھلے لفظوں میں نتیش حکومت اور اس کے کاموں کو ہدف تنقید بنا رہی ہے اور جنتا دل یو بھی کانگریس کے ساتھ کسی معاہدہ کی بات تو دور رہی، وہ بہار کے لیے خصوصی درجہ کے سوال پر کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت سے دو دو ہاتھ کرنے کی تیاری میں ہیں۔ نتیش نے صاف کہا ہے کہ خصوصی درجہ کی آواز مرکز کے کانوں تک پہنچانے کے لیے پہلے پٹنہ اور دہلی میں ادھیکار ریلی کی گئی تھی اور اب اسے حاصل کرنے کے لیے سنکلپ (عہد) ریلی کی جائے گی۔ نتیش کا اس معاملے میں یہ کہنا ہے کہ پہلے تو مرکز کے پاس خصوصی ریاست کے درجہ کا پرانا پیمانہ تھا، جس کو بہانہ بنا کر وہ بہار کو خصوصی درجہ دینے سے انکار کر رہے تھے، لیکن اب جب کہ راجن کمیٹی کی رپورٹ سامنے آ چکی ہے اور خصوصی ریاست کا پیمانہ بدل چکا ہے، تو اب بلا چون و چرا بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دے دینا چاہیے، ورنہ ہمارے پاس جدو جہد کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کے 12 مختلف حصوں میں جنتا دل یو کی طرف سے سنکلپ ریلی کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑی تو آخر میں ریاستی سطح پر یہ ریلی ہوگی۔ پارٹی کا اب تک کا یہی موقف ہے کہ وہ تنہا اپنے بل بوتے پر لوک سبھا انتخاب میں اترے گی۔ اس نے کانگریس ہی نہیں، بایاں محاذ سے بھی انتخابی مفاہمت سے انکار کر دیا ہے۔ نتیش کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی جے پی ہو یا کانگریس، آئندہ لوک سبھا انتخاب میں کسی بھی پارٹی کو تنہا مرکز میں اکثریت حاصل ہونے والی نہیں ہے۔ اس لیے ان دونوں پارٹیوں سے الگ ہونے والی یا ان سے دوری بنا کر چلنے والی طاقتیں انتخاب کے بعد متحد ہو سکتی ہیں، یعنی وہ اب بھی تیسرے مورچہ کے امکان یا حکومت سازی میں ان کے رول کو خارج نہیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فی الوقت تیسرے مورچہ کی کوئی بات ہیں ہے، لیکن جوحالات پیدا ہو رہے ہیں ان میں کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔
قومی سطح پر دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں، کانگریس اور بی جے پی کو تنہا اکثریت نہ ملنے کا یقین صرف نتیش کو ہی نہیں، بلکہ دوسری سیکولر پارٹیوں کے رہنمائوں کو بھی ہے اور اگر بہار سے لوک سبھا کے ایم پی او رفلم اسٹار شتروگھن سنہا کی بات کو دھیان میں رکھا جائے، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ خود بی جے پی کو بھی اس کا احساس ہے، ورنہ شتروگھن سنہا مرکز میں حکومت کی بات نہیں کرتے۔ دوسرے بڑے سیکولر رہنما، جو اس وقت مرکز کی یو پی اے حکومت میں بھی شامل ہیں، وہ بھی اگر گاہے بگاہے مودی کی شان میں قصیدے پڑھ رہے ہیں، تو اس کے پیچھے بھی یہی حکمت عملی کام کر رہی ہے کہ کیا پتہ انتخاب کے بعد کون سے حالات پیدا ہوں اور کانگریس یا بی جے پی میںسے کس کا ساتھ دینا پڑے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ دونوں کے سلسلے میں متوازن رویہ اپنایا جائے او رمستقبل کے امکانات کو بہتر بنائے رکھا جائے۔
کل ملا کر حالات یہ ہیں کہ بی جے پی او راس کا مودی نواز خیمہ ہی اس وقت سب سے زیادہ غلط فہمی کا شکار ہے اور ہوا ہوائی باتیں کرکے زمینی حقائق سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کر رہا ہے، اس لیے اس کے زمین پر اوندھے منہ گرنے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *