بالی معاہدہ ہندوستان کے تجارتی مفادات کو زیادہ پورا کرتا ہے

وسیم راشد 
p-8عالمی تجارتی ادارہ (World Trade Organization) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا پرانا نام جنرل ایگریمنٹ آن ٹیریفس اینڈ ٹریڈ (گیٹ) ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز 1995 میں ہوا۔اس کا مقصد عالمی سطح پر تجارت کو فروغ دینا، کسٹم کے نظام کو سادہ بنانا، زرعی سبسڈی اور غریب ممالک کو امداد کی فراہمی اور معاشی پابندیوں، ڈیوٹی، کوٹا، سبسڈی، ٹیریف وغیرہ کی نگرانی کرنا جیسے معاملات پر اتفاق رائے سے پہنچنا ہے۔نیز یہ ادارہ بین الاقوامی تجارت میں ممکنہ تنازع کی صورت میں عالمی ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت ڈبلیو ٹی او کے 159 باقاعدہ ارکان ہیں اور 2013 کی اس کی تجارتی کانفرنس انڈونیشیا کی ایک ریاست بالی میں منعقد ہوئی ہے جس میں ہندوستان سمیت دنیا بھر سے وزرائے تجارت شریک ہوئے ہیں۔ اس کانفرنس کو عالمی طور پر آزاد تجارت کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اگر بالی کانفرنس میں ہوئے معاہدے کو عمل میں لایا جاتا ہے تو اس سے 21 ملین نئی ملازمتوں کی راہیں کھلیں گی اور روزگار کے زیادہ تر مواقع ترقی پزیر ممالک میں پیدا ہو ں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ 960 بلین ڈالرز کی نئی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو گی۔مگر سوال یہ ہے کہ کہیں بالی معاہدہ بھی دوحہ رائونڈ کی طرح بے اثر بن کر نہ رہ جائے۔ حالانکہ بالی معاہدے کو ہندوستان سمیت تمام ممبر ملکوں نے ایک اچھا قدم کہا ہے مگر اس وقت ضرورت بیان دینے کی نہیں بلکہ عملی اقدام کی ہے۔
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ( WTO) کا دوحہ رائونڈ 2001 میں منعقد ہوا تھا۔ اس رائونڈ کا مقصد بین الاقوامی تجارت کے لئے قوانین کا عالمی فریم ورک تیار کیا جانا تھا لیکن غریب و امیر ممالک کے درمیان تحفظات کو لے کچھ ایسی شرطیں رکھی گئیں جو تنازع کا شکار ہوگئیں اور پھر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔دراصل اس رائونڈ میں یہ طے پایا تھا کہ کوئی بھی ملک غریبوں کو سستی قیمت پر اناج فراہم کرنے کے لئے کل زرعی پیداوار کے 10 فیصد تک ہی سبسڈی کرسکتا ہے۔اگر دوحہ کے فیصلوں کو عمل میں لے آیا گیا تو دیگر کئی ملکوں کے علاوہ ہندوستان کے سامنے فوڈ سیکورٹی بل پر عمل کرنا مشکل ہوجاتا۔ ہندوستان نے اس بل کے تحت غریبوں کو انتہائی کم قیمت پر اناج فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں اگر ڈبلیو ٹی او کے معاہدے کو قبول کر لیا جاتا تو ہندوستان کے لئے غریبوں کے لئے سستا اناج فراہم کرنا کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہوتا ۔یہی وجہ تھی کہ ہندوستان نے دوحہ شرط کو پورے طور پر مسترد کردیا تھا اور ہندوستان کے وزیر تجارت آنند شرما نے بالی کانفرنس میں بھی خطاب کے دوران اپنے اسی موقف کا اظہار کیا کہ ’’ بالی پیکیج میں اس معاہدے کو شامل کرنے کی وجہ سے ملک میں خوراک سستی کرنے کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہوجائے گا جسے قبول نہیں کیا جاسکتا، زراعت سے لاکھوں کسانوں کا روزگار وابستہ ہے اور ہمیں ان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، دنیا کے 4 ارب عوام کے لیے خوراک کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔ ہم نے ڈبلیو ٹی او پیکیج مسترد کردیا ہے اور یہ ہمارا حتمی فیصلہ ہے‘‘ ۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا عالمی معاہدہ ہے۔ اس معاہدہ کے تحت تجارت کے طریق کار کو سادہ بنایا گیاہے جس میں غریب ممالک کو اپنا سامان فروخت کرنے میں آسانی ہو گی۔ اس معاہدہ کے نتیجے میں غریب ممالک کے لئے اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں میں فروخت کرنے میں حائل رکاوٹیں کم ہوں گی لیکن یہ شبہ تو اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ تمام ممبر ملک اس معاہدے کو عمل میں لانے کے لئے کس حد تک سنجیدگی کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ ہندوستان ڈبلیو ٹی او کا ایک اہم ممبر ہے اور عالمی تجارت کے لئے ایک بڑی منڈی بھی۔ایسے میں اس کی رضامندی کے بغیر کانفرنس کو کامیابی تک پہنچانا ممکن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب ہندوستان بالی پیکج میں اس شرط کی مخالفت کررہا تھا تو ماہرین اقتصادیات نے یہ پیش گوئی کرنی شروع کردی تھی کہ بالی کانفرنس کا انجام بھی دوحہ جیسا ہوسکتا ہے لیکن دیگر کئی ملکوں کی طرف سے مسلسل یہ کوشش کی جارہی تھی کہ ہندوستان کو بالی پیکج پر راضی کرنے کے لئے شرطوں میں کچھ سہولت پیدا کی جائے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہندوستان کو راضی کرنے کے لئے کئی پیشکش کی گئیں مثلاً دوحہ معاہدے سے ہندوستان کو 4 سال کے لئے مستثنیٰ قرار دینے کی بات ہوئی مگر ظاہر ہے کہ ہندوستان کا فوڈ سیکورٹی بل محدود وقت کے لئے نہیں ہے۔لہٰذا ایسی صورت میں صرف 4 سال کی پیشکش ہندوستان کے اس منصوبے کو بے اثر بنا سکتی تھی۔ اسی لئے ہندوستان اس بات کے لئے راضی نہیں ہوا کہ سبسڈی کو زرعی پیداوار کے10 فیصد تک ہی محدود رکھا جائے۔ بہر کیف اس مسئلے کو کسی مثبت حل تک پہنچانے کے لئے ممبر ملک کے رہنمائوں کی ہندوستانی وزیر تجارت کے ساتھ کئی نشستیں ہوئیں اور انہیں مطمئن کرنے کی متعدد کوششیں ہوئیں۔ یہاں تک کہ سبسڈی کے اوسط کو 10 فیصد سے بڑھانے کی پیشکش ہوئی ۔اس طرح تجارتی تنظیم کی 9ویں وزراتی کانفرنس میں غذائی سلامتی کے سمجھوتے سمیت 10 دستاویزات پر مشتمل ’’بالی پیکیج‘‘ کو مکمل طور پر منظوری دے دی گئی۔
ہندوستان بالی کے کل 10 ڈرافٹ میں سے 8 پر پہلے سے ہی متفق تھا اور جن شقوںپر اسے اعتراض تھا اس میں رعایت دے کر بقیہ شقوں پر بھی اسے راضی کرلیا گیا اور اس طرح یہ معاہدہ ممکن ہو پایا۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا عالمی معاہدہ ہے۔ اس معاہدہ کے تحت تجارت کے طریق کار کو سادہ بنایا گیاہے جس میں غریب ممالک کو اپنا سامان فروخت کرنے میں آسانی ہو گی۔ اس معاہدہ کے نتیجے میں غریب ممالک کے لئے اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں میں فروخت کرنے میں حائل رکاوٹیں کم ہوں گی لیکن یہ شبہ تو اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ تمام ممبر ملک اس معاہدے کو عمل میں لانے کے لئے کس حد تک سنجیدگی کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *