انا کے ساتھیوں نے انہیں بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

سنتوش بھارتیہ 
دو ہزار تیرہ گزر گیا۔ 2013 واقعات کا سال رہا اور اس پورے سال میں بدعنوانی کو لے کر نئے نئے معاملے سامنے آئے۔ بدعنوانی کو دبانے کی کوششیں ہوئیں۔ عوام کا جوش ختم ہوا اور اس کی جڑ میں جو لوگ تھے، انہوں نے اس کو بھی اپنے حق میں استعمال کیا۔
میں سال کے واقعات کے تاریخ وار تجزیہ میں نہیں جانا چاہتا، کیوں کہ اس کا تجزیہ سارے اخبار کریں گے۔ میں صرف 2013 کی شروعات میں 30 جنوری کو پٹنہ میں ہوئی انا ہزارے کی ریلی کی طرف جانا چاہتا ہوں۔ 2011 میں انا ہزارے نے اگست میں اَنشن کیا اور وہ اَنشن کے بعد رالے گن سدھی واپس آ گئے۔ اُس اَنشن کے بعد انا ہزارے کے ساتھیوں کی کئی میٹنگیں ہوئیں اور انا کو لگا کہ ان کے ساتھیوں کا ارادہ کچھ اور ہے۔ ان کے ساتھی شروع سے الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے تھے، جس کے لیے ہماچل میں ایک سروے کرایا گیا اور جس پر انا نے ایک میٹنگ میں سوال کیا کہ سروے کی اجازت کس نے لی اور کیسے کرایا گیا۔ یہیں سے وہ لوگ سامنے آئے، جنہوں نے انا کا انتخابات میں استعمال کرنے کی حکمت عملی بنائی تھی۔ ویسے اس حکمت عملی کو سازش بھی کہا جاسکتا ہے، لیکن میں اسے سازش نہیں کہنا چاہتا۔ انا کو لگا کہ ان کے آس پاس کے سارے لوگ ان کا نظام میں تبدیلی کے لیے نہیں، بلکہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انا کا شروع سے صاف ماننا تھا، جسے وہ بار بار اپنے ساتھیوں کو سمجھاتے تھے کہ نظام میں تبدیلی لوک سبھا سے ہوتی ہے، کیوں کہ لوک سبھا قانون بناتی ہے، لوک سبھا اقتصادی پالیسی طے کرتی ہے، لوک سبھا بیرونی ممالک سے رشتوں کا تعین کرتی ہے اور لوک سبھا ہی جل (پانی)، جنگل، زمین پر کس کا کنٹرول ہوتا ہے، اس کا فیصلہ کرتی ہے۔ اتنا ہی نہیں، لوک سبھا میں بغیر اکثریت حاصل کیے گاؤں کو اختیارات نہیں دلائے جاسکتے یا گاؤں کو پوری طرح خود مختار نہیں بنایا جاسکتا۔ جب انا کو لگا کہ یہ لوگ ان کی بات نہیں مانیں گے، تو وہ رالے گن سدھی آکر خاموش بیٹھ گئے۔ 2012 میں ایک میٹنگ ہوئی، جس میٹنگ میں انا کی خواہش کے خلاف ایک سیاسی پارٹی بنانے کا فیصلہ ہوا۔ سیاسی پارٹی بنانے والوں نے اس میں انا پر الزام لگایا کہ انا نے ان سے کہا تھا کہ سیاسی پارٹی بناؤ اور بعد میں انہوں نے اس سے انکار کردیا، جب کہ حقیقت یہ تھی کہ اس ساری بات چیت میں انا خاموش بیٹھے رہے۔ لوگ اپنی اپنی دلیل دیتے رہے اور انا ان کے چہروں کو دیکھتے رہے اور سوچتے رہے کہ کیا انہیں کے لیے میں نے اپنی جان کی بازی لگائی تھی؟ کیا انہیں کی قیادت ابھارنے کے لیے میں نے رام لیلا میدان میں عوام کے اعتماد کا وسیع منظر دکھایا تھا؟ میٹنگ کے بعد سب سوچ رہے تھے کہ انا آکر پارٹی کا اعلان کریں گے، لیکن انا نے وہی کہا جس کے لیے وہ گزشتہ 45 برسوں سے لڑ رہے تھے، میں نہ کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہوؤں گا اور نہ ہی جو لوگ سیاسی پارٹی بناتے ہیں، وہ میرے نام کا استعمال کریں گے اور نہ ہی میرے فوٹو کا استعمال کریں گے۔ اتنا کہہ کر انا وہاں سے نکل آئے۔ اب انا پر الزام تراشی کا دور شروع ہوگیا۔ کہا گیا کہ انا جائیں گے کہاں؟ انا تین مہینے کے بعد ہمارے ساتھ شامل ہوں گے اور یہ کہنے والوں میں پارٹی کے سب سے طاقتور تینوں چاروں لیڈر، جو اَب تک انا کے پیروں کے پاس بیٹھے دکھائی دیتے تھے، لیکن ان کے من میں شاید انا کے پیر کھینچنے کی دبی ہوئی خواہش تھی۔ انا پھر رالے گن سدھی آ گئے اور من ہی من میں سوچنے لگے کہ ان سے کہاں غلطی ہوئی۔
جو لوگ اب تک کے سلسلہ وار واقعہ میں نہیں ابھر پائے تھے، لیکن جن کی خواہش اسی طرح آسمان پر چمکنے کی تھی، جس طرح انا کو دھوکہ دینے والے چمکے، ان لوگوں نے انا پر دباؤ بنایا کہ وہ ایک کور کمیٹی بنائیں۔ انا کور کمیٹی کے نام پر خاصے پریشان تھے، اس لیے انہوں نے بہت دباؤ میں ایک پریس کانفرنس کی اور کہا کہ میں ایک صلاح کار کمیٹی بناتا ہوں اور ملک کے لوگوں سے مشورہ کرکے پھر کوئی کور کمیٹی بناؤں گا۔ لیکن ان لوگوں نے میڈیا میں لیک کیا کہ یہ انا کی کور کمیٹی ہے۔ انا پھر اس سے غم زدہ ہوئے اور انہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ بجائے کور کمیٹی یا کسی رسمی ڈھانچے کے جال میں پھنسے آپ لوگ پٹنہ میں ریلی کی تیاری کریں۔ دراصل، انا رام لیلا میدان کے بعد ہی پورے ملک میں گھومنا چاہتے تھے۔ ان کے سابق ساتھیوں نے بیان میں کہا بھی کہ انا گھومنا چاہتے تھے، لیکن انا کو گھومنے سے ان کے اس وقت کے سب سے قریبی لوگوں نے روکا اور کہا کہ انا آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی، آپ مت گھومئے۔ انا آج بھی اپنی اس چوک کے لیے من میں پچھتا رہے ہیں۔ ان کی اس خواہش کا کہ 30 جنوری، 2013 کو باپو کی شہادت کے دن پٹنہ کے گاندھی میدان میں ایک بڑی ریلی کی جائے، انا کے پرانے ساتھیوں نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا اور انا کے لگاتار دباؤ ڈالنے پر وہ پٹنہ گئے اور ان لوگوں سے کہہ دیا کہ ریلی نہیں ہو سکتی۔ انا پھر فکرمند ہو گئے۔
ان کے پاس دو لوگ دسمبر کے پہلے ہفتہ میں پہنچتے ہیں، جن سے بات چیت میں انا یہ خواہش ظاہر کرتے ہیں کہ وہ چاہتے تھے کہ ریلی ہو، لیکن ان کے اس وقت کے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ ریلی نہیں ہو سکتی۔ انا کی خواہش کا ان دو لوگوں نے جواب دیا کہ انا آپ اکیلے اس ملک کی اخلاقی علامت ہیں۔ آپ اگر چاہیں گے تو ریلی ہوگی، کیوں کہ ریلی آپ کے نام پر ہوگی، کسی کے چاہنے یا نہ چاہنے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ انا نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ریلی ہو۔ 16 دسمبر سے اس ریلی کی شروعات ہوئی۔ اس ریلی کی تیاری میں بہت رکاوٹیں آئیں، لیکن لب و لباب یہ کہ ریلی ہوئی۔ بہت شاندار ریلی ہوئی اور اس ریلی میں تقریباً پونے دو لاکھ لوگ آئے۔ سب کی نگاہیں اس ریلی کے اوپر تھیں۔ اس ریلی کا تجزیہ سب نے الگ الگ طریقے سے کیا۔
اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو اور اپوزیشن میں بیٹھی سیاسی پارٹیوں کو لگا کہ آخر اتنے لوگ آ کہاں سے گئے۔ وہ اس ادھیڑ بن میں لگ گئے اور جو انا کے پرانے ساتھی تھے، جنہوں نے پارٹی بنا لی تھی، جن کا یہ بیان تھا کہ انا دو تین مہینے میں ان کے ساتھ آئیں گے، انہیں لگا کہ انا چل کیسے پڑے؟ بنا ان کے مدد کیے انا کے پیروں میں جان کہاں سے آ گئی؟ یہیں سے انا کو بھٹکانے کا، بھرمانے کا، انا پر الزام لگانے کا دور شروع ہوا۔ 30 جنوری کی ریلی کے بعد فروری کے پہلے ہفتہ میں انا نے فیصلہ کیا کہ وہ ملک میں گھومیں گے۔ اس کا مذاق اڑا۔ انا نے 30 مارچ، 2013 کو امرتسر کے جلیاں والا باغ سے اپنی ملک گیر یاترا شروع کی۔ اس یاترا میں انا کا ساتھ چھوڑ گئے لوگوں کے ذریعے بنائی گئی پارٹی کے لوگوں نے ہر جگہ رکاوٹ ڈالی۔ بینر لے کر آگے بیٹھ جاتے تھے کہ ہم انا کی میٹنگ کر رہے ہیں اور ہر جگہ کوشش کرتے تھے کہ ایک بھی آدمی اس ریلی میں نہ آئے۔ دو طرح سے انا کی پیٹھ پر یہ وار تھا۔ لوگوں میں بھرم پھیلانا کہ وہ انا کی ریلی کر رہے ہیں اور دوسری طرف اس ریلی کو ناکام کرنے کی بھرپور کوشش کرنا۔ اس لیے پنجاب کا دورہ ختم ہوتے ہوتے انا نے صاف کر دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مخصوص پارٹی کے لوگ ان کی ریلی میں کہیں پر بھی نہ آئیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ راستے دو ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود انا کی مخالفت کانگریس اور بی جے پی نے کرنے کی ہمت نہیں کی، لیکن ان لوگوں نے گستاخی کی، جن لوگوں نے انا کے ساتھ بیٹھ کر انا سے طاقت لی تھی۔
انا کا دورہ ختم ہوا۔ انا کی طبیعت بھی تھوڑی خراب ہوئی۔ انا کے آپریشن ہوئے۔ یہ سب 2013 میں ہوا اور آخرکار انا کا جب دورے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا، تو انا نے اعلان کیا کہ میں سرمائی اجلاس کے پہلے دن رام لیلا میدان میں بھوک ہڑتال شروع کروں گا اگر لوک پال بل پاس نہیں ہوتا۔ انا کے اس اعلان نے ملک کے لوگوں کو چونکایا اور وہیں اس اعلان کا فائدہ دہلی میں الیکشن میں اٹھایا گیا۔ یہ کہا گیا کہ دہلی میں الیکشن جیتنے کے بعد رام لیلا میدان میں جن لوک پال بل پاس کیا جائے گا۔ دہلی اسمبلی دراصل ایک بڑا کارپوریشن ہے۔ دہلی سرکار کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔ دہلی سرکار کے پاس جو طاقت ہے، وہ طاقت یہ ہے کہ ایمانداری سے کام کریں، تو لوگوں سہولیات مل سکتی ہیں، لیکن اگر بے ایمانی کریں، تو بدعنوانی سے کچھ سو ہزار کروڑ روپے کھانے پینے کی طاقت ہے۔ اس کے علاوہ اسمبلی کے پاس کوئی بھی اختیار نہیں ہے۔ ان کے پاس نہ پولس ہے، نہ مالی اختیارات ہیں، نہ قانون بنانے کی صلاحیت ہے۔ دہلی اسمبلی کی حالت یہ ہے کہ ان کے پاس کیے بل کو اگر لیفٹیننٹ گورنر ردّ کر دیں، تو اسمبلی کچھ نہیں کر سکتی۔ لیکن دہلی میں ایسے وعدے کیے گئے، گویا ملک کی پارلیمنٹ جیتنے کے وعدے ہو رہے ہیں۔ لوگوں نے بھروسہ کیا، کیوں کہ لوگوں کو لگا کہ انا کے ساتھ رہنے والے لوگ ان کے ساتھ کبھی فریب نہیں کریں گے، کبھی دھوکہ نہیں دیں گے۔ لیکن میڈیا کے نئے ابھرتے ہوئے حصے، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور سروے رپورٹس، ان دونوں کا جم کر ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا اور دہلی کے عوام جان بوجھ کر بھرم میں پڑ گئے۔ انہیں لگا کہ بولنے والے صحیح بول رہے ہیں اور انہوں نے انہیں ووٹ دیا۔ ایک کرشمہ ہوا۔ ایک نئی سیاسی پارٹی 28 سیٹیں جیت گئی۔ کانگریس ہار گئی اور یہاں پر تجزیہ کا فرق سمجھ میں آیا۔ جس طرح انا کے اَنشن کے وقت پورا ملک کھڑا ہوا، تو انا کے اس وقت کے ساتھیوں نے پرچار کیا کہ ان کی تنظیمی صلاحیت کے سبب لوگ کھڑے ہوئے، جب کہ لوگ کھڑے ہوئے تھے انا ہزارے میں اعتماد کے سبب اور مہنگائی، بدعنوانی، بھوک، بیماری سے پیدا ہوئے غصے کا حل انا کے اَنشن سے پیدا ہوئی طاقت میں تلاش کرنا چاہتے تھے اور اس بار دہلی اسمبلی میں لوگوں کا غصہ کانگریس کے خلاف تھا، بی جے پی کے خلاف تھا۔ لوگوں کی حمایت کسی پارٹی کو نہیں تھی۔ لوگوں نے پارٹی کو اپنے غصے کا ہتھیار بنایا، لیکن یہاں بھی وہی چوک ہوئی۔ انہوں نے سمجھا کہ لوگوں نے ان کو حمایت دی ہے۔
کچھ سالوں تک سیاست میں رہنے کے بعد اکثر دماغ خراب ہوتے ہیں اور اپنی خواہش کو لوگوں کی خواہش بتانا شروع کرتے ہیں۔ لیکن یہاں تو ایک دوسرا کمال بھی ہوا کہ جو زبان، جو غرور سالوں اقتدار میں رہنے کے بعد ہوتا ہے، وہ یہاں اقتدار میں آنے سے پہلے دکھائی دینے لگا۔ ایسا لگا، گویا ایک نئی سیاسی پارٹی کا عروج ہوا ہے، جس کا جمہوری زبان، جمہوری قدروں میں اعتماد کم اور مجرمانہ زبان کے استعمال میں زیادہ بھروسہ ہے۔ انا ہزارے کے نام کے پوسٹر، انا ہزارے نام کے بینر زور شور سے استعمال ہوئے اور یہ کہا گیا، پوری طرح سے یقین دلایا گیا کہ یہ انا ہزارے کے اصولوں والی پارٹی ہے۔ عوام میں انا کے اعتماد کا پیغام اور میڈیا میں انا کو خارج کرنے کا پیغام بھروسے کے ساتھ پھیلایا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انا ہزارے اپنی آنکھوں سے اپنی حکمت عملی کو برباد ہوتے ہوئے خاموشی کے ساتھ دیکھتے رہے۔
انا ہزارے نے ایک خط لکھا، جس کا سیاسی استعمال کرنے کے لیے دہلی میں ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ وہ پریس کانفرنس الٹی پڑ گئی۔ اس کے بعد اس پریس کانفرنس میں الزام لگائے گئے کہ انا ہزارے کو بہکا کر اور سو کروڑ روپے خرچ کرکے خط لکھوایا گیا۔ یہاں سے اس چہرے کا مکھوٹا ہٹنا شروع ہوا، جو انا ہزارے پر بھروسہ کرنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ یہاں سے انا ہزارے پر بوڑھا ہونے کا، انا ہزارے پر غیر مستحکم ہونے کا، انا ہزارے پر دباؤ میں آنے کا، انا ہزار کو علم نہ ہونے کا الزام انہی کے ساتھیوں کے ذریعے لگایا جانے لگا اور انا یہ سب خاموش ہو کر دیکھتے رہے۔ دہلی اسمبلی کے لیے ووٹنگ سے پہلے انا نے ایک اور خط لکھا۔ جس طرح پہلا خط انا نے میڈیا کو لیک نہیں کیا، اسی طرح دوسرا بھی میڈیا کو لیک نہیں کیا۔ لیکن چونکہ پہلا خط میڈیا کو لیک کرکے ایک سیاسی پارٹی کے لوگ دھوکہ کھا چکے تھے، اس لیے انہوں نے اس خط کو لیک نہیں کیا کہ انا نے انہیں اور اور خط لکھا ہے۔ وہ اس خط کو پی گئے، کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ یہ خط لیک کریں گے، تو شاید ایک دن کے بعد ہونے والی ووٹنگ میں انہیں بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس سے انا کی گاندھی وادی تصویر اور دوسری طرف جن کو انہوں نے خط لکھا تھا، ان کی سیاسی تصویر سامنے آتی ہے۔
انا نے پھر اَنشن کیا اور انا کے انشن اور انا کے اثر اور عظمت کو ختم کرنے کی سازش انہی کے پرانے ساتھیوں نے پھر رچی۔ جم کر انا پر وار ہوئے اور انا کو ایک نئی چنوتی میں ڈالنے کی مہم شروع ہوئی اور یہ نئی چنوتی تھی کہ جس جن لوک پال کے نام پر ڈرافٹ سرکار کو دیا گیا تھا دو سال پہلے، وہی جن لوک پال پاس ہو۔ انا پر اتنا دباؤ بنانا کہ بنا کاما، فل اسٹاپ کی تبدیلی کیے انا اسے تسلیم کریں، بجائے یہ بھروسہ کرنے کے کہ انا جو کریں گے، ٹھیک کریں گے، نئی حکمت عملی بنائی جانے لگی کہ انا کا چہرہ ملک کے سامنے بی جے پی یا کانگریس حامی بنا دو۔ انا کی ساکھ ختم کردو۔ جس سازش کو بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس نہیں کر پائی، اس سازش کو پورا کرنے کی سپاری اس نئی سیاسی پارٹی نے لی، کیوں کہ اس سیاسی پارٹی کے لیڈر انا کی طاقت اور انا کی کمزوری سے بخوبی واقف تھے۔ انا مایوس آنکھوں سے اپنے پرانے ساتھیوں کی چال بازیوں کو دیکھتے رہے اور ان کے منصوبوں کو بھانپتے رہے۔ انا کے منھ سے ایک بار یہ نکلا کہ کہیں اس بیان میں دَم تو نہیں کہ 2011 کے اَنشن کے وقت مجھے کسی جال میں ڈالنے کی کوشش تھی؟
انا کی زندگی میں پہلی بار سیاسی حملوں اور جوابی حملوں کا سامنے اپنے ہی ساتھیوں سے کرنا پڑا۔ سال 2013 انا ہزارے کے کھڑے ہونے سے پہلے اپنے ساتھیوں کی اندیکھی اور بے عزتی کو جھٹک کر ملک کے سامنے ایک نیا راستہ رکھنے کا سال مانا جا سکتا ہے۔ انا جنوری میں پونے دو لاکھ لوگوں کی بھیڑ کے سامنے نظام میں تبدیلی کا پیغام دینے کے بعد ملک بھر میں گھومے۔ چھ ریاستوں میں 700 سے زیادہ جلسے جلوس کیے، 28 ہزار کلومیٹر سے زیادہ انہوں نے سفر کیا۔ بعد میں جن لوک پال پر اَنشن کیا اور ملک کو نئی پارلیمنٹ چنے جانے کے بارے میں آگاہ کیا۔ انا نے پہلی بار عوامی امیدواروں کی بات کی۔ انہوں نے سیاسی پارٹیوں کو خط لکھا اور یہ کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو عوام کے اعتماد پر کھرا اترنا ہوگا۔ انا نے رائے رکھی کہ کس طرح ملک میں ایسے ممبرانِ پارلیمنٹ آئیں، جو عوام سے جڑے سوالوں پر، رائٹ ٹو رجیکٹ، رائٹ ٹو ریکال، گرام سبھا کو مکمل اختیار، گاؤں پر مبنی اقتصادی پالیسی، بازار پر مبنی اقتصادی پالیسی کو پوری طرح سے بدلنے کے لیے پارلیمنٹ میں آواز اٹھا سکیں۔ اس طرح سال 2013 انا کا اعتماد بھرا سال رہا۔
میں یہاں صرف انا ہزارے کی بات اس لیے کر رہا ہوں، کیوں کہ 120 کروڑ لوگوں میں صرف انا ہزارے ہیں، جو ملک کے لوگوں کے اعتماد کا نہ صرف محور ہیں، بلکہ جن پر ملک کے لوگ، چاہے وہ نوکری میں ہوں، کھیتی میں ہوں، بے روزگار ہوں، محروم ہوں، پورا بھروسہ کرتے ہیں۔ اس لیے 2013 کا سال انا کے کھڑے ہونے کا، مکر و فریب کے جھٹکے جھیلنے کا، اپنے ہی ساتھیوں سے بے عزت ہونے اور اس سے باہر نکلنے کا سال مانا جا سکتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *