انا ہزارے پھر لڑیں گے جن لوک پال کی لڑائی

سنتوش بھارتیہ
Mastایسا لگتا ہے کہ ملک پھر دو سال پہلے کے واقعات کا گواہ بننے والا ہے۔ 2011 کے اگست میں جب رام لیلا میدان میں انا ہزارے نے غیر میعادی اَنشن شروع کیا تھا، تب ان کی حمایت میں پورا ملک کھڑا ہو گیا تھا۔ سرکار نے اَنشن کے لیے جگہ دینے سے منع کر دیا تھا اور انا ہزارے کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ ملک بھر میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے دہلی میں تہاڑ جیل کو گھیر لیا۔ اس کے بعد سرکار کو انا ہزارے کو بلا شرط جیل سے رہا کرنا پڑا۔ انا کے جیل سے چھوٹنے کی بھی ایک کہانی ہے۔ مجسٹریٹ نے انا ہزارے سے کہا کہ آپ ضمانت دے دیں، تو میں آپ کو رہا کر دوں گا۔ انا ہزارے نے کہا کہ میں کس بات کی ضمانت دوں۔ مجھے امن میں خلل ڈالنے کے الزام میں آپ نے گرفتار کیا ہے، تو آپ مجھے سزا دیں، میں جیل جاؤں گا۔ مجسٹریٹ نے سزا دے دی اور انا جیل چلے گئے۔ انا تھکے ہوئے تھے، جیل میں چادر بچھا کر لیٹ گئے۔ کچھ دیر بعد جیل کے افسر آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ کو سرکار نے بلا شرط رہا کر دیا ہے۔ انا نے کہا کہ مجھے سزا ہوئی ہے، ابھی تو میں جیل آیا ہی ہوں اور فوراً کیسے رہائی کا حکم آ گیا۔ یہ سرکار ہے یا بنیا کی دکان۔ انا نے جیل سے نکلنے سے منع کر دیا۔ افسر چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد جیل کے افسر پھر سے لوٹ کر آئے اور کہا کہ آپ سے ہمارے آئی جی ملنا چاہتے ہیں۔ انا آئی جی سے ملنے گئے، تو آئی جی نے کہا کہ اب آپ آزاد ہیں۔ انا نے کہا میں قیدی ہوں، تو میں آزاد کیسے ہوں۔ آئی جی نے کہا کہ ہم نے آپ کو چھوڑ دیا ہے، آپ جائیں۔ انا نے کہا کہ لیکن میں تو نہیں جاؤں گا۔ اس پر آئی جی نے کہا کہ اب آپ جیل سے باہر آ گئے ہیں، اس لیے جیل نہیں جا سکتے۔ جواب میں انا نے کہا کہ اگر میں جیل کے اندر نہیں جاسکتا، تو میں یہیں آپ کے دفتر میں ہی دھرنا دوں گا۔ انا وہیں آئی جی کے دفتر میں تین دن دھرنے پر بیٹھے رہے۔ تین دن کے بعد جب انا باہر نکلے، تو باہر اتنا بڑا عوامی سیلاب جمع تھا، گویا پوری دہلی سڑک پر اتر آئی ہے۔ رام لیلا میدان سے لے کر تہاڑ جیل تک آدمی ہی آدمی تھے۔
رام لیلا میدان میں انا کا انشن چلا، لوک سبھا بیٹھی اور رات کے بارہ بجے کے بعد پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے ایک تجویز پاس کی، جس میں سرکار نے جن لوک پال بل پاس کرنے کے لیے حامی بھری۔ اسے انگریزی میں ’سینس آف ہاؤس‘ کہا گیا۔ انا کے پاس آنجہانی ولاس راؤ دیش مکھ وزیر اعظم کا خط لے کر گئے۔ خط میں وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے آپ کی صحت کی فکر ہے اور آپ کو ملک میں بہت کام کرنا ہے۔ اب پارلیمنٹ نے تجویز پاس کر دی ہے، تو آپ انشن ختم کر دیں۔ انا نے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے پاس کی گئی تجویز کا احترام کرتے ہوئے اپنا انشن توڑ دیا۔

انا کا کہنا ہے کہ فرقہ واریت اور بدعنوانی میں فرقہ واریت زیادہ خطرناک ہے، کیوں کہ اگر ملک ہی نہیں رہے گا، تو بدعنوانی سے لڑیں گے کیسے؟ اور فرقہ واریت اس ملک کو توڑ سکتی ہے، یہ انا کا تجزیہ ہے۔ دوسری بات، جس بات پر انا زور دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ گاؤں کو بنیادی اکائی ماننا چاہتے ہیں، جیوڈیشیل سسٹم میں تبدیلی چاہتے ہیں، ایجوکیشن سسٹم میں تبدیلی چاہتے ہیں، اسکول و کالج کو وہ بے روزگاروں کی فیکٹری نہیں بنانا چاہتے۔ انا گاؤں پر مبنی، روزگار پر مبنی اقتصادیات کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے اس ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے صدور کو خط لکھا ہے۔ انا نے اپنے خط میں یہ کہا ہے کہ جو ہوا سو ہوا، اب ہمیں کم از کم اس ملک کے لوگوں کو دھیان میں رکھ کر اقتصادی پالیسیاں بنانی چاہئیں۔

انشن توڑنے کے بعد انا فوراً پورے ملک میں گھومنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا بھی تھا کہ میں پورے ملک میں لوگوں کے پاس جانا چاہتا ہوں، لیکن اس وقت کے ان کے ساتھیوں نے ملک میں گھومنے کی انا کی خواہش کا احترام نہیں کیا اور انا خاموشی کے ساتھ رالے گن سدھی چلے آئے۔ اس کے بعد کی کہانی ایک خواب کے ٹوٹنے کی کہانی ہے۔ انا کے ساتھیوں نے سیاسی پارٹی بنائی۔ انا سال بھر تک رالے گاؤں میں غور وفکر کرتے ہوئے بیٹھے رہے اور 2013 کی تیس جنوری کو انہوں نے پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہنکار بھری۔ اس ریلی میں تقریباً پونے دو لاکھ لوگ تھے اور وہاں انا نے ایک نئی تنظیم کا اعلان کیا، جس کا نام تھا ’جن تنتر مورچہ‘۔ انا 31 مارچ سے پورے ملک میں گھومے۔ شروعات انہوں نے جلیاں والا باغ سے کی۔ شہیدوں کی مٹی اپنی پیشانی سے لگائی اور 28 ہزار کلومیٹر کی یاترا کی، جس میں انہوں نے ہر جگہ عوام سے نظام میں تبدیلی، لوک سبھا میں اچھے امیدوار، گاؤوں کو مکمل اختیار، موجودہ اقتصادی پالیسی کی جگہ زراعت پر مبنی اور گاؤں پر مبنی اقتصادی پالیسی نافذ کرنا، تاکہ بے روزگاری کا مکمل طور پر خاتمہ ہو سکے، سب کو تعلیم مل سکے، سب کو طبی سہولیات حاصل ہو سکیں، ہر جگہ انا نے یہی سوال اٹھائے۔ ہر جگہ انا نے یہ بھی کہا کہ جن لوک پال کے مسئلے پر، جس کا بدعنوانی سے لڑنے والے ہتھیار کے روپ میں عوام کو ایک موقع مل سکتا تھا، اسے پارلیمنٹ نے وعدہ کرکے بھی پورا نہیں کیا۔ اور پارلیمنٹ جب انا کہتے تھے، تو ان کا مطلب کانگریس سے بھی ہوتا تھا، بھارتیہ جنتا پارٹی سے بھی ہوتا تھا اور پارلیمنٹ میں بیٹھی ہر سیاسی پارٹی سے اس کا رشتہ جڑتا تھا۔
اس کے بعد انا کی طبیعت خراب ہوئی اور ڈاکٹروں نے انہیں گھومنے سے منع کیا۔ ان کا ایک بڑا آپریشن ہوا۔ انا کے دماغ میں اس دوران لگاتار منتھن چلتا رہا اور اس منتھن کی شروعات آپریشن کے فوراً بعد ہوئی، جب وہ آئی سی یو سے نکل کر باہر آئے۔
انا یہ سوچ رہے تھے کہ سرکار جن لوک پال نہیں لا رہی ہے، اپوزیشن اسے لانے کے لیے دباؤ نہیں ڈال رہا ہے، عوام بے یار و مددگار ہیں، کیوں کہ عوام کو جگانے کا کام کوئی کر نہیں رہا ہے۔ ہر آدمی اقتدار میں جانے کا راستہ تلاش کر رہا ہے اور شاید انا اپنے پرانے ساتھیوں سے، جنہوں نے انہیں چھوڑ کر سیاسی پارٹی بنا لی تھی، بہت ہی زیادہ غم زدہ تھے۔ اور اچانک ایک رات انا نے فیصلہ کیا کہ مجھے سرمائی اجلاس شروع ہونے کے پانچ دن کے بعد دوبارہ غیر میعادی اَنشن پر بیٹھنا ہوگا۔ اس کے پیچھے ایک ہی وجہ تھی کہ 28 ہزار کلومیٹر کی یاترا میں ہر جگہ انا نے یہ کہا تھا کہ جن لوک پال لائے بغیر میں مروں گا نہیں، لیکن جن لوک پال کے لیے عوام کو لڑنے کے لیے میں آمادہ بھی کرتا رہوں گا اور اس لڑائی کا پہلا سپاہی بھی میں ہی بنوں گا۔ اگر شہید بھی ہونا ہے، تو پہلا شہید میں ہوؤں گا۔ بنارس میں جب انا کی یاترا پہنچی، تو وہاں کے پریس کلب کی دعوت پر انا نے پہلا اعلان کیا کہ سرمائی اجلاس کے پہلے دن میں رام لیلا میدان میں بیٹھ جاؤں گا۔
سرمائی اجلاس کی تاریخ کا اعلان ہو گیا، لیکن ڈاکٹروں نے انا کو دہلی جانے کی اجازت نہیں دی۔ اور تب انا نے ایک ایسا فیصلہ لیا، جس فیصلہ کی توقع نہ سیاسی پارٹیوں کو تھی، نہ ملک کے عوام کو تھی، نہ انا کے ساتھ رہنے والے لوگوں کو تھی۔ انا نے وزیر اعظم کو ایک خط لکھا اور اس خط میں یہ کہا کہ میں دس دسمبر سے رالے گاؤں سدھی، یعنی ان کے اپنے گاؤں میں قابل احترام یادو بابا کا مندر ہے، وہاں مندر پر میں غیر میعادی اَنشن شروع کروں گا۔ اور انشن میں خود احتسابی کے لیے کروں گا۔ خود احتسابی سے انا کی مراد اس جھوٹ کا کفارہ ادا کرنا ہے، جو جھوٹ پارلیمنٹ نے اس ملک کے لوگوں سے بولا ہے۔ خود احتسابی سے انا کی مراد ان وعدوں سے ہے، جنہیں سرکار نام کے ادارہ نے اس ملک سے کیا ہے۔
انا کے غیر میعادی انشن کے اعلان کے ساتھ ہی ملک میں ہلچل شروع ہو گئی۔ یہ ہلچل اس ملک کی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ عام عوام میں شروع ہوئی۔
طلبہ، نوجوان صرف انا کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ الٰہ آباد یونیورسٹی میں طالب علموں کی ایک کانفرنس 20 نومبر کو ہونے والی تھی۔ اپنی پوری کوشش کے بعد بھی انا اس میں نہیں جا پائے، کیو ںکہ انا کی طبیعت دیکھ کر ڈاکٹروں نے سختی کے ساتھ انہیں وہاں جانے سے منع کر دیا۔کیا یہ ملک روزگار، تعلیم، صحت کے ساتھ جل (پانی)، جنگل، زمین، گرام سبھا کو اختیار، ان سارے سوالوں پر ایک بار پھر کھڑا ہوگا؟ اس سوال کو لے کر سیاسی پارٹیوں میں بے چینی اس لیے ہے، کیوں کہ آج کی 90 فیصد سیاسی پارٹیاں موجودہ اقتصادی پالیسیوں کی حامی ہیں اور دو بڑی پارٹی، کانگریس اور بی جے پی اور دو بڑے لیڈر، نریندر مودی اور راہل گاندھی انہیں اقتصادی پالیسیوں کے پروردہ ہیں۔ نریندر مودی کا کہنا ہے کہ کانگریس نے اقتصادی اصلاحات یا بازار پر مبنی اقتصادیات کو ٹھیک سے نافذ نہیں کیا، وہ اسے ٹھیک سے نافد کریں گے۔ انا کے پرانے ساتھی، جو انا کا نام لے کر دہلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں اور جو انا سے بھی جھوٹ بول رہے ہیں، عوام سے بھی جھوٹ بول رہے ہیں، وہ بھی انہی اقتصادی پالیسیوں کے حامی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری، کسانوں کی زمین، گاؤں کو طاقت نہ دینا، سماج کے غریب طبقوں کو، محروم طبقوں کو زندگی کی جدو جہد میں مواقع فراہم کرنا ان کی ترجیح نہیں ہے اور یہیں انا اپنی ساری بات چیت میں ایک نیا پہلو جوڑ رہے ہیں۔
انا کا کہنا ہے کہ فرقہ واریت اور بدعنوانی میں فرقہ واریت زیادہ خطرناک ہے، کیوں کہ اگر ملک ہی نہیں رہے گا، تو بدعنوانی سے لڑیں گے کیسے؟ اور فرقہ واریت اس ملک کو توڑ سکتی ہے، یہ انا کا تجزیہ ہے۔ دوسری بات، جس بات پر انا زور دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ گاؤں کو بنیادی اکائی ماننا چاہتے ہیں، جیوڈیشیل سسٹم میں تبدیلی چاہتے ہیں، ایجوکیشن سسٹم میں تبدیلی چاہتے ہیں، اسکول و کالج کو وہ بے روزگاروں کی فیکٹری نہیں بنانا چاہتے۔ انا گاؤں پر مبنی، روزگار پر مبنی اقتصادیات کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے اس ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے صدور کو خط لکھا ہے۔ انا نے اپنے خط میں یہ کہا ہے کہ جو ہوا سو ہوا، اب ہمیں کم از کم اس ملک کے لوگوں کو دھیان میں رکھ کر اقتصادی پالیسیاں بنانی چاہئیں۔
یہ سارے سوال رام لیلا میدان میں نہیں تھے۔ رام لیلا میدان میں جن لوک پال تھا، جس جن لوک پال کو لے کر انا کو بھی دھوکہ ملا اور ملک کو بھی دھوکہ ملا۔ اس کے بعد انا نے سیاسی پارٹیوں کے وجود پر ایک سوال کھڑا کیا اور یہ کہا کہ اس ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں غیر آئینی ہیں۔ آئین میں کہیں پر سیاسی پارٹیوں کا ذکر نہیں ہے۔ لوک سبھا میں پارٹیوں کے نمائندے غیر آئینی طریقے سے جا رہے ہیں۔ انا کو اس بات پر حیرانی ہے کہ اتنے سال گزر گئے، نہ سپریم کورٹ نے اس پر دھیان دیا اور نہ کسی لیڈر نے اس پر سوال اٹھایا۔ یہ ملک انگریزوں کی غلامی سے چھوٹا اور بغیر کوئی کوشش کیے ہوئے پارٹیوں نے اس ملک کو اپنا غلام بنا لیا۔ اس ملک کے لوگ پانچ سال میں ایک بار ووٹ دیتے ہیں اور اس کے بعد پانچ سال سیاسی پارٹیوں کا، سرکار کا یا اپوزیشن کا چہرہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
انا نے سیاسی پارٹیوں کو لکھے خط میں ایک اور خاص بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ پارلیمنٹ میں پارٹیوں کے نمائندے نہیں جانے چاہئیں، لیکن چونکہ 65 سال سے یہی رسم چلتی چلی آئی ہے، یعنی سنہ 1952 سے جب سے انتخابات ہوئے ہیں، پارٹیوں کے نمائندے ہی جا رہے ہیں، اس لیے ہم اس کے عادی ہو گئے ہیں اور ہم یہ بھروسہ ہی نہیں کر سکتے کہ عوام کے نمائندے ہی آئین کے مطابق پارلیمنٹ میں جاکر کچھ کر پائیں گے۔ اور اٹپٹے سوال، کیسے وزیر اعظم کا انتخاب ہوگا، کیسے سرکار بنے گی اور یہ سوال وہ اٹھاتے ہیں، جو اپنے ملک میں قدیم زمانے میں جمہوریت کے کام کرنے کے طریقے سے واقف نہیں ہیں۔ انا نے اپنے خط میں لکھا کہ میں سیاسی پارٹیوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ کم از کم وعدہ تو کریں کہ وہ گاؤوں کو اختیارات دیں گے، وہ روزگار پیدا کرنے کے لیے نئی اقتصادی پالیسی کا وعدہ کریں گے۔ موجودہ اقتصادیات جس نے بیکاری، غریبی بڑھائی، جس نے لوگوں کے ہاتھ سے ترقی چھین لی اور جس اقتصادیات نے ترقی کو غریبوں کی پہنچ سے باہر کر دیا، اس اقتصادیات کے خلاف ایک نئی اقتصادیات کا وعدہ سیاسی پارٹیاں کریں۔ لوگ انا سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ لوک سبھا انتخابات میں کسے ووٹ دیں؟ انا نے اس خط میں سب سے کہا ہے کہ آپ اگر اپنی پالیسیاں ہمیں صاف صاف بتائیں گے، تو میں عوام کو یہ بتاؤں گا کہ انہیں اس الیکشن میں کسے ووٹ دینا چاہیے۔
یہ وہ ایشو ہے، جو ایشو ملک میں ایک ایسی لوک سبھا کے الیکشن کی طرف اشارہ کر رہا ہے، جہاں پر تیسرا متبادل دھندلا ہی سہی، لیکن نظر آنے لگا ہے۔ انا جی ایک ایسے شخص کے روپ میں ابھرے ہیں، جن پر ملک کا، ہر طبقے کا آدمی بھروسہ کر رہا ہے۔ انا جب نکلتے ہیں، تو لوگ انہیں دیکھنا چاہتے ہیں اور جہاں سے وہ جاتے ہیں، ان کے پیروں کی دھول ویسے ہی چھوتے ہیں، جیسے گاندھی جی کے زمانے میں لوگ گاندھی جی کی چھوتے تھے۔ انا میں بہت سارے لوگ گاندھی جی کی شبیہ دیکھتے ہیں۔ انا کے سوال بھی گاندھی جی کے سوال ہیں۔ گاندھی جی نے انگریزوں سے سوال کیے تھے، گاندھی جی نے آزاد ہندوستان کی سرکار سے سوال کیے تھے۔ انا بھی وہی سوال آج کی سیاسی پارٹیوں سے کر رہے ہیں اور عوام سے کر رہے ہیں۔
ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے انا ہزارے 10 دسمبر سے اپنے گاؤں رالے گن سدھی میں غیر میعادی اَنشن کرنے جا رہے ہیں۔ ملک بھر سے انا کے پاس فون، ای میل کی لائن لگی ہوئی ہے۔ ہر آدمی انا کا ساتھ دینا چاہتا ہے۔ چنوتی ان کے لیے ہے، جو انا کو دور سے دیکھتے تھے اور پچھلی تحریکوں میں انا کا ساتھ نہیں دے پائے تھے۔ اس بار انا جذباتی تحریک نہیں کر رہے ہیں، جذباتی بھوک ہڑتال نہیں کر رہے ہیں۔ اس بار انا تبدیلی کے لیے، نظام میں تبدیلی کے لیے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں، جس کا پہلا نکتہ جن لوک پال ہے۔ جن لوک پال قانون بننے سے ملک کی بدعنوانی میں پچاس سے ساٹھ فیصد کی کمی آئے گی، ایسا انا کا یقین ہے۔
انا اس ساری تبدیلی کی کمان طالب علموں اور نوجوانوں کو دینا چاہتے ہیں، عورتوں کو دینا چاہتے ہیں۔ انا ملک میں ایک نئی، پر عزم، اعتماد سے بھری ہوئی طاقت کی مہم چلانا چاہتے ہیں اور 10 دسمبر سے ہونے والا انا کا اَنشن کن سیاسی پارٹیوں کے لیے چیلنج ثابت ہو تا ہے، کن سیاسی پارٹیوں کو سبق سکھاتا ہے اور انا کے اَنشن کے نتیجہ میں کیسا زہر نکلتا ہے اور کیسا امرت نکلتا ہے، یہ مستقبل کی گرد میں ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ مستقبل کی گرد مستقبل جیسی لمبی نہیں ہے۔ یہ امرت کی تلاش دسمبر، جنوری، فروری میں اس ملک کو ایک نئے مستقبل کے دروازے پر لا کر کھڑا کر دے گا۔ یہ ملک خوش قسمت ہے کہ اس ملک میں انا ہزارے ہیں، یہاں طلبہ اور نوجوان ہیں، اس ملک میں عورتیں ہیں، کسان ہیں، اس ملک میں غریب ہیں اور یہ سب کسی سیاسی پارٹی کے زر خرید غلام نہیں ہیں۔ یہ سب جب کھڑے ہوں گے، تو یہ ملک بدلے گا۔ 10 دسمبر ایک نئی شروعات کا انوکھا دن بننے جا رہا ہے۔

 

ہائی لائٹر
انا کا کہنا ہے کہ فرقہ واریت اور بدعنوانی میں فرقہ واریت زیادہ خطرناک ہے، کیوں کہ اگر ملک ہی نہیں رہے گا، تو بدعنوانی سے لڑیں گے کیسے؟ اور فرقہ واریت اس ملک کو توڑ سکتی ہے، یہ انا کا تجزیہ ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *