ایک بالغ جمہوریت

میگھناد دیسائی 
p-10bامریکہ کے پہلے چھ صدور کا تعلق دو ریاستوں، میسا چوسیٹس اور ورجینیا سے تھا۔ چھٹے صدر دوسرے صدر کے صاحبزادے تھے۔ اختلافات تھے، لیکن سب نے تہذیبی ضابطوں کی پیروی کی۔ ساتویں صدر، انڈریو جیکسن کا تعلق مغرب کے سرحدی علاقہ سے تھا۔ وہ ایک گنوار تھے، انہیں نہ تو شائستگی سے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی انہوں نے کبھی تہذیبی ضابطوں پر عمل کیا۔ وہ اور ان کے پیروکار ملک کے لیے جمہوریت کی ایک نئی لہر تھے۔ انہوں نے پرانے شرفاء سے تعلق رکھنے والے آخری صدر، جان کوئنسی ایڈمس کو ہرایا تھا۔ ایک جمہوری ملک کے طور پر امریکہ بالغ ہوا تھا اور تبھی سے اس نے ہنگامہ خیز سیاست کے نئے طور طریقوں کو جاری رکھا۔
ہندوستان میں اب تک 13 وزرائے اعظم بن چکے ہیں، جن میں سے 8 کا تعلق اتر پردیش سے تھا، تین کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، دو جنوبی ہند سے تھے، دو پنجاب سے اور ایک گجرات سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک کے علاوہ باقی سبھی وزرائے اعظم کانگریس کے ممبر رہ چکے تھے۔ کچھ ڈائیورسٹی تو ہے، لیکن ڈھانچہ ابھی تک ٹوٹا نہیں ہے۔ کانگریس ہندوستانی جمہوریت میں پوری طرح گھُس چکی ہے، اس حد تک کہ پارٹی یا اس کے لیڈروں کی تنقید کرنا (کانگریس کے زیادہ تر ممبران کے لیے) گستاخانہ فعل ہے۔ اس کے باوجود، 1989 میں اقتدار پر سے اس کی اجارہ داری ختم ہوگئی۔ 1969 سے کانگریس ایک سرکردہ فیملی کی ذاتی جاگیر بن گئی۔ 1969 میں ٹکڑے ہونے کے بعد اس کا سب سے صحیح نام اندرا کانگریس پڑ گیا۔ اسی لیے قیادت کو تنقید کا نشانہ بنائے بغیر پارٹی کی تنقید کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سیاست نہیں لگتی، بلکہ ذاتی دشمنی لگتی ہے۔
موجودہ الیکشن پرانے ڈھانچہ کو چیلنج کرنے کی شروعات ہے اور امید ہے کہ اب یہ ڈھانچہ ٹوٹے گا۔ نریندر مودی اٹل بہاری واجپئی کے مقابلے کہیں زیادہ باہر کے آدمی ہیں۔ ان کی ریلیوں میں جن لوگوں کا مجمع ہوتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کانگریس کی ریلیوں میں آنے والے لوگوں کے مقابلے مہذب گروپ سے باہر کے لوگ ہیں اور شور مچانے والے لوگ ہیں۔ وہ بذاتِ خود طاقتور ہیں، لیکن پرانی چیزوں کو کریدنے والے مقرر ہیں۔ بولنے کا یہ طریقہ تمام علاقوں میں کافی مقبول ہے۔ رام منوہر لوہیا جب بھی محسوس کرتے تھے، نہرو کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتے تھے۔ ہندی بیلٹ میں لالو پرساد یادو جیسے ان کے پیروکار ایسے ہی لہجہ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ لہجہ ان لوگوں کو کافی پسند آتا ہے، جو پڑھنے کے عادی نہیں ہیں، لیکن سیاست کو سمجھنے کے لیے ایسی ریلیوں میں بڑی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ لیڈرکو سن کر مزے لینے کا تجربہ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مودی ایک ایسے لیڈر ہیں، جو ان سے براہِ راست بات کرتے ہیں، اسی لیے مودی اثر ڈالنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔ کانگریس کو مودی کی یہ ادا پسند نہیں آتی اور وہ اسے ضابطوں کی خلاف ورزی کہتی ہے۔
ان لوگوں کو برطانیہ آنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ یہاں سیاست دانوں کو ہر وقت کتنی ذلت اور تحقیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’دی گارجین‘ کے ذہین کارٹونسٹ، اسٹیو بیل، کیمرون کو ہر دن کنڈوم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ جان میجر کو ان کے پائجامہ سے باہر انڈر ویئر میں پیش کرکے ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ نیل کیناک کو مولی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ امریکہ میں ٹی پارٹی کے سپورٹرس براک اوبامہ کی ہر وقت بے عزتی کرتے ہیں اور ان کی امریکی شہریت پر شک کرتے ہیں۔
حد سے زیادہ احترام جمہوریت کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔ ہندوستان کو اور بھی جوشیلے کلچر کی ضرورت ہے، جہاں پر عوام کے ذریعے لیڈروں کی پرانے راجا کے طور پر عزت نہ کرکے ان کی ہمیشہ تنقید کی جائے۔ جمہوریتیں جب نوجوان ہوتی ہیں، تو لیڈروں کو والدین کے طور پر دیکھنا صحیح ہوتا ہے۔ لیکن اس کے کچھ دنوں بعد ہی انہیں ووٹروں کی سطح پر آ جانا چاہیے اور خوشامدی ہونے کے بجائے ان کی خدمت کرنی چاہیے۔
سب سے خطرناک دلیل یہ ہے کہ کانگریس قیادت پر کوئی بھی تنقید ایک سیکولر، متحمل جمہوریت کے طور پر ہندوستان کے بنیادی خیال پر حملہ کرنا ہے۔ ہندوستان کا یہ خیال اندرا کانگریس کی اجارہ داری نہیں ہے، بلکہ اس کے بیج تحریک آزادی کے برسوں اور ان ابتدائی دنوں میں بوئے گئے تھے، جب کانگریس ایک شمولیتی تنظیم تھی۔ آئین ساز اسمبلی مختلف سیاسی خیالات رکھنے والے لوگوں کی ایک تاریخی جماعت تھی۔ آزاد ہندوستان کی پہلی کابینہ میں غیر کانگریسی ممبران بھی اتنے ہی تھے، جتنے کہ کانگریسی ممبران، جس میں کانگریس مخالف امبیڈکر بھی شامل تھے اور جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی بھی۔ اس وقت ضرورت تھی صلاحیت کی، نہ کہ پارٹی سے وفاداری کی۔ انہوں نے متحدہ ہندوستان کا نظریہ پیش کیا تھا اور اس کا تعلق ہندوستان سے ہے، کسی ایک پارٹی سے نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *