راہل گاندھی سے کانگریس مایوس ہے

روبی ارون 

ہندوستانی سیاست میں راہل گاندھی کی ناکامی سے ابھی تک تو کانگریس کے لیڈر ہی مایوس تھے، لیکن اب ان کی ماں سونیا گاندھی بھی ان سے مایوس ہو چکی ہیں۔ اپنی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے سونیا گاندھی پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے پرچار میں سرگرمی کے ساتھ شامل نہیں ہو سکیں۔ راہل گاندھی کی مسلسل سیاسی ناکامی سے بھی وہ کافی تشویش میں مبتلا ہیں۔ راہل گاندھی کے مستقبل کے تعلق سے سونیا گاندھی کے ماتھے کی شکنیں بڑھ گئی ہیں۔

p-5دہلی اور جودھپور کے راہل کے انتخابی جلسوں میں جس طرح لوگ اٹھ کر جانے لگے اور روکنے سے بھی نہیں رکے، یہ بات کانگریس کی صدر اور راہل گاندھی کی ماں سونیا گاندھی کو بری طرح ستا رہی ہے۔ دس جن پتھ سے گہرا تعلق رکھنے والے ایک کانگریسی لیڈر نے بتایا کہ گزشتہ دنوں آنجہانی راجیو گاندھی کے ایک قریبی دوست سونیا گاندھی سے ملنے پہنچے، تو سونیا گاندھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں۔ سونیا گاندھی نے بڑے جذباتی انداز میں ان سے کہا کہ تمامتر کوششوں کے باوجود راہل کو کلک نہیں کرا پارہی ہیں۔ وہ سمجھ نہیں پار ہی ہیں کہ ان سے ایک ماں اور ایک لیڈر کے طور پر ایسی کون سی چوک ہو گئی؟ کیا راہل گاندھی کو صحیح طریقے سے پروجیکٹ کرنے میں کانگریس پارٹی سے کوئی بنیادی بھول تو نہیں ہو گئی؟ یہ بھی خبر ہے کہ سونیا نے راہل کو ہمیشہ گھیر کر رکھنے والی منڈلی کے تعلق سے بھی ناخوشی کا اظہار کیا۔ سونیا گاندھی نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر پانچوں اسمبلیوں کے نتیجے کانگریس اور سونیا گاندھی کی امیدوں کے مطابق نہیں آئے، تو شاید پارٹی میں بہت کچھ بدلنا پڑے۔ چاہے وہ پھر کانگریس پارٹی کی کمان ہو یا پھر راہل گاندھی کی مبینہ صلاح کار منڈلی۔ سونیا گاندھی اب اس بات کو شدت سے محسوس کرنے لگی ہیں کہ کانگریس پارٹی کا بنے رہنا اور بچے رہنا زیادہ ضروری ہے، بجائے اس کے کہ اس کی کمان ان کے بیٹے راہل گاندھی کے ہاتھوں میں رہے۔ سونیا گاندھی اس لیے بھی تناؤ میں ہیںکہ اب کانگریسی لیڈر سونیا گاندھی کے پاس، راہل گاندھی کی ناکام قیادت کی شکایتیں لے کر پہنچنے لگے ہیں۔ ان لیڈروں کو پارٹی اور اپنے مستقبل کی فکر ستانے لگی ہے۔ سونیا گاندھی کے پاس کانگریس کے وزراء بھی یہ فریاد لے کر پہنچنے لگے ہیں کہ چونکہ راہل گاندھی، ملک بھر میںچلنے والی مودی کی ہوا کا مقابلہ نہیں کر پا رہے ہیں، اس لیے اب صحیح موقع آگیا ہے کہ پرینکا گاندھی کو سرگرم سیاست میں اتارا جائے۔ سونیا گاندھی کے ایک قریبی کانگریسی بتاتے ہیں کہ حالانکہ سونیا گاندھی ایسے سوالوں اور باتوں کو سننا پسند نہیں کرتیں، لیکن وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے، انھوں نے فریادی وزیر کو یہ بات سمجھائی کہ پرینکا گاندھی کو سیاست میں لانے کا ابھی صحیح وقت نہیں آیا ہے، پرینکا کو سیاست میں لانے کا مطلب ہے کہ رابرٹ واڈرا کے لیے سیاست کے سبھی راستے کھول دینا اور ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ چونکہ رابرٹ واڈرا پر کئی گھوٹالوں کے الزام ہیں، جنھیں اپوزیشن پارٹیاں مدعا بنا کر وقتاً فوقتاً کانگریس پر حملہ کرتی رہی ہیں، اس لیے ابھی کے منظر نامہ میں پرینکا کا سیاست میں آنا، کانگریس کے لیے اور بھی مصیبت کا سبب بن سکتا ہے۔ ویسے راہل گاندھی کوبھی اپنی ماں کے دلی جذبات کا احساس ہے۔ انھیںبھی لگنے لگا ہے کہ ان کے مشیروں کی ٹولی زمینی سطح پر کام نہیں کر رہی ہے اور انھیں سبز باغ دکھا رہی ہے، اس لیے راہل گاندھی بھی اپنے مشیروں سے ناراض ہیں۔ وہ اپنے مشیروں اور کانگریس پارٹی کے پالیسی سازلیڈروں کو باری باری سے طلب کر رہے ہیں۔ دراصل راہل گاندھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ان کی ریلیوں میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی طرح بھیڑ جمع کیوں نہیں ہوتی اور جو لوگ جمع ہوتے ہیں، وہ ا ن کی تقریر پر زوردار تالیاں کیوں نہیں بجاتے یا پھر ہوا میں ہاتھ لہرا کر کانگریس کی بلند آواز میں تائید کیوں نہیں کرتے۔ اس لیے راہل نے کانگریس کے سبھی انچارج کو سخت تاکید کر دی ہے کہ اگر وہ ان کے جلسوں میں بھاری بھیڑ نہیں لا سکتے، تو پھر وہ جلسے نہ کروائیں۔لیکن راہل گاندھی کے مشیروں اور کانگریس پارٹی کے پالیسی سازوں کی پریشانی الگ ہے۔ ان کی شکایت یہ ہے کہ راہل گاندھی پارٹی کے نائب صدر بننے کے بعد بھی آج تک پارٹی کے روایتی سپہ سالار کے کردار میں نہیں اترسکے۔ قومی سطح کے لیڈر ہونے کے باوجود راہل گاندھی لوگوں کے سامنے قومی مدعوں پربات نہیں کرتے۔ اپنی تقریر میں وہ جو باتیں کرتے ہیں اور جن الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، ان کو وہ صحیح طریقے سے بیان نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً وہ بولنا کچھ چاہتے ہیں اور بول کچھ جاتے ہیں۔
راہل گاندھی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج 2014 میں ہونے والے عام انتخابات ہیں، جن میں راہل کی ٹکر نریندر مودی سے ہونے والی ہے۔ نریندر مودی کو مخالف حالات کو اپنے حق میں کرنے اور تمام تلخ تنقیدوں سے بھی سیاسی فائدہ اٹھانے میں مہارت حاصل ہے۔ یہ وہ شخص ہیں، جنھوں نے 2002 میں گجرات میں ہوئے مسلم مخالف فسادات کے داغ کو ایک تمغے میں بدل کر اپنے سینے پرلگا لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوسری طرف مودی نے کارپوریٹ جگت کی سب سے بڑی ہستیوں کے ساتھ دوستی کر کے اور ایک اسٹیج پر کھڑے ہو کر ہندوستان کے اعلیٰ متوسط طبقے کے درمیان اپنی شبیہ ترقی پسند بنا ڈالی۔ انھوں نے ہندوستان کے نوجوان طبقے میں انٹر نیٹ، سوشل میڈیا، گوگل ہینگ آؤٹ جیسی ٹکنالوجی کے جدید وسائل سے اپنے آپ کو نوجوانوں کے نمائندے کے طور پر قائم کر لیا، لیکن راہل ان میں سے قاعدے میں کچھ بھی نہیں کر پائے۔ راہل کو سیاست میں نو سال سے زیادہ ہو گئے، لیکن آج تک نہ تو وہ اپنی کوئی ٹیم بنا پائے اور نہ ہی اپنی کوئی ایسی پالیسی یا پروگرام ہی پیش کر پائے، جس سے ملک اور ان کی اپنی پار ٹی میں کوئی جوش پیدا ہوسکے۔ راہل گاندھی کے کہنے اور کرنے میں بڑا فرق رہا۔ وہ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ ملک کے عام آدمی کی حصہ داری سیاست میں بڑھنی چاہیے، لیکن خود راہل کی ٹیم میں ہی ایک میناکشی نٹراجن کو چھوڑ کر باقی سبھی نسل پرستی کی سیاست کر رہے لیڈروں کے بیٹے ہیں۔ چاہے وہ معصوم نور ہوں، جیوتی مردھا ہوں، میلند دیوڑا، سچن پائلٹ، جتن جتندر پرساد، آر پی این سنگھ، کنشک سنگھ یا جیوترا دتیہ سندھیا ہوں۔ اتنا ہی نہیں، یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کے زیادہ تر نیشنل اور ریجنل عہدیدار بھی کسی نہ کسی سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا راہل گاندھی نئے اور نوجوان ووٹروں کو اپنی اور پارٹی کی طرف متوجہ نہیں کر پائے۔ ملک کے نوجوانوں کو اپنے پالے میں کرنے کے لیے وہ جب بھی منھ کھولتے ہیں، تو پارٹی کے لیے کوئی نہ کوئی مصیبت لے آتے ہیں۔ کبھی پنجاب کے 70 فیصد نوجوانوں کو نشیڑی قرار دے دیا، تو کبھی اتر پردیش کے نوجوانوں کو بھکاری کہہ دیا۔ بنگلہ دیش کی جنگ کے مسئلے پر اوٹ پٹانگ بیان دے کر پارٹی کی کرکری کرادی۔
دراصل راہل گاندھی اپنے خیالات کو پُر اثر انداز میں نہیں رکھ پاتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں تک ان کی باتیں نہیں پہنچ پاتیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کے پاس نئے خیالات نہیں ہیں، لیکن وہ انھیں سامنے ہی نہیں رکھتے۔ قومی سطح کے لیڈر ہونے کے باوجود، وہ قومی ایشو پر اپنی باتیں نہیں کہہ پاتے۔ کچھ دنوں پہلے راہل گاندھی کی قائدانہ صلاحیت پر ’دی ایکونومسٹ‘ میگزین نے سنگین سوال کھڑے کیے تھے۔ میگزین نے کہا تھا کہ راہل گاندھی میں قیادت کی صفات نہیں دکھائی دیتیں۔ وہ اپنے مزاج سے شرمیلے ہیں اور میڈیا سے رابطہ نہیں رکھتے۔ راہل کو 2014 کے الیکشن کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ راہل گاندھی کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک ایک لیڈر کے طور پر نہ تو اپنی اہلیت دکھائی ہے اور نہ ہی بڑی ذمہ داری کے لیے ان کے اندر کوئی چاہ دکھائی دی ہے۔ وہ شرمیلے ہیں۔ میگزین کے مطابق راہل گاندھی پارلیمنٹ میں بھی اپنی آواز بلند نہیں کرنا چاہتے اور یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ وہ کتنے قابل ہیں یا پھر اقتدار اور ذمہ داری ملنے کے بعد وہ آخر کیا کریں گے۔
ایسی بات نہیں ہے کہ راہل گاندھی محنت نہیں کرتے۔ وہ بہت محنت کرتے ہیں، لیکن اس کی صحیح سمت تعین نہیں کرتے۔ اس لیے نتائج بھی متاثر کن نہیں ہوتے۔ راہل گاندھی کے حوالے پوری کانگریس پارٹی ہے۔ ان کے پاس تمامتر وسائل ہیں، ہیلی کاپٹر اور جہاز ہیں، لیکن کانگریس کو مضبوط کرنے میں ان کی کوئی پہل رنگ نہیں لائی ہے۔ ایسے حالات میں ان کی سیاسی سوجھ بوجھ پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اتر پردیش کے الیکشن کے وقت انھوں نے پارٹی کے اسمبلی الیکشن کے ٹکٹوں کا ایک بہت بڑا حصہ بینی پرساد ورما جیسے لیڈر کے حوالے کردیا۔ بینی پرساد ورما نے جتنے لوگوں کو ٹکٹ دیا تھا، وہ سبھی ہار گئے، جبکہ ان سے کم وسائل سے کام کر رہے سماجوادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو نے اپنی پارٹی کو اکثریت دلادی۔ اس سے پہلے راہل گاندھی نے بہار میں بھی اپنی پارٹی کی حالت بہتر کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ناکام رہے۔ یہ سبھی باتیں راہل کی قائدانہ صلاحیت پر بڑا سوال کھڑا کرتی ہیں اور نا امید کرتی ہیں۔
ایسے حالات میںیہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ راہل گاندھی کا مستقبل موجودہ پارلیمانی سیاست پر اٹھتے سوالوں سے کٹہرے میں کھڑا ہو چکاہے۔ راہل گاندھی نے کوشش تو کی، مگر وہ خود کو گاندھی خاندان کی اس سیاست میں نہیں ڈھال پائے، جس کی لیک تو موتی لعل نہرو نے کھینچی اور اس پر جواہر لعل نہرو سے لے کر اندرا گاندھی اور راجیوگاندھی تک چلے۔ سونیا گاندھی نے 1991 سے 1998 تک اس سیاست کو نہیں سمجھا، تو 2004 سے 2013 تک راہل گاندھی بھی اسے سمجھ پانے میں ناکام ہی ثابت ہوئے۔ راہل گاندھی کی یہ ناکامی ہندوستانی سیاست میں کانگریس کے وجود کے لیے بے حد مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *