ان نوجوان طلبا کے لئے کون سوچے گا؟

نیرج سنگھ 

ملک کی غلامی کے دور میں ہوئیں آزادی کی تحریکوں میں اور اس کے بعد ہوئی تبدیلیوں میں طلبا نے بے حد اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس سے پہلے ملک میں دو بڑی انقلابی تحریکیں ہوئیں، ایک جے پرکاش نارائن کی قیادت میں اور دوسری وی پی سنگھ کی قیادت میں ۔ یہ دونوں تحریکیں ایسے وقت میں ہوئیں، جب ملک کی سیاست میں بدعنوان طاقتیںسر اٹھا رہی تھیں اور سیاسی ٹہرائو کو توڑنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ دونوں تحریکوں میں یوتھ پاور نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ آج پھر وہی وقت ہے جب ہندوستانی سیاست اور سماج میں جمود آگیا ہے، ملک بدعنوان طاقتوں کی گرفت میں ہے اور سنگین بحران سے دوچار ہے۔ایسے میں پھر سے ایک بڑی اور انقلابی تحریک کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور اس کی رہنمائی کر رہے ہیں سماجی کارکن انا ہزارے، جنھوں نے گزشتہ دو سالوں میں دہلی حکومت کو ہلا کر رکھا دیا۔ انا کی اس تبدیلی کے لئے پختہ عہد کو دیکھتے ہوئے آج کا نوجوان نہ صرف ان کے ساتھ کھڑا ہے، بلکہ بدعنوانی سے پاک ، شفاف نظام والے ہندوستان کا خواب بھی دیکھ رہا ہے۔

Mastسماجی کارکن انا ہزارے نے بدعنوانی کے خلاف لڑائی کی اپنی مہم میں نوجوانوں کے جوش اور جذبے کو مضبوطی دیتے ہوئے کئی بار یہ کہا ہے کہ نوجوان طاقت ہی قومی طاقت ہے، لیکن سیاسی جماعتوں نے اپنے مفاد کے لئے انہیں اپنے حق میں اس طرح کر لیا کہ طلبا کی سیاست اور ان کے مدعے انہیں پارٹیوں کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ طلبا خود کو جتنی جلدی اس بدنظمی سے باہر نکالیں گے اور سیاست میں پھیلی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائیں گے،اتنی ہی جلدی صحیح معنوں میں ملک آزاد ہو پائے گا۔
انا ہزارے کے اس خیال سے پورے ملک کے نوجوان متفق ہیں اور اس کو لے کر کوئی سوال نہیں اٹھ رہا ہے۔ وہ اس بات سے بھی متفق ہیں کہ بدعنوانی اور خاص کر سیاست میں پھیلی بدعنوانی ہی دوسری تمام مشکلوں کا ذریعہ بن رہی ہے۔ لیکن قابل غور ہے کہ یہ خیال گزشتہ کئی دہائیوں تک صرف تقریروں تک محدود تھا اور اس سے لڑنے کے لئے کوئی آگے نہیں آ رہا تھا۔ طلبا نے جب بھی بدعنوانی سے لڑنے کے لئے آگے آنا چاہا تو طلبا یونین میں بیٹھی سیاسی جماعتوں کے ایجنٹوں نے انہیں قیادت ہی نہیں دی، بلکہ روڑے اٹکائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انا ہزارے نے بدعنوانی سے پاک ہندوستان کے لئے ملک گیر مہم کا آغاز کیا تو طلبا کو ایک متبادل ملا اور اب طلبا انا ہزارے کو اپنے قائد کی شکل میںکچھ کر کے بدعنوانی کے خلاف لڑنے کے لئے متحد ہو رہے ہیں۔سیاسی اور عملی طور پر ملک کی سب سے اہم ریاست اتر پردیش سے اس کی شروعات ہو چکی ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ پوری ریاست کے طلبا بطور ایک تنظیم ’’چھاتر، یووا سنگھرش مورچہ‘‘ کی شکل میں انا ہزارے کے ساتھ ان کی حمایت میں بدعنوانی سے پاک ہندوستان کا خاکہ تیار کرتے ہوئے ایک نئی تحریک کی تیاری کر رہے ہیں۔
تاریخ کے اوراق کو پلٹیں تو ملک کی سیاست کے مزاج میں ڈھل چکے نظام کو بدلنے کے لئے طلبا نے طویل جدوجہد کی ہے، لیکن موجودہ دور کی جو مشکلیں ہیں، یہ کوئی ایک دو دن کی نہیں، بلکہ دہائیوں کی ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اب آخر طلبا ایک مورچہ کے طور پر متحرک کیوں ہو رہے ہیں؟ انا ہزارے کی خیالات میں ہی سے انہیں کیا امید کی کوئی روشنی نظر آ رہی ہے؟ اور اس کی شروعات اتر پردیش سے ہی کیوں ہو رہی ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے اور اسے واضح کرنے کے لئے ہندوستانی سیاست میں 50-60کی دہائی سے لے کر اب تک طلبا کی سیاست کے اندر ہونے والی تبدیلی کو سمجھنا ہوگا۔ طلبا کی سیاست میں آنے والی تبدیلی دراصل ہندوستانی سیاست میں آنے والی تبدیلی کے ساتھ ہی چل رہی تھی۔آزادی کے پہلے اور آزادی کے بعد کے کچھ دہائیوں کی جو سیاست تھی، وہ آزادی کی لڑائی کے بعد سے پیدا ہوئے انقلابی جذبہ سے ، خاص کر قومی تعمیر کے لئے ہوئی جدوجہد کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ جب ملک اس بے ہوشی سے نکل کر باہر آیا تو کانگریس پارٹی کے سامنے کوئی اپوزیشن نہیں تھی۔ ایسی صورت میں ملک بھر میں طلبا کی سیاست ایک اہم اپوزیشن کی شکل میں ابھری۔ اس وقت کانگریس کا ایک طرح سے پورے ملک میں دبدبا تھا۔ اس کے خلاف ملک میں جو پہلا چیلنج ابھرنا شروع ہوا، وہ طلبا نے ہی پیش کیا۔ اس وقت بھی طلبا کی آواز کو دبانے کے کئی واقعات سامنے آئے، جیسے پٹنہ یونیورسٹی میں50کی دہائی میں طلبا پر گولی باری کا سانحہ ہوا۔ اس طرح طلبا تبدیلی کی سیاست ایک اہم آواز بن رہی تھی۔ 60-70کی دہائی میں یوروپ کے اندر طلبا کی تحریک ہوئی، خاص کر فرانس میں۔ ادھر ہندوستان میں بھی زبردست طلبا کی تحریک چل رہی تھی، خواہ وہ شمالی ہند میں انگریزی ہٹانے کو لے کر تحریک ہو یا پھر 74آتے آتے جے پرکاش نارائن کی قیادت میں ہوئی تحریک ہو، جب جمہوریت کو بچانے کے لئے بدعنوان نظام کے خلاف جدوجہد کا آغاز ہوا۔ اس طرح سے اگر اس ملک میں کسی نے جمہوریت کی جڑوں کو گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا تو صحیح معنوں میں وہ طلبا ہی تھے۔
بنارس ہندو یونیورسٹی کے سابق جنرل سکریٹری اور ’’چھاتر یووا سنگھ مورچہ‘‘ کے کنوینر امیش سنگھ کے مطابق، حقیقت میں ملک کی سیاست اور اس سے پیدا ہوئیں مشکلوں میں تبدیلی لانے کے لئے طلبا کے کردار صحیح شکل میں 1970کی دہائی میں ہی سامنے آیا۔ طلبا نے تبدیلی کے لئے قائدانہ کردار ادا کیا اور کانگریس کے تسلط کو ختم کر کے کثیر پارٹی جمہوریت بنانے میں اہم تعاون دیا۔
لیکن اسی دہائی میں طلبا کی سیاست میں جرائم نے جگہ لی اور ذات پرستی کی سیاست طلبا کی سیاست میں دخل دینے لگی۔ کانگریس پارٹی کی اسٹوڈنٹ یونٹ باہر آئی تو کانگریس پارٹی کے سامنے کوئی اپوزیشن نہیں تھی۔ ایسی صورت میں ملک بھر میں طلبا کی سیاست ایک اہم اپوزیشن کی شکل میں ابھری۔اس وقت کانگریس کی یو آئی نے یہ شروع کیا اور پھر اس کے جواب میں سماجوادی طلبا کی سیاست بھی اسی جانب مڑ گئی۔ یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ یہ تمام وجوہات تو آج بھی موجود ہیں تو کیا یہ سمجھا جائے کہ 2013میں جس طلبا ء کی تحریک کی شروعات ہو رہی ہے، وہ پارٹی بندی کی سیاست سے اوپر اٹھ گئی ہے۔ الہ آباد یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونین کے صدر اور اس تحریک میں اہم کردار ادا کر رہے دنیش سنگھ یادو اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ حقیقت میں طلبا تنظیمیں اس بات کا اعتراف کر رہی ہیں کہ پارٹی کی سیاست نے انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ حال ہی کے دنوں کی مثال لیں تو ملک میں اس وقت انتخابی ماحول ہے، لیکن کوئی بھی پارٹی طلباکے مفادات کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کر رہی ہے۔ ہمارا ملک 2020تک نوجوانوں کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ہو جائے گا، لیکن اس نوجوان ملک کے تمغہ کو لے کر ہم کیا کریں گے، جب ابھی 26کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں۔ الہ آباد یونیورسٹی کے ہی سینئر اسٹوڈنٹ لیڈر راجیش سنگھ جو کہ گزشتہ ایک دہائی سے طلبا مفادات کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، کا ماننا ہے کہ ریاست کا طالب علم بھی یہ سمجھ گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے انہیں صرف دھوکہ دیا ہے، ان کا استعمال کیا اور انا ہزارے جی بر سر اقتدار پارٹیوں اور دیگر پارٹیوں کے خلاف ہیں، اس لئے ہم انا جی کی قیادت میں آئندہ لوک سبھا انتخابات کے مدنظر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ طلبا کی حمایت اسی کے ساتھ ہوگی جو طلبا کے مفادات کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرے گا۔
لکھنؤ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ لیڈر شمی سنگھ کے مطابق، انا ہزارے نے ملک کی مشکلات کو سمجھا ہے اور اس کا صحیح حل بتایا ہے اور اگر اب نوجوان ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا تو وہ دن دور نہیں جب ملک میں نیا نکسل ازم جنم لے گا اور اس کی نمائندگی بے روزگار طلبا کریں گے۔ حقیقت میں یہ تمام مدعے انا ہزارے جی کے جن لوک پال بل کے مطالبہ میں بطور اسٹیک شامل ہیں، اس لئے نہ صرف اتر پردیش بلکہ پورے ملک کے طلبا ان کو آواز دے رہے ہیں۔
اگر ایسا ہے تو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ طلبا کی جو حقیقی تنظیمیں تھیں اور ان کی جو لڑائی تھی، وہ اپنے ہدف سے کیوںبھٹکیں؟ 80کی دہائی تک آتے آتے طلبا کی تنظیمیں پوری طرح اپنی بنیادی سیاسی جماعتوں کی جیبی تنظیم بن گئیں اور پھر طلبا لیڈر پارٹی کے لیڈروں کی جے جے کرنے اور اپنے لئے ٹکٹوں کے جگاڑ کو ہی اہم کام سمجھنے لگے۔ اس طرح جو طلبا کی سیاست تبدیلی کے لئے جانی جاتی تھی، وہ اب موقع پرستی کی سمت چلنے لگی۔ اسٹوڈنٹ یونین لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہونے لگی۔ 90کی دہائی میں ملک میں دو اہم واقعے پیش آئے، پہلا رام جنم بھومی -بابری مسجد تنازعہ اور دوسرا نوکریوں میں ریزرویشن۔

ان دونوں کی حمایت اور مخالفت میں ہوئی تحریکوں نے طلبا کے اتحاد کو فرقہ پرستی اور ذات پرستی کی بنیاد پر تقسیم کر دیا۔ ذات کی شناخت، مذہب کی شناخت،آئیڈنٹٹی پولیٹکس نے طلبا کی سیاست کے اندر زہر گھول دیا، لیکن کیا اب یہ زہر کم ہو رہا ہے۔ اس تحریک میں شمالی اتر پردیش کے کالجوں سے جڑی طلبا یونینوں کی نمائندگی کر رہے مولانا شبلی نعمانی کالج کے سابق اسٹوڈنٹ یونین صدر مرزا شان عالم بیگ کا ماننا ہے کہ تحریکوں میں اتار چڑھائو تو آتے ہی رہتے ہیں، لیکن بطور طالب علم آپ کا اصل مقصد تو یہی ہے نہ کہ آپ روزگار حاصل کریں۔ حالیہ اتر پردیش حکومت کی بات کریں تو یہ خود کو مسلمانوں کا مسیحا مانتی ہے۔ حال ہی میں ملائم سنگھ نے یہ نعرہ بھی دیا کہ جے جوان، جے کسان، جے مسلمان، لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہ حکومت ڈیڑھ سال سے زیادہ کی مدت کار پوری کر چکی ہے اور پرانی تقرریاں ابھی تک بحال نہیں ہو پائی ہیں۔ نئی نوکریوں کی تو بات ہی چھوڑئے۔ آخر طلبا ان کے بہکاوے میں کب تک رہیں گے؟ اس تحریک سے جڑے پی جی کالج غازی پور کے اسٹوڈنٹ لیڈر فضل السلام بتاتے ہیں کہ ریزرویشن تو تب ملے گا، جب تقرری کا عمل پورا ہو۔اتر پردیش پی سی ایس کی بات کریں تو ابھی 2009کے بعد کے تمام نتائج رکے ہوئے ہیں، جبکہ تب سے لے کر اب تک لاکھوں نئے امیدوار آ گئے۔ اس لئے ہم ایسی تحریک کو جنم دینا چاہتے ہیں جو انہیں سبق سکھائے، جنھوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔ اس سبق کے طور پر اب ہم ایک ایسی قیادت کے ساتھ آگے بڑھیں گے، جس کی بے داغ شبیہ ہے اور ان کے سروکار سیاسی نہ ہو کر سماجی ہیں۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب سیاسی جماعتیں طلباکی تنظیموں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں، تو وہ اس کی بحالی کیوں نہیں چاہتے؟ دراصل، تبدیلیوں کے تیور سے بر سر اقتدار ہمیشہ ڈرتا رہا ہے۔ بہار میں87-88میں آخری اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن ہوئے، جبکہ لالو یادو خود طلبا کی سیاست سے آ ئے اور 15سال تک اقتدار میں رہے۔ نتیش کمار بھی طلبا کی سیاست سے آئے ہیں، لیکن بہار میں اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن نہیں ہوئے۔ حقیقت میں مین اسٹریم کی سیاست کو ہمیشہ یہ ڈر رہتا ہے کہ اسٹوڈنٹ یونین ہمارے لئے دشواریاں پیدا کر سکتی ہیں۔ ان کے عوام مخالف کاموں پر مخالفت کرسکتی ہیں۔ اقتدار نے انہیں اپنے لئے دشوار کن مانا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی 80کی دہائی کے بعد بیشتر یونیورسٹیوں کو چھائونی کی شکل میں بدل دیا گیا۔ اسٹوڈنٹ یونین برخاست کرنی شروع کی گئیں۔ تحریک سے جڑے اور کاشی نریش پی جی کالج، بھدوہی کے سابق صدر منیش پانڈے مانتے ہیں کہ کیمپس کے اندر جو ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے و تحریکیں ہوتی تھیں، انہیں لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ کی شکل میں تبدیل کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کے بعد بڑی تعداد میں آئی اے ایس اور آئی پی ایل وائس چانسلر بنائے جانے لگے، کیونکہ کیمپس میں لاء اینڈ آر ڈر کو سب سے بڑا موضوع بنادیا گیا۔
حقیقت میں یونیورسٹیز میں ہونے والی یہ تحریک لاء اینڈ آرڈر کا مدعا نہیں تھیں۔ کیمپس کے اندر پیدا ہوئیں بیشتر تحریکیں تعلیم کے شعبہ میں آنے والی گراوٹ، طلبا کے مفادات کی بے اعتنائی کے خلاف اٹھنے والی آواز تھیں ، جنہیں بگڑتے لاء اینڈ آرڈ کا نام دیا گیا۔ حقیقت میں سرکاروں نے بڑی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت نوجوانوں کی طاقت پر حملہ کیا۔ این ڈی اے حکومت نے بڑلا، انبانی کمیٹی کی تشکیل کی، جس کے ذریعہ تعلیم میں اصلاح اور سرمایہ کاری کی بات کی گئی۔ اس کمیٹی نے کہا کہ احاطوں سے طلبا کی سیاست کو ختم کر دیا جائے۔ اسی طرح سے یو جی سی نے محمود الرحمن کمیٹی بنائی، جس میں کہا گیا کہ چونکہ طلبا کی سیاست سے طالب علموں کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے، اس لئے اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن پر پابندی عائد کی جائے۔ حکومتیں طلبا اتحاد کو اقتدار مخالف طاقت کی شکل میں دیکھ رہی تھیں، اس لئے پہلے تو اس میں مجرمانہ عناصر آئے پھر انہیں بدنام کرتے ہوئے ان پر پابندی لگانا شروع ہوا۔ الہ آباد یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق جنرل سکریٹری سریش یادو اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ غیر سماجی عناصراصل میں تھوپے ہوئے لوگ تھے، اس لئے طلبا سے یہ کٹے ہوئے تھے۔ جب حکومت نے ان کی مخالفت کے طور پر انہیں ختم کرنا شروع کیا تو طلبا کی جانب سے بھی اس کی کوئی بڑی مخالفت نہیں ہوئی۔
حقیقت میں طلبا کی سیاست کو ختم کرنے کے پیچھے یہ مقصد تو تھا ہی نہیں کہ تعلیم کا ماحول بہتر بنایا جائے۔ ایسا ہوتا تو بہار اور جھارکھنڈ جہاں پر سالوں سے اسٹوڈنٹ یونین نہیں ہے، وہاں پر اعلیٰ تعلیم کا ریکارڈ قائم ہو گیا ہوتا۔ حقیقت میں یہ ایک نوجوان طاقت کی شکل میں دانشور اپوزیشن کو مارنے کی سازش تھی، جسے حکمت عملی کے تحت تمام جماعتوں نے مل کر ختم کر دیا۔
ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ جو حکومتیں طلبا تحریکوں کی اس طرح مخالفت کررہی ہوں، ان سے یہ امید کیسے کی جائے کہ وہ اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گی۔ ’’چھاتر یووا سنگھرش مورچہ‘‘ کے کنوینر و سینئر اسٹوڈنٹ لیڈر وکاس تیواری اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ دراصل، طلبا کی تنظیموں کا عوام سے کوئی سیدھا تعلق نہیں رہ گیا ہے اور یہ رشتہ ختم کرنے کا کردار سیاستدانوں نے ہی ادا کیا ہے۔ انھوں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ طلبا کی طاقت قومی طاقت ہے۔
الہ آباد یونیورسٹی کے سابق جنرل سکریٹری کہتے ہیں کہ دنیا میں جہاں بھی نوجوانوں کی بڑی تحریکیں ہوئیں یا طلبا تحریک ہوئیں، وہ کبھی بھی طلبا کے مسائل کو لے کر نہیں ہوئیں، وہ سماج میں تبدیلی کے لئے ہوئیں۔ خوا وہ جے پی کی تحریک ہو یا وی پی سنگھ کی قیادت میں ہوئی تحریک ہو، جب بدعنوانی کے خلاف کمر کسی گئی اور اس میں طلبا اہم کردار میں رہے۔ فرانس کے طلبا کی تحریک ہو، مصر کے طلبا کی تحریک ہو یا پھر حال ہی میں علیحدہ ریاست تلنگانہ کو کو لے کر ہوئی تحریک۔ یہ تمام تحریکیں کوئی فیس میں اضافہ کو یا سیٹوں میں اضافہ کو لے کر نہیں ہوئیں تھیں۔ یہ سب کی سب سیاسی، سماجی تحریکیں تھیں۔ ٹی ڈی کالج بلیا کے اسٹوڈنٹ لیڈر اور اس تحریک سے جڑے سری پرانت سنگھ کے مطابق حکومتیں چاہتی ہیں کہ طلبا اگر ان مسائل کو لے کر وجود میں آئیں گے تو ان کے منصوبوں کے پورے ہونے میں مشکلیں آئیں گی، لیکن اب اس بات کا ڈر اس لئے نہیں ہے کیونکہ ہم اس لڑائی کو لوک سبھا انتخابات سے پہلے شروع کر رہے ہیں، جس سے ملک کی نگاہیں ہمارے اوپر رہیں گی۔ دوسرے اسے ہم انا جی کی قیادت میں شروع کر رہے ہیں۔ وہ ملک بھر میں تقریر کر کے لوگوں کو بیدار کر رہے ہیں، اس سے ہمارا پیغام بھی ملک بھر کے عوام تک پہنچے گا۔ حقیقت میں ملک نے جے پرکاش نارائن کی تحریک کے بعد طلباء کی کوئی بڑی تحریک نہیں دیکھی۔ اس لئے اس تحریک کی جانب لوگ زیادہ امیدوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ’’چھاتر یووا سنگھ مورچہ‘‘ کے کنوینر امیش سنگھ کے مطابق موازنہ کے نظریہ سے دیکھیں تو جے پی کے وقت میں جو ویکیوم تھا، موجودہ ویکیوم اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ یہ وہ وقت ہے ، جب جی ڈی پی کا جتنا حصہ تعلیم پر خرچ ہو رہا ہے، اتنا حصہ انتہائی مخصوص لوگوں کی سیکورٹی پر خرچ ہو رہا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *