یہ تیسرا مورچہ نہیں ہے

جب 14 پارٹیوں کے 17 لیڈروں نے ایک دوسرے کا ہاتھ اٹھاکر یہ تصویر کھنچوائی، تو وی پی سنگھ کے راشٹریہ مورچہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ ایسی ہی تصویریں اُن دنوں اخباروں میں شائع ہوا کرتی تھیں۔ وہ الگ وقت تھا۔ آج کا دور الگ ہے۔ وی پی سنگھ کئی سیاسی پارٹیوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ بدعنوانی کے خلاف کامیاب تحریک کی تھی اور کانگریس مخالف لہر پیدا کی تھی۔ وہ تیسرے مورچہ کی کامیاب کوشش ثابت ہوئی۔ کانگریس ہاری اور وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے۔ اس تصویر میں لیڈر تو ساتھ دکھائی دے رہے ہیں، لیکن ان میں نہ کوئی قوتِ ارادی ہے، نہ دور اندیشی ہے، نہ پلاننگ ہے اور نہ ہی اتحاد ہے۔ یہ تصویر اپنے آپ میں کئی تضادات لیے ہوئے ہے، اس لیے تیسرا مورچہ بننے سے پہلے ہی ٹوٹتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

Mastتیس اکتوبر کو ملک کی سیاست میں ایک ہلچل ہوئی۔ اس ہلچل کے مرکز میں دہلی کا تال کٹورہ اسٹوڈیم تھا۔ صبح سے ہی پورا اسٹیڈیم کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ اسٹیڈیم کے اندر کھڑے ہونے کی جگہ نہیں تھی۔ کئی سابق وزیر اور موجودہ ممبرانِ پارلیمنٹ تھے، کیوں کہ انہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی۔ جتنے لوگ اسٹیڈیم کے اندر تھے، اتنے ہی باہر تھے۔ ملک بھر کا میڈیا یہاں موجود تھا۔ قریب پچاس ٹی وی چینلوں کے کیمرے لگاتار وہاں کی سرگرمیوں کو ٹی وی اسٹوڈیو میں لائیو بھیج رہے تھے۔ اسٹیج پر ملک کی سیاست کو بدلنے کا مادّہ رکھنے والے لیڈر بھی موجود تھے۔ لگا کہ آج کوئی بڑی خبر آنے والی ہے۔ لیکن جیسے جیسے لیڈروں نے ایک کے بعد ایک تقریر کرنی شروع کی، ویسے ویسے اس میٹنگ کی رونق ہلکی ہوتی چلی گئی۔ شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب جب تجویز پاس کرنے کا وقت آیا، تب کئی لیڈر جا چکے تھے۔ اسٹیڈیم خالی پڑا تھا۔ لوگوں کا جیسا رسپانس اسٹیڈیم کے اندر تھا، وہی باہر بھی تھا۔ شام ڈھلتے ڈھلتے میڈیا نے بھی اس میٹنگ کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا، کیوں کہ اس میٹنگ سے جو امید تھی، وہ پوری نہ ہو سکی۔ تیسرا مورچہ نہ تو بن سکا اور نہ ہی ایسا پیغام ملا کہ مستقبل میں کوئی تیسرا مورچہ بن سکتا ہے۔ یہ میٹنگ دراصل بے سمتی کا شکار ہو گئی۔
یہ میٹنگ لیفٹ پارٹیوں کی طرف سے منعقد کی گئی تھی۔ اس میٹنگ کا نام تھا ’پیپلز یونٹی اگینسٹ کمیونل ازم‘۔ اس کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور لیفٹ نظریات کے حامی پروفیسر عرفان حبیب نے کی۔ اس میں کل 14 سیاسی پارٹیوں نے حصہ لیا اور اسٹیج پر کل 17 لیڈر موجود تھے۔ اس میں کئی وزرائے اعلیٰ کو بلایا گیا تھا، لیکن اس میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو چھوڑ کر کوئی شامل نہیں ہوا، البتہ تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للتا نے اپنے ایک سپہ سالار کو ضرور بھیجا۔ اسی طرح سے اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے بھی اپنے نمائندہ کو اس میٹنگ میں بھیجا تھا۔ سب سے پہلے سیتارام یچوری نے بتایا کہ اس میٹنگ کا مقصد ملک کو فرقہ واریت سے بچانا ہے، کیوں کہ اس بار خطرہ بڑا ہے۔ ان کا اشارہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی طرف تھا۔ اس میٹنگ میں ایک مسودہ بھی پاس ہونا تھا۔ اسے پہلے انگریزی اور ہندی میں پڑھا گیا، جس سے کئی سوال اٹھتے ہیں۔
اس مسودہ میں لوگوں کو فرقہ واریت کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی گئی، لیکن لوگ کیسے متحد ہوں گے، وہ اس مسودہ میں نہیں تھا۔ فرقہ واریت پھیلانے والے لوگ کون ہیں، وہ کون سی تنظیمیں ہیں، جو اس زہر کو پھیلا رہی ہیں، وہ بھی غائب تھا۔ فرقہ واریت سے کیسے لڑا جائے، اس کا بھی کوئی نقشہ اس مسودہ میں نہیں تھا۔ ویسے یہ مانا جا رہا تھا کہ یہ کوئی تیسرے مورچہ کی پہل ہے۔ اسے ایک غیر کانگریس اور غیر بی جے پی گروپ کی تیاری کے روپ میں دیکھا جا رہا تھا۔ اس میں باتیں صرف فرقہ واریت کی تھیں، لیکن مسودہ میں نہ تو نریندر مودی کا نام تھا اور نہ ہی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا نام تھا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ مسودہ کو لے کر پہلے بحث ہوتی ہے۔ اندازہ یہی لگانا چاہیے کہ اس میں شامل ہونے والی پارٹیوں سے مسودہ پر بات چیت ہوئی ہوگی اور یہ فیصلہ لیا گیا ہوگا کہ کسی تنظیم یا لیڈر کا نام مسودہ میں نہیں ہونا چاہیے۔ اب یہ سوال تو بنتا ہی ہے کہ جن طاقتوں کے خلاف آپ لڑنے کے لیے متحد ہوئے، اگر اس کا نام لینے سے بھی بچیں گے ، تو عوام میں کیا پیغام جائے گا۔ سیاست میں اندھیرے میں تیر چلانے سے کام نہیں چلتا۔ حیرانی تو اس بات کی ہے کہ ان میں سے کئی لیڈر وی پی سنگھ کے تیسرے مورچہ میں شامل تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ اس وقت لیڈر اسٹیج سے کس طرح سے سیاسی مخالفین کے خلاف آگ اگلتے تھے۔
بڑے لیڈروں میں سب سے پہلے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مائک سنبھالا۔ انہوں نے تیسرے مورچہ کی ضرورت کو ہی خارج کر دیا۔ انہوں نے صرف اسے خارج ہی نہیں کیا، بلکہ اسٹیج پر بیٹھے سماجوادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ کو جانکاری بھی دینے لگ گئے کہ فرقہ واریت سے کیسے لڑا جاتا ہے۔ انہوں نے مظفر نگر کے فسادات کا موازنہ بھاگلپور فسادات سے کیا اور اپنی حصولیابیوں کو گنانے میں لگ گئے۔ تیسرے مورچہ کی شروعاتی تقریر میں ہی انہوں نے تیسرے مورچہ کا ٹائر پنکچر کر دیا۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ نتیش کمار ایسے کسی مورچہ کا حصہ نہیں بننا چاہتے ہوں گے، جس کے وہ متفقہ لیڈر نہیں ہیں۔ نتیش کمار نے پوری تقریر میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ اسٹیج پر بیٹھے باقی سبھی لیڈروں سے زیادہ سیکولر ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک بار بھی مودی کا نام نہیں لیا، بس اشاروں میں بات کی۔
جب ملائم سنگھ کی باری آئی، تو انہوں نے سب سے پہلے یہی کہا کہ یہاں تو کوئی نام ہی نہیں لے رہا ہے، تو وہ بھی کسی کا نام نہیں لیں گے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اس میٹنگ میں کوئی نہ تو نریندر مودی کا نام لے رہا ہے اور نہ ہی کوئی فرقہ واریت پھیلانے والی ہندو تنظیم کا نام لے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ان کی پارٹی زمین پر فرقہ وارانہ طاقتوں سے 1987 سے لڑ رہی ہے۔ ایک دن پہلے انہوں نے اعظم گڑھ میں بہت بڑی ریلی کو مخاطب کیا تھا، اس لیے ان کی تقریر میں جوش اور اعتماد تھا۔ ملائم سنگھ یادو کا سیاسی پلان بھی صاف ہے۔ وہ خود کو وزیر اعظم کے ایک امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ نتیش کمار کی طرح ملائم سنگھ بھی ایسے کسی مورچہ کے حصہ نہیں ہوں گے، جس میں انہیں وزیر اعظم کے امیدوار کے روپ میں نہ پیش کیا جائے۔ اس میٹنگ کے دو دن بعد لکھنؤ میں انہوں نے تو ایک ایسا بیان دیا، جس سے اس میٹنگ کے جواز پر ہی سوال کھڑا ہو گیا۔ ملائم سنگھ نے یہ کہہ دیا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی رام جنم بھومی اور کشمیر کے مدعے کو چھوڑ دے اور مسلمانوں کے خلاف بیان دینا بند کر دے، تو ان کے بیچ کی دوریاں ختم ہو جائیں گی۔ سماجوادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے اس بیان کے بارے میں یہ کہا کہ لوک سبھا الیکشن میں سماجوادی پارٹی کو کتنی سیٹیں آئیں گی، اس کو لے کر ملائم سنگھ کو شک ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ کئی علاقائی پارٹیوں کی سماجوادی پارٹی سے زیادہ سیٹیں آنے کی امید ہے اور تیسرے مورچہ کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں وزیر اعظم کے کئی امیدوار ہیں۔ نتیش کمار اور نوین پٹنائک کے ساتھ ساتھ تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للتا اور شرد یادو بھی وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ اس لیے اگر زیادہ سیٹیں نہیں آئیں، تو ملائم سنگھ تیسرے مورچہ میں شامل نہیں ہوں گے۔ وہ بی جے پی یا کانگریس کو حمایت دے کر خود اور اپنی فیملی کے لوگوں کے لیے کابینہ میں شامل ہو جائیں گے۔
اس میٹنگ میں ان کے علاوہ سابق وزیر اعظم اور جنتا دل سیکولر کے ایچ ڈی دیوے گوڑا، جے ڈی یو کے شرد یادو اور کے سی تیاگی، آسام کے سابق وزیر اعلیٰ اور آسام گن پریشد کے سربراہ پرفل مہنت، جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور جھارکھنڈ وکاس پارٹی کے صدر بابو لال مرانڈی، سی پی ایم کے جنرل سکریٹری پرکاش کرات اور بی جے ڈی کے بیجینت پانڈا شامل تھے۔ اس کے علاوہ اسٹیج پر کمل مرارکا، پرکاش امبیڈکر، ایم تھمبی دورئی، رام گوپال یادو، امرجیت کور، ڈی پی ترپاٹھی، شتی گوسوامی، بمان بوس، ایس سدھاکر ریڈی، دیو برت وشواس اور اتل بوٹا موجود تھے۔ ان میں سے کئی لوگوں نے تقریر کی اور کئی لوگوں نے وقت کی کمی کی وجہ سے تقریر نہیں کی۔ جنہوں نے تقریر کی، وہ سیاسی طور پر اثر انگیز نہیں کہی جاسکتی ہے، جیسے کہ سی پی آئی کے لیڈر اے بی بردھن نے ملائم سنگھ کی سماجوادی سرکار پر ہی سوال کھڑے کر دیے۔ انہوں نے مظفر نگر کے فسادات میں بے گھر ہوئے لوگوں کو معاوضہ کی بات اٹھا دی اور ریلیف کیمپوں میں رہ رہے لوگوں کو اپنے گھر واپس بھیجنے کا انتظام کرنے کی مانگ رکھ دی۔ بابو لال مرانڈی نے تو موضوع کو موڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت سے زیادہ لوگوں کے سامنے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ وہیں سی پی ایم کے جنرل سکریٹری نے آر ایس ایس پر حملہ کیا، لیکن آسام کے لیڈر پرفل مہنت نے آسام کے مسائل پر بات کی۔ اڑیسہ کے بی جے ڈی کے لیڈر بیجینت پانڈا نے کہا کہ اس ملک کو سیکولر ازم کے ساتھ ساتھ ترقی کی بھی ضرورت ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میٹنگ میں سارے لیڈروں نے اپنی بات رکھی، کسی نے تیسرے مورچہ کی تشکیل، اس کی ضرورت اور مقصد کے اوپر صاف صاف باتیں نہیں کیں۔ جن لیڈروں نے میٹنگ کے بعد ٹی وی رپورٹروں سے بات کی، کسی نے تیسرے مورچہ کی تشکیل کو لے کر امید افزا بیان نہیں دیے۔ سیتا رام یچوری نے ٹی وی رپورٹروں کو جو جواب دیا، اس نے اس میٹنگ کی سنجیدگی پر ہی سوال کھڑے کر دیے۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح کرکٹ میں دوسرا ہوتا ہے، اسی طرح یہ میٹنگ سیاست کا دوسرا ہے۔ کرکٹ میں دوسرا گیند کا مطلب بلے باز کو دھوکہ دینے والی ایسی گیند بازی، جس میں گیند باز آف اسپن کرتا ہے، لیکن وہ لیگ اسپن بن جاتا ہے۔

آج کے سیاسی حالات میں کسی بھی مورچہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کا ایک لیڈر ہو۔ وہ سب کے لیے قابل قبول ہو اور جو مودی اور راہل گاندھی کو چنوتی دے سکے۔ اس مورچہ کو کانگریس کی بدعنوانی اور بی جے پی کی فرقہ واریت سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سب سے پہلے مورچہ میں شامل پارٹیوں کے بیچ اختلافات اور تضادات کو الیکشن سے پہلے ختم کرنا ضروری ہے۔ اس مورچہ کا ایک اقتصادی ایجنڈا ہونا بھی ضروری ہے۔ مہنگائی ختم کرنے کے طریقے بتانے ہوں گے۔ نوجوانوں کو لبھانے کے لیے پروگرام بھی ضروری ہے۔ جل (پانی)، جنگل، زمین کے مدعے پر بھی نظریاتی اتفاق ضروری ہے۔ ترقی کا ایک ماڈل پیش کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو روزگار کیسے ملے گا اور ان کے ہنر کا استعمال آنے والی سرکار کیسے کرے گی، اس کا خاکہ بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ بدعنوانی سے کیسے لڑنا ہے، اس کا طریقہ بتانا ہوگا۔ فرقہ واریت سے کیسے لڑنا ہے، اس کا بلیو پرنٹ بھی عوام کے سامنے رکھنا ہوگا۔ ملک کے عوام سیاسی پارٹیوں کی نصیحتوں سے تھک چکے ہیں۔ 2013 کا ہندوستان ایکشن چاہتا ہے۔ اسے اس بات کا بھروسہ ہونا ضروری ہے کہ آنے والی سرکار ملک میں بنیادی تبدیلی کرے گی، ورنہ صرف فرقہ واریت کے خلاف متحد ہونے سے مورچہ تو بنایا جا سکتا ہے، لیکن کامیابی کی گارنٹی نہیں ہے۔
ملک کا اگلا وزیر اعظم کون ہوگا، یہ سوال ہر اس شخص کے دماغ میں گونج رہا ہے، جس کی دلچسپی سیاست میں ہے۔ کیا وہ نریندر مودی ہوں گے؟ کیا راہل گاندھی ہوں گے؟ یا پھر کوئی اور؟ یہ تو طے ہے کہ اگر کانگریس پارٹی کو سب سے زیادہ سیٹیں ملتی ہیں، تو راہل ہی وزیر اعظم ہوں گے۔ اگر بی جے پی کو سب سے زیادہ سیٹیں ملتی ہیں، تو نریندر مودی وزیر اعظم بنیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس پارٹی پریشان ہے۔ اس کی ساکھ ختم ہو چکی ہے۔ ریکارڈ توڑ بدعنوانی، مہنگائی اور بے روزگاری سے لوگ ناراض ہیں۔ اب کوئی کرشمہ ہی ہوجائے، تو کانگریس 2014 میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھر سکتی ہے۔ بنیادی اپوزیشن پارٹی بی جے پی کا مسئلہ الگ ہے۔ بی جے پی کی ملک کی کئی ریاستوں میں کوئی موجودگی ہی نہیں ہے اور نریندر مودی کو امیدوار بناکر اتحاد بنانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ابھی تک آئی تمام سروے رپورٹ یہی بتاتی ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی 160 سیٹیں اور کانگریس پارٹی 100 سیٹیں جیت سکتی ہے۔ تو اب سوال ہے کہ 280 سیٹیں کون جیتے گا؟ صاف ہے، یہ سیٹیں علاقائی پارٹیوں کے کھاتے میں جائیں گی۔
ملک کے لوگوں کے سامنے دو اہم چنوتیاں ہیں۔ ایک تو سرکار کو مؤثر بنانے کی چنوتی ہے اور دوسری فرقہ واریت کے خطرے سے بھی لڑنا ہے۔ ایسے سیاسی منظرنامہ میں ایک غیر کانگریس اور غیر بی جے پی اتحاد کی جگہ تو بنتی ہے، لیکن اس کی قیادت کون کرے گا؟ اتحاد کی آئیڈیالوجی کیا ہوگی؟ اقتصادی پالیسی کیا ہوگی؟ ترقی کا نظریہ کیا ہوگا؟ ایسے کئی سوال ہیں، جن کا جواب لیفٹ فرنٹ کے ذریعے بلائی گئی اس میٹنگ میں تو نہیں ملا ہے۔ ہندوستان کی سیاست کا کردار سمندر میں اٹھنے والے سائیکلون، یعنی طوفان کی طرح ہے۔ یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ کب کہاں سے اٹھ جائے اور کس راستے چل پڑے اور تباہی مچا دے۔ کیا 2014 کے پہلے کوئی سیاسی طوفان اٹھے گا؟ کیا ہندوستان کی سیاست میں کوئی طوفانی پھیر بدل ہونے کی امید ہے؟ کیا کوئی ایماندار اور مقبول لیڈر ابھرے گا، جو کانگریس اور بی جے پی کو چنوتی دینے میں کامیاب ہو سکے؟ شاید مشرق سے کوئی سورج نمودار ہو اور ملک کے سیاسی افق پر چھا جائے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *