وراثت پر جنگ

میگھناد دیسائی 
تھامس جیفرسن انقلاب کی ایک ترغیب تھے یا ڈھونگی داس سوامی ؟ وینسٹن چرچل ایک ہیرو تھے یا نسل پرست؟ امریکی اور برطانوی لوگ اس موضوع پر ہمیشہ بحث کرتے رہتے ہیں، لیکن اس کے برعکس ہندوستانی اپنی حالیہ تاریخ جیسے مدعوں پر بحث کرنے کے معاملہ میں بھی شرم محسوس کرتے ہیں۔ بر سر اقتدار کانگریس، جس کے پاس اقتصادی گورننس کے مدعے پر بولنے کے لئے زیادہ کچھ نہیں ہے، نریندر مودی کے ذریعہ چیلنج کئے جانے سے پریشان ہے۔پارٹی کے سب سے مضبوط فریق کو مودی نے حال ہی چیلنج کیا ہے۔ مودی نے حال ہی میں سردار کو پٹیل کو اپنا آدرش بتایا ہے۔
کانگریس اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ ملک کی پوری تاریخ پارٹی نے ہی بنائی ہے۔ مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے ذریعہ جنگ آزادی کی رہنمائی کی گئی جبکہ آزادی کے بعد نہرو ، گاندھی خاندان بر سراقتدار رہا، لیکن اچانک حالیہ دنوں میں پارٹی کے لیڈر سردار پٹیل کی تحسین کرتے نظر آ رہے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ خود کی تاریخ کے بارے میں بھی ان جو معلومات ہے وہ کافی کمزور ہے۔کیونکہ سردار پٹیل کو ان کے تاریخ سازوں نے تاریخ سے ہی مٹا دیا ہے۔پٹیل کو اب سیکولر اور اعتدال پسند بتایا جا رہا ہے اور سنگھ کے دشمن کی شکل میں مشتہر کیا جا رہا ہے، لیکن پٹیل کے دور کے لوگوں کے لئے تاریخ ذرا الگ طریقہ کی ہے۔
کانگریس میں 1885میں قیام کے بعد سے ہی ہندو ممبران کی اکثریت رہی ہے اور یہ ناگزیر بھی تھا کیونکہ ہندو ایلیڈ طبقہ کے لوگوں نے انگریزی طرز تعلیم کو اختیار کر کے نئی تجارتوں کو اپنایا تھا۔ اس معاملہ میں مسلم پیچھے چھوٹ گئے تھے۔ گاندھی جی نے خلافت تحریک کے لئے ہندو اور مسلمانوں کو ایک کرنے کی کوشش کی۔ چوری چورا کے واقعہ کے بعد جب انھوں نے اس تحریک کو بند کر دیا تو ایک طرح سے مسلمانوں کو الگ کھڑا کر دیا گیا۔
اس کے بعد کانگریس مسلمانوں کی حمایت حاصل نہیں کر پائی۔ موتی لعل نہرو کی رپورٹ نے جناح کی سیٹ تقسیم کی اپیل کو خارج کر دیا کیونکہ ہندو مہا سبھا اس کی مخالف تھی۔ کانگریس نے 1937کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ سے یو پی میں اتحاد کرنے کا وعدہ کیا، لیکن جب کانگریس کو مکمل اکثریت مل گئی تو نہرو وعدے سے مکر گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1947کے آئینی اجلاس کے انتخابات میں کانگریس کو ایک بھی مسلم سیٹ حاصل نہیں ہوئی جبکہ اس کے صدر مولانا آزاد تھے۔ اس وقت پارٹی کے قائدین میں بیشتر ہندو فرقہ کے لوگ شامل تھے۔ نہرو واحد ایسے سیکولر اوراعتدال پسند لیڈر تھے، جن کے پیچھے کچھ محب وطن مسلم اور سماجوادی تھے۔ اس کے علاوہ وہ گاندھی جی کی وزیر اعظم کے عہدہ کے لئے پہلی پسند بھی تھے۔ علاوہ ازیں پٹیل، راجیندر پرساد اور پرشوتم داس ٹنڈن جیسے لیڈر کٹر ہندو قدآمدپسند تھے۔ مائونٹ بیٹن نے سب سے پہلے پٹیل کو ہی سمجھایا تھا کہ آخر تقسیم اہمیت کی حامل کیوں ہے؟ پٹیل نے اس کے لئے نہرو کے ساتھ بات چیت کی۔ دراصل پٹیل پاکستان کے قیام کو لے کر نہرو سے زیادہ مخالف تھے۔ دونوں میں ان ہندوستانی مسلمانوں کی حفاظت کو لے کر باہمی بحث ہوئی، جن پر پاکستان سے آ رہے پناہ گزیں حملہ کر رہے تھے۔ کانگریس پارٹی میں جو ہندو قدامت پسند تھے ، ان کا ایسا ماننا تھا کہ سنگھ اور پارٹی کو مل جانا چاہئے ،لیکن نہرو اس بات کے مخالف تھے۔ اس درمیان نہرو پٹیل جھگڑے کی وجہ سے حکومت کے درمیان میں دراڑ پڑ گئی تھی۔ انھوں نے گاندھی جی سے مداخلت کرنے کی اپیل کی لیکن ان کا اسی دن قتل کر دیا گیا، جب وہ دونوں کا جھگڑا نمٹانے جا رہے تھے۔
اس واقعہ نے پٹیل کو ہلا کر رکھ دیا۔ گاندھی کی حفاظت میں ڈھیل کی وجہ سے گاڈسے کو ان کے نزدیک تک پہنچ جانے کے لئے پٹیل پر الزام لگایاگیا۔ نہرو اس وقت وزیر اعظم تو تھے لیکن پارٹی پر ان کا بہت زیادہ کنٹرول نہیں تھا۔ٹنڈن، کرپلانی، پٹیل اور پرساد اس وقت زیادہ طاقتور تھے۔ پٹیل کی دسمبر 1950میں ہوئی موت کے بعد ہی نہرو کے لئے ٹنڈن کو عہدۂ صدارت سے ہٹا پانا ممکن ہوا۔
50کی دہائی کے دوران جے پی کو بے اثر کر دیا گیا تھا۔ اس وجہ سے کمیونسٹ پارٹی نے اسی وجہ سے ان کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا کہ نہرو پارٹی میں ترقی پسند ذہنیت کے لوگوں کو آگے بڑھا رہے ہیں اور رجعت پسندوں کو ناکارہ کر رہے ہیں۔پٹیل جن ہندو قدامت پسند لیڈروں کے قائد تھے انہیں باہر کا راستہ دکھایا جا رہا تھا۔ پرساد، ٹنڈن اور راجا جی جیسے لیڈروں کو حاشیہ پر ڈال دیا گیا تھا۔ صرف نہرو پارٹی کے لیڈر رہ گئے تھے اور گاندھی جی۔
ایک بار جب نہرو طاقت میں آ گئے تو انھوں نے سیکولرازم کوتقویت دی ۔ پرساد ازسر نو تعمیر سومناتھ مندر کا افتتاح کرنے کے لئے جانا چاہتے تھے لیکن نہرو اس بات پر راضی نہیں ہوئے کیونکہ یہ سیکولرازم کے اصولوں کے خلاف تھا۔ یہ کے ایم منشی ہی تھے جنھوں نے سومناتھ مندر ازسرنو تعمیر کرا کر ہندو روایت کو پارٹی میں قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد پارٹی میں ہندو ئوں کی کمان گجراتیوں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ سردار پٹیل کو بھلے ہی دہلی میں بھلا دیا گیا ہو لیکن وہ ہمیشہ ایک گجراتی آدرش بنے رہے۔
اندرا گاندھی نے 1969میں کانگریس کوتقسیم کر دیا تھا۔ یہ گجرات ہی تھا ، جس نے ان کے خلاف ’’نونرمان آندولن‘‘ کے ساتھ 1974میں قیادت کی۔ کانگریس سے اندرا کے ذریعہ نکالے گئے مرار جی دیسائی جنتا پارٹی کے لیڈر کی شکل میں ابھرے۔ جس پارٹی نے کانگریس کو ہرا دیا اور یہ کانگریسی پٹیل کو اپنا لیڈر بتاتے ہیں۔ اب پارٹی کے لئے ایسا کرنے کے لئے کافی دیر ہو چکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *