سچن تیندولکر کا رٹائرمنٹ

کمل مرارکا 
وہ ممبئی میں اپنا 200واں ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ ریٹائر ہور ہے ہیں۔ اگر میں غلط نہیں ہوں، تو 1989میں جب انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا، تب وہ صرف 16برس کے تھے اور اب 24برس بعد ان کے ریٹائرمنٹ کا وقت آگیا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب وہ بلا شبہ دنیا میں کسی بھی کرکٹر کے بہت ہی قابل ذکر کرکٹ کریئر کی پوزیشن میں ہیں۔ یقیناً ڈان بریڈ مین جیسے کرکٹر سے موازنہ پورے طور پر صحیح نہیں ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ ان دنوں صرف ٹیسٹ کرکٹ ہوا کرتا تھا۔ ڈان بریڈ مین نے کل 52میچمیں 80اننگس کھیلیں، جس میں وہ دس بار ناٹ آؤٹ رہے۔ 80اننگس میں انھوں نے کل 6ہزار 996رن بنائے۔ 100کی اوسط سے رن بنانے میں 4رن کی کمی رہ گئی تھی۔ وہ ایسا اس لیے نہیں کر سکے کہ وہ آخری میچ میں صفر پر آؤٹ ہو گئے تھے اور اس طرح 100کا ٹیسٹ کریئر اوسط پھرہماری حیات میں ہونے نہیں جا رہا ہے، مگر دوسرے بہت سے معاملوں میں سچن تیندولکر، ڈونالڈ بریڈمین کی طرح تھے۔ وہ ٹیم کے شیٹ اینکرتھے۔ جب بھی ٹیم دقّت میں ہوتی تھی، وہ درمیان میں آجاتے تھے اور ٹیم اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگتی تھی اور اپنی پوزیشن ٹھیک کر لیتی تھی۔
سچن تیندولکر ڈان بریڈ مین سے ملنے آسٹریلیا بھی گئے اور ڈان بریڈ مین ان سے مل کر بہت خوش بھی ہوئے ۔ کچھدنوں پہلے سچن نے خود ہی پریس سے کہا کہ اس ملاقات میں میں نے محسوس کیا کہ ارجن درونا چاریہ سے مل رہے ہیں۔ یہ بہت ہی مناسب ذکر تھا ،کیونکہ ڈان بریڈ مین ہر ایک کے روحانی گرو تھے۔
سچن تیندولکر کے کریئر میں بہت سے نشیب و فراز آئے ہیں۔ 24برسوں تک کرکٹ کے لمبے کریئر میں کوئی بھی ہرایک اننگ، ہر ایک میچ، ہر ایک سیریز اور ہر ایک ملک میں اچھا اسکور نہیں بنا سکتا ہے، مگر ان کے کریئر میں ابھی تک قابل ذکر جو بات ہے، وہ استقلال(Consistency)ہے ، جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ جب وہ کیپٹن تھے، اس کے مقابلے جب وہ کیپٹن نہیں تھے، تب زیادہ اچھا کھیلے۔ ممکن ہے کہ کیپٹن رہتے ہوئے وہ زیادہ بوجھ محسوس کرتے ہوں اور یہ ان کی کھیلنے کی اہلیت کومتاثر کرتی ہو۔ مجموعی طور پر اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ ہندوستان میں اب تک ہوئے عظیم ترین کرکٹروں میں سے ایک ہیں۔ ابتدائی دنوں میں ٹیسٹ میچ بہت کم ہوا کرتے تھے۔ سی کے نائیڈو کے ذریعے بھی کھیلے گئے میچوں کی تعداد بہت کم ہے، حالانکہ بہت سے معاملوں میں ان کا بنایاہوا عالمی ریکارڈ اب بھی اپنی حیثیت رکھتا ہے۔ ریکارڈس کا اب مقابلہ نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان میچوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کوئی اس کا قدیم ایّام سے موازنہ نہیں کر سکتا ہے۔ کھیل کے اسٹائل سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اب تمام چیزیں ٹیکنیکل ہو گئی ہیں۔ اب تیسرا امپائر ہوتا ہے، جوکہ بڑی پینی نگاہ رکھتا ہے۔ اب کرکٹ وہ کرکٹ نہیں ہے، جو کہ برطانیہ میںشروع ہوا تھا اور پھر ہندوستان آیا تھا۔اب کر کٹ تکنیکی شے ہے، عمل کے اعتبار سے اور دانشوروں کے لیے بھی۔ ایسی بہت سی مشینیں ہیں، جو کہ مختلف اقسام کی گیندیں بناتی ہیں، تاکہ بیٹس مین بہتر بلے بازی کر سکیں، مگر یہ سب کچھ گزشتہ دس بیس برسوں میں ہوا ہے۔
تیندولکر ان سب چیزوں اور ٹیکنالوجی کے آنے کے قبل سے کھیل رہے ہیں۔ انھوں نے اس میں مہارت بھی حاصل کر لی ہے اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اچھے نتیجے بھی حاصل کیے ہیں۔ یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ وہ کبھی بھی آؤٹ آف ڈیٹ نہیں ہوئے۔ وہ ہمیشہ وقت کے ساتھ چلنے کے لیے کوشاں رہے اور آئی سی سی کے ذریعے لاگو کیے گئے نئے ضوابط بشمول تیسرے امپائر کے ساتھ چلے۔ متعدد دفعہ انھوں نے بہت سے فیصلوں کو پسند نہیں کیا۔ بہت بار سب کچھ ان کے مطابق نہیں ہوا، لیکن انھوں نے اسے ہمیشہ کھیل کے طور پر ہی لیا۔ یہ ان میں سے نہیں تھے، جو کوئی مسئلہ امپائر یاانتظامیہ کے لیے پیدا کرتے، یہ ان کا سب سے بڑا کریڈٹ ہے۔ عام طور پرکھلاڑی جو بہت زیادہ کام کر رہے ہیں، انا کا شکار ہو جاتے ہیں، مگر یہ سب کچھ سچن کے ساتھ نہیں ہوا۔ لہٰذا انھیں یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوںنے اپنے مستقبل کا ایک معیار برقرار رکھا ہے۔ ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔
وزیر اعظم کے عہدے کے دو امیدوار نریندر مودی اور راہل گاندھی کے ساتھ انتخابات پر قومی بحث شروع ہو چکی ہے اور بد قسمتی یہ ہے کہ حالانکہ میڈیا اور عام طور پر ہر ایک شخص نے دو امیدوار بنائے ہیں۔ انھوں نے بحث شروع کر دی ہے، مگر بحث ایشوز پرنہیں ہو رہی ہے۔یہ بحث ذاتیات پر ہو رہی ہے، ایک دوسرے کوکچھ کہہ کر مخاطب کیا جا رہا ہے اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچی جا رہی ہے۔ اس طرح بحث کا معیار بہت ہی نیچے چلا گیا ہے۔ ملک کو اس تعلق سے بہتری کی ضرورت ہے۔ اگر دو لیڈران جو واضح طور پر بحث کررہے ہیں، تو انھیں ایشوز پر بحث کرنی چاہیے۔ چیلنج کرنے والے کو بتانا چاہیے کہ اگر اس کی حکومت بنی، تو وہ دس برسوں میں کیا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور وہ کیا کیا کرے گا، خواہ معاملہ پاکستان اور چین کاہو یا اندرون ملک ماؤوادی خطرہ، غربت، روزگاراور افراط زر کا۔ ان میں سے کوئی بھی ایشوز ان امیدواروں کے لیے موضوع بحث بن نہیں سکا۔ ایک ہی بات جو انھوں نے کہی، وہ یہ تھی کہ ہم لوگ پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے فوج کا استعمال کریں گے، مگر یہ ایسی بات نہیں ہے جو ایک سیاستداں کو کہنا چاہیے۔ اگر فوج اور پولیس ملک کے مسائل حل کر سکتی ہے، تو ہمیں انتخابات کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں سیاستدانوں کی ضرورت نہیں ہے اور ہمیں وزیر اعظم کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ وہ تو اپنی ہی پوزیشن کی نفی کر رہے ہیں۔ پڑوس کے ممالک سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے کہ جب انھوں نے فوج پر زیادہ انحصار کیا، تو پھر ایک روز فوج نے اقتدار پرہی قبضہ کر لیا۔ انھیں پتہ چل گیا کہ وہ صرف مہرے بنے اور فوجیوں نے خود تو حکمرانی نہیں کی۔ لہٰذا یہ بہت ہی خطرناک بات ہے کہ فوج کے استعمال کرنے کی کوئی بات بھی کی جائے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم کے امیدوار کو کہنا چاہیے کہ اگر میں وزیر اعظم بنا ، تو میں پاکستان سے تعلقات اتنے ٹھیک کرلوں گا کہ اس معاملے میں فوج کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، خواہ کشمیر ہو یا لائن آف کنٹرول۔
یہ سب کچھ حکومت کے ذریعے مناسب ڈائیلاگ نہ شروع کرنے اور پاکستان سے بات چیت نہ کرنے کے سبب ہے۔ مگر اس بات کو کہنے کے بجائے وہ پاکستان کو دھمکی دے رہے ہیں اور فوج کے استعمال کی دھمکی دے رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک مدبر کے طور پر خود کے ہونے کے امکان کو خارج کر رہے ہیں۔ سیاستداں تو محض انتخابات لڑتے ہیں، مگر ایک مدبر کو دور اندیش اور وسیع النظر ہونا پڑتا ہے، جو کہ وہ نہیں ہیں۔
جہاں تک دوسرے امیدوار کا معاملہ ہے، وہ تو بہت ہی بالغ النظر نہیں ہیں اور اپنے قد کے لحاظ سے مدبر کہلانے کے لائق نہیں ہیں۔ ان کے پردادا مدبر تھے، ان کی دادی بھی بہت ہی مکمل وزیر اعظم تھیں، ان کے والد جنھیں صرف 5برس کی مدت کار کی کارکردگی ملی اور جس کے بعد وہ بد قسمتی سے ہلاک کر دیے گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ (راہل گاندھی) سیاست میں 8-10برس سے ہیں، مگر اس دوران انھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے جو کہ نئی نسل میں اعتماد پیدا کر سکے۔ مجھے امید ہے کہ دونوں امیدوارو ں کی تقریر لکھنے والے بہتر سمجھ کے ساتھ تقریریں لکھیں گے اور دونوں کی متعلقہ پارٹیاں اور ہائی کمان بحث کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بہتر ہدایت دیں گی۔ ابھی ہمارے پاس 6ماہ ہیں، عوامی طور پر بہت کچھ بات چیت ہو سکتی ہے۔ ضرورت ہے کہ اصول اور مناسب ایشوز اٹھائے جائیں، تبھی عوام موازنہ کرکے کوئی فیصلہ کر سکیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *