رائٹ ٹو رجیکٹ پر حکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے

نیرج سنگھ 

سپریم کورٹ کے ایک حکم کے بعد ملک کے عوام کو رائٹ ٹو ریجیکٹ یعنی ووٹنگ کے دوران ناپسندیدہ امیدوار کو ریجکٹ کرنے کا جو اختیار حاصل ہوا ہے، اب حکومتیں اس اختیار کو چھیننے پر آمادہ ہو گئی ہیں۔ جس کی شروعات مدھیہ پردیش سے ہو چکی ہے۔ وہاں پر الیکشن کمیشن ای وی ایم مشین میں دئے گئے نئے آپشن ’’نن آف دی ابو‘‘ (نوٹا) کے بارے میں لوگوں کو بیدار کرنے کی کوششوں پر لگام لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ریاست کے ملتائی اسمبلی حلقہ میں ’’جن سنسد ابھیان سمیتی‘‘ کے ریاستی کنوینر ڈاکٹر سنیلم نے ’’نوٹا‘‘ کی تشہیر کرنے کے لئے ریٹرننگ آفیسر سے درخواست دے کر اجازت مانگی تو ریٹرننگ آفیسر نے اس کی اجازت نہیں دی۔ قانوناً دیکھا جائے تو یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، کہ وہ ووٹنگ عمل میں ہوئی تبدیلی سے رائے دہندگان کو بیدار کرے، لیکن الیکشن کمیشن خود تو یہ پہل نہیں کر رہا ہے اور جو لوگ رائے دہندگان کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کمیشن ان پر نکیل کس رہا ہے ۔یہ عوام کے جمہوری اختیارات کی خلاف ورزی ہے۔

Mastگزشتہ ماہ جب سپریم کورٹ کے حکم پر ملک کے عوام کو امیدواروں کو ناپسند کرنے کا حق حاصل ہوا تو یکبارگی ایسا محسوس ہوا کہ سپریم کورٹ کا یہ فرمان سیاسی جماعتوں کو اب آئینی اور پارلیمانی اصولوں کی راہ دکھائے گا۔ ساتھ ہی ملک کے عوام کو بھی یہ اختیار حاصل ہوا کہ جو جمہوری عمل کے تحت وہ نہ صرف اپنی پسند کے امیدواروں کو منتخب کرے بلکہ اس بات سے بھی آگاہ کر سکے کہ اسے کوئی امیدوار پسند نہیں ہے۔ یہ معاملہ 2001سے ہی وزارت قانون کے پاس اٹکا ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں جب سماجی کارکن انا ہزارے جی نے رائٹ ٹو رجیکٹ اور رائٹ ٹو ری کال کو اپنے 25نکاتی پروگرام میں شامل کیا تو ملک میں اس مطالبہ کو لے کر ایک نیا ماحول بننا شروع ہوا۔ سپریم کورٹ نے جب اس سلسلہ میں حکم جاری کیا تو اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا ، جس کی پہل حکومت اور الیکشن کمیشن کو کرنی چاہئے تھی ، وہ کورٹ کر رہا ہے، یہ سرکار اس سمت میںجابرانہ رویہ اپنائے گی یہ تو طے ہے اور ملک کے اس خدشہ کو سب سے پہلے صحیح ثابت کیا مدھیہ پردیش میں الیکشن کمیشن نے۔ مدھیہ پردیش میں الیکشن کمیشن ’’نن آف دی ایبو‘‘(نوٹا) کے بارے میں لوگوں کو بیدار کرنے کی کوششوں پر روک لگا رہا ہے اور اس کی شروعات مدھیہ پردیش کے ملتائی اسمبلی حلقہ سے ہو چکی ہے۔ ’’جن سنسد ابھیان سمیتی‘‘ کے ریاستی کنوینر ڈاکٹر سنیلم نے ’’نوٹا‘‘ کا پرچار کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ اور جلسہ کے ریلی کے لئے ریٹرنگ آفیسر کو درخواست دے کر اجازت مانگی تھی تو ریٹرنگ آفیسر جی آر پٹلے نے یہ کہتے ہوئے نوٹا کے بارے میں بیداری پھیلانے پر روک لگا دی ۔ ریٹرنگ آفیسر نے یہ دلیل دی کہ مذکورہ اسمبلی حلقہ سے امیدوار نہیں ہیں اور نہ ہی کسی پارٹی کے ممبر ہیں، اس لئے اسمبلی انتخابات 2013کے ضابطہ اخلاق کے تحت انہیں اس طرح نوٹا کے پرچار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حقیقت میں مذکورہ ریٹرنگ آفیسر کا یہ قدم نہ صرف ملک کے ہرشہری کو حاصل اظہار خیال کی آزادی کی خلاف ورزی ہے، بلکہ ملک کے جمہوری نظام پر بھی گہری چوٹ ہے۔ ساتھ ہی سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ملک کے عوام کو ان کے حق کے تئیں بیداری کرنے کی ذمہ داری کیا صرف انتخاب لڑنے والے امیدواروں اور پارٹیوں کے ممبران کو ہی ہے۔
گزشتہ دنوں مشہور سماجی کارکن انا ہزارے نے ملک کو تبدیلی کی راہ پر لے جانے کی قیادت کرتے ہوئے دیگر مشوروں کے ساتھ ساتھ انتخابی اصلاح کی بھی بات کی ہے۔ انا ہزارے نے کہا کہ سیاست پر اب دولت کا زور اور رسوخ دار لوگوں کا دبدبا ہے۔ ا ن کے مطابق انتخابات اب عام انتخابات رہ ہی نہیں گئے ہیں کیونکہ امیدوار تو فریق اور پارٹیوں کے ہوتے ہیں، عوام کے امیدوار تو ہوتے ہی نہیں۔ اس لئے عوام کے سامنے یہ متبادل بھی رکھا جائے کہ اگر اسے کوئی بھی امیدوار پسند نہیں ہے تو وہ اپنی اس خواہش کو ظاہر کر سکے۔ ملک بھر میں انا ہزارے کی اس کوشش کو زبردست حمایت حاصل ہوئی۔ لہٰذا، جب امیدواروں کی ناپسندکرنے کا حق عوام کو حاصل ہوا تو ’’جن سنسد ابھیان سمیتی‘‘ نے انا ہزار ے کی قیادت میں ملک بھر میں رائے دہندگان کو اس حق کے تئیں بیدار کرنا شروع کیا۔ حالانکہ یہ کام الیکشن کمیشن کو کرنا چاہئے تھا کیونکہ الیکشن کمیشن اس بات کی ہنکار بھرتا رہتا رہا ہے کہ وہ ملک بھر میں ’’ووٹر بیداری مہم کے ذریعہ سے لوگوں کو ووٹنگ کے تئیں بیدار کرتا ہے ، لیکن الیکشن کمیشن نے ابھی تک ملک کے کسی حصے میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں ’’ان میں سے کوئی نہیں ‘‘کے آپشن یا عوام کو ملے اس اختیار کے بارے میں کوئی بیداری مہم نہیں چلائی ہے۔جبکہ لوک سبھا انتخابات ہونے والے ہیں اور پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں۔
محترم انا ہزارے نے گزشتہ دو سالوں سے مسلسل چل رہے اپنی ’جن تنتر یاترا‘‘ کے دوران یہ محسوس کیا کہ لوگوں میں انتخابات اور امیدواروں کے انتخاب کو لے کر ابھی بھی بیداری کی کمی ہے۔اسی گیپ کو پورا کرنے کے لئے ان کی قیادت میں بنی ’’جن سنسد ابھیان سمیتی‘‘ آئندہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مدنظر عوام کو بیدار کر رہی ہے۔ جس کے ذریعہ لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے ووٹ کی قیمت کیا ہوتی ہے اور نوٹا کے آپشن کے استعمال کے کیا معنی ہیں۔
یہ بیداری اس لئے بھی ضروری تھی کیونکہ حکومت اور الیکشن کمیشن اس سمت میں محض خانہ پری کر رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے اپنے انتخابی مفادات کے لئے 180کروڑ روپے کا چنائو پرچار بجٹ تیار کیا ہے۔ اس بجٹ سے تیار ٹی وی، پرنٹ ریڈیو اور انٹرنیٹ پر جاری حکومت کے اشتہارات میں کانگریس حکومت نے کون کون سے مفاد عامہ کے منصوبے نافذ کئے ، اس کا تو ذکر ہے ، لیکن اس بات کا ذکر ایک لائن میں بھی نہیں ہے کہ رائے دہندگان کو ناپسندکرنے کا اختیار مل گیا ہے۔ ملک کے عوام ناپسند امیدواروں سے آزاد ی حاصل کرنے کے لئے اس کا استعمال کریں۔ مدھیہ پردیش حکومت جس نے ملک میں سب سے پہلے اس اختیارات کی بیداری کے لئے روک لگائی ہے، اس حکومت کے وزیر اعلیٰ پر اپوزیشن لیڈر اجے سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ تین مہینے میں شیوراج سنگھ چوہان اپنی برانڈنگ پر تین سو کروڑ روپے خرچ کر چکے ہیں۔
انا ہزارے اور ان کے معاونین رائے دہندگان کو اس سمت میں بیداری کرنے کے لئے ملک کے ہر حصے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انا ہزارے نے اپنی جانب سے الیکشن کمیشن کو یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ چونکہ پہلی بار ملک کے رائے دہندگان اس اختیارکا استعمال کرنے جا رہے ہیں، اس لئے الیکشن کمیشن لوگوں کو بتائے کہ وہ ای وی ایم میں اس کے لئے کس طرح کا نشان دینے جا رہا ہے۔ اس ضمن میں ایک لوگو انا ہزارے کی جانب سے تجویز بھی کیا گیا تھا، لیکن الیکشن کمیشن نے نہ تو ناپسند کرنے کے اختیار کے بارے میں ابھی تک کوئی مہم بتائی اور نہ ہی رائے دہندگان کو اس بات کی جانکاری دی جا رہی ہے کہ ملک کے انتخابی نظام میں پہلی بار اس طرح کا ضابطہ بنایا گیا ہے۔
’’جن سنسد ابھیان سمیتی ‘‘ کے ریاستی کنوینر ڈاکٹر سنیلم نے اس ضمن میں مدھیہ پردیش کے ر یاستی چیف الیکشن کمشنر جے دیپ گووند کو ایک خط بھی لکھا۔ خط میں ڈاکٹر سنیلم نے یہ التماس کیا ہے کہ ریاستی الیکشن کمیشن نے ہر پولنگ بوتھ کے ارد گرد رائے دہندگان کے لئے بیداری مہم کے تحت جو Flexلگائے ہیں ، ان میں ’’نوٹا‘‘ کے آپشن کا ذکر کروانے کی بھی زحمت کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر رائے دہندگان کو اس اختیارات کے بارے میں علم ہی نہیں ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق مدھیہ پردیش انتخابات میں کل ملا کر 2ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے، لیکن اس پورے خرچ میں سے ایک روپیہ بھی ’’نوٹا‘‘ کی تشہیر کے لئے خرچ نہیں ہوا۔ حال ہی میں الیکشن کمیشن نے اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کچھ اعداد و شمار میڈیا کے ساتھ شیئر کئے تھے، جن میں کہا گیا تھا کہ 64فیصد رائے دہندگان امیدواروں کا انتخاب اپنے عقل و شعور سے کرتے ہیں۔ مذہبی، ذاتی اور خاندان دبائو محض25فیصد ہوتا ہے اور تقریباً نصف رائے دہندگان مرکز تک اس لئے جاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنا اختیار استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔
کمیشن کے مطابق رائے دہندگان بیداری کے لئے اب تک چلائے جا رہے پروگرام میں کمیشن نے پایا ہے کہ ذات کی بنیاد پر 10.5فیصد لوگ ووٹ ڈالتے ہیں جبکہ 7.6فیصد رائے دہندگان امیدواروں کے مذہب سے متاثر ہیں۔ اگر الیکشن کمیشن کے یہ اعداد و شمار صحیح ہیں تو اپنے اسی سروے کے دوران وہ یہ بھی بتانے کی زحمیت کیوں نہیں کرتا کہ ملک کے اتنے فیصد رائے دہندگان کسی بھی امیدوار کو پسند نہیں کرتے اور ناپسند کرنے کے اختیار کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ کمیشن کے ہی اعدا د و شمار کی بات کریں تو نصف ووٹرس رائے دہندگان محض اس لئے جاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے اختیارات کا موقع ملتا ہے تو حقیقت میں یہ وہی امیدوار ہیں جو موجودہ امیدواروں سے ناراض ہیں اور ان میں سے کوئی نہیں کا متبادل چاہتے ہیں۔ دوسرے جو 64فیصد رائے دہندگان امیدواروں کا انتخاب اپنے عقل و شعور سے کرتے ہیں ، انہیں اس بات کی جانکاری دی جائے کہ اس بات سے انتخابات میں آپ کے پاس یہ بھی آپشن ہے کہ آپ ان میں سے کسی کو بھی نہیں منتخب کرنے کا بٹن دبا سکتے ہیں تو ممکنہ وہ اپنے عقل و شعور کا استعمال مزید بہتر طریقہ سے کریں گے اور سب سے بڑا سوال جب الیکشن کمیشن خود اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ وہ رائے دہندہ بیداری مہم چلا رہا ہے تو الیکشن کمیشن کی طرف سے ہی مقررایک ریٹرنگ آفیسرنوٹا کو لے کر کی جا رہی ووٹر بیداری مہم پر روک کیسے لگا سکتا ہے ۔
ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ آخر مدھیہ پردیش میں ہی ’’نوٹا‘‘ کو لے کر سیاسی پارٹیوں کے اندر اتنا خوف کیوں ہے۔ حقیقت میں’’جنسنسد ابھیان سمیتی‘‘ کی مدھیہ پردیش یونٹ اور ریاستی کنوینر سنیلم طویل عرصہ سے ریاست کے عوام کو اس اختیار کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ کمیٹی کی اسی مہم کے سبب ریاستی عوام کے اندر سے ایسی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں کہ وہ امیدواروںکو نکارنے جا رہے ہیں جو ناکارہ ہیں اور ان کے اوپر تھوپے ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں عوام کے اس روپ کو دیکھ کر گھبرا رہی ہیں اور ان لوگوں پر بندشیں لگا رہی ہیں جو ’’نوٹا‘‘ کے حق میں ہیں یا اس کی تشہیر کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر سنیلم پر بھی گزشتہ دنوں چھندواڑہ میں جرائم پیشہ عناصر نے حملہ کیا تھا۔ گزشتہ 17اکتوبر کو بھوپال میں ناپ تول کے محکمہ میں تعینات ایک کلرک اوما شنکر تیواری کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے صرف اس لئے معطل کر دیا کیونکہ وہ لوگوں کو رائٹ ٹو ریجیکٹ کے بارے میں بیدار کر رہا تھا۔ حقیقت میں شیوراج حکومت کا یہ جابرانہ رویہ خود اس کے لئے ہی مصیبت بننے والا ہے اور اس کی جھلک نظر آنا بھی شروع ہو گئی ہے۔
بھوپل گیس سانحہ کے متاثرین نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ اسمبلی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی وعدہ خلافی کا جواب امیدواروں کو خارج کرنے والے ‘‘نوٹا‘‘ کے بٹن کو دبا کر دیں گے۔
الیکشن کمیشن کے اس قدم پر سوال کھڑاکرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے۔ نوٹا کا قانون ہندوستانی آئینی یا انتخابی ضوابط میں پہلے سے ہی ہے۔ اب اسے ای وی ایم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ چونکہ یہ نظام پہلے سے ہی ہے ، پھر بھی لوگوں کو اس بات کی معلومات نہیں ہے، اس لئے واضح ہے کہ کھوٹ آئین کی سطح پر یا انتخابات سے وابستہ ضوابط کی سطح پر نہیں ہے یہ کھوٹ ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے کیونکہ وہ اس کے لئے ووٹروں کو بیدار نہیں کر رہا ہے ۔ اب تک جو نظام ہے ، اس میں اگر رائے دہندگان پولنگ بوتھ پر جا کر ووٹ نہیں کرنا چاہتا تو بوتھ پر موجود ریٹرنگ آفیسر ووٹر کو فارم(A) 17دیتا ہے، جس پر ووٹر اپنا اعتراض درج کرا دیتا ہے۔ یہ نظام طویل وقت سے موجود ہے، لیکن اس نظام کو لے کر کوئی پوشیدگی نہیں ہے اور یہ عیاں ہے کہ جس طرح ملک کے ہر شہری کو ووٹنگ کا اختیار ہے اسی طرح اسے پوشیدہ رکھنے کا بھی اختیار ہے۔ اسی اختیار کو برقرار رکھنے کے لئے سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا ہے کہ کہ ای وی ایم میں آخری آپشن کے طور پر ’’نوٹا‘‘ کا آپشن دیا جائے ۔ یہ اصلاح پہلے سے ہی چلے آ رہے کاغذی نظام کا ڈیجیٹل ریفارم ہے تو اس کے بارے میں لوگوں کو بتانا کہاں کا گناہ ہے۔
جب سپریم کورٹ کے حکم پر ’’نن آف دی ابو‘‘ کا نظام بنا تو سیاسی جماعتوں نے خود کے اوپر منڈلانے والے اس خطرے کو منفی شکل میں پیش کرنا شروع کیا۔ اس کی مخالفت کرنے والوں کی دلیل یہ تھی کہ بھلے ہی ’’نن آف دی ابو‘‘ کا نظام نافذ ہو گیا ہے، لیکن جس کو سب سے زیادہ ووٹ ملے گا ، وہ تو فاتح ہوگا ہی، پھر اس نظام کا کیا مطلب۔ حقیقت میں انتخابی اصلاح کے کسی بھی نظام کا فوراً اثر ہوا، ایسا کبھی بھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔’ نن آف دی ابو‘ نظام کو میڈیسن سائنس کے ٹرمس میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا نتیجہ ہومیو پیتھی ادویات کی طرح بیماری کے مکمل علاج کے طور پر نظر آئے گا، نہ کہ ایلو پیتھی کی طرح فوری آرام کی شکل میں ۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاریں بھلے ہی اوپری طور رپر اس کا کوئی اثر نہ نظرنہ آنے کی بات کر رہی ہیں، لیکن اس کو لے کر ان کے من میں خوف تو ہے ہی۔
تاریخ کے واقعات کو اگر پیمانہ مان کر دیکھیں تو 1857کا غدر بھلے ہی ناکام ہو گیا تھا، لیکن اس نے ملک کے لوگوں میں ایک امید ضروری جگائی تھی کہ اگر ہم متحد ہو کر اور تیاری کے ساتھ لڑیں تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ حقیقت میں رائٹ ٹو ریجیکٹ کا یہ آپشن بھی ہمیں اسی سوچ کی جانب لے جاتا ہے۔ اس لئے بھلے ہی آئندہ کچھ انتخابات میں اس کے غیر سرکاری نتائج نہ نظر آئیں، لیکن تبدیلی کے اس سلسلہ میں رائٹ ٹو ریجیکٹ کے بعد جس اصلی ہتھیار رائٹ ٹو ری کال کی بات ہو رہی ہے، وہ اسی مطالبہ اور امید کے ساتھ حاصل ہوگا۔
موجودہ انتخابی نظام پر غور کریں تو کئی بار ایسی مثالیں سامنے آتی ہیں، جب یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رائے دہندگان میں ناکارہ امیدواروں کو لے کر غصہ ہے۔جب بیلیٹ پیپر سے انتخابات تو رائے شماری کرنے والے افسران کو کئی ایسے بیلیٹ پیپر ملتے تھے، جن میں لکھا رہتا تھا کہ سب چور ہیں۔ ایسے بیلیٹ پیپر بھی ملتے تھے، جن میں تمام امیدواروں کے سامنے مہر لگی ہوتی تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ رائے دہندگان نے انجانے میں کیا ہے۔ حقیقت میں یہ ان کے اندر کا غصہ ہے ، جسے وہ پولنگ اسٹیشن تک آکر دکھانا چاہتے ہیں۔ اب وہ غصہ دکھانے کا ایک آئینی ذریعہ انہیں مل گیا ہے۔ دوسرا، جب اپنی ناراضگی کو دکھانے کا موقع ملے گا تو اسے ظاہر کرنے کے لئے لوگ باہر آئیں گے۔ اس سے ووٹنگ کے کے فیصلہ میں اضافہ ہوگا۔ ایک اور بڑا اثر جو سب سے مؤثر ہوگا کہ اگر امیدواروں کے ووٹوں کے فیصد میں کمی ہوئی تو ظاہر ہے کہ انہیں عوام پسند نہیں کر رہے ہیں۔ اس لئے سیاسی جماعتیں مجبور ہوں گی کہ آئندہ انتخابات میں وہ ویسے امیدوار کو اتاریں، جس کی شبیہ صاف ہو اور اسے زیادہ رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہو سکے۔ یہیں پر سیاسی جماعتیں ناکام ہو رہی ہیں، جس کے سبب ’’نوٹا ‘‘ ان کے ذہن میں خوف پیدا کر رہا ہے۔ رائے دہندہ بھی یہ سمجھ رہا ہے کہ ’’نوٹا‘‘ دنیاوی ہتھیار نہیں، اخلاقی ہتھیار ہے جو بدلتے وقت کے ساتھ سیاسی پارٹیوں کو صاف شبیہ والے امیدواروں کے ساتھ آگے بڑھنے کو مجبور کرے گا۔
ماہر معیشت رابرٹ ڈہل نے ایک بار کہا تھا کہ ہندوستان میں جمہوریت کے پھلنے پھولنے کی ایک بھی علامت نہیں ہے۔ 66سال گزر گئے اور ہندوستانی جمہوریت نہ صرف پھلتی پھولتی گئی، بلکہ مزید مضبوط ہوتی گئی۔ رابرٹ ڈہل کے اس خیال کو ملک کے عوام کے جمہوری اقداروں کے تئیں عقیدے نے کبھی پھلنے پھولنے نہیں دیا۔ لیکن 66سالوں کی جمہوری تاریخ پر غور کریں تو ملک کے عوام جمہوریت کے اندر کبھی بھی دبائو گروپ کے طور پر نہیں ابھر پائے۔ کچھ حوالات جات جیسے حق اطلاعات اور جن لوک پال جیسے ایشوز کو چھوڑ دیں تو کبھی بھی ہمیں سیاسی فیصلوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ اب رائٹ ٹو ریجیکٹ کی شکل میں ہمیں وہ اخلاقی ہتھیار ملنے جا رہا ہے، جب انتخابی اصلاحات کی سمت میں عوام دبائو گروپ بنانے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ملک کے عوام ایک بار پھر رابرٹ ڈہل کی سوچ کو غلط ثابت کرے گی اور مدھیہ پردیش کے ملتائی اسمبلی حلقہ کے ریٹرنگ آفیسر کی اس غیر جمہوری کوشش کو بھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *