راہل کی ناکامی کانگریس کی مصیبت

روبی ارون 
p-3

کانگریسی لیڈروں کا ایک بڑا طبقہ آج بھی راہل گاندھی کی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں کرتا، لیکن چونکہ سونیا گاندھی نے کانگریس پارٹی کو اس طریقہ سے چلایا ہے کہ راہل کے مقابلہ کوئی دیگر لیڈر پارٹی میں ابھر ہی نہیں سکا۔ لہٰذا، راہل کی قیادت کا اعتراف کرنا ان لیڈروں کی مجبوری بھی بن گئی ، لیکن راہل کی موجودگی پارٹی کے لئے مصیبتیں کھڑی کر رہی ہے۔ راہل گاندھی کے ہر بیان کے بعد جو سیاسی صورتحال پیش آتی ہے ، اس میں ہر کانگریسی یہ سوچ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ کیا کانگریس دوبارہ اقتدار حاصل کر پائے گی؟

سابق وزیرا عظم راجیو گاندھی کے قتل کے بعد گزشتہ 22سالوں میں گاندھی خاندان نے ہندوستانی سیاست میں سیدھے طور پر ملک کی کوئی ذمہ داری نہیں لی ہے، لیکن کانگریس کا چہرہ گاندھی خاندان ہی بنا رہا ہے۔ پارٹی کے لئے سڑک سے اقتدار تک کی جدوجہد بھی گاندھی خاندان نے کی اور اقتدار بے مقصدلیڈروں نے سنبھالا۔شاید یہی وجہ ہے کہ آج کانگریس پارٹی میں راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کے پاس نہ تو کوئی چہرہ بچا ہے اور نہ ہی کوئی تنظیم، لیکن راہل کے ساتھ جو مشکلیں ہیں وہ یہ کہ آج تک راہل گاندھی نے اپنی ایسی کوئی صلاحیت پیش نہیں کی، جس کی بنیاد پر کانگریس کے لیڈروں میں یہ امید جگائی جا سکے کہ راہل گاندھی کے ہاتھوں میں پارٹی کا مستقبل محفوظہے یا پھر راہل کی قیادت میں کانگریس اقتدار حاصل کر سکتی ہے۔ صورتحال بے حد نازک ہے اور 2008کے بالکل برعکس بھی ہے۔2008میں کانگریس نے چھ سال سے چل رہی این ڈی حکومت کو للکارا تھا اور اپنے برانڈ کے دم پر اقتدار حاصل کیا تھا، لیکن اب تقریباً دس سالوں بعد صورتحال بالکل الگ ہے۔ اب ملک کے لوگ برانڈ سیاست کو ترجیح نہیں دیتے ۔ جس طرز پر امریکہ میں بش اور کینیڈی کے برانڈزکا خاتمہ ہو چکا ہے اسی طرز پر ہندوستان میں بھی نہرو-گاندھی نام کے لیبل کی چمک ماند پڑ چکی ہے۔ اس کے باوجود راہل اپنے خاندان کے نام کی سیاست کرتے نظر آ رہے ہیں۔ قومی مسائل اور عوام کے مفادات سے وابستہ مدعوں سے ہٹ کر انتخاباتی ریلیوں میں وہ اپنی دادی اور والد کویاد کرتے ہوئے سنے جاتے ہیں، جس پر انہیں ہمدردی کم ملتی ہے اور ان کا مذاق زیادہ اڑایا جاتاہے۔ یہ سب عوامی رجحان میں تبدیلی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ جس کی سمجھ کانگریس کے لیڈروں یا راہل گاندھی کے صلاح کاروں میں نہیں ہے۔ ہندوستان میں فی الحال جو ووٹرس ہیں، ان میں بیشتر کی پیدائش 1975کے بعد ہوئی ہے۔ ان رائے دہندگان کے لئے اندرا گاندھی، جواہر لعل نہرو اور کم و بیش راجیو گاندھی بھی ایک تاریخی کردار کی طرح ہیں۔ جن سے آج کے رائے دہندگان ترغیب لینا مناسب نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ اتر پردیش انتخابات میں راہل گاندھی اپنی پارٹی کے امیدواروں کو ان علاقوں میں بھی جیت نہیں دلا سکے، جو علاقے روایتی طور پر ان کے خاندان کے حامی رہے ہیں۔کانگریسی لیڈروں کا ایک بڑا طبقہ آج بھی راہل گاندھی کی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں کرتا، لیکن چونکہ، سونیا گاندھی نے کانگریس پارٹی کو اس طرح چلایا ہے کہ راہل کے مقابلے کوئی دیگر لیڈر پارٹی میں ابھر ہی نہیں سکا۔ لہٰذا راہل کی قیادت کا اعتراف کرنا ان لیڈروں کی مجبوری بھی بن گئی، لیکن راہل کی موجودگی پارٹی کے لئے مصیبتیں کھڑی کر رہی ہے۔ راہل گاندھی کے ہر بیان کے بعد جو سیاسی صورتحال پیش آتی ہے ، اس پرہر کانگریسی یہ سوچ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ کیا کانگریس اقتدار میں واپسی کر پائے گی؟ کانگریسی قیادت جس دور سے گزر رہی ہے،ا س میں کانگریس کا ہاتھ کتنا خالی رہ جائے گا۔ کیونکہ راہل گاندھی سیاست کے جو بھی دائو پیچ آزماتے ہیں، ان سے انہیں فائدہ کم نقصان زیادہ ہو جاتا ہے۔راہل گاندھی پارٹی کے لئے نہیں بلکہ خود کے لئے جدو جہد کرتے نظر آتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے دوسرا کوئی دیگر کانگریسی لیڈر۔ راہل کی باتوں میں، ان کی سیاست میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کہیں نہیں ہوتے، بالکل اسی طرزپر جس طرح منموہن سنگھ کے ایجنڈے میں راہل گاندھی کی جگہ نہیں ہوتی۔ راہل گاندھی کو اگر اقتدار حاصل کرنا ہے تو کانگریس کو اکثریت میں آنا ہوگا، لیکن فی الحال ایسی کوئی صورت نظر آ رہی ہے، کیونکہ عام لوگوں کا کوئی خاص رجحان راہل گاندھی کی طرف نظر نہیں آ رہا ہے۔

اب ملک کے لوگ برانڈ سیاست کو ترجیح نہیں دیتے۔ جس طرز پر امریکہ میں بش اور کینیڈی کے برانڈز کا خاتم ہو چکا ہے اسی طرز پر ہندوستان میں بھی نہرو-گاندھی نام کے لیبل کی چمک ماند پڑ چکی ہے۔ اس کے باوجود راہل گاندھی اپنے خاندان کے نام کی سیاست کرتے نظر آ رہے ہیں۔ قومی مسائل اور مفاد عامہ سے وابستہ مدعوں سے ہٹ کر، انتخابی ریلیوں میں وہ اپنی داد ی اور والد کو یاد کرتے ہوئے سنے جاتے ہیں۔

 

راہل گاندھی کی ریلیوں میں بھیڑ جمع نہیں ہو پا رہی ہے۔ وہ جہاں جا رہے ہیں، انہیں عوام کے غصہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس اتر پردیش میں کانگریس نے اپنی نظر یں لگا رکھی ہیں ، وہاں صورتحال اور بھی خراب ہے۔ اب تک علی گڑھ، رامپور،ہمیرپور اور سلیم پور میں ہوئی چار ریلیوں میں پارٹی کے مطابق بھیڑ کم تھی۔ علی گڑھ اورہمیرپور میں بھیڑاطمینان بخش نہیں تھی۔ وہاں تقریباً 20ہزار یا اس سے بھی کم لوگ پہنچے تھے۔ اس کے برعکس رامپور اور سلیم پور میں پچاس ہزار کی بھیڑ موجود تھی۔حمیر پور میں آئی کم بھیڑ کو راہل نے بھی نوٹس کیا تھا۔ پارٹی نے اس کی ذمہ داری جھانسی کے ممبر پارلیمنٹ اور وزارت دیہی ترقیات میں صوبائی وزیر پردیپ جین کے ساتھ کانگریس ممبر اسمبلی گیادین، وویک کمار سنگھ اور دلجیت سنگھ کے سپرد کی تھی، لیکن وہ ریلی میدان کو بھر بھی نہیں پائی۔ جبکہ اب تک ہوئی راہل کی یہ چاروں ریلیاں کانگریس کی حکمت عملی کے حساب سے بے حدخاص تھیں کیونکہ 2009کے انتخابات میں ان چاروں جگہوں میں سے تین میں کانگریس دوسرے اور ایک میں تیسرے نمبر پر تھی۔ہمیرپور، سلیم پور اور رامپور میں کانگریس دوسرے نمبر پر تھی جبکہ علی گڑھ میں چودھری برجیندر سنگھ 23.95فیصد ووٹ لا کر بھی ہار گئے تھے، وہیں حمیر پور میں سدھ گوپال ساہو کو بی ایس پی کے وجے بہادر سنگھ نے ہرا دیا تھا اور سلیم پور میں بھولا پانڈے کو بی ایس پی کے ہی رام شنکر راجبھر نے شکست دی تھی۔
جموں میں راہل کی ریلی ہوئی۔ وہاں راہل کی تقریر کے درمیان میں ہی سرپنچوں نے باغی رخ اختیار کر لیا۔ بہار کے چپر ضلع میں راہل گاندھی کے جلسہ میں خوب ہنگامہ ہوا۔ مانجھی اسمبلی حلقہ میں پرچار کر رہے راہل کے سامنے ہی لوگ ان کے خلا ف نعرے بازی کرتے رہے۔ مدھیہ پردیش میں راہل نے جیوتی رادتیہ سندھیا کے ساتھ ساگر کے رہتگڑھ اور اندور میں ریلیاںکیں، لیکن وہاں بھی امید سے کم لوگ جمع ہوئے۔ راہل بندیل کھنڈ گئے، انہیں اور پارٹی لیڈروں کو امید تھی کہ یہاں کے لوگ ان کا ساتھ دیں گے اور ریلی میں جم کر اپنی موجودگی درج کرائیں گے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ راہل کے ہیلی کاپٹر نے لینڈ کرنے سے قبل ریلی کے مقام کے کئی چکر لگائے تاکہ بھیڑ جمع ہو سکے ، لیکن یہ محنت بھی کام نہ آئی اور وہاں بیس ہزار سے بھی کم لوگوں کی موجودگی رہی۔راہل گاندھی کے آنے کے بعد ریلی کی نظامت کر رہے ونود چودھری نے جے جے کے نعرے لگوانے چاہے لیکن بھیڑ نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ فضیحت ہوتی دیکھ ونود چودھری خاموش ہو گئے، اس کے بعد پھر کسی کانگریسی لیڈر کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اسٹیج پر آ کر راہل گاندھی زندہ باد کے نعرے لگائے اور بھیڑ سے لگانے کو کہے۔ دہلی میں ہونے والی ریلی کے لئے ہر کانگریسی لیڈر کو ایک ہدف دیا گیا کہ ہر ایک لیڈر کو شہر سے ایک ہزار اور دیہاتوں سے 5100کارکنان لانے ہیں۔ اندور سے دہلی ایک اسپیشل ٹرین بھی چلائی گئی، لیکن اس میں پہلے دن صرف پندرہ کانگریسی کارکن ہی سوار ہوئے۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر سنگھ ہڈا نے بھی اپنا پورا زور لگا دیا۔ پھر بھی نتائج ولولہ خیز نہیں رہے۔
اب تو کانگریسی لیڈر بھی بھیڑ جمع کرنے کے جھمیلے میں پڑنا نہیں چاہتے۔ بات چیت کے درمیان ایک سینئر کانگریسی لیڈر نے کہا کہ وہ اپنے اپنے انتخابی حلقہ کے لوگوں سے بھی اگر ریلی میں آنے کی گزارش کرتے ہیں تو الٹے انہیں سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں سے ترقی کے سارے کام ٹھپ پڑے ہیں،بجلی کا بل بڑھ گیا، پانی نہیں آ رہا ہے، سبزی اور دودھ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، ایسے میں وہ کانگریس کی ریلی میں کیوں جائیں۔
ظاہر ہے کانگریس اور راہل گاندھی کے لئے حالات بے حد دشوار ہیں۔راہل تو ملک کے عوام پر بھروسہ جتا رہے ہیں، لیکن ملک کا ان پر بھروسہ ختم ہو چکا ہے۔ کم سے کم موجودہ صورتحال دیکھ کر تو یہی لگتا ہے۔بطورممبر پارلیمنٹ راہل گاندھی نے تقریباً نوسال کا وقت گزارا ہے، لیکن ان کے کھاتے میں ایک بھی قابل ذکر کام نہیں ہے۔ اپنے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور حرکتوں کی وجہ سے وہ اکثر تنازعات میں ضرور آ جاتے ہیں۔مخالفین پر الزام عائد کرتے ہوئے راہل کوئی ایسی بات نہیں کہتے، جسے سن کر یہ لگے کہ ان کے پاس ملک کے بہتر مستقبل کو لے کر کوئی منصوبہ ہے۔پارٹی کے لیڈر بھلے ہی یہ بات کہتے رہے ہوں کہ راہل گاندھی کی قابلیت پر انہیں بھروسہ ہے، لیکن راہل نے کبھی ایسی پہل نہیں کہ جس سے یہ احساس ہو کہ انہیں خود پر بھروسہ ہے۔ راہل نے ابھی تک کوئی ذمہ داری بھرا کام نہیں کیا ہے۔
نہ صرف راہل بلکہ ان کی والدہ سونیا گاندھی نے بھی گزشتہ ایک دو سالوں میں کوئی قابل تعریف کام نہیں کیا ہے۔ سونیا گاندھی کی ناکامی یہ رہی کہ انھوں نے قومی سطح پر پارٹی کا کوئی نیا چہرہ قائد کے طورپر ابھرنے نہیں دیا اور نہ ہی راہل گاندھی کو حکومت اور پارٹی کے اعلیٰ عہدہ کے قابل بنا سکیں۔ سونیا گاندھی کے ارد گرد وہی پرانے لوگوں کی فوج ہے یا پھر نئے لوگوں میں وہ لوگ شامل ہیں جو کسی نہ کسی کے سیاسی وارث ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں بھی پارٹی مسلسل شکست کا سامنا کر رہی ہے اور بطور پارٹی صدر سونیا گاندھی کچھ خاص نہیں کر پا رہی ہیں۔ راہل گاندھی کے نام کے بعد اگر کسی نئے نام کا ذکر قائد کے طور پر ہوتا ہے تو وہ ہیں سونیا گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی۔ اگر حصولیابیوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ بھی صفر ہی نظر آتی ہیں۔ رابرٹ واڈرا کی بیوی ہونا بھی پرینکا کے لئے سیاسی راہوں میں کانٹیں ہی بچھاتا ہے۔ رہی سہی کسر راہل اور سونیا کے صلاحکاروں کی ٹولی پوری کر دیتی ہے، جو انہیں ہمیشہ عوام مخالفت مشورے ہی دیتی ہے۔
آج کانگریس جن مشکلات سے گھری ہے، اس کے لئے اس کے غلط سیاسی فیصلے ہی ذمہ دار ہیں۔فی الحال سیاسی صورتحال اور لوگوں کی کانگریس کے تئیں ناراضگی کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا واقعی اب ہندوستان کی سیاسی تصویر میں گاندھی خاندان 2014کے عام انتخابات کے بعد حاشیہ پر سمٹ کر رہ جائے ؟ یا پھر 90کی دہائی میں بے حد مشکل حالات سے گھری سونیا گاندھی نے اپنے خاندان کی واپسی ہندوستان جمہوریت میں کرائی تھی، ویسا ہی کوئی چمتکار وہ دوبارہ کر پائیں گی اور اپنے بیٹے کے وزیر اعظم بننے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر پائیں گی؟

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *