راہل اور مودی میں سے کس کا جادو چلے گا

روبی ارون 

آنے والا لوک سبھا الیکشن کانگریس اور بی جے پی کی بجائے نریندر مودی اور راہل گاندھی پر آکر ٹک گیا ہے۔ دونوں کے لیے ہی یہ الیکشن ان کے وجود کا سوال بن چکا ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ کس کا جادو چلے گا؟ مودی کا یا راہل کا؟ راہل گاندھی کو لوگ پختہ لیڈر کے روپ میں قبول کرنے کو راضی نہیں ہیں، تو وہیں مودی کی ملک گیر مقبولیت سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ ایسے ماحول میں خود کو ثابت کرنے کی خاطر راہل گاندھی اور نریندر مودی، دونوں ہی اپنی اپنی حکمت عملیوں سے ایک دوسرے کو پٹخنی دینے کی فراق میں ہیں۔

p-5سطحی طور پر دیکھیں، تو نریندر مودی اور راہل گاندھی کی سیاسی جنگ میں فی الحال نریندر مودی کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی وجہیں ہیں۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے وزیر اعظم کے امیدوار نریندر مودی اپنی تقریروں کے ذریعے جب بھی کانگریس پر وار کرتے ہیں اور سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو للکارتے ہیں، تب ملک کے لوگ اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ شاید اب راہل، مودی کی للکار کا جواب دیں گے اور پارٹی اور سرکار کی بات رکھیں گے۔ لیکن عموماً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ مودی ایک کے بعد دوسرا وار کرتے ہیں اور جواب میں راہل کی جگہ کانگریس کا کوئی اور لیڈر مورچہ سنبھالتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تب ایک سوال فطری طور پر ذہن میں آتا ہے کہ آخر کار کیوں کانگریس یا راہل نریندر مودی کے آمنے سامنے ہونے سے بچ رہے ہیں؟ کانگریس مودی کی ہی طرح کیوں نہیں اپنی پوری طاقت سے انتخابی جنگ میں اتر رہی ہے؟
کانگریس کے حکمت سازوں کے حوالے سے جو خبر آ رہی ہے، اس کے مطابق کانگریس ابھی جان بوجھ کر خاموش ہے۔ یہ راہل کی حکمت عملی ہے۔ راہل کو انتظار ہے نریندر مودی کی توانائی کے ختم ہو جانے کا۔ نریندر مودی نے اس وقت اپنے حق میں ماحول کرنے میں زیادہ تر توانائی جھونک دی ہے اور وہ پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اتر کر کانگریس کی گھیرابندی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ چونکہ لوک سبھا الیکشن میں تقریباً سات ماہ کا لمبا وقت باقی ہے اور کانگریس کو یہ لگتا ہے کہ اس درمیان نریندر مودی کی رفتار دھیمی پڑ جائے گی، ساتھ ہی مدعوں کی کمی بھی ہو جائے گی۔ لوک سبھا الیکشن آنے تک نریندر مودی کے ذریعے دی جانے والی دوہراؤ جارحانہ تقریروں سے بھی ملک کے عوام اوب چکے ہوں گے۔ تب لوگوں کو نیاپن چاہیے ہوگا۔ ایسے میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اپنے گیم چینجر پروگرامس کے ساتھ عوام کے سامنے آندھی کی طرح نازل ہوں گے اور ملک پر چھا جائیں گے۔ ابھی مہینے دو مہینے کانگریس خاموش ہی رہے گی اور مودی کے ذریعے لگائے گئے الزامات کے جواب کا پلندہ تیار کرے گی، تاکہ جب راہل ملک کے سامنے اگلے وزیر اعظم کے طور پر کھڑے ہوں، تو وہ سارے الزامات کا جواب دے سکیں۔ اس درمیان سرکار عوامی فلاح کی کئی اور اسکیموں کو نافذ کرے گی، ساتھ ہی پہلے پاس کیے جا چکے بلوں پر بھی عمل کیا جائے گا۔ کوئلہ گھوٹالے سمیت دیگر کئی گھوٹالوں کی سی بی آئی جانچ جس رفتار سے چل رہی ہے اور بڑے سیاسی لیڈروں سمیت وزیر اعظم کو بھی نامزد کیے جانے کی باتیں اٹھنے لگی ہیں، اس میں بہت ممکن ہے کہ بدعنوانی اور گھوٹالوں کے الزام جھیل رہی سرکار کے وزیر اور لیڈر سزایافتہ ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں۔ یہ صورتِ حال راہل گاندھی کے لیے بے حد مفید ہوگی اور وہ اسے بھی عوام کے درمیان بھنا سکتے ہیں۔ چونکہ راہل گاندھی نے پہلے ہی داغی ممبرانِ پارلیمنٹ اور ممبرانِ اسمبلی کے الیکشن لڑنے سے متعلق بل کے پاس ہونے پر اپنا اعتراض جتا دیا ہے۔
سرکار نے فوڈ سیکورٹی بل پہلے ہی پاس کر دیا ہے۔ لوک سبھا الیکشن آتے آتے اس کے لاگو ہو جانے کا پورا امکان ہے۔ افراطِ زر میں حالانکہ امید کے مطابق تیزی نہیں آئی ہے، لیکن اقتصادیات کے سامنے کھڑا بحران فوری طور پر ٹل چکا ہے۔ سرکار نے دیر سے ہی سہی، چلتے چلتے اقتصادی لبرلائزیشن کے فیصلے لینے شروع کر دیے ہیں۔ تحویل اراضی قانون کی وجہ سے دہلی کے آس پاس کے علاقوں میں تعمیراتی کام شروع ہوں گے، تو اقتصادی سرگرمیاں بھی تیزی سے شروع ہو ںگی۔
کانگریس کی یہ حکمت عملی کتنی کارگر ہوگی، اس پر فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے، لیکن اگر کانگریس نے اپنے ذریعے بنائے گئے منصوبہ پر صحیح سے عمل کر لیا، تو نریندر مودی اور بی جے پی کی دشواریاں بڑھ سکتی ہیں، کیوں کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات بھی ہیں۔ یہی انتخابات طے کریں گے کہ نریندر مودی کی گجرات کے باہر، ملک کی دوسری ریاستوں میں کتنی پکڑ ہے۔ اگر اِن پانچ ریاستوں میں بی جے پی کو امید کے مطابق کامیابی نہیں ملی، جیسا کہ کرناٹک میں ہوا، تو لوک سبھا انتخابات کے مد نظر بی جے پی کے لیے یہ نیک فال نہیں ہوگا۔ پہلے بھی جب پارٹی نے نریندر مودی کو مہاراشٹر اور گوا، دمن و دیو کی ذمہ داری دی تھی، تب بی جے پی کو امید کے مطابق کامیابی نہیں ملی تھی، جب کہ ان انتخابات میں مودی مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ نہیں گئے تھے، تو وہاں پارٹی نے بہتر مظاہرہ کیا تھا۔ پچھلے سال بھی نریندر مودی اتراکھنڈ نہیں گئے، لیکن پارٹی نے وہاں کانگریس کو زوردار ٹکر دی۔ بہار نے بھی پچھلے سالوں میں بی جے پی کو کئی سیٹیں دی ہیں۔ وہاں بھی نریندر مودی کبھی پرچار کے لیے نہیں گئے تھے۔ 2011 کے انتخابات میں مودی کا کوئی کرشمہ کام نہیں آیا، بلکہ اس کی سیٹیں پہلے سے بھی آدھی ہو گئیں۔ سال 2007 میں بھی نریندر مودی کو سنگھ نے اتر پردیش کے انتخابات میں اسٹار کمپینر کے روپ میں اتارا تھا۔ وہاں بی جے پی چوتھے نمبر پر پہنچ گئی۔ جنوبی ہند کی چار ریاستوں میں بی جے پی کی کوئی زمینی پکڑ نہیں ہے، جب کہ کانگریس کی جڑیں وہاں مضبوط ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں میں بھی بی جے پی کا تقریباً یہی حال ہے۔ یو پی، بہار، اڑیسہ اور مغربی بنگال میں بھی علاقائی پارٹیوں کا ہی بول بالا رہے گا۔ ظاہر ہے، حالات بی جے پی کے موافق نہیں ہیں۔
این ڈی اے بھی تقریباً بکھر چکا ہے۔ جن علاقائی پارٹیوں سے بی جے پی اتحاد کرنا چاہتی ہے، ان پارٹیوں کے ساتھ بات نہیں بن پا رہی ہے۔ نریندر مودی کی خاص دوست مانی جانے والی تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للتا بھی این ڈی اے اتحاد میں شامل ہونے کے لیے راضی نہیں ہیں۔ وہ تیسرے مورچہ کے امکان کے تحت جے ڈی یو صدر شرد یادو سے ملنے جلنے میں مصروف ہیں۔ اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ بھی مودی اور راہل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کی کوشش ہے کہ تیسرے مورچہ کی تشکیل ہو۔ ملائم، ممتا اور مایاوتی کو بھی نریندر مودی سے ہاتھ ملانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ملائم سنگھ یادو تیسرے مورچہ کی تشکیل کی بھرپور کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں این ڈی اے کے انتخاب سے قبل اتحاد میں کوئی جان ہوگی، اس میں شک ہے۔ ہاں، الیکشن کے بعد نتائج کی بنیاد پر نیا اتحاد بن سکتا ہے، اس کی گنجائش ضرور ہے۔
ان حالات میں بھی بی جے پی جیت چاہتی ہے، تو اسے پوری طرح اپنے کارکنوں کے اتحاد اور انتظامی ڈھانچے کا ہی سہارا ہوگا۔ لیکن فی الحال بی جے پی اس معاملے میں بھی بیک فٹ پر ہے۔ پارٹی کے اعلیٰ لیڈروں کے درمیان آپسی رنجش کی خبریں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ لال کرشن اڈوانی اور سشما سوراج ہی نہیں، بلکہ شیو راج سنگھ چوہان اور رمن سنگھ بھی نریندر مودی کے نام پر خود کو بے بس مانتے اور بتاتے رہے ہیں۔ لوک سبھا الیکشن میں جیت حاصل ہو، اس کی خاطر بی جے پی کو ہر حال میں اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی، ورنہ کارکنوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور پارٹی کی خراب ہوتی حالت کا ذمہ دار نریندر مودی کو ہی ماناجائے گا، جس کی وجہیں بھی ہیں۔ جب نریندر مودی کو بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بنائے جانے کی تیاری ہو رہی تھی، تب پارٹی کے ایک گروپ کے لیڈروں کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کے نام کا اعلان اسمبلی انتخابات کے بعد کیا جائے، ورنہ بی جے پی کو ان ریاستوں میں ہار مل سکتی ہے، جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر مدھیہ پردیش اور راجستھان۔ مدھیہ پردیش کی تقریباً 39 سیٹوں پر اور راجستھان کی 70 سیٹوں پر مسلم ووٹروں کا اثر ہے۔ مودی کی مخالفت کر رہے ان لیڈروں کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کے طور پر نریندر مودی کے نام کا اعلان کرنے سے ان جگہوں پر مسلم ووٹر چھٹک سکتا ہے۔
بہرحال، اس لحاظ سے دیکھیں تو کانگریس پارٹی تنظیم کی سطح پر فی الحال بی جے پی سے بہتر حالت میں نظر آ رہی ہے۔ کانگریس نے راہل گاندھی کو ساری ذمہ داری دے دی ہے، لیکن جان بوجھ کر بالواسطہ طور پر راہل کے نام کا اعلان کانگریس کے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر نہیں کیا ہے۔ کانگریس کے سرکردہ لیڈروں میں آپسی رسہ کشی کا وہ عالم نہیں ہے، جو بی جے پی میں ہے۔ کانگریس نے حالیہ دنوں میں کچھ کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ کرناٹک، ہماچل اور اتراکھنڈ میں وہ کامیاب رہی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ کانگریس کو یہ کامیابی بی جے پی کی آپسی گروہ بندی کی وجہ سے ملی ہے، کیوں کہ گزشتہ 9 برسوں میں سرکار چلا رہے یو پی اے پر سنگین الزامات لگے ہوئے ہیں۔ سرکار بدعنوان ہے۔ گھوٹالے بازوں کی سرکار ہے۔ سرکار قومی اور عوامی مفادات کی حفاظت نہیں کر پا رہی ہے۔ سرکار پر لگے یہ الزام بی جے پی اور این ڈی اے کے لیے مرکزی اقتدار پر قابض ہونے کا ایک بڑا موقع مہیا کراتے ہیں۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے، جب بی جے پی اس موقع کا استعمال سنگھ کے اثر میں آکر محض ہندوتوا وادی سیاست کا پرچم لہرانے کے لیے نہ کرے۔ اس کے لیے بی جے پی کو فوری طور پر لوک سبھا انتخابات کے لیے اپنے قومی ایجنڈے کا اعلان کرنا ہوگا، تاکہ ملک کے لوگوں کے بیچ کی ہندوتوا بنام سیکولرازم کی بھرم کی حالت ختم ہو سکے۔ ہندوتوا بنام سیکولرازم کی لڑائی میں ظاہرہے، دو ہی پارٹیاں آمنے سامنے ہیں، بی جے پی اور کانگریس۔ موجودہ حالات میں باقی پارٹیوں کا ہونا، نہ ہونا ایک جیسا ہی ہے، جب تک کہ مضبوط تیسرے مورچہ کی تشکیل عمل میں نہ آجائے۔ حالانکہ ملک میں 1967 سے ہی ایسے سیاسی متبادل کی تلاش شروع ہو چکی ہے، جس نے الگ الگ وقت میں متعدد شکلیں بھی اختیار کی ہیں، لیکن وہ بی جے پی یا کانگریس کا متبادل نہیں بن سکے۔
موجودہ ماحول میں تیسرے مورچہ کے بے پناہ امکانات ہیں، لیکن علاقائی، لسانی، شمال و جنوب، فرقہ وارانہ مسئلوں پر آکر یہ امکانات بکھر جا رہے ہیں اور آخر میں سارا سیاسی کھیل پھر آکر مودی یا راہل پر ٹک جا رہا ہے۔ جب بات ملک بھر کی ہو، تو کیا مودی اور کیا راہل، دونوں ایک ہی پلڑے میں نظر آتے ہیں۔ ایسے میں سوال پھر وہیں اپنی جگہ ہے کہ راہل یا مودی؟ کس کا جادو چلے گا؟

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *