نیرا راڈیا ٹیپ سے سپریم کورٹ بھی حیران: جلد ہی چند بڑے ناموں کا ہوگا پردہ فاش

روبی ارون 
p-3ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل ہونے کے شک میں ملک کی سرکردہ صنعتی کمپنیوں کی سب سے طاقتور لابیسٹ رہیں نیرا راڈیا کے فون کی ٹیپنگ 16 نومبر، 2007 کو وزارتِ خزانہ کے حلف نامہ کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی۔ تب کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس فون ٹیپنگ کی جانچ سے ملک کے کچھ میڈیا گھرانے، اقتدار اور کارپوریٹ لابی کے اتحاد کا حیران کر دینے والا انکشاف ہوگا، جس سے ملک کے کئی جانے مانے صنعت کار، میڈیا کے کچھ بڑے چہرے اور کئی مرکزی وزیر اور لیڈر ایک ہی حمام میں ننگے کھڑے نظر آئیں گے۔ نیرا راڈیا، سرکاری افسروں اور ریلائنس گروپ کے افسروں کے درمیان ہوئی بات چیت کی تفصیل جان کر سپریم کورٹ بھی سکتے میں ہے۔ سرکاری افسروں اور صنعت کاروں نے مل کر غلط طریقے سے سرکار اور انتظامیہ کے ساتھ اربوں روپے کی دھوکہ دھڑی کی ہے، اس کا انکشاف راڈیا ٹیپ کانڈ سے ہوا ہے۔ اس ٹیپ کی معرفت جو ثبوت سپریم کورٹ کو ملے ہیں، اس کی بناپر اس بات کا امکان ہے کہ سی بی آئی کی جانچ سے جلد ہی ریلائنس گروپ کی گڑبڑیوں پر سپریم کورٹ کا عتاب نازل ہو سکتا ہے۔
اب، جب کہ سی بی آئی نے نیرا راڈیا ٹیپ معاملے میں ابھی تک تیرہویں انکوائری درج کر لی ہے اور اس بابت انکم ٹیکس کے ایک سینئر آفیسر سے پوچھ گچھ بھی شروع کر دی ہے، تب اور بھی ایسے کئی سنسنی خیز انکشافات ہو رہے ہیں، جو آنے والے دنوں میں ہندوستان کے سیاسی، صنعتی اور میڈیا گلیارے میں ہنگامہ کھڑا کر سکتے ہیں، جس کی شروعات بھی ٹاٹا گروپ کے سابق صدر رتن ٹاٹا کی سپریم کورٹ میں پیشی سے ہو چکی ہے۔ نیرا راڈیا پر محض ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ہی شامل ہونے کا الزام نہیں لگا تھا، بلکہ وہ بیجا طریقے سے خام لوہے کی کانکنی اور کوئلہ بلاک کی تقسیم جیسے الزامات سے بھی گھری ہوئی ہیں۔ نیرا راڈیا کے ان ٹیپوں میں راڈیا کی مختلف سیاسی لیڈروں، نوکرشاہوں اور صنعت کاروں سے ٹیلی فون پر بات چیت ریکارڈ ہے۔ عدالت سے سی بی آئی سے اس معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ دو ماہ میں پیش کرنے کو کہا ہے۔ جب نیرا راڈیا کے فون ٹیپ کرنے کا حکم انکم ٹیکس کے ڈائرکٹریٹ جنرل نے دیا تھا، تب نیرا راڈیا پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے صرف 9 سال کی چھوٹی سی مدت میں 300 کروڑ روپے کی ایک بڑی ملکیت غلط طریقے سے کھڑی کر لی تھی۔ سال 2008 میں نیرا راڈیا کی سرگرمیوں کے بارے میں شکایت ملنے پر محکمہ انکم ٹیکس نے ان کے فون کو سرویلانس پر ڈال دیا تھا۔ بات چیت میں ٹو جی اسپیکٹرم کی تقسیم اور سابق وزیر مواصلات اے راجا کا ذکر ہونے کے سبب سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ نے اس کی جانچ بھی کی تھی۔ لیکن ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے سے سیدھا جڑا نہیں ہونے کے سبب راڈیا کو کلین چٹ مل گئی تھی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس نے نیرا کے فون کی شروعاتی ٹیپنگ ٹیکس کی چوری کے امکان کے مد نظر کی تھی۔

نیرا راڈیا اور کئی جانی مانی ہستیوں کے درمیان ہوئی بات چیت کے ٹیپ کیے گئے حصوں سے جڑے چار مدعوں کی جانچ سی بی آئی شروع کر چکی ہے۔ راڈیا پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹاٹا پاور اور مکیش امبانی جیسے اپنے صارفین کو فائدہ پہنچانے کے لیے صحافیوں اور ایڈیٹروں پر دباؤ بنایا۔ ٹیپ میں ان کی بات چیت کو کمپنیوں کو اسپیکٹرم کی تقسیم، قدرتی وسائل کی تقسیم اور امبانی برادران کے درمیان قانونی لڑائی جیسی سرخیوں کے تحت الگ الگ رکھا گیا ہے۔

انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے 2008-09 کے دوران کوئلہ بلاک کی تقسیم کے ایشو پر ایک اخبار کے ایڈیٹر کے ساتھ راڈیا کی بات چیت کو ٹیپ کیا تھا۔ اسی ٹیپ کو بنیاد بناکر سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سی بی آئی جانچ کا حکم دیا ہے۔ راڈیا پر صرف انل دھیرو بھائی امبانی گروپ (اے ڈی اے جی) کو کوئلہ بلاک کی تقسیم کرانے کے بھی الزام ہیں۔
ٹاٹا گروپ اسٹیل سیکٹر کا سب سے بڑا انویسٹر ہے اور جھارکھنڈ میں خام لوہے کی کانوں کی ایک بھی تقسیم ٹاٹا اسٹیل کے مفادات کو متاثر کر سکتی تھی۔ اس سے پہلے، خام لوہے کی کانوں کے لیے اے ڈی اے جی گروپ کی درخواست کو جانچ کے دائرے سے باہر رکھنے کا فیصلہ لیا گیا تھا، کیوں کہ راڈیا ٹیپ معاملے سے اس ایشو کا کوئی واضح تعلق دکھائی نہیں دیا تھا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اب اسے وزارتِ کانکنی کے پاس بھیج دیا ہے، تاکہ وزارت کے چیف وجیلنس آفیسر پورے معاملے پر غور کرکے مناسب کارروائی کر سکیں۔
ریلائنس پاور کو مدھیہ پردیش میں واقع اس کے الٹرا میگا پاور پروجیکٹ (یو ایم پی پی) کے لیے کوئلہ بلاک کی تقسیم پر نہ صرف سی اے جی نے انگلی اٹھائی ہے، بلکہ کارپوریٹ لابیسٹ نیرا راڈیا نے بھی اپنے بیان میں حیرت انگیز انکشاف کیا ہے۔ ٹاٹا گروپ اور دیگر کمپنیوں کے لیے لابنگ کرنے والی راڈیا نے بتایا ہے کہ سرکار سے اضافی کوئلہ کے استعمال کے لیے منظوری حاصل کرنے کے لیے ان کی کمپنی رشوت خوری اور دباؤ کا استعمال کرتی تھ۔
نیرا راڈیا اور کئی جانی مانی ہستیوں کے درمیان ہوئی بات چیت کے ٹیپ کیے گئے حصوں سے جڑے چار مدعوں کی جانچ سی بی آئی شروع کر چکی ہے۔ راڈیا پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹاٹا پاور اور مکیش امبانی جیسے اپنے صارفین کو فائدہ پہنچانے کے لیے صحافیوں اور ایڈیٹروں پر دباؤ بنایا۔ ٹیپ میں ان کی بات چیت کو کمپنیوں کو اسپیکٹرم کی تقسیم، قدرتی وسائل کی تقسیم اور امبانی برادران کے درمیان قانونی لڑائی جیسی سرخیوں کے تحت الگ الگ رکھا گیا ہے۔
سی بی آئی نے ٹرائی کے سابق سربراہ پردیپ بیجل سے راڈیا کی بات چیت کے معاملے میں بھی ابتدائی جانچ کا معاملہ درج کیا ہے۔ اس بات چیت میں مبینہ طور پر پائپ لائن صلاح کار کمیٹی کے صدر کے طور پر بیجل کی تقرری کی باتیں کی گئی ہیں، تاکہ اپنی تعیناتی کے بعد وہ مبینہ طور پر ریلائنس انڈسٹریز کو فائدہ پہنچا سکیں۔ سی بی آئی نے اس ابتدائی جانچ میں بیجل اور راڈیا کو نامزد کیا ہے۔ سی بی آئی نے ریلائنس کمیونی کیشنز کے ذریعے بی ایس ای اور ٹرائی کو اعلان شدہ ڈاٹا بیس میں مبینہ گڑبڑی سے جڑی راڈیا کی بات چیت کے معاملے میں بھی ابتدائی جانچ شروع کی ہے اور اس معاملے میں ریلائنس کمیونی کیشنز کو نامزد کیا گیا ہے۔ سی بی آئی کے الزام کے بعد ریلائنس کمیونی کیشنز سپریم کورٹ کی جانچ کے دائرے میں آ گئی ہے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ آر کام نے لائسنس فیس بچانے کے لیے ٹرائی اور اسٹاک ایکسچینجوں کو اپنے صارفین کی تعداد سے متعلق غلط اعداد و شمار دیے تھے۔
اس سلسلے میں اس وقت کے وزیر مواصلات اے راجا نے 2009 میں لوک سبھا میں بھی کہا تھا کہ آر کام اور اس کی دیگر معاون اکائیوں نے بھی 2006-07 اور 2007-08 کے دوران ٹرائی کو اپنے ریونیو کی غلط جانکاری دی، تاکہ لائسنس فیس کی ادائیگی سے بچا جا سکے۔ اس ٹیلی کام کمپنی نے قریب 1000 سے 1500 کروڑ روپے کم ریونیو کی جانکاری دی، جس سے سرکاری خزانے کو قریب 250 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
ٹیلی کام آپریٹروں کو بطور لائسنس فیس ان کی کل مالیت کی ایک فیصد رقم کی ادائیگی کرنی تھی۔ اس لیے کم مالیت دکھاکر لائسنس فیس میں کمی کی جاسکتی تھی۔ ٹرائی نے 2009 میں ٹیلی کام ڈپارٹمنٹ کو 5 آپریٹروں کے 2006 سے 2008 کے مالی بہی کھاتوں کا اسپیشل آڈٹ کرنے کے لیے کہا تھا۔ ٹرائی نے شک ظاہر کیا تھا کہ اس دوران ان آپریٹروں نے اپنی مالیت کے بارے میں شاید غلط جانکاری دی ہے۔ سرکاری آڈیٹر نے اپنی رپورٹ میں آر کام پر الزام لگایا کہ اس دوران کمپنی نے لائسنس فیس اور اسپیکٹرم فیس میں قریب 315 کروڑ روپے کی چوری کی ہے۔ آر کام نے اپنے گروپ کی دو کمپنیوں، میکرونیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ اور انفرنس سسٹمس لمیٹڈ کو ایکسپائرڈ پری پیڈ کارڈ بیچ کر قریب 379 کروڑ روپے کی ٹھگی کی۔ اس کے علاوہ آر کام پر 2007-08 میں 2,915 کروڑ روپے کم مالیت درج کرنے کا بھی الزام ہے۔ یہ آڈٹ رپورٹ 2009 میں ٹیلی کام ڈپارٹمنٹ کو سونپ دی گئی تھی۔ نیرا راڈیا اور رتن ٹاٹا کے درمیان ہوئی بات چیت کی ٹیپنگ کے دوران صرف آر کام کے مالی کھاتوں کی خصوصی جانچ چل رہی تھی۔ لیکن اگلے چھ سے آٹھ ماہ کے دوران ٹیلی کام ڈپارمنٹ نے آزاد ایجنسیوں کے ذریعے سبھی ٹیلی کام کمپنیوں کے بہی کھاتوں کی خصوصی جانچ کرانے کا فیصلہ لیا۔ اس سلسلے میں ڈپارٹمنٹ نے جنوری 2012 میں بھارتی ایئرٹیل، ووڈا فون، آر کام، آئیڈیا سیلولر اور ٹاٹا ٹیلی سروسز کو نوٹس بھیجا، جس میں 2006 سے 2008 کے بیچ غلط مالیتی اعداد و شمار پیش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
دراصل، نیرا راڈیا ملک کے کئی بڑے صنعت کاروں اور سیاسی لیڈروں کا کاروباری اور سیاسی نظم و نسق دیکھتی رہی ہیں، جس کے لیے نیرا نے وقت وقت پر سرکاری محکموں، مرکزی وزارتوں میں ضرورت اور مفادات کے مطابق پالیسیوں اور ان کے نفاذ میں من موافق پھیر بدل کروایا ہے۔ نیرا کی چار کنسل ٹنسی کمپنیاں ہوا کرتی تھیں، جن کے ذریعے نیرا کا کاروبار چلتا تھا۔ نیرا اسٹار ٹی وی، ٹاٹا گروپ اور یونی ٹیک کی سیاسی اور سرکاری دھاندلے بازی سنبھالتی تھیں، تو نیوکام ٹیلی کام کی معرفت مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کا سیاسی جوڑ توڑ دیکھتی تھیں۔ نیرا نے نیو سس نام کی کمپنی کی شروعات ہی اس لیے کی تھی کہ وہ ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو ذریعہ بناکر توانائی، ہوابازی، انفراسٹرکچر اور ٹیلی کام وغیرہ وزارتوں کے کاموں کو اپنے صارفین کو کسی بھی طریقے سے دلوا سکیں، چاہے اس کے لیے انہیں وزیروں کی وزارتیں ہی کیوں نہ بدلوانی پڑی ہوں۔ اس کے لیے نیرا نے سبھی پارٹیوں میں اپنی گھس پیٹھ بنا رکھی تھی۔ نہ صرف بی جے پی کے اننت کمار، سابق وزیر مواصلات اے راجا، بلکہ لیف پارٹی کے پرکاش کرات اور سی ٹو کے لیڈر بھی نیرا کے ایک اشارے پر صحیح غلط کچھ بھی کر دینے کو راضی رہتے تھے۔ یہ سب نیرا کے ذریعے دی گئی رشوت کا کمال تھا۔ صحافی برکھا دت، ویر سنگھوی، جہانگیر پوچا، ابھے چھجلانی جیسے میڈیا کے بڑے ناموں کو نیرا نے اپنا موہرا بنا رکھا تھا، جنہیں عالیشان گاڑیاں، گھر، غیر ملکی سفر وغیرہ کا تحفہ دے کر وہ انہیں خوش رکھا کرتی تھیں۔ نیرا کی طاقت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ٹاٹا کے سنگور پروجیکٹ کے بیچ میں ہی لٹک جانے کے بعد انہوں نے اپنے ذرائع اور کانٹیکٹس کا استعمال کرکے نینو پروجیکٹ کو گجرات میں ٹرانسفر کرا دیا۔
بہرحال، یہ سبھی باتیں حقائق سمیت سپریم کورٹ میں ٹیپوں کی شکل میں جمع کی جا چکی ہیں اور اس کے کاغذی ثبوت بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، جب سی بی آئی، دی گئی دو ماہ کی مدت کے اندر سبھی ثبوتوں کے ساتھ عدالت میں پیش ہوگی، تو ایک بار پھر ملک کی میڈیا، سیاسی اور صنعتی دنیا میں زلزلہ آ جائے گا، کیوں کہ کئی بڑے اور نامی گرامی لوگ نہ صرف قانون کی گرفت میں آئیں گے، بلکہ ملک کے سامنے ان کا اصل چہرہ بھی سامنے آئے گا۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *