مسلمانوں کی یہ ذہنی تبدیلی مودی کے لئے خوش آئند ہو سکتی ہے

سنجے سکسینہ 
p-5بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار نریندر مودی کا خوف دکھا کر مسلم ووٹ ہتھیانے کی کوشش میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔مسلمانوں میں تعلیم یافتہ اور بیدار طبقہ ان ہتھکنڈوں کی مخالفت کرنے لگا ہے۔اس کی شروعات اتر پردیش سے ہوئی ہے۔ جہاں مسلم ووٹوں کے لئے کانگریس، سماجوادی اور بی ایس پی کی تکڑی میں زبردست رشہ کشی ہوتی ہے۔کئی مسلم مذہبی رہنمائوں کے بھی مودی کے تئیں نرمی برتنے سے کانگریس ، سماجوادی پارٹی کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ بدلتی حالات میں ’’نمو‘‘ کا خوف دکھا کر مسلم ووٹوں کو اپنے پالے میں کرنے کا ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے والا نہیں ہے۔من مطابق حالات نہ بنتے دیکھ کر مرکزی حکومت نے سرد خانے میں پڑا فساد مخالف بل کا جن باہر نکال دیا ہے۔ سرمائی اجلاس میں اسے پیش کئے جانے کی بات کانگریسیوں کے ذریعہ کی جا رہی ہے، تاکہ اقلیتوں کو کانگریس کی طرف راغب کرنے میں کامیابی حاصل ہو سکے۔ وہ مودی کو لے کر کچھ وقت پہلے تک پر جوش سماجوادی پارٹی کے قدآوروں کو بھی لگنے لگا ہے کہ مودی کے آگے آنے پر انھوں نے مسلم ووٹوں کی تقسیم کا جو بھی خواب دیکھا تھا، وہ ادھورا ہی رہ گیا ہے۔ سماجوادی بھی اسی لئے نئے نئے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے ۔ وہ فسادات کو بی جے پی کی دین بتا رہی ہے۔ وی ایچ پی پر فرقہ پرستی کا الزام لگا کر مودی کو نشانے پر لیا جا رہا ہے۔
بات ووٹ بینک کی سیاست کی کریں تو مسلمانوں کو مودی کی اور مودی کو مسلمانوں کی باتیں کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ گجرات فسادات کا درد نہ ہوتا تو پسماندہ لوگ ان سے اتنا پرہیز نہیں کرتے۔ اس لئے مودی ترقی کے مسئلہ پر خود کو مرکوز کر رہے ہیں۔ وہ گجرات فسادات کا داغ دھونے کے بجائے اس فراق میں ہیں کہ سماجوادی، کانگریس کو بھی فسادات کی سیاست کی تاریخ کا خاکہ تیار کر کے مذکورہ جماعتوں کو آنکھ دکھانے لگے ہیں۔ مودی کی کوشش ہے کہ مسلمان بی جے پی کے حق میںبھلے ہی ووٹنگ نہ کریں، لیکن اس کے دل و دماغ میں بی جے پی منفی خیالات نہ پالیں۔وہ اپنے اس منصوبہ میں کافی حد تک کامیاب ہوتے نظر بھی آ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں مولانا مدنی نے کہا تھا کہ کانگریس انہیں مودی کا خوف نہ دکھائے۔ اب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب صادق نے مودی کے سامنے ایک طرح کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار نریندر مودی خود کو بدل لیں تو وہ (کلب صادق) بھی انہیں ووٹ دے سکتے ہیں۔ مولانا صادق نے واضح الفاظ میں کہا کہ گجرات فسادات کے سبب مودی نے مسلمانوں کا اعتماد کھویا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ وہ ملک کی خدمت کر کے خود کو بدلیں۔ اگر وہ خود کو بدلتے ہیں تو میں بھی انہیں ووٹ دے دوں گا۔ شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب صادق کی بات کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا ہے۔ ان کی مسلمانوں میں ہی اچھی پکڑ نہیں ہے، بلکہ ہندو بھی ان کی سوچ کے قدردان ہیں۔
مدنی اور صادق اکیلے مذہبی رہنما نہیں ہیں، جنھوں نے مودی کی حمایت کی ہو۔ اس سے پہلے بھی مودی کی حمایت میں کئی مسلم مذہبی رہنما آگے آ چکے ہیں۔ کچھ وقت پہلے اتر پردیش میں واقع دار العلوم دیو بند کے برخاست وائس چانسلر غلام محمد وستانوی نے بھی گجرات کی ترقی کے لئے مودی کی تعریف کی تھی۔ وستانوی سے پہلے احمدآباد کی جامع مسجد کے مفتی صابر احمد صدیقی نے مودی کو تعصب سے اوپر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ مودی کی ریاست میں مسلمانوں کو بھی ترقی کے یکساں مواقع مل رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، سچر کمیشن بھی مودی کو مسلمانوں کے معاملہ میں بہتر مانتا ہے۔ سچر رپورٹ کے مطابق، گجرات میں رہنے والے مسلمانوں کی شرح خواندگی 73.5فیصد ہے، جبکہ قومی اوسط محض69.1ہے۔ اسی طرح گجرات میں مسلمانوں کی سرکاری نوکریوں میں شراکت 5.4فیصد ہے۔ اس کے تناسب میں بات مغربی بنگال، دہلی اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں کی کریں تو بنگال میں یہ فیصد 2.1,دہلی میں3.2اور مہاراشٹر میں 4.4ہے۔ سچر کمیشن کی رپورٹ سے یہ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ اتر پردیش جہاں گزشتہ بیس سالوں میں مسلمانوں کے ووٹوں سے حکومت کرنے والی سرکار رہی، وہاں آج بھی تقریباً 1400گائوں ایسے ہیں جہاں ایک بھی اسکول نہیں ہے۔ گجرات میں یہ تعداد محض 6ہے۔ فی فرد آمدنی ، تعلیم کے معاملہ میں بھی گجرات کی حالت دیگر ریاستوں سے کافی بہتر ہے۔ بہر حال، کلب صادق سمیت دیگر مسلم مذہبی رہنمائوں اور لیڈران کے بیان کے بعد مودی کے سامنے یہ سوال ہے کہ کیا وہ علمائوں کی امید کے مطابق خود کو بدل پائیں گے؟ اگر غور کیا جائے تو اس کا جواب ہاں میں ملتا ہے۔ مودی ہندوتو کے مدعوں سے اپنے اجلاسوں میں بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کچھ ایسے بھی بیان دے رہے ہیں، جو ان کی پارٹی اور ان کے ساتھیوں کو شاید ہی منظور ہوں۔ ان کے ’’شوچالیہ پہلے دیوالیہ بعد میں‘‘ والے بیان پر ہنگامہ مچا، سب جانتے ہیں۔ انھوں نے انائو میں خزانہ کی کھدائی پر جو رخ اختیار کیا، وہ بھی ان کی پارٹی لائن سے تھوڑا الگ تھا۔19اکتوبر کو کانپور میں شنکھناد ریلی میں بھی اپنی تقریر سے انھوں نے جو اشارہ دیا، اس کا سر یہی ہے کہ وہ صرف ترقی کے ایجنڈے پر ہی ووٹرس کو اپنی جانب متوجہ کریں گے۔ ان کی طرف سے عوام کی بنیادی سہولیات کی کمی اور بدعنوانی کو لے کر اپوزیشن جماعتوں پر ہمیشہ زبردست حملہ ہوگا۔ وہ سبھی کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ ان کے اس رخ سے بی جے پی کو این ڈی اے کے کنبہ کی توسیع میں مدد ملنے کی امید ہے۔ بی جے پی مسلمانوں میں پکڑ بنانے کی بھی کوشش کرنا چاہتی ہے، لیکن ابھی یہ دورکی کوڑی ہے۔ مودی کے مرکزی سیاست میں مضبوط ہونے کے ساتھ ہی وہ قیاس آرائیاں بھی غلط ثابت ہو گئیں، جن میں کہا گیا تھا کہ مودی یو پی میں اجودھیا سے ہی انتخابی بگل بجائیں گے۔ انھوں نے ایسا بالکل نہیں کیا اور نہ ہی اس مدعے کا اپنی تقریروں میں ذکر رہے ہیں۔ وہ ہندوستانی آئین اور حب الوطنی کو ہی مذہب کی اصطلاح دے رہے ہیں۔ پارٹی کے ایک سینئر کارکن کا کہنا ہے کہ اٹل جی کے زمانہ میں پارٹی کے پاس ہندوتو کے ساتھ ترقی کا مدعا بھی تھا۔ ان سے تمام ذات اور مذاہب کے لوگوں کا لگائو تھا۔ بی جے پی میں مودی کی بھی کچھ ایسی ہی شبیہ بنانے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *