مودی کا ایک ہفتے میں بہار کا دوسرا دورہ، ماحول بگاڑنے کی سازش

اشرف استھانوی 
غیر بی جے پی ریاستوں میں غالباً پہلی ریاست ہے جہاں اس وقت ہر طرف نمونمو کاجاپ ہورہاہے اور بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار نریندر مودی کے حق میں ہواچلتی نظر آرہی ہے۔ یہ غیر متوقع تبدیلی بہار کی راجدھانی پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں گذشتہ 27اکتوبر کو منعقدہ بی جے پی کی ہونکار ریلی سے قبل پٹنہ میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں اور اس میں انڈین مجاہدین کا نام آنے کے بعد رونما ہوئی ہے۔ دھماکوں کے درمیان ریلی کے اختتام کے دوسرے ہی دن سے بی جے پی نے اس معاملے پر جس طرح کا رویہ اپنایا اور دھماکوں کا اصلی ٹارگیٹ نریندر مودی کو قرار دیا اس سے بھی ہوا بنانے میں مدد ملی۔
بی جے پی نے غالباً طے شدہ حکمت عملی کے تحت پہلے تو دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کا استھی کلش نکالنے اور اس کی مدد سے اپنے لئے ماحول بنایا اور اس کے فوراً بعد نریندر مودی نے دوبارہ بہار پہنچنے اور تمام مہلوکین کے ورثاء سے مل کر اظہار ہمدردی کرنے اور ۵۔۵لاکھ روپے معاوضہ کا چیک پیش کرنے کا اعلان کردیا۔ اپنے اس پروگرام کے مطابق ریلی کے چندہی دنوں بعد 2نومبر کو دیوالی سے ٹھیک پہلے وہ پورے لائو لشکر کے ساتھ دوبارہ بہار پہنچے اور پٹنہ کے گوری چک ، کیمور، بیگوسرائے اور بہار شریف جاکر متاثرہ خاندانوں سے ملے اور انکے غم میں شریک ہوکر دوزانو بیٹھے اور گھڑیالی آنسو بہائے۔ ا س موقع پر مودی نے کہاکہ ہونکار ریلی کے دوران ہوئے بم دھماکوں کے بعد بھی بہار کے عوام نے جس صبر وضبط وتحمل کا مظاہرہ کیا اس کا مطالعہ دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں کو کرنا چاہئے۔ انہیں امید ہے کہ یہ کام کوئی بڑی یونیورسٹی ضرور کرے گی۔ کیونکہ یہ ملک کی تاریخ میںپہلی بار ایساہواہے اور اس پر مثالی صبروضبط بھی پہلی بارسامنے آیاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک یہ سب فلموں میں ہی دیکھنے کو ملتا تھا لیکن بہار کے لوگوں نے اسے حقیقت کا روپ دیا۔ چاروں طرف بموں کے دھماکے ہورہے تھے، لوگ خون سے لت پت ہورہے تھے۔ مگر کوئی بھگدڑ نہیں مچی۔ ایسا تو انگریزوں کے دور میں دیکھنے کو ملتا تھا۔ لوگوں پر گھوڑے دوڑائے جاتے تھے ، گولیاں برسائی جاتی تھیں اور دوسرے مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ لیکن لوگ اپنی جگہ پر ڈٹے رہتے تھے۔ گجرات کے وزیرا علیٰ نے حالانکہ بیچ بیچ میں اس بات کی وضاحت کی کہ وہ سیاست کرنے نہیں آئے ہیں ۔ حالانکہ یہ پورا ڈرامہ سیاسی ہی تھا اور بہار بی جے پی کے مشورہ سے یہ پورا پروگرام طے ہواتھا۔ جس کا مقصد پورے بہار میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلاکر ، نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی کے حق میں عوامی جوش وجنون پیدا کرنا تھا۔ بی جے پی نے اس موقع پر سیاست چمکانے کی غرض سے ہی دیوالی نہ منانے کا سیاسی اعلان عوامی سطح پر کررکھا تھا۔ حالانکہ حقیقتاً بی جے پی کے ہر لیڈر اور ورکر نے پورے جوش وخروش اور بی جے پی کے حق میں فضا بندی سے مسرور ہوکر دیوالی منائی۔
البتہ موسم نے کسی حدتک مودی کے پروگرام میں خلل ڈالا۔ مودی کو طے شدہ پروگرام کے مطابق ہفتہ کی صبح 7بجے ہی پٹنہ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر روانہ ہونا تھا کیونکہ وہ یکم نومبر کی رات کوہی پٹنہ پہنچ چکے تھے لیکن گھنے کہرے کی وجہ سے مودی کی روانگی میں پورے ڈھائی گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ وہ ساڑھے 9بجے گوری چک پہنچے اور وہاں ریلی میں مارے گئے راج نارائن سنگھ کے اہل خانہ سے ملے اور انہیں معاوضہ کا چیک پیش کرتے ہوئے ملازمت دینے کا بھی وعدہ کیا۔ اس کے بعد کیمور کے لیگ گائوں میں مہلوک ویکاس کمار کے اہل خاندان سے ملے اور ان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ اسی دوران انہوںنے ٹوئیٹ کیاکہ انہیں مہلوکین کے اہل خاندان سے مل کر فخر کا احساس ہوا۔ کہرے کے سبب مودی کا ہیلی کاپٹر گوپال گنج میں نہیں اتر سکا۔ انہیں واپس لوٹنا پڑا۔ اسی طرح انہیں اپنا سپول دورہ بھی رد کرنا پڑا۔ گوپال گنج کے مہلوک کی بیوہ سے انہوںنے بی جے پی کے ریاستی صدر منگل پانڈے کے توسط سے بات کی۔ انہیں بھرت رجک کے اہل خاندان سے بھی ملنا تھا۔ انہوںنے موبائل پر بھرت کے بیٹھے شنکر رجک کو ڈھارس بندھائی۔ دن کے 3بجے مودی بیگوسرائے کے خداوند پور پہنچے جہاں وہ مہلوک بندیشوری چودھری کے اہل خاندان سے ملے۔ ساڑھے 3بجے کے بعد نتیش کمار کے ہوم ضلع نالندہ کے سرمیرابلاک کے یحیٰ پور مسہری پہنچے اور دھماکہ میں مارے گئے راجیش کمار کے اہل خاندان سے مل کر ان کا غم بانٹنے کی کوشش کی۔
مودی ہر جگہ پہنچے یا پہنچنے کی آخری کوشش کی مگر پٹنہ ضلع کے مسوڑھی کے ایک بے قصور مسلم مقتول ثمر عالم کے اہل خاندان سے ملنے یا اسے معاوضہ کا چیک پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی حالانکہ وہ بھی بے قصور تھا اور مفت میں اس کی جان گئی تھی۔ اپنے اس عمل سے مودی اور ان کی پارٹی نے یہ صاف کردیا کہ انہیں دھماکہ میں ہلاک ہونے والے بے قصور افراد سے نہیں بلکہ ایک خاص ووٹ بینک سے ہے ورنہ وہ مسلم مہلوک کو نظر انداز نہ کرتے ۔اس سے قبل بھی ملک کے طول وعرض میں بہت سارے دھماکے ہوئے ہیں مگر آج تک کسی بھی دھماکہ کے مہلوکین کے ساتھ اس طرح کا ہمدردانہ سلوک نہ نریندر مودی نے کیاتھا اور نہ ہی ان کی پارٹی بی جے پی کے کسی دوسرے لیڈر نے کیاتھا۔ صاف ظاہر ہے کہ بہار میں مودی اور ان کی پارٹی نے اس بار یہ ڈرامہ محض آئندہ لوک سبھا انتخاب کے پیش نظر ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کیلئے کیا۔ اس کا فائدہ بھی انہیں کافی حدتک ملا۔ مودی جہاں بھی گئے ان کی ایک جھلک پانے کیلئے ہزاروں کی بھیڑ لگ گئی اور جتنی دیر تک وہ وہاں رہے ہر طرف نریندر مودی زندہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ مودی کی سیکوریٹی بھی اتنی زوردار اور مرعوب کن تھی کہ گائوں کے بھولے بھالے عوام پر اس کا بھی اثر پڑا ہے۔ مودی کی سیکوریٹی اس بار کسی وزیر اعظم سے کم نہیں تھی۔ یہ موقع تحفہ میں مودی اور بی جے پی کو مل گیاتھا۔ انتخابات کا اعلان بھی ابھی نہیں ہواہے اس لئے ضابطہ اخلاق کی زد میں آنے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ چند روز قبل ریلی کے دوران سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد آئی بی نے مودی کے دوسرے دورہ کیلئے خصوصی وارننگ دیتے ہوئے یہ اندیشہ ظاہر کیاتھا کہ مودی کو نشانہ بنانے کیلئے انڈین مجاہدین فضائی حملے کراسکتاہے یا پھر راکٹ لانچر سے ان پر حملہ ہوسکتاہے۔ یا پھر دھماکہ خیز ماددوں سے بھری کسی گاڑی سے ٹکر مارنے کا واقعہ ہوسکتاہے۔ یہی وجہ تھی کہ گجرات کے وزیرا علیٰ نریندر مودی کیلئے اس بار وزیر اعظم جیسی سیکوریٹی کا انتظام تھا۔ زیڈ پلس سیکوریٹی ملنے کے بعد مودی کیلئے اس بار تقریباً ویسے ہی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے جیسے وزیر اعظم کیلئے ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم کیلئے جس طرح 2کیلو میٹر کے دائرے کو سینا ٹائز کردیاجاتاہے، اسی طرح مودی کیلئے بھی کیاگیاتھا۔ جمعہ کی رات کو پٹنہ پہنچنے کے بعد سے ہفتے کی شام کو گجرات واپسی تک نریندر مودی بہار میں اسی نوعیت کے حفاظتی گھیرے میں رہے۔
نیشنل سیکوریٹی گارڈ اور این ایس جی ، گجرات پولس، مرکزی نیم فوجی دستے، بی ایم پی، ایس ٹی ایف اور بہار پولس نے مل کر سیکوریٹی کی کئی سطح بنارکھی تھی۔ ہر ضلع میں ہیلی پیڈ سے لیکر مقتول کے گھر تک کا راستہ فصیل بند قلعہ کی طرح سیل تھا۔ جمعہ کی رات سے ہی چپے چپے کی جانچ ہورہی تھی، پرندہ پر نہیں مارسکتا تھا، نکسل زدہ کیمور ضلع میں مودی کیلئے 9سطحی سیکوریٹی کا انتظام تھا۔ ہیلی پیڈ اور مقتول کے گھر کے علاوہ پہاڑی سے اوپر اور نیچے بھی سیکوریٹی دستے تعینات تھے۔ مودی کو جس گھر میں جاناتھا اس گھر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو 48گھنٹے پہلے سے چھاناجارہاتھا۔ گھر کی دیوار، چھت یہاں تک کہ بالٹی میں دھونے کیلئے رکھے گئے کپڑوں کو بھی بم ڈیٹکشن اسکواڈ نے جانچا۔ بیگوسرائے میں اسٹیٹ ہائیوے کو چارگھنٹے تک بلاک رکھاگیاجہاں 1100نوجوانوں کو سیکوریٹی میں لگایاگیاتھا۔ گوپال گنج میں تین دیگر اضلاع سیوان، موتیہاری اور بتیاسے بھی فورس طلب کیاگیاتھا۔ گائوں میں کسی کو بھی عین وقت پر گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہتھواریلوے اسٹیشن کو پولس نے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔
خود بہار کی نتیش حکومت جو ریلی کے دوران بیک فٹ پر آگئی تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دینے پر مجبور تھی اور کوئی خطرہ مول لینے کے موڈ میں نہیں تھی کیونکہ ریلی میں جو سیکوریٹی کی چوک ہوئی یا آئی بی کے انتباہ کو جس طرح نظر انداز کرنے کی بھول ہوئی اس سے حکومت کی خاصی کرکری ہوئی تھی۔ خود مودی زیڈ پلس سیکوریٹی کے باوجود گجرات سے اپنے ساتھ اپنا خاص سیکوریٹی گھیرا لیکر آئے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ ملک کی کسی ریاستی کے وزیر اعلیٰ نہ ہوکر کسی حملہ آور ملک کے فرماں رواں ہوںجو اپنے ساتھ اپنی پوری فوج لیکر چلتاہے اور ایک کے بعد ایک ملک فتح کرتاہوا آگے بڑھ رہاہو۔ مودی نے اپنے اس طرز عمل سے ریاستی حکومت اور اس کے سیکوریٹی انتظامات کو بھی نیچا دیکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
ادھر نتیش حکومت اور بہار کے سیکولر عوام بالخصوص مسلمانوں نے اس معاملے سے خود کو الگ رکھا اور مسلم غیر مسلم مقتول کے درمیان بھید بھائو برتنے کی مودی اور بی جے پی کی پالیسی کا جائزہ لیتے رہے۔ حکومت کے ارکان سارا معاملہ سیکوریٹی والوں کے حوالے کرکے خود الگ تھلگ رہے۔ البتہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس موقع پر بھی اشارو اشاروں میں زبانی تیر چلانے سے گریز نہیں کیا۔ نتیش نے پٹنہ میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دھن تیرس کے موقع پر جہاں عام استعمال کے دوسرے سامان خریدے جاتے ہیں، ہر گھر میں جھاڑو کی بھی خریداری ہوتی ہے اور اسی جھاڑو سے باہری کچڑے اور گندگی کو صاف کیاجائے گا۔ نتیش نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو پہلے بہار کی ترقی کی بات کرتے تھے لیکن اب انہیں بہار کی ترقی نظر نہیں آرہی ہے اور نظر آرہی ہے تو انہیں اچھی نہیں لگ رہی ہے۔ انہیں اب دور(گجرات) کا ڈھول سہانا لگ رہاہے۔ لیکن آپ سمجھ لیجئے کہ بہار کی کایا پلٹ کوئی باہر کاآدمی (مودی) نہیں کرسکتا، اسے تو ہم بہار کے لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ اس پر خود نریندر مودی کا تو رد عمل سامنے نہیں آیا ۔لیکن کل تک نتیش کے نائب کا رول ادا کررہے بہار کے سوشیل کمار مودی نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہاکہ دھن تیر سے کے جھاڑو سے ان لوگوں کا صفایہ کیاجائے گاجن لوگوں نے 27اکتوبر کی ریلی میں آئے لوگوں کو دہشت گردوں کے حوالے کردیاتھا۔ لیکن اس زبانی حملے سے زیادہ اہمیت اب نتیش حکومت کی حساسیت کی ہے۔ کیونکہ بی جے پی نے استھی کلش یاترا کے توسط سے بہار کے ماحول کو بگاڑنے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا جو خطر ناک منصوبہ تیار کیاہے، اسے ناکام بنانا حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے۔ دیکھنا ہے کہ حکومت اس میں کس حد تک کامیابی حاصل کرتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *