لوک آیوکت بل :بہوگنا سرکار کے گلے کی ہڈی

راجکمار شرما 
p-9bاترا کھنڈ میں بی جے پی حکومت کے دوران انا ہزارے کے زیر اثر بنے لوک آیوکت بل کو صدر جمہوریہ کی منظوری ملنے کے بعد ریاست میں بر سر اقتدار وجے بہو گنا سرکار کے لئے مصیبت کھڑی ہو گئی ہے۔ سرکار اس قانون کو کسی بھی طرح سے ٹھنڈے بستے میں ڈال کر اس سے بچنا چاہتی ہے۔ اترا کھنڈ کا اقتدار کانگریس کے ہاتھوں میں ہے، اس کے باوجود بی جے پی کے ذریعہ پاس یہ بل قانون بن کر چپ چاپ عمل میں آگیا اور سرکار حیران رہ گئی۔ اب ریاستی کانگریس اس مشکل میں ہے کہ اگر ایک ریاست میں یہ قانون عمل میں آتا ہے تو پھر دیگر ریاستوں میں اسی طرز پر لوک آیوکت اور مرکز میں لوکپال لانے کو لے کر کانگریس پر دبائو بنے گا۔ یہی وجہ ہے ہے کہ بہو گنا سرکار اسے پورے طور پر نافذ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ بہو گنا کی طرف سے اس بل کے کچھ حصوں کو غیر آئینی بتائے جانے سے سرکار نئے تنازع میں پھنس گئی ہے۔ بی جے پی نے اسے صرف صدر کی توہین ہی نہیں بتایا بلکہ سرکار سے استعفیٰ بھی مانگ لیا ہے۔
لوک آیوکت بل کو لے کر پیدا ہوا یہ تنازع ریاست میں کانگریسی سرکار کی مشکلیں بڑھا سکتا ہے۔دراصل انا ہزارے کے مضبوط لوک پال مطالبے کے مطابق سابق بی جے پی سرکارنے لوک آیوکت بنایا اور اسمبلی سے پاس کراکر گورنر کی منظوری کے بعد نومبر 2011 میں اسے صدر جمہوریہ کی منظوری کے لئے بھیجا تھا۔تقریبا دو سال بعد ستمبر میں اسے صدر جمہوریہ کی منظوری مل گئی۔ اس کے بعد یہ ایک باقاعدہ قانون بن گیا۔ ریاستی سرکار کے قانون ساز محکمے نے 24 ستمبر کو اسے ریاست کے 27 ویں ایکٹ کی شکل میں متعارف بھی کر دیا۔ اس کے تقریبا ڈیڑھ مہینے بعد بہو گنا سرکار کو جانکاری ملی کہ بی جے پی سرکار کی طرف سے تیار شدہ لوک آیوکت بل اب قانون کی شکل لے چکا ہے تو وزیر اعلیٰ وجے بہو گنانے آنا ً فاناً اس کے کچھ حصوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس پر نئے سرے سے مشورہ کرنے کی بات کہی۔
اب بد عنوانی کے خلاف اس مضبوط لوک آیوکت بل کے عمل میں آنے سے ریاست میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔خاص طور پر سیاست دانوں، عوامی نمائندوں اور افسروں میں کھلبلی ہے۔ لوک آیوکت کے دائرے میں وزیر اعلیٰ ، وزرائ، ممبران اسمبلی،تمام سرکاری ملازمین و ذیلی عدالتیں ہیں۔ آیوکت پر عمل ہونے کے بعد بد عنوانوں کی مشکلیں بڑھنی طے ہے۔ بد عنوان افسروں سے وصولی اور جائداد ضبط کرنے کی تجویز نئے ایکٹ میں ہے۔لوک آیوکت کو معطل کرنے سے لے کر جرمانہ کرنے تک کا اختیار ہے۔
لوک آیوکت میں بد عنوانی کے معاملوں کا نوٹس لینے اور جانچ کے لئے تین وِنگ انویسٹی گیشن، پروسکیوشن اور جوڈیشیل تشکیل دی جائیںگی۔پبلک سروسز کا اختیار اور عوامی نمائندوں کے ذریعہ غلط طریقے سے جائداد جمع کرنے کے معاملوں پر لوک آیوکت کی نظر رہے گی۔ ساتھ ہی بد عنوانی میں ملوث پبلک سروینٹ کو معطل کرنے اور عہدہ کم کرنے کا اختیار لوک آیوکت کو دیا گیا ہے۔ ایسی سفارشات ماننے کا انتظامیہ پابندہوگا۔اس میں شکایت کنندہ کو تحفظ دیا جائے گا اور جھوٹی شکایت کرنے پر جرمانہ بھی کیا جائے گا۔
لوک آیوکت کو توہین کرنے کے عمل پر کارروائی کا اختیار بھی ہوگا۔ سول سروینٹ کو بد عنوانی کے معاملے میں لوک آیوکت کم سے کم چھ مہینے کیقید با مشقت (جسے دس برس تک بڑھایا جا سکتاہے) کی سزا دے سکتا ہے۔ ساتھ ہی مزید معاملوں میں تا حیات قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔جانچ کے دوران لوک آیوکت سرکاری ملازمین کی معطلی یا ٹرانسفر کے احکام بھی دے سکتا ہے۔ لوک آیوکت میں لوک آیوکت تنظیم کے خلاف معاملوں کی شکایت بھی کی جاسکتی ہے۔اس کی جانچ سی اے جی کے ذریعہ کیا جائے گا۔ ادھر لوک آیوکت آئین میں ذیلی عدالت کو دائرے میں لینے کی تجویز کو آئین کی بقاء کے لئے چیلنج مانا جارہاہے۔ عدالتی ذرائع عدالتی کارروائی کو لوک آیوکت کے دائرے میں لینے کو ہائی کورٹ کے اختیارات میں مداخلت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔لوک آیوکت پانچ رکنی تنظیم ہوگی،جسے زیادہ سے زیادہ سات تک بڑھایا جا سکتا ہے۔لوک آیوکت کے آدھے ارکان قانونی شعبوں سے متعلق ہوں گے اور آدھے ارکان سول سروینٹ، ریسرچ، ویجلنس، فنانس مینجمنٹ اور انجینئرنگ سے ہوں گے۔
اس کمیٹی میں وزیر اعلیٰ چیئر مین ، اپوزیشن لیڈر،ہائی کورٹ کے ججوں کے ذریعہ منتخب دو جج، لوک آیوکت کے سابق چیئرمین، ہندوستان کے ریٹائرڈ چیف جسٹس، ،سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس ، نیوی ، فضائی اور آرمی کے ریٹائرڈ سربراہ ، ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس اور جج، مرکزی سرکار کے ریٹائرڈ انفارمیشن کمشنر ، یو پی ایس سی کے ریٹائرڈ چیئر مین، ریٹائرڈ کیبنیٹ سکریٹری،سی اے جی ہوں گے جو ایک اسکریننگ کمیٹی بنائیں گے۔
لوک آیوکت میں بینچ ہوگی،لوک آیوکت کی بینچ دہرا دون میں بیٹھے گی۔ چیئر مین اور ارکان کی مدت کار پانچ سال یا ستر سال کی عمر تک ، جو پہلے ہوگا،رکھا گیا ہے۔ چیئر مین کی تنخواہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ارکان کی تنخواہ جسٹس کے برابر ہوگی۔ لوک آیوکت کی ایک ریسرچ اور ایک استغاثہ برانچ ہوگی۔ لوک آیوکت کو انتظامی و مالیاتی طور پر خود مختار رکھا گیا ہے۔لوک آیوکت کے تمام اخراجات ریاست کے جمع فنڈ سے دیے جائیںگے۔لوک آیوکت کے سکریٹری کا انتخاب لوک آیوکت کرے گا۔ جس کا رتبہ چیف سکریٹری کے مساوی ہوگا۔ دیگر افسروں کی تقرری مستقل اور معاہدے کی بنیاد پر لوک آیوکت بورڈ کرے گا۔وزیر اعلیٰ اور ممبران اسمبلی کے خلاف جانچ اور استغاثہ لوک آیوکت کے سبھی ممبروں کی چیئرمین کے ساتھ بینچ کی منظوری کے بغیر نہیں ہوگا۔
لوک آیوکت کے صدر اور ممبر کو کسی فرد کی شکایت پر ہائی کورٹ کی جانچ کے بعد لئے گئے فیصلے کی بنیاد پر عہدہ سے گورنر ہٹا سکتا ہے۔لوک آیوکت ایکٹ کے مستقبل کو لے کر بھی ابھی سے سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ذیلی عدالت کو دائرے میں لینے کی تجویز کو ایکٹ کے وجود کے لئے چیلنج مانا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے دور میں نافذ یہ بل پوری طرح سے بہو گنا سرکار کے گلے کا پھندہ تو بن ہی گیا ہے اس نے ریاستی سرکار کی چال کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ سرکار کے اعلیٰ افسران کس طرح لا پرواہی سے سرکار چلا رہے ہیں، یہ ان کی عادت سی بن گئی ہے۔پوری کانگریس اس معاملے میں سکتے میں ہے۔ فی الحال اس بل کو عوامی فائدے میں ہونے کے باوجود ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کا ہر راستہ سرکار تلاش کررہی ہے۔
نئے لوک آیوکت بل کو صدر جمہوریہ کی منظوری سے بھلے ہی ریاستی سرکار انجان ہو، انتظامیہ کی طرف سے 24 ستمبر کو ہی اس کا نوٹیفکیشن بھی کر دیا گیا ہے۔ایسے میں موجودہ لوک آیوکت کی اصلیت کو لے کر اب سوال اٹھنے لگے ہیں۔اب اسے بے تعلقی کہیں یا نوکر شاہوں کا طریقۂ کار، سابق وزیر اعلیٰ بھون چندر کھنڈوری سرکار کے لوک آیوکت بل کو لے کر صدر کی منظور سے ریاستی سرکار اب سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ ایسے میں اس کی غاز کس پر گرے گی؟کچھ کہا نہیں جاسکتاہے۔ کسی نہ کسی آفسیر کو اس معاملے میں جانا طے ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے لوک آیوکت قانون کو لاگو کرنے کو لے کر اب مشورے شروع ہوگئے ہیں ۔سابق بی جے پی سرکار نے جن لوک پال کے طرز پر بنائے گئے جس لوک آیوکت بل کو صدر جمہوریہ کو بھیجا تھا، اسے پچھلے مہینے یعنی تین ستمبر کو ہی صدر کی منظوری مل چکی تھی، ذرائع کے مطابق صدر کی طرف سے اس بل کو 9 ستمبر کو مرکزی داخلہ محکمے کو بھیج دیا گیا تھا۔ مرکزی داخلہ محکمہ کی طرف سے منظوری دیے جانے کے ساتھ اترا کھنڈ اتنظامیہ کو بھیجا گیا ۔یہ بل 16 ستمبر کو قانون ساز محکمے میں وصول کیا گیا ہے۔ مرکز کی طرف سے بھیجے گئے نئے لوک آیوکت بل کا ریاستی قانون ساز محکمے نے 24 ستمبر کو نوٹیفکیشن کر کے اسے ریاست کے 27 ویں قانون کی شکل میں شامل کر لیا تھا۔ نوٹیفکیشن میں 180 دن کے اندر اسے لاگو کرنے کو کہا گیا ہے۔ اتنا سب کچھ ہوا، ریاست کے سربراہ سے لے کر انتظامیہ کے اعلیٰ افسر تک کو اس کی بھنک تک نہیں لگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *