ٹیم انڈیا میں مستقبل کے ہیرو

نوین چوہان
p-12dسچن تیندولکر بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ چکے ہیں۔ ان کے آخری ٹیسٹ سے قبل ہندوستانی کھلاڑیوں نے جس طرح کا کھیل دکھایا، اس سے سچن کے لئے کرکٹ کو الوداع کہنا مزید آسان ہو گیا۔ وراٹ کوہلی، روہت شرما، شکھن دھون اور کپتان مہندر سنگھ دھونی جس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستانی ٹیم کا مستقبل اب محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ سچن کی وراثت کو سنبھالنے والے بیشتر کھلاڑی وہ ہیں، جنھوں نے سچن کے کرکٹ میں بڑھتے قد کے ساتھ کرکٹ کے گر سچن کو کھیلتے دیکھ کر سیکھے اور ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی خوش قسمتی حاصل کی۔دو دہائیوںتک ہندوستانی کرکٹ کا اہم حصہ رہے سچن دراوڑ، گانگولی، لکشمن، کنبلے کی عمارت کے سچن آخری ستون ہیں، جنھوں نے مل کر ہندوستانی کرکٹ کو صحیح سمت اور صورت دی، لیکن ان کھلاڑیوں نے جاتے جاتے ہندوستانی کرکٹ کو اتنا کچھ دے دیا ہے، جسے یاد کر کے ہمیں ہمیشہ فخر ہوگا کہ ہندوستانی کرکٹ کی خدمت اس طرح کے عظیم کھلاڑیوں نے کی تھیں۔
سچن کا جانشین
وارٹ کوہلی نے گزشتہ تین سالوں میں جیسی بلے بازی کی، اس سے یہ تو واضح ہو گیا تھا کہ وہ لمبی ریس کے گھوڑے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ وقت میں انھوں نے جس طرح کی جارحانہ بلے بازی اور مستقبل مزاجی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے تو سچن کے جانشین کی شکل میں صرف وہی نظر آتے ہیں۔ کوہلی ابھی محض24سال کے ہیں، لیکن ان کا بلا ایسے آگ اگل رہا ہے کہ سچن کا جادو بھی پھیکا پڑتا نظر آ رہا ہے۔کوہلی یکروزہ کرکٹ میں سب سے کم میچوں میںپانچ ہزار رن پورے کرنے والے کھلاڑی بننے سے محض چند قدم دور ہیں۔ کوہلی نے اب تک 119یکروزہ میچوں میں4919رن بنائے ہیں۔ ابھی تک یہ ریکارڈ سر ووین ریچرڈس کے نام درج ہے۔انھوں نے یہ ریکارڈ 126میچوں میں حاصل کیا تھا۔ وراٹ کوہلی یکروزہ میچوں میں17سنچریز لگا چکے ہیں۔ اس مقام تک پہنچنے میں سچن نے وراٹ سے زیادہ وقت لگایا تھا۔ سچن نے یکروزہ میچوں میں17ویں سنچری 196میچوں میں لگائی تھی۔ آسٹریلیا کے خلاف ختم ہوئی حالیہ ون ڈے سیریز میں وراٹ نے مسلسل دو جارح سنچریاں بنائیں۔اگر اب وراٹ کوہلی کو سچن کے جانشین کی شکل میںدیکھا جا رہا ہے تو یہ وراٹ کے لئے واقعی بہت بڑی حصولیابی ہے۔سچن بھی یہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جس طرح کا کرکٹ وراٹ کھیل رہا ہے، ان کے ریکارڈوں تک پہنچنے اور توڑنے میں وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔
شکھر کا جواب نہیں
شکھر دھون نے جس طرح شاندار طریقہ سے اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کیاتھا ، اسی سلسلہ کو یکروزہ میچوں میں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طویل عرصہ تک گھریلو کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہنے والے شکھر کو ایک موقع کی تلاش تھی۔ خراب فارم اور فٹ نیس سے پریشان سہواگ اور گمبھیر کے ٹیم سے باہر ہوتے ہی شکھر کو بلاوا ملا اور انھوں نے ایسی گارڈ لی کہ سہواگ اور گمبھیر کے لئے ٹیم میں واپسی کرنا مشکل کر دیا۔
دھونی کی کرشمائی کپتانی
دھونی کو اب لوگوں نے ’’لکی کیپٹن‘‘کہنا بند کر دیا ہے۔ دھونی نے اپنی کپتانی کے دم پر جو جیت کی عبارت لکھی ہے، وہ دنیا کے اچھے اچھے کپتان نہ لکھ سکے۔ دھونی خاموشی سے 2015کے مشن کی تیاری میں مصروف ہیں اور وہ کلائیو لائڈ اور رکی پونٹنگ کے بعد ورلڈ کپ خطاب کو بچانے والے کپتان بننے کی فراق میں ہیں۔ انھوں نے اپنے جس ٹھنڈے دماغ اور جارح بلے بازی کے دم پر ہندوستانی کرکٹ کی تصویر بدلی ہے ، وہ قابل تعریف ہے۔
گیند بازی اب بھی سب سے کمزور کڑی
ہندوستانی ٹیم کی گیند بازی اب بھی سب سے کمزور کڑی ہے۔ سبھیگیندباز لمبے وقت تک اپنی فٹ نیس او رفارم برقرار رکھنے میں ناکامیاب رہے ہیں۔ٹیم کو ظہیر کے تجربہ کی کمی محسوس ہو رہی ہے، لیکن فٹنیس اور خراب فارم سے دو چار ظہیر کی واپسی کے امکانات کم ہی نظر آ رہے ہیں۔ بھونیشور کمار، محمد شامی نے اپنی گیند بازی سے امیدیں تو جگائی ہیں، لیکن وہ مسلسل ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ہندوستانی ٹیم میں رویندر جڈیجا اور روی چندرن اشون اسپن گیند بازی کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔ جڈیجا کچھ وقت کے لئے یکروزہ رینکنگ میں نمبر ون پر برقرار رہے۔ انہیں بہترین گیند بازی کے لئے انگلینڈ کے خلاف ہوئی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں مین آف دی میچ کے انعام سے بھی نوازا گیا۔
کامیابی ہر بار اندھیرے میں تیر چلانے سے نہیں ملتی ہے۔ اگر ہمت، جذبہ اور برعکس حالات میں آگے بڑھنے کی ہمت ہو تو کوئی بھی قلعہ فتح کیا جا سکتا ہے اور جب فوج میں ایک سے بڑھ کر ایک ویر جوان ہوں تو انہونی کو ہونی میں بدلا جا سکتا ہے۔ آج کل جس جارحانہ انداز میں ٹیم انڈیا کھیل رہی ہے۔ ایسی صورت میں انہیں ایک بار پھر 2015میں دنیا فتح کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *