ہریانہ کانگریس میں دنگل

p-3aوزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا کی جگاڑ کی سیاست نے ہریانہ کانگریس میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں گٹ بازیوں کا دور شروع ہو چکاہے۔ دلت بنام اعلیٰ ذات کی سیاست ہو رہی ہے۔ مرکزی وزیر کماری شیلجا اورراجیہ سبھا ممبر چودھری وریندر سنگھ وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا پر گندی اور ترقی کو روکنے والی پالیسی کا الزام لگا رہے ہیں۔ لیکن اندر کی سیٹنگ میں ماہر وزیر اعلیٰ ہڈا نے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور کانگریس نائب صدر راہل گاندھی تک اپنی سیاست کی ایسی بساط بچھا رکھی ہے کہ ان کے خلاف آنے والی شکایتیں ان سنی کر دی جاتی ہیں۔ نتیجتاً ہریانہ کانگریس میں مخالفین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے ہڈا کی راہ تو مشکل ہو ہی رہی ہے دہلی کی سیاست پر بھی اثر پڑنے کے خدشات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ہریانہ کی سیاست ان دنوں وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا اور مرکزی وزیر اور دلت لیڈر کماری شیلجا کے آپسی دنگل کی گواہ بن رہی ہے۔ان دونوں کی آپسی کڑواہٹ آنے والے انتخابات میں کانگریس کے لئے مشکلیں بڑھا سکتی ہیں۔ ہڈا اور شیلجا کبھی بھائی بہن کی جوڑی کی شکل میں جانے جاتے تھے۔ ان دونوں کی آپسی کھینچا تانی کی وجہ سے ہریانہ کانگریس میں گٹ بازی اور اِنڈسپلن بہت بڑھ چکاہے۔

حالانکہ کانگریس نے ہریانہ میں اس قسم کا سیاسی کھیل پہلے بھی کھیلا ہے۔وہ جان بوجھ کر پہلے بھی ریاست میں دلتوں اور اعلیٰ ذات کی قیادت ایک پالیسی کے تحت الگ الگ تیار کرتی رہی ہے۔ جب بنسی لال اور بھجن لال تھے تب بھی یہی ہوتا تھا۔ کیونکہ اگڑوں اور دلتوں کی لڑائی میں کانگریس ہمیشہ فائدے میں رہی ہے۔ لہٰذا قیاس یہ لگایا جارہا ہے کہ کانگریس اب ہڈا اور شیلجا کی شکل میں یہی کام کر رہی ہے۔
بہر حال فوری طور پر جو ماحول نظر آرہاہے وہ کانگریس کے حق میں نظر نہیں آرہا ہے۔سیاسی کھینچا تانی جم کر چل رہی ہے اور اس میں فی الحال ہڈا کا پالا بھاری نظر آرہا ہے۔ ویسے بھی ہڈا اپنے مخالفین کو نمٹانے کے فن میں ماہر مانے جاتے ہیں۔ کہا یہ جا رہاہے کہ شیلجا ، ہڈا کے نشانے پر ہیں۔ اس کی وجہ پچھلے دنوں سونیا گاندھی کی بیماری میں کماری شیلجا کا ان کے قریب ہونا بتایا جارہا ہے۔ ہڈا کی یہ تاریخ رہی ہے کہ ہریانہ کے جس کسی لیڈر نے کانگریس صدر سونیا گاندھی یا راہل گاندھی سے قربت بنانے کی کوشش کی، انہوں نے اس کا پتّہ ہریانہ کی سیاست سے صاف کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آجکل مرکزی وزیر کماری شیلجا کا قد چھوٹا کرنے کا کوئی موقع وہ نہیں چھوڑتے۔شیلجا ہڈا کے اس رویے سے خاصی پریشان ہیں۔ انہوں نے کانگریس اعلیٰ کمان سے بھی اپنا درد بیان کیا ہے۔ لیکن ہڈا جوڑ توڑ اور جگاڑ میں دسترس رکھتے ہیں۔ انہوں نے سونیا گاندھی سے راہل گاندھی تک اپنی مضبوط پہنچبنا رکھی ہے۔ شیلجا پر یہ حملہ ایک ٹرین کے سفر کے دوران ہوا تھا۔ کماری شیلجا کالکا ، سائیں نگر شرڈی سپر فاسٹ اکسپریس کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد اسی ٹرین سے اپنے پارلیمانی حلقے پہنچی تھیں ۔ سونیا گاندھی کو دیے گئے اپنے شکایتی خط میں شیلجا نے صاف طور پر کہا ہے کہ انہیں سازش کے تحت بغیر سیکورٹی والی کھڑکی کے پاس بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔ پھر چلتی ٹرین کی اس کھڑکی پر راستے میں پتھر پھینکے گئے۔ جس سے انہیں شدید چوٹیں لگیں ہیں۔ مرکزی وزیر شیلجا نے پورے طور پر اس حادثے کا ذمہ دار ریاستی کانگریس میں چل رہی اوچھی سیاست کو ٹھہرایا ہے۔ اتناہی نہیں ہڈا پر ریاست میں دلتوں کی مخالفت کرنے اور ان کا استحصال کرنے کے بھی الزام کماری شیلجا کی طرف سے لگائے گئے ہیں۔ لیکن ہڈا کی شاطر سیاست کے آگے شیلجا کے الزام ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ نہ صرف شیلجابلکہ رائو اندرجیت سنگھ جیسے بڑے لیڈر کی بھی ہڈا کے آگے ایک نہ چلی اور انہوں نے اپنی وراثت کی پالیسی کو بھی تنگ آکر چھوڑ دیا۔ اب وہ نئے ٹھکانے کی تلاش میں ہیں۔ ہریانہ کی سیاست میں خاص مقام رکھنے والے چودھری وریندر سنگھ بھی، بھوپندر سنگھ ہڈا کے دائوں پینچوں سے پریشان ہیں۔ سر چھٹو رام کے لڑکے ہونے کے بعد بھی وہ مرکز میں وزیر نہیں بن سکے۔ یہ بھی ہڈا کی ہی کرامات تھی۔ ہریانہ میں مجاہد آزادی کو کانگریس کے پالے میں رکھنے کی سیاست کرتے کرتے بھوپندر سنگھ ہڈا ، سابق وزیر اعظم نرسمہا رائو کے ڈرائنگ روم تک پہنچ گئے۔ جگاڑ کی سیاست میں تجربہ رکھنے والے نے 1991 میں تو معمولی فرق سے جیت حاصل کی،لیکن اس کے بعد انہوں نے ہریانہ کی سیاست کے ستون چودھری دیوی لال کو روہتک کی پارلیمانی سیٹ سے لگاتار تین بار شکست دی۔
ہریانہ کی سیاست بھجن لال ، دیوی لال اور بنسی لال کے ارد گرد ہی گھومتی رہی ہے۔ہریانہ سیاست کے جانکار ہڈا کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہریانہ کے جاٹوں میں چودھری دیوی لال کے تئیں جو لگائو تھا اسے اپنے اپنی سیاسی تجربے سے ہڈا نے اپنی طرف موڑ لیا۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو ہریانہ کے وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا پر نہ صرف ہریانہ کی پانچ سیٹوں بلکہ ہریانہ کی پڑوسی ریاستوں ، مغربی اترپردیش، راجستھان اور پنجاب کے جاٹ ووٹوں کو بھی سمیٹنے کی ذمہ داری ہے۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ہڈا اپنی ہی پارٹی کے لیڈروں کے ذریعہ لگائے گئے ا لزاموں کے گھیرے میں ہیں اور انہیں بڑھتے الزاموں کے بیچ میں ہڈا کو کانگریس کے لئے اپنی قابلیت ثابت کرنی ہے۔ ہڈا اسی کوشش میں لگے ہیں۔ لیکن انہیں اس میں خاصی کامیابی ملتی نہیں دکھ رہی ہے۔ کیونکہ ہڈا کے سخت مخالف راجیہ سبھا کے ممبر چودھری وریند سنگھ نے کھل کر ہڈا کی مخالفت شروع کردی ہے۔ دراصل چودھری وریندر کی ناراضگی اس وقت سے ہے جب ان سے چیف سکریٹری کا عہدہ بھی چھن گیا اور مرکزی وزیر بننے کی راہ بھی نہیں کھلی۔ چودھری وریندر سنگھ اس کے لئے کھلے طر پر الزام وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا پر لگاتے ہیں۔ وریندر سنگھ کواس بات کی تکلیف زیادہ ہی ہے کہ ہڈا کے خلاف شکایت کرنے پر بھی پارٹی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ان کی ناراضگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چنڈی گڑھ میں نئے انچارج شکیل احمد کے ساتھ بیٹھک میں چودھری وریندر نے سی ایم سے نہ تو دعا سلام کیا اور نہ ہی رام رام اور اگلے ہی دن کروکیشتر میں انہوں نے یہ ریمارکس دیا کہ وزیر اعلیٰ ہڈا کی سوچ پہیلیوں سے نکلتی ہے۔ وہ جھکاکر کھیلتے ہیں۔
ہڈا کی پریشانی محض اتنی ہی نہیں ہے ۔دراصل ہریانہ کی سیاست میں الزام تراشیوں کا دور انتہا پر ہے۔ بر سر اقتدار پارٹی کے ارکان پر الزام ہے کہ وہ مختلف مقامات پر زمین کے لئے سی ایل یو دلوانے ، ٹینڈر و لائسنس کے لئے موٹی رقم کی مانگ کرتے ہیں۔ جس کا اسٹنگ آپریشن کرکے سی ڈی بھی تیار کرکے جاری کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے جیسے جیسے اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے بے قاعدگیوں کے اور بھی خلاصے ہوںگے ،سرکار کی بد عنوانی کی اور بھی خبریں نکل کر سامنے آرہی ہیں۔ یہ شکایتیں 10 جن پتھ تک پہنچ بھی رہی ہیں،لیکن اندر کی سیٹنگ میں ماہر ہڈا نے اپنا انتظام اتنا پختہ کر رکھا ہے کہ راہل گاندھی تک ہڈا کے شکایتوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ جبکہ یہی راہل گاندھی کانگریس کی شبیہ سدھارنے اور صاف ستھری پارٹی بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
بھوپندر سنگھ ہڈا نے اپنے ایم پی بیٹے دوپندر سنگھ ہڈا کو اسی کام کے لئے راہل گاندھی کے ساتھ لگا رکھا ہے تاکہ دوپندر ، اپنے والد کے خلاف آنے والی شکایتوں کو راہل گاندھی تک نہ پہنچنے دیں۔ادھر وزیر اعلیٰ بھی گاندھی فیملی پر اپنا احسان لادنے کا کوئی موقع نہیں گنواتے، رابرٹ واڈرا معاملے میں ، ہڈا کھل کر ان کا ساتھ دیتے نظر آئے۔ زمین کے تنازع میں رابرٹ پر لگے ہر داغ کو ہڈا نے دھونے کی کوشش کی۔ ہریانہ کی سیاست میں ہڈا نے احمد پٹیل کے سہارے جس طریقے سے بھجن لال کو کنارے لگا کر وزیر اعلیٰ کی کرسی ہتھیائی تھی، اس سے ہریانہ کی غیر جاٹ برادری بے حد ناراض تھی۔لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ہڈا نے بھجن لال کے حامیوں میں بھی اپنی جگہ بنائی اور جاٹ برادری کو بھی ایک جٹ کیا۔ جس کے مثبت اثرات راجستھان ، مغربی اتر پردیش اور دہلی میں بھی دیکھا گیا۔ لہٰذا سونیا گاندھی ، راہل گاندھی اور کانگریس کے دیگر سیاست دانوں کو یہ لگتا ہے کہ اس بار کے راجستھان اور دہلی ا سمبلی انتخابات میں بھی ہڈا کا اثر کام کرے گا۔ ساتھ ہی پڑوسی پنجاب اور مغربی اترپردیش کی صورت حال بھی کانگریس کے حق میں رہے گی۔ مطلب یہ کہ جاٹ ووٹ بینک بھی ہڈا کے لئے کوچ کا کام کر رہا ہے۔ لیکن حالات اتنے آسان نہیں ہیں۔ کماری شیلجا کے لگائے گئے الزاموں کے تحت اب ریاست میں جاٹ بنام دلت کی سیاست بھی کروٹ لینے لگی ہے۔ دلتوں کے استحصال اور ان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام بھی وزیر اعلیٰ پر لگ رہا ہے۔ ہریانہ میں 2014میں انتخاب ہونے ہیں لیکن سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے دائوں ابھی سے چلنے لگی ہیں۔ ہڈا کی مشکل یہ ہے کہ ان پر نہ صرف اپوزیشن کے حملے تیز ہو رہے ہیں بلکہ ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی ان کے خلاف صف آرا ہورہے ہیں حالانکہ ہڈا حامی خاص کر روہتک ، سونی پت اور جھجر ضلعوں میں مضبوطی سے کانگریس پارٹی اور ہڈا کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہی وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا کی بنیادی طاقت بھی ہے۔ لہٰذا ہڈا کی کامیابی خاص طور پر انہیں تین ضلعوں پر منحصر ہے۔ دو بار وزیر اعلیٰ بنے ہڈا تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ تبھی بن سکتے ہیں جب ان تین ضلعوں سے پہلے جیسے ہی انتخابی نتیجے آئیں ۔ویسے بی جے پی کے اتحاد کو لے کر تذبذب کا ماحول ، اعلیٰ رہنمائوں کے سیاسی منظر نامے سے باہر ہونا بھی ہڈا کے پھر سے وزیر اعلیٰ بننے کی راہ میں معاون ہوسکتے ہیں۔لیکن کانگریس کی اندرونیج پھوٹ بھوپندر سنگھ ہڈا اور ریاستی کانگریس کے لئے یقینا دشواریاں بڑھا سکتی ہیں۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *