غیر ممالک میں ہندوستانیوں کی سیکورٹی پر اٹھتے سوال

ہندوستانی نوجوانوں کا غیر ملکوں میں اچھی نوکریوں اور بزنس کے لئے جانا کوئی نہیں بات نہیں ہے۔ ان میں سے کچھ ایسے ہندوستانی بھی ہیں جن کے والدین عرصے سے غیر ممالک میں بستے آئے ہیں لیکن ان ممالک میں ہندوستانیوں کے لئے تحفظ ہمیشہ ہی مسئلہ رہا ہے۔ نسلی بنیاد پر ہندوستانیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔اسی عدم تحفظ کا شکار ایک ہندوستانی شہری ہریش شرما یوگنڈا میں ہوا۔اس کے قتل کی گھتی سلجھتی نظر نہیں آرہی ہے۔ایک ایسا شخص جو نہ کمپنی کا مالک ہے نہ ہی اس کا کسی سے بڑا اختلاف ہے،اسے اگر قتل کیا جاتا ہے اور وہ بھی ایک معمولی سیکورٹی گارڈ کے ذریعہ اور وہ بھی معمولی سی بات پر تو یہ نہایت ہی تشویشناک ہے۔ اگر ہندوستانی حکومت اور ہائی کمیشن یوگنڈا کے اس عجیب و غریب قتل پرکوئی قدم نہیں اٹھاتی ہے تو آئندہ کسی بھی ملک میں مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے اور ان کا تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔سوال تو کئی اٹھ رہے ہیں لیکن اس قتل کی گتھی جب تک سلجھے گی تب تک کتنے ہی ثبوت مٹ جائیں گے۔ابھی بھی اس قتل کے تعلق سے زیادہ خبریں نہیں آرہی ہیں ۔پتہ ہی نہیں چل پارہا ہے کہ اس کیس میں کیا کیا نئے موڑ آرہے ہیں۔

p-8bگزشتہ دنوں یوگنڈا میں ایک ہندوستانی شہری ہریش شرما کو ان کے کام کی جگہ پر گولی مار کرقتل کردیا گیا۔ہریش میسرس بگ باس میں چیف ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کررہے تھے۔ہندوستان کے ہی رہنے والے ابھے بنسل اس فارم کے مالک ہیں۔ 29 ستمبر2013 کو ابھے بنسل اور ہریش شرما کمپنی کے آفس میں ابھے بنسل کے کیبن میں بیٹھے ہوئے تھے، اسی وقت کمپنی کا ایک سیکوریٹی گارڈ جس کا نام نجیب برہانی تھا اس نے ہریش شرما کی طرف بندوق تان دی اور پیسے مانگنے لگا۔ اس سے پہلے کہ ہریش شرما اسے کوئی جواب دیتے اس گارڈ نے انہیں گولی مار دی۔ جبکہ ابھے بنسل کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچا۔
ابھے بنسل کے مطابق انہوں نے کسی طرح سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے اس گارڈ کو آفس سے باہر نکالا ۔ دراصل وہیں سے اس بڑے حادثے کے پیچھے کسی بڑی سازش کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ قصور وار سیکورٹی گارڈ نجیب برہانی ڈیلٹا سیکورٹیز کا ملازم تھا۔ اس حادثہ کے اکلوتے چشم دید گواہ کمپنی کے مالک ابھے بنسل ہیں اور انہوں نے ہی اس کی ایف آئی آر لکھوائی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیلٹا سیکورٹیز 24 گھنٹے ان کی کمپنی کو سیکورٹی مہیا کرتی تھی اور گارڈ کی شفٹ دن میں دو بار بدل جاتی ہے۔جبکہ گارڈ نجیب برہانی گزشتہ تین دنوں سے کام کر رہا تھا اور اس نے گارڈ کی حاضری رجسٹر میں دستخط بھی نہیں کیے تھے ۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نجیب برہانی اس آدمی کا اصلی نام تھا بھی یا نہیں ۔ حالانکہ اس حادثے کے بعد ڈیلٹا سیکورٹی نے میسرس بگ باس سے ناطہ توڑ لیا ہے۔
یوگنڈا میں چھپی خبروں کے مطابق ابھے بنسل نے مقامی پولیس کو بتایا کہ ان کی جان کو الطاف اور ترون کپور نام کے دو بزنس مین سے اختلاف کی وجہ سے جان کا خطرہ ہے۔ ابھے بنسل نے رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیاہے کہ انہوں نے اور ہریش شرما نے پولیس میں ان لوگوں کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کیونکہ الطاف اور ترون نے بزنس کے سلسلے میں 20 ملین شلینگ کا ایک چیک دیا تھا جو کہ بائونس ہو گیا تھااور جب یہ حادثہ ہوا تو ان دونوں ہی پارٹیوں کے بیچ تعلق اچھے نہیں تھے۔
اس پورے مسئلے کو لے کر یوگنڈا سرکار لاپرواہی کا رویہ اپنا رہی ہے۔ سرکار کچھ بھی نہیں بتا رہی ہے اور نہ ہی ا س کی کوئی ذمہ داری لے رہی ہے۔ چونکہ ڈیلٹا سیکورٹی ایک مشہور سیکورٹی ایجنسی ہے اس لئے اس ایجنسی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے سیکورٹی گارڈ کے نام وپتے کا پورا ڈاٹا رکھے۔ دوسرے ابھے بنسل کمپنی کے چیف ڈائریکٹر ہیں، جبکہ ہریش شرما صرف ایک ملازم، اس لئے ان کے تجارتی مخالفین ہریش شرما کو کیوں نشانہ بنائیں گے۔ ایک اور بات جو کھٹکنے والی ہے کہ اگر ملزم نے پیسے مانگے تو اس نے پیسے ہریش شرما سے کیوں مانگے؟اسے تو نبسل سے پیسے مانگنے چاہئے تھے کیونکہ کمپنی کے آنر تو وہی ہیں۔ ساتھ ہی اگر بنسل یہ بات کہہ رہے ہیں کہ الطاف اور کپور سے ان کے رشتے اچھے نہیں ہیں اور ان سے تجارتی اختلاف تھا تو انہیں گرفتار کرکے پوچھ تاچھ کیوں نہیں کی گئی۔
ہندوستانی حکومت نے اپنی طرف سے اس معاملے میں پوری دلچسپی دکھائی ہے،لیکن یوگنڈا سرکار کی طرف سے اس مسئلے کو الگ الگ طرح سے پیش کیا جارہا ہے اور ابھی تک ملزموں کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ ابھی تک کی جو جانچ یوگنڈا پولیس کر رہی ہے وہ صرف ابھے بنسل کے بیان کی بنیاد پر ہے جو کہ صرف خانہ پوری ہے کیونکہ اگر پولیس اور بھی بنیادوں پر جانچ کرے تبھی حقائق سامنے آئیں گے۔ یوگنڈا کی بڑی اقتصادیات ہندوستانیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ایسے میں اگر انہیں سیکورٹی مہیا نہیں ہو پاتی اور اگر وہاں کی سرکار ہی ایسے مسئلوں کو لے کر سنجیدہ نہیں ہوتی تو پھر غیر ملکوں میں تاجر یا نوکری کے لئے جانے والے نوجوانوں میں خوف کا ماحول بنتا جائے گا۔خود ہریش شرما کے گھر والوں کی طرف سے وزارت برائے خارجہ امور میں سلمان خورشید کے نام خط لکھ کر بھی اس معاملے کو نوٹس میں لے کر یوگنڈا پر دبائو بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ بات صرف اسی واقعہ یا یوگنڈا سرکار تک محدود نہیں ہے۔یہ ملک کے ان لاکھوں لوگوں سے جڑی ہے جو نوکری یا تجارت کے سلسلے میں غیر ملکوں میں ہیں۔ یہ دوطرفہ عمل ہے اور اس کا فائدہ وہاں کی اقتصادی نظام کو ہی مل رہا ہے۔ اگر ایسے مسئلوں کو دونوں ہی ملکوں کی سرکاروں نے سنجیدگی سے نہیں لیا تو ظاہری طور پر ملک کا کوئی بھی شہری نوکری کے سلسلے میں غیر ملک جانے سے پہلے ہچکچائے گا۔ g
چوتھی دنیا بیورو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *