انتخابی سروے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ہیں

ڈاکٹر منیش کمار 
Mastعام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ دہلی میں سرکار بنائے گی۔ اس دعوے کی بنیاد عام آدمی پارٹی کے ذریعہ کیا گیا سروے ہے۔ اگر سروے ہی انتخاب کا معیار ہوتے تو صرف ہندوستان ہی کیوں، دنیا کے کسی بھی ملک میں لوگ انتخاب کے نتیجہ کا انتظار ہی نہیں کرتے۔ اروند کیجریوال کا دعویٰ ہے کہ عام آدمی پارٹی کو 32فیصد ووٹ ملیں گے ا ور 70میں سے 46سیٹ پر ان کی پارٹی کے امیدوار جیت درج کرائیں گے۔ ویسے اس طرح کا دعویٰ کرنا سیاسی لحاظ سے غلط نہیں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی دن، ایک ہی علاقے میں اگر دس سروے ایک ساتھ ہوتے ہیں، تو یہ مان کر چلئے کہ ان سبھی کے نتائج مختلف ہوں گے۔ تاہم سروے کی بنیا دپر خود کو فاتح قرار دینا افواہیں پھیلانے کی کوشش ہے۔ ہندوستان میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت نے انتخابی سروے کو ہی انتخابی تشہیر و پروپیگنڈے کا ہتھیار بنایا ہے۔ اس لئے عام آدمی پارٹی کی سروے کی سچائی کو کا سمجھنا ضروری ہے۔

اروند

 کیجریوال نے انڈیا ٹی وی کے پروگرام آپ کی عدالت میں ایک انکشاف کیا کہ ٹی وی چینلو

ں پر حالیہ دنوں میں دیکھا گیا انتخابی سروے ایک گھوٹالہ تھا، جس میں چار ، پانچ ٹی وی چینل شامل تھے۔ سروے میں عام آدمی

 پارٹی کو تیسرے نمبر پر دکھایا گیا تھا۔ پھر انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے ذریعہ

 کئے گئے سروے کے مطابق عام آدمی پارٹی دہلی میں اکثریت میں آئے گی۔ ساتھ ہی انھوں نے تمام ٹی وی چینلوں کو یہ چیلنج کیا کہ سروے کا ’’را ڈاٹا‘‘عام کریں، کیونکہ عام آدمی پارٹی نے

 جو سروے کرایا ہے، اس کی تمام معلومات انھوں نے عام کر دی ہیں۔ سروے کا را ڈاٹا عام آدمی پارٹی کی ویب سائٹ پر ہے۔ چوتھی دنیا نے اس عام آدمی پارٹی کی ویب سائٹ سے را ڈاٹا نکالا، سوالنامہ نکالا، اس کا مطالعہ کیا تو کچھ حیرت انگیز معلومات سامنے آئیں۔

اگر کوئی سروے گزشتہ انتخابی نتائج کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ سروے میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔ سروے کے نتائج کو جمع کرتے وقت اس کا دھیان رکھنا چاہئے۔ عام آدمی پارٹی کے سروے کے سوالنامہ میں سوال نمبر پانچ دلچسپ ہے۔ اس میں لوگوں سے یہ پوچھا گیا تھا کہ 2008میں ہوئے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کس پارٹی کو کتنے ووٹ آئے تھے۔ دہلی کے 2008کے انتخابات میں کانگریس پارٹی کو 40.31%،بھارتیہ جنتا پارٹی کو 35.34%، بہوجن سماج پارٹی کو 14.05%اور دیگر کو 9.3%ووٹ ملے ہیں۔ اب ذرا عام آدمی پارٹی کے سروے کے نتائج کو دیکھتے ہیں۔عام آدمی پارٹی کے تیسرے سروے کے مطابق، 2008میں کانگریس پارٹی کو 45.58%، بھارتیہ جنتا پارٹی کو 26.24%، بہوجن سماج پارٹی کو محض2.79%ملے ہیں۔ اس کے علاوہ سروے میں 22.88%لوگوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جن لوگوں نے جواب نہیں دیاا گر ان کے ووٹوں کو بھی اسی تناسب میں تقسیم کر دیا جائے تو حتمی نتائج اس طرح ہوں گے۔

کانگریس کو 55.93%، بھارتیہ جنتا پارٹی کو 32.59%، بہوجن سماج پارٹی کو 3.43%ملے۔ سروے کے نتیجہ اور 2008کے دہلی انتخابات کے نتائج کے اعداد و شمار میل نہیں کھاتے۔ انتخابات کے حقیقی نتائج میں کانگریس اور بی جے پی میں ووٹوں کا فرق تقریباً 4فیصد کا تھا، لیکن عام آدمی پارٹی کے سروے کے مطابق یہ فرق تقریباً 23فیصد کا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کے بارے میں جو اس سروے سے جانکاری ملی ہے وہ تو بے حد مضحکہ خیز ہے۔ حقیقت میں بی ایس پی کو 14.05%ووٹ ملے، جبکہ عام آدمی پارٹی کے سروے کے مطابق اسے 2008میں صرف 3.43ملے۔ اگر سروے کرنے والوں نے اپنے سروے کی اس حقیقت کو دیکھا ہوتا تو شاید سروے رپورٹ کو عام نہیں کرتے۔اگر گزشتہ انتخابات کے بارے میں کوئی سروے صحیح اندازہ نہیں کر سکتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ سروے معتبر نہیں ہے۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ عام آدی پارٹی کے سروے کے سوال نامہ کا سوال نمبر 8بھی وہی ہے جو سوال نمبر 5ہے، جس کے بارے میں پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سوال نمبر 8بھی وہی ہے کہ 2008میں ہوئے گزشتہ انتخابات میں آپ نے کس پارٹی کو ووٹ دیا تھا۔ دونوں ہی سوال ایک ہی ہیں، لیکن اب ذرا دیکھتے ہیں کہ اس بار اس سروے کا نتیجہ کیا ہے۔ اس بار کانگریس پارٹی کو 42.72%، بھارتیہ جنتا پارٹی کو 24.31%، بہوجن سماج پارٹی کو 2.40% ملے اور 28.79%نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک ہی سوال کو دو منٹ کے وقفہسے پوچھا گیا تو اس سروے کے مطابق کانگریس اور بی جے پی کے دو دو فیصد ووٹ کم ہو گئے۔ ایک ہی سروے میں ایک ہی سوال پر مختلف نتائج اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ سروے عجلت میں تیار کیا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو نمبر ون دکھا کر اس کو انتخابی پروپیگنڈے میں استعمال کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔
ویسے جب عام آدمی پارٹی کے لئے سروے کرنے والی ایجنسی سسرو کے ڈائریکٹر دھننجے جوشی سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک ہی سروے میں ایک ہی سوال دو دو بار کیوں ہیں، تو انھوں نے پوچھا کہ سروے میں ایسا کون سا سوال ہے جو دو بار ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ ڈائریکٹر صاحب اس بات سے پوری طرح سے ناواقف ہیں۔انہیں جب سوال نمبرپانچ اور آٹھ بتایا گیا تو انھوں نے فوراً جواب دیا کہ لگتا ہے کہ کوئی غلطی ہو گئی ہوگی۔ ویسے ایک سوال اسمبلی کے لئے تھا تو دوسرا سوال لوک سبھا کے لئے تھا۔ ایسا جواب دے کر انھوں نے سروے کی مزیدہنسی اڑوادی، کیونکہ دہلی کے انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی کا فرق 20فیصد نہیں تھا، جو اس سروے میں بتایا جا رہا ہے۔ اروند کیجریوال نے ایسے سروے پر یقین کر کے اپنی ساکھ کو بھی دائو پر لگا دیا ہے۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کس نے انہیں را ڈاٹا کو عام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمانداری کے لئے لڑ رہی ہے، لیکن ذرا ایک نظر ڈالتے ہیں اس سروے کی ایمانداری پر ۔ عام آدمی پارٹی کے ذریعہ کئے جانے والے دوسرے سروے میں انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ دہلی کے ادارے گلوبل ریسرچ اینڈ اینا لٹکس سے آئے ہیں۔ جب سروے کرانے والی ایجنسی ’’سِسرو‘‘ کے ڈائریکٹر دھننجے جوشی سے بات ہوئی تو انھوں نے پہلے یہ بتایا کہ یہ ادارہ دہلی کے ساکیت میں واقع ہے۔ جہاں اسے کافی تلاش کیا گیا، لیکن اس ادارے کا کوئی پتہ نہیں چلا، اس کی کوئی ویب سائٹ نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر جب تلاش کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس نام کا ادارہ ایس اینڈ پی یعنی اسٹینڈرڈ اینڈ پوؤرس کی ایک برانچ ہے۔ ہندوستانمیں جس کی برانچ ممبئی، گڑگائوں، چنئی اور پونے میں ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ اسٹینڈرڈ اینڈ پؤورس ایک امریکی فائنانس سروس کمپنی ہے۔یہ شیئروں اور مالیات سے جڑے معاملات کی ریسرچ اور تجزیے شائع کرتی ہے۔ اس کی رپورٹ سے ملکوں کی سرکاریں ہل جاتی ہیں۔ اب یہ سمجھ کے باہر ہے کہ عام آدمی پارٹی کے سروے کا اس ایجنسی سے کیا رشتہ ہے۔ اگر رشتہ ہے تو پریشانی کی بات ہے اور نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سروے کرنے والی ایجنسی نے جھوٹ کی بنیاد پر یہ سروے کیا۔ ویسے سسرو کے ڈائریکٹر نے بے حد مشکوک انداز سے پوچھا کہ گلوبل ریسرچ اینالٹکس کے بارے میں آپ کو کیسے پتہ چلا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ یہ جانکاری کہیں سے ہاتھ لگی ہے، تو ان کا جواب تھا کہ کہیں سے ہاتھ لگی جانکاری کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ڈائریکٹر صاحب کو شاید معلوم نہیں تھا کہ یہ جانکاری عام آدمی پارٹی کی ویب سائٹ پر ہے۔ عام آدمی پارٹی کے دوسرے سروے کے سوال نامے کی پہلی لائن میں یہ لکھا ہوا ہے اور ان دستاویزات کو ڈائریکٹر صاحب کے نام کے ذریعہ اسے مصدقہ بتایا گیا ہے۔ بات چیت میں سسرو کے ڈائریکٹر نے یہ بھی بتایا کہ سروے کا گلوبل ریسرچ اینڈ اینالٹکس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہم ساتھ میں عام آدمی پارٹی کے سروے کا سوال نامہ بھی اسی لئے شائع کر رہے ہیں۔
عام آدمی پارٹی کے سروے میں دوسرا جھوٹ لوگوں سے یہ بولا گیا کہ یہ سروے اخبارات کے لئے مضمون تیار کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے اور اس سروے کا کسی پارٹی یا سرکار سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو معلومات وہ فراہم کریں گے وہ کسی کو بتائی نہیں جائیںگی ا ور ان کی پہچان پوشیدہ رکھی جائے گی۔ عام آدمی پارٹی نے صرف لوگوں کی پہچان کو پوشیدہ رکھا اور باقی تمام وعدے توڑ دئے، جو لوگ حدود کی بات کرتے ہیں، ایمانداری کی بات کرتے ہیں، انہیں شاید اپنے گریباں میں بھی جھانک کر دیکھنا چاہئے۔ یہ سروے عام آدمی پارٹی کے لئے کیا جا رہا تھا۔ اس کی جانکاری نہ صرف عام کی گئی ، بلکہ اس کا استعمال عام آدمی پارٹی نے انتخابی پروپیگنڈے کے لئے کیا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ اروند کیجریوال تال ٹھونک کر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ صرف انھوں نے سروے کا را ڈاٹا عام کیا ہے۔ صحیح بات ہے، دنیا کی کوئی سروے ایجنسی را ڈاٹا کو عام نہیں کرتی ہے، کیونکہ یہ سروے کرنے والوں کے اخلاق کے خلاف ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سروے کے محرک یوگیندر یادو جی نے 20سالوں میں اب تک کئی ہوئے سروے کا را ڈاٹا عام کیوں نہیں کیا؟
اس سروے میں ایک ایسی بات ہے جسے سمجھنا ضروری ہے کہ کس طرح سروے کو بھی ٹوئسٹ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ کیا کوئلہ گھوٹالہ میں منموہن سنگھ جیل جائیںگے؟ تو بیشتر لوگ جواب دیں گے کہ نہیں، کیونکہ لوگ اس بات پر یقین نہیں کریں گے کہ بھلا وزیر اعظم بھی جیل جا سکتے ہیں۔ دوسرا سوال اگر یہ پوچھیں گے کہ یوپی اے کے باقی وزیر جو بدعنوانی میں ملوث ہیں، انہیں سزا ملے گی یا بچ جائیں گے؟ بیشتر لوگ کہیں گے کہ بچ جائیں گے۔ پھر آپ یہ سوال کریں کہ کیا ملک سے بدعنوانی ختم ہوگی تو بیشتر لوگ کہیں گے کہ نہیں۔ بدعنوا نی تو ختم ہو ہی نہیں سکتی ہے۔ پورا ملک ہی بدعنوان ہے، تو اس سروے کا نتیجہ آئے گا کہ ملک کے لوگوں کا ماننا ہے کہ بدعنوانی ختم نہیں ہو سکتی ہے۔ اب ذرا دوسرا طریقہ اپنا تے ہیں۔ کیا لالو یادو کی طرح اور بھی لیڈروں کو بدعنوانی کے معاملہ میں جیل ہوگی؟ تو لوگ کہیں گے ہاں۔ یہ تو ابھی شروعات ہی ہے۔ کیا آپ کو سپریم کورٹ پر بھروسہ ہے اور کیا آپ چاہتے ہیں کہ تمام بدعنوان لیڈروں کو جیل بھجا جانا چاہئے۔اس کا بھی جواب ہاں میں ہوگا۔ اس کے بعد اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ کیا ملک سے بدعنوانی ختم ہوگی تو لوگ کہیں گے کہ ہاں۔ بدعنوانی ختم کرنا بالکل ممکن ہے۔اس سروے کا نتیجہ ہوگا کہ ملک میں بدعنوانی ختم کی جا سکتی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے اپنے سروے میں جس طرح سے سوال بنایا ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ اس سروے کا مقصد عام آدمی پارٹی کی تشہیر ہے، کیونکہ بیشتر سوال عام آدمی پارٹی سے جڑے ہیں اور اس میں کانگریس و بی جے پی کے بارے میں اکا دکا سوال ہیں۔
بی جے پی نے سب سے پہلے اس طرح کا سروے کرانے کی روایت کی شروعات کی، بی جے پی نے انتخابات کے لئے سب سے پہلے 1999کے لوک سبھا انتخابات میں سروے کرایا تھا، لیکن اس وقت اسے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، لیکن این ڈی اے حکومت بننے کے بعد اور جب سے ارون جیٹلی پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کے لیے مرکز میں آئے، تب سے بی جے پی میں سروے کی اہمیت بڑھ گئی۔ لیکن بی جے پی اپنے سرو ے کو عام نہیں کرتی تھی۔ اس سروے کا مقصد زمینی حقیقت جاننے کے لئے کیا جاتا تھا۔ مدعے کیا ہیں، لوگوں کا موڈ کیا ہے، امیدوار کیسے ہونے چاہئیں، الیکشن مہم کا طریقہ کیا ہونا چاہئے۔ g
ان اہم مدعوں کو سمجھنے کے لئے ایسے سروے کرائے جاتے تھے۔ انتخابات سے جڑے فیصلے میں ایسے سروے کی بے حد اہمیت ہوتی تھی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ بی جے پی کے بیشتر سروے غلط ثابت ہوئے اور سروے کی بنیاد پر لئے گئے کئی فیصلے غلط ثابت ہوئے۔ کچھ تواتنے خطرناک ثابت ہوئے، کہ بی جے پی جیتی ہوئی بازی گنوا بیٹھی۔
ایسا کئی بار دیکھا گیا ہے کہ سروے کی حقیقت سب سے پہلے اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ سروے کرنے والے فیلڈ ورکر نے کتنی ایمانداری سے سروے کیا ہے؟ کیا وہ واقعی لوگوں کے گھر گئے؟ صحیح ڈھنگ سے سوال کیا یا پھر کسی طرح سے سوال نامہ کو بھر دیا؟ ویسے حقیقت یہی ہے کہ بیشتر سروے جھوٹے اس لئے بھی ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ سوال نامہ کو لے کر فیلڈ ورکر لوگوں کے پاس جاتا ہی نہیں ہے۔ گروپ بنا یہ لوگ کسی ہوٹل یا ریسٹورینٹ میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے حساب سے اسے بھر دیتے ہیں۔ دماغ اس میں یہ لگا یاجاتا ہے کہ سوال نامہ کو اس طرح سے بھرا جائے، جس سے وہ پکڑے نہیں جائیں، اس لئے بیشتر سروے صحیح نتیجہ دینے کے بجائے کنفیوز کرتے ہیں۔ سروے کرانے والی ایجنسیاں دلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، دہلی یونیورسٹی کے کالجوں و میڈیا انسٹی ٹیوٹ کے طلباء کو اس کام میں استعمال کرتی ہیں، جنہیں فیلڈ ورک اور ریسرچ کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ طلباء اس تجربہ کا استعمال فرضی طریقوں سے فارم بھرنے میں کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب سوال نامہ ہی فرضی طریقہ کار سے بھرا گیا ہو تو سروے کا نتیجہ غلط ہی ہوگا۔ اب چاہے کوئی را ڈاٹا عام کرے یا نہ کرے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
عام آدمی پارٹی نے یہ سروے سسرو ایسوسی ایٹ کے ذریعے کروایا تھا۔ اس سروے میں 34427لوگوں کی رائے لی گئی۔ ان لوگوں کود ہلی کے 70اسمبلی حلقوں کے 1750پولنگ بوتھ سے چنا گیا تھا۔ ویسے دہلی کے لیے اتنا بڑا سیمپل کافی ہے۔ عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ سبھی لوگوں کے گھر جا کر آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کی گئی اور یہ سروے 5ستمبر اور 5اکتوبر کے درمیان کیا گیا، لیکن اس بار سروے کرنے والوں نے گلوبل ریسرچ اینڈ انالیٹکس کے نام کی جگہ سسرو ایسوسی ایٹس کا نام لیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ وہ سرکار کی طرف سے نہیں آئے ہیں۔ شاید عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کو اپنی بھول کا پتہ چل چکا تھا کہ انھوں نے دوسرے سروے میں مریادہ کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے تیسرے سروے میں اسے ہٹادیا گیا ہے، لیکن پھر بھی ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا سروے کرنے والے انجان بن کر گئے تھے؟ کیا وہ عام آدمی پارٹی کے کارکن تھے؟ کیا انھوں نے عام آدمی پارٹی کی ٹوپی پہن کر یہ سروے کیا؟ یہ جاننا ضروری ہے، کیونکہ اگر وہ عام آدمی پارٹی کے کارکن تھے، تو ویسے ہی اس سروے کے کوئی معنی نہیں رہ جاتے ہیں۔اسے پھر ہمیں ایک پارٹی کے پرچار کا طریقہ سمجھ لینا چاہیے۔ وہ اس لیے ، کیونکہ سوال پوچھنے والا کون ہے، اس سے بھی عام لوگوں کے جواب بدل جاتے ہیں۔ یہ سوال اس لیے اٹھایا جا رہا ہے، کیونکہ جن سوالوں کا جواب سیدھا تھا، ان میں قریب 27فیصد سے زیادہ لوگوں نے اپنی کوئی رائے نہیں دی۔
ویسے بھی انتخاب میں ابھی کافی وقت باقی ہے۔ دہلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک دن میں پورا نقشہبدل جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کا انتخاب شخصیت پر مبنی ہوتا ہے، پارٹی کا رول جزوی ہوتا ہے۔امیدواروں کو اپنے دم پر ہی انتخاب جیتنا ہوتا ہے۔ ایک مزیدار بات بتاتا ہوں۔ 2004کے انتخابات مین اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم کی ریس میں ہمیشہ سب سے آگے رہے۔ہر سروے یہی کہتا تھا ، لیکن بی جے پی الیکشن ہار گئی۔ وجہ صاف ہے کہ ملک میں لوگ وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کو ووٹ نہیں دیتے، ووٹ مقامی ایم پی یا ایم ایل اے کو پڑتا ہے۔ اگر وہ مقبول نہیں ہے توپارٹی کو ووٹ نہیں ملتے۔ ہندوستان میں زیادہ تر لوگ ووٹ دینے والے کی شخصیت ا ور اس کے پس منظر کو دیکھتے ہیں۔ اس لیے انتخاب سے پہلے کیے گئے سروے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی نے سب سے زیادہ امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے ، جبکہ کانگریس و بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ان دونوں ہی پارٹیوں میں مضبوط اور زمینی بنیاد والے کئی لیڈر ہیں۔ جب بی جے پی کانگریس کے امیدواروں کا اعلان ہو جائے گا، تب جائزہ لینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دہلی میںامیدواروں کا پتہ نہیں، کون سا مدعا سب سے اہم رہے گا، اس کا پتہ نہیں ہے۔ کس پارٹی کی کیمپین کیسی ہوگی، اس کا بھی پتہ نہیں ہے، کون کون لیڈر، فلم اسٹار، کھلاڑی کیمپین کرنے دہلی آئیں گے، کس پارٹی میں بغاوت ہوگی، کتنے باغی امیدوار کھڑے ہوں گے، انّا ہزارے و رام دیو کی کیمپین کا کیا اثر ہو گا، یہ ابھی تک کسی کو پتہ نہیں ہے۔ اور یہ باتیں ایسی ہیںجن میں ذراسی چوک جیت کو ہار میں بدل سکتی ہے اور ہار کو جیت میں۔ اس لیے انتخاب سے پہلے کیے گئے سروے کا کوئی اثر انتخاب پر نہیں ہوتا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے سروے کا سہارا لیکر انتخابی تشہیر میں ایک نیا تجربہ کیا ہے، اسے پرچار کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے۔
ویسے بھی انتخابی سروے تاریخ بتاتا ہے، وہ مستقبل نہیں بتا سکتا۔ یہی سچ ہے ۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ سروے سے کسی انتخاب کا مستقبل بتایا جا سکتا ہے، تو وہ لوگوں کو دھوکا دے رہا ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ کئی سالوں سے سروے کرنے والی ایجنسیاں لوگوں کو اور سیاسی پارٹیوں کو بیوقوف بناتی آرہی ہیں۔ ہندوستان میںایسی کوئی سروے ایجنسی نہیں ، جس کی پیشن گوئی غلط نہیں ہوئی ہو۔ 2004میں سارے سروے این ڈی اے کی سرکار کو بھاری ووٹوں سے جتا رہے تھے، لیکن جب نتائج آئے تو سارے سروے غلط ثابت ہوگئے۔ ملک کے سب سے جانے مانے اور سب سے معتبر مانے جانے والے یوگیندر یادوکا سروے زیادہ تر غلط ثابت ہوا ہے۔ وہ کئی بار مودی کو سروے میں ہرا چکے ہیں، جے للتا کو ہرا چکے ہیں اور امریندر سنگھ کو جتاچکے ہیں اور اس طرح کئی بار غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ جب سب سے زیادہ معتبر کا حال یہ ہے تو دوسروں کی بات کرنا ہی بے معنی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سروے اپنے آپ میں غلط نہیں ہوتے۔ یہ ایک طریقہ ہے، ایک ذریعہ ہے، جس سے ایک اندازہ، صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ مستقبل کو جاننے کی خواہش انسانی فطرت ہے، اس لیے سروے جمہوریت اور انتخابی ماحول کو متحرک رکھتا ہے، لیکن اسے بنیاد بنا کر کسی کی جیت کا اعلان کر دینا لوگوں میں غلط فہمی پیدا کرنا ہے
۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *