وقت (ترمیم) ایکٹ 2013میں اب بھی اصلاح درکار

اے یو آصف 

p-4ستائس برس قبل کی بات ہے۔شاہ بانو معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو لے کر مسلمانوں میں بے چینی پائی جارہی تھی۔بے چینی کی وجہ یہ تھی کہ عدالت عظمیٰ نے اندور ( مدھیہ پردیش) کے محمد احمد خاں کو پانچ برس قبل اپنی طلاق شدہ بیوی شاہ بانو کو نان و نفقہ ادا کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا تھا۔ ملت کی اس تشویش کے پیش نظر جب اوائل 1986 میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ عرف علی میاں کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحٰ وفد وزیر اعظم راجیو گاندھی سے ملا اور ان سے مذکورہ عدالتی فیصلہ کو قرآن مخالف بتاتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تو راجیو گاندھی نے سوال کیا کہ پھر اس قسم کی بے سہارا خواتین کا پرسان حال کون ہوگا؟اس پر علی میاں نے ان کی توجہ ملک میں موجود وقف املاک کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ اگر ا ن کی حفاظت اور انتظامٹھیک سے کرلیا جائے تو اس کی آمدنی سے یہی نہیں بلکہ دیگر بہت سے مسائل آسانی سے حل کیے جاسکیں گے۔کہا جاتا ہے کہ راجیو گاندھی نے اس جواب کے بعد ہی 19 مئی1986 کو مسلم خواتین قانون کے بنانے کا اعلان کیا تھا۔ویسے یہ الگ بات ہے کہ اس قانون کے بننے کے بعد سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ کالعدم ہوگیا اور مسلمانوں کی وہ تشویش ختم ہوگئی مگر راجیو گاندھی نے طلاق دینے کے باعث بے یار و مددگار خواتین کا جو مسئلہ اٹھایا تھا وہ اپنی جگہ ہنوز برقرار ہے کیونکہ وقف املاک کی حفاظت اور انتظام خود ایک پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔
اس تعلق سے جو سوال ذہن میں سب سے پہلے اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ وقف آخر ہے کیا؟وقف کی تشریح حدیث رسول ؐ کے مطابق بخاری شریف میں مندرجہ ذیل ہے’’تصدق باصلہ لا یباع و لا یوھب و لا یورث و لکن ینفق ثمرہ ‘‘ ترجمہ: اصل کو اس طرح خیرات میں دو کہ نہ وہ فروخت ہوسکے،نہ ہبہ کی جاسکے اور نہ اس میں وراثت جاری ہو بلکہ اس کے منافع لوگوں کو ملا کرے۔
اس حدیث کی روشنی میں پوری دنیا میں وقف کا سلسلہ جاری ہے اور یہ فلاح کا ایک بہترین ذریعہ بناہوا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں وقف املاک بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ جہاں تک ہمارے ملک ہندوستان کا معاملہ ہے ،17 نومبر 2006 کو حکومت ہند کو پیش کی گئی سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق یہاں 6 لاکھ ایکڑ اراضی پر محیط 4.9 لاکھ رجسٹرڈ وقف املاک موجود ہیں جن کی اس وقت قیمت 6 ہزار کروڑ روپے اور اس سے سالانہ آمدنی کم از کم 163 کروڑ روپے اندازہ کی گئی تھیں۔ قابل ذکر ہے کہ ان رجسٹرڈ املاک کے علاوہ ایسی دیگر غیر رجسٹرڈ وقف املاک بھی ہیں جن کی حفاظت اور انتظام و انصرام کے مسائل ہمیشہ موضوع بحث رہے ہیں۔ آزادی کے بعد وقف قانون میں پہلی دفعہ 1954 میں ترمیم کی گئی تھی۔علی میاں کی وزیراعظم راجیو گاندھی سے ملاقات کے بعد وقف املاک کی حفاظت اور انتظام و انصرام سے متعلق کوئی مخصوص کوشش دیکھنے کو تو نہیں ملی۔البتہ 1995 میں وقف قانون میں ایک بار پھر ترمیم ہوئی۔ اس ترمیم سے بھی صورتحال میں کوئی واضح تبدیلی نہیں ہوئی۔ تب جاکر مئی 2010 میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں پھر ایک ترمیمی بل پاس کرایا گیا۔
مگر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت جماعت اسلامی ہند، آل انڈیا ملی کونسل، جمعیت علماء ہند اور زکوٰۃ فائونڈیشن آف انڈیا جیسی مسلم تنظیموں کی جانب سے اس کے چند نکات پر سخت اعتراض کے پیش نظر اسے ایک سلیکٹ کمیٹی اور جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کردیا گیا۔ پھر یہ ترمیمی بل مذکورہ کمیٹیوں سے تصحیح ہوتا ہوا 19 اگست 2013 کو ایوان بالا راجیہ سبھا اور 5ستمبر 2013 کو لوک سبھا سے پاس ہوا اور پھر صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کی منظوری کے بعد یہ قانونی شکل بھی اختیار کر گیا۔ مذکورہ قانون وقف (ترمیم) ایکٹ 2013 گزیٹ آف انڈیا میں 23 ستمبر کو بطور ایکٹ نمبر 27 شائع بھی ہوچکا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ مذکورہ قانون 1995 وقف قانون میں تبدیلی لانے کی غرض سے ہی کیا گیا ہے جس کا مقصد وقف اداروں میں استحکام اور ان کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔16 صفحاتی وقف (ترمیم) ایکٹ 2013 میں ایسی 43 ترمیمات شامل ہیں جو کہ 1995 کے قانون کے مختلف سیکشنز میں دیگر تبدیلیوں اور اضافوں کے ساتھ کی گئی ہیں۔
سچر کمیٹی میں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی کے طور پر خدمت انجام دیے، ڈاکٹر سید ظفر محمود جو کہ نئی دہلی میں واقع زکوٰۃ فائونڈیشن آف انڈیا کے صدر بھی ہیں نے ’’چوتھی دنیا‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وقف املا ک کی حفاظت اور انتظام و انصرام پر سچر کمیٹی کی رپورٹ میں خاص طور پر توجہ دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وقف املاک کو اب موجودہ فیئر مارکیٹ ریٹ (Fair Market Rate)پر لیز کرنا چاہئے مگر وقف ایکٹ 2013 میں اس تعلق سے کوئی بات نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی وقف املاک کی موجودہ فیئر مارکیٹ ریٹ ( ایف ایم آر) عام طور پر اس کرائے سے 50 گنا زیادہ ہوتی ہے جس پر وقف املاک لیز آئوٹ کی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں وقف قانون میں ترمیم اب تک جتنے جتنے وقفے سے ہوتی رہی ہے، اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ 1995,1954 اور 2013 کے بعد اب یہ شاید 2030 کے بعد ہی ہو۔ اگر ان کا یہ اندازہ صحیح مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آئندہ 17 برس کی مدت میں مسلمانوں کو وقف املاک کے کم چارج پر لیز کرائے سے کم از کم 500 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔
ڈاکٹر ظفر محمود کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے اپنے ہی شروع کیے گئے ترمیم کے ذریعے وقف املاک لیز آئوٹ کرنے کے لئے غیر ضروری سینٹرا لائزیشن آف پاور کیا۔ لہٰذا اب ایک نئے ترمیم کے ذریعے یہ ضروری ہے کہ لیز کے ہر ایک فیصلہ کو پہلے وقف بورڈکو کنٹرول کر رہے سرکاری محکمہ کو بھیجا جائے جس کے لئے مذکورہ محکمہ کو اپنا ذہن بنانے کے لئے 45 دنوں کا وقت دیا گیا ہے۔ پھر جب حکومت مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تبھی لیز آرڈر ایشو کیا جاسکتا ہے۔ صحیح بات تویہ ہے کہ وقف بورڈ کے اختیارات کم کرتا ہوا حکومت کا یہ نیا اختیار قطعی غیر ضروری ہے۔ اس سے بڑے پیمانہ پر ریڈ ٹیپزم (Red Tapism) اور تاخیر بڑھیں گے اور بدعنوانی کا امکان بھی مزید پیدا ہوگا کیونکہ تب لیز کے لئے دی جانے والی درخواستیں سرکاری محکمہ میں پیروی کے ساتھ یونہی چکر لگائیں گی۔ اس نئی ترمیم کے آنے سے وقف املاک یا مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اب جبکہ نیا قانون بن چکا ہے،مرکزی وزارت اقلیتی امور کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر وقف بورڈوں کو حکومت کے نئے حاصل کردہ اختیارات سے لیس کرتے ہوئے محکماتی ہدایت جاری کرے تاکہ جو نقصان ہورہا ہے اسے روکا جاسکے۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ اس نئے ترمیم شدہ وقف قانون کے سبب اب ہر ایک ریاستی وقف بورڈ کا سی ای او (CEO) کا متعلقہ ریاستی حکومت میں کم از کم ڈپٹی سکریٹری کے عہدے پر فائز ہونا لازمی ہے۔ علاوہ ازیں سینٹرل وقف کونسل کو ریاستی وقف بورڈوں کے انتظامی و مالیاتی نظم کو دیکھنے کے لئے اب اختیارات دے دیے گئے ہیں مگر سینٹرل وقف کونسل کے سکریٹری کے لئے کم از کم سرکاری سطح نہیں بتائی گئی ہے۔ یہ ایک بڑی کمی ہے جس سے بد انتظامی ہونے کا پورا خدشہ ہے۔ ڈاکٹر ظفر محمود کا یہاں پر یہ بھی کہنا ہے کہ اسی لئے سچر کمیٹی نے کہا تھا کہ سینٹرل وقف کونسل کے سکریٹری کو کم از کم حکومت ہند کے جوائنٹ سکریٹری کی سطح کا تو ہونا ہی چاہئے کیونکہ یہ وہ پوزیشن ہے جو کہ ریاستی حکومت میں ڈپٹی سکریٹری سے اونچی ہے جس سے نئے قانون کے نفاذ میں قوت ملتی ۔اب جبکہ یہ نیا قانون عملی شکل اختیار کرچکا ہے، مرکزی وزارت اقلیتی امور کو چاہئے کہ وہ یہ کہتے ہوئے کہ سینٹرل وقف کونسل کا سکریٹری سرکاری عہدہ کا اور حکومت ہند کے جوائنٹ سکریٹری سے کم نہیں ہونا چاہئے ،محکماتی ہدایت جاری کرے۔
علاوہ ازیں حکومت نے وقف قانون میں جو ایک اور غیر ضروری ترمیم کیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی وقف املاک کے معاملہ میں اگر متولی کی تقرری کی وراثتی جانشینی ختم ہوجاتی ہے تب بھی وہ املاک’ کمیونٹی کی فلاح کے لئے استعمال ہوگی ‘۔ یہاں پر صرف لفظ’کمیونٹی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے ’مسلم کمیونٹی آف انڈیا‘ الفاظ ہونے چاہئے ورنہ اس سے غیر ضروری لیٹی گیشن پیدا ہوسکتا ہے۔ اس لحاظ سے ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ کی جانب سے ایک وضاحتی ہدایت جاری کی جائے۔
ظاہر سی بات ہے کہ وقف املاک پر قبضہ کو ہٹانا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ وقف سے متعلق جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی نے اس سلسلے میں سفارش کی تھی کہ ریاستی وقف بورڈ کے سی ای او کو مجسٹریٹ کا اختیار ملنا چاہئیمگر نئے قانون میں ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا ہے بلکہ اب جو صورت بنی ہے اس سے پورا عمل اور بھی زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نئے نظم کے تحت کسی بھی ایکشن سے قبل وقف ٹریبونل کی اجازت لازمی ہوگی جس سے وہ لیٹی گیشن اور تاخیر جسے ٹالا جا سکتا تھا کے ہونے کا ہمیشہ اندیشہ بنا رہے گا۔لہٰذا اس بات کی بھی فوری ضرورت ہے کہ نئے وقف قانون میںایک اور ترمیم ہو اور اوقاف کے تعلق سے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کے مطابق سی ای او کو مجسٹریٹ والے اختیارات مہیا کرائے جائیں۔
اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 2010 سیتین برس کی لگاتار محنت اور کاوش کے بعد بھی صدر جمہوریہ ہند کے ذریعے منظور کیے گئے وقف (ترمیم) ایکٹ 2013 کو ہنوز اصلاح درکار ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ اس تعلق سے فوراً کارروائی کرے۔تبھی تو وقف املاک کی حفاظت اور انتظام و انصرام کی گارنٹی دی جا سکے گی اور یہ املاک ملت و قوم کے لئے ہر طرح سے مفید بھی ثابت ہوسکے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *