ہندوستان کا آئیڈیا

میگھناد دیسائی
p-2اب اس کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ 1977 کے بعد 2014 کے انتخابات سب سے اہم ہوں گے۔ کانگریس کا نظریہ، جسے اس پارٹی نے بڑی چالاکی سے ہندوستان کا نظریہ بنا لیا ہے، کو اب بنیادی طور پر چیلنج درپیش ہے۔ لہٰذا ہندوستان کا آئیڈیا ہی موضوع بن گیا ہے۔
سیکولر، جمہوری اور مرکز سے بائیں جانب جھکی سیاست جواہر لعل نہرو کے ہی دماغ کی اُپج تھی۔ اس میں گاندھیائی عناصر موجود تھے، مگر چونکہ نہرو پلاننگ اور صنعت کاری میں یقین رکھتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ملک کی زمین کی سلامتی کی خاطر مضبوط فوج کے حق میں تھے، جب کہ وہ اس سلسلے میں بالکل کامیاب نہیں رہے، اس لحاظ سے یہ گاندھیائی آدرش نہیں تھا۔ نہرو نے ذات و برادری اور طبقات کی کشمکش سے اوپر اٹھ کر اُس سماج کی دلالت کی، جو کہ جدید اور عقلی دلائل پر مبنی ہو اور مذہبی توہمات کا پابند نہ ہو اور مختلف آراء کو انگیز کرتا ہو نیز بحث و مباحثہ کے لیے کھلا ہوا ہو۔ ان سب سے اوپر اٹھ کر انہوں نے ایک ایسی پارٹی کی سربراہی کی، جو کہ بہت ہی ہمہ جہت تھی اور جو کہ اے آئی سی سی کی نشستوں میں بہت سی بحثوں میں حصہ لیتی تھی، جب کہ کچھ میں انہیں شکست بھی ہوئی۔
یہ آئیڈیا یونیورسٹیوں میں موضوعِ بحث بنا اور دانشوروں نے اس پر بحثیں کیں۔ اس کی گھسائی ہوئی اور پھر اسے تاریخی بنیادیں حاصل ہوئیں۔ تبھی تو ہندوستانی تاریخ میں ملے جلے ہندوستان کی کہانی معیاری بن کر ابھری۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتیہ وِدیا بھون کا شائع کردہ ’تاریخ ہند‘ کے متبادل ’ہندو نیشنلسٹ اکاؤنٹ‘ کو یونیورسٹیوں کے نصاب میں کبھی شامل ہونے کا اعزاز نہیں ملا۔ تاریخ ہند تو وہی گردانی گئی، جسے کانگریس کی قیادت نے پسند کیا۔ تحریک آزادی کے وہ شہدائ، جنہوں نے اس کے حصول کے لیے تشدد کی راہ اختیار کی تھی، کو نیچے کر دیا گیا، جن میں سبھاش چندر بوس خاص طور پر شامل ہیں۔
آزادی کے پہلے 20 برسوں تک یہ آئیڈیا قومی بیداری کی بنیاد تھا۔ میں خود بھی اسی آئیڈیا کی چھتر چھایا میں پلا بڑھا۔ کانگریس تب ایک پارٹی سے بڑھ کر تھی۔ یہ ایک نظام یا سسٹم تھی۔ اس وقت مرکزی سطح سے زمین کی جڑوں تک اطلاع کا بہاؤ تھا اور اوپر سے نیچے چھوٹے سے گاؤں تک نظم قائم تھا۔ ایک کانگریس تھی، ایک ہندوستان تھا اور ہندوستان کا ایک آئیڈیا تھا۔
آئندہ کی لڑائی میں کانگریس ہندوستان کے اس آئیڈیا کا دفاع کر رہی ہے، مگر نہرو کی وفات کے بعد اس آئیڈیا کا تیزی سے انحطاط ہو رہا ہے۔ جب وہ وزیر اعظم ہوا کرتے تھے، تب تقسیم وطن کے حالات سے نمٹنے کے بعد پھر کوئی فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے۔ 1965 سے ہندوستان کو متعدد فرقہ وارانہ فسادات کا سامنا کرنا پڑا اور بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے قبل 1955 تک ان کے سبب 75 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1969 میں کانگریس کے ٹوٹنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ اب ایک ہمہ گیر نہیں رہی، جو کہ کثیر قطبی قوت کے ڈھانچہ میں الگ الگ آراء کو برداشت کر سکے۔ یہ اپنے لیڈر کی ذاتی جاگیر بن گئی اور تمام اختلاف اور بحث کا دروازہ بند ہو گیا۔
سیکولر ازم اتنا زیادہ ’سرو دھرم نرپکشتا‘ یعنی تمام مذاہب کے لیے غیر جانبدار نہیں رہا، بلکہ ’سرو دھرم سمبھاؤ‘ یعنی تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام بن گیا۔ سیکولر ازم کو جن سنگھ آئیڈیالوجی مخالف اور ساتھ ہی ساتھ مسلم ووٹ کے لیے ڈھال بنا دیاگیا۔
یہ ایمرجنسی تھی، جس نے ہندوستان کے آئیڈیا کی اس شکل کو توڑ دیا۔ یہ فاشسٹ حکمرانی سے پہچانا جانے لگا۔ جن سنگھ اور قدیم کانگریسی لیڈران جیل بھیج دیے گئے اور آزادی کے شہداء بن گئے۔ جب ایمرجنسی ختم ہوئی، تو جن سنگھ ؍ بی جے پی ہندوستانی سیاست کا ایک قابل احترام جز بن گئی۔ جب اندرا گاندھی اقتدار میں واپس لوٹیں، ان کے سیکولر ازم نے ہندو رنگ اختیار کیا۔
یہ اس وقت کی بات ہے کہ راجیو گاندھی نے اجودھیا میں ’رام للا‘ کو نصب کرنے کی اجازت دی اور شاہ بانو فیصلہ کے خلاف گئے اور مسلم قدامت پسندی سے ہندو قدامت پسندی کو بیلنس کیا۔ سیکولر ازم مسلم ووٹ کے لیے استعمال کیا گیا، جس کی بعد میں ٹھیکیداری مذہبی لیڈروں سے بھی ہوئی۔ افسوس صد افسوس کہ یہ سب کچھ مسلم عوام کو ان کی پچھڑی اور محرومی کی حالت سے اوپر اٹھانے میں مدد نہ کر سکا۔ سیکولر ازم سماج کے اُن ’اشرفی‘ کہلائے جا رہے بالائی سطح کے لیے ہے، جنہیں سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔
شاید اب ہندوستان کے اس زنگ زدہ آئیڈیا کو کھل کر چیلنج کرنے کا وقت آ چکا ہے۔ کیا یہ اچھا نہیں ہوگا کہ آئین پر کاربند رہا جائے اور تمام ہندوستانیوں سے ایسے شہریوں کے طور پر برتاؤ کیا جائے، جنہیں ان کے حقوق حاصل ہیں، جس کی پابندی ریاست کا فرض ہے اور جسے قانون کے سامنے سبھوں کے ساتھ برابری کا برتاؤ کرنا ہے؟ کیا ہمیں کسی سلمان رشدی یا ایم ایف حسین کی تقریر اور اظہارِ خیال کی آزادی کا دفاع اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ اس سے مسلم یا ہندو قدامت پسندی پر حملہ ہوتا ہے، نہیں کرنا چاہیے؟ کیا ہرایک شخص ذات و برادری یا مذہب کے بجائے اپنے سماجی اور معیشتی حیثیت پر مبنی مثبت ایکشن کا مستحق نہیں ہے؟
جیسا کہ مہاتما گاندھی نے یوروپی تہذیب کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کا آئیڈیا ایک اچھی بات ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *