راہل ، مایاوتی اتحاد: ہاتھی اور ہاتھ ساتھ ساتھ

روبی ارون 

سیاست کے تقاضوں کے مد نظر ملک میں بے حد دلچسپ سیاسی تصویریں ابھر رہی ہیں۔ پرانے ساتھیوں کا ہاتھ چھوٹ رہا ہے، تو نئے ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔ مقصد، صرف لوک سبھا الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بھی فتح پانی ہے۔ اسی کے تناظر میں کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان ایک خاص قسم کا رشتہ پنپنے لگا ہے۔ جو خبر ہے، اس کے مطابق ’ہاتھ‘ اور ’ہاتھی‘ کے درمیان ایک قرار ہو چکا ہے۔ طے یہ ہوا ہے کہ راہل اور مایاوتی آنے والے لوک سبھا انتخابات سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی جنگ مل کر لڑیں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے، تو یقینا ان انتخابات کے نتائج چونکانے والے ہو سکتے ہیں۔

p-3آءندہ انتخابات کے پیش نظر بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی اور کانگریس ہائی کمان سونیا گاندھی کے درمیان بڑی خاموشی سے ملاقاتوں کے کئی دور مکمل ہو چکے ہیں۔ بی ایس پی اور کانگریس کا اتحاد بس کچھ ہی دنوں میں پروان چڑھنے والا ہے۔ ان دونوں ہی پارٹیوں کے درمیان ایک عام رضامندی بن چکی ہے۔ معاملہ بس ایک مسئلہ پر آ کر اٹک گیا ہے اور وہ ہے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں سیٹوں کے بٹوارے کا معاملہ۔ سونیا گاندھی نے مایاوتی سے یہ بات صاف طور پر کہہ دی ہے کہ ان کے بیچ یہ سیاسی رشتہ تبھی پختہ ہوگا، جب مایاوتی کانگریس کو اتر پردیش کی 80 پارلیمانی سیٹوں میں سے 35 پر لڑنے دینے کو راضی ہوں گی، ورنہ یہ نئی بنتی دوستی بکھر بھی سکتی ہے۔ دوسری طرف مایاوتی چاہتی ہیں کہ ان کی پارٹی 60 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کریں۔ حالانکہ، فی الحال مایاوتی نے اس شرط پر حامی نہیں بھری ہے، لیکن خبر ہے کہ وہ 35 اور 45 کے بٹوارے پر تیار ہو جائیں گی۔ اور اگر کانگریس اور بی ایس پی کی دوستی رنگ لاتی ہے، تب یہ بات سماجوادی پارٹی اور بی جے پی کے لیے فکرمندی کی وجہ بن سکتی ہے، کیوں کہ کانگریس اور بی ایس پی کا ساتھ دلت، مسلم اور برہمن ووٹروں کو ان کے حق میں ایک ساتھ کھڑا کر سکتا ہے۔

مایاوتی اور راہل گاندھی کا ساتھ کچھ نئے سیاسی گل کھلا سکے، اس کی خاطر کانگریس پارٹی احتیاطاً کچھ فوری اور سخت قدم بھی اٹھا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر جو خبریں کانگریس کے حکمت سازوں کے اندرونِ خانہ سے آ رہی ہیں، ان کے مطابق اگر سماجوادی پارٹی کانگریس اور بی ایس پی کی دوستی پر بوکھلائے گی یا غرائے گی، تب ایسی صورت میں کانگریس پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے سے قبل ہی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی بھی سفارش کر سکتی ہے۔ اسی لیے کانگریس نے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس وقت سے پہلے ہی بلانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اسی سرمائی اجلاس میں سرکار اپنے ان سبھی باقی ماندہ بلوں کو پاس کرا لینا چاہتی ہے، جس کا کریڈٹ لے کر وہ عوام کے بیچ میں جا سکے اور اپنے کام کاج کی منادی کر سکے۔ ان بلوں میں تلنگانہ سے لے کر اسٹریٹ وینڈر بل تک شامل ہے۔ مطلب، کانگریس اپنے خلاف لگے تمام بدعنوانی کے الزامات اور خلاف جاتی عوامی حمایت کے باوجود جیت پانے کے لیے کوئی کسر باقی رکھنا نہیں چاہتی۔ مایاوتی سے گلے ملنا بھی اسی حسرت کی اہم کڑی ہے۔
دراصل، کانگریس اور بی ایس پی کے اتحاد کی یہ کوششیں یوں ہی نہیں ہوئیں۔ ہوا یہ کہ جب راہل گاندھی نے دگ وجے سنگھ سے اتر پردیش کانگریس کا چارج واپس لے کر اس ذمہ داری کو مدھوسودن مستری کو سونپ دیا، تب مدھو سودن مستری نے اتر پردیش میں ایک زبردست انتخابی سروے کرایا۔ اس سروے کی رپورٹ کانگریس کے لیے بے حد مایوس کن تھی۔ جو نتیجے آئے، اس میں بتایا گیا کہ اگلے لوک سبھا الیکشن میں کانگریس اکیلے اپنے دَم پر یو پی میں صرف چار سے چھ سیٹیں ہی جیت پائے گی، جب کہ ابھی کانگریس کے پاس یو پی میں لوک سبھا کی 22 سیٹیں ہیں۔ تقریباً دو مہینے پہلے یہ رپورٹ مدھو سودن مستری نے راہل گاندھی کو پیش کی اور لگے ہاتھوں یہ صلاح بھی دے دی کہ کانگریس اگر بی ایس پی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑے، تو فائدے میں رہے گی۔ لہٰذا مایاوتی تک یہ پیغام بھجوایا گیا۔ ضرورت مایاوتی کو بھی تھی، تو وہ اس سلسلے میں سونیا گاندھی سے ملنے آ پہنچیں۔ سونیا گاندھی، احمد پٹیل اور مایاوتی کے درمیان اس پر بات چیت ہوئی اور یہ طے پایا کہ دونوں ساتھ ہو جائیں۔
پیچ صرف سیٹوں کے بٹوارے کا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی کانگریس اور بی ایس پی بھی اپنے اتحاد کا اعلان کردیں گی۔ اپنے اس اتحاد کے ذریعے کانگریس کی یہ پوری کوشش رہے گی کہ وہ اتر پردیش میں نریندر مودی کی جیت کے امکان پر روک لگا دے اور اس کی بناپر مودی کے دہلی پر راج کرنے کے خواب کو بھی توڑ دے۔
کانگریس کو یہ لگتا ہے کہ اس کے ساتھ بی ایس پی کے آ جانے سے اسے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں دلتوں کے ووٹ مل جائیں گے۔ دہلی اسمبلی کی بھی کئی سیٹوں پر تال میل کی گنجائش بن رہی ہے۔ بی ایس پی اور کانگریس کے درمیان اتر پردیش کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بھی تال میل ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔ دراصل، سیٹوں کے بٹوارے اور دلت – مسلم ووٹ بینک کا کریڈٹ اپنے اپنے نام کرنے کی قواعد نے یہ اتحاد نہیں ہونے دیا تھا۔ لیکن موجودہ سیاسی حالات نے راہل گاندھی اور مایاوتی کو یہ بات اچھی طرح سمجھا دی ہے کہ اگر ابھی بھی انہوں نے ہاتھ نہیں ملایا، تو ہندوستانی سیاست کی زمین پر شاید وہ مضبوطی سے نہ ٹک پائیں۔ اس کا سیدھا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کو ہی ملے گا۔ اور اگر وہ ساتھ ہو جاتے ہیں، تو اپنی مخالف سیاسی پارٹیوں کی دہلی تک پہنچنے کی راہ کو وہ مشکل کر دیں گے، کیوں کہ ان کے ایک ساتھ ہونے کی حالت میں دلت، مسلم اور برہمن ووٹوں کا پولرائزیشن ان کے پالے میں ہو جائے گا۔ اس کے نتیجہ میں جو دوسری علاقائی پارٹیاں ملک میں تیسرے محاذ کو شکل دینے کی مشقت کر رہی ہیں، ان کی راہ بھی تھوڑی کٹھن ہو سکتی ہے۔ پھر نہ صرف پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات، بلکہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ٹکر کانٹے کی ہو سکتی ہے۔
اتر پردیش کے مظفر نگر فسادات کے بعد سے کچھ کانگریسی لیڈروں کو یہ لگنے لگا ہے کہ فسادات سے ناراض مسلمانوں کا ووٹ انہیں ہی ملے گا، لیکن راہل اور سونیا اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ ناراض مسلمان ریاست میں اسی پارٹی کو ووٹ دیں گے، جو بی جے پی کو ہرانے کی قوت رکھتی ہو اور یہاں، اس معاملے میں بی ایس پی کانگریس سے آگے ہے۔
اب تو مسلم تنظیمیں بھی اس بات کا اعلان کرنے لگی ہیں کہ مایاوتی کے دورِ حکومت میں اقلیتیں محفوظ تھیں۔ یہ صورتِ حال بی ایس پی کو مضبوط بنا رہی ہے۔ وہیں مایاوتی کی یہ مجبوری ہے کہ وہ مرکز میں بننے والی سرکار میں شامل ہونا چاہتی ہیں، ورنہ بعد میں انہیں اپنی ریاست میں تمام مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف بی ایس پی کے سامنے سماجوادی پارٹی کو بھی روکنے کی چنوتی ہے۔ اس لیے بی ایس پی اور کانگریس کا ساتھ مل کر چلنا مجبوری بھی ہے۔ حالانکہ اس اتحاد کو لے کر دونوں پارٹیوں کے اندر تھوڑا ڈر بھی ہے۔ کانگریس کا ڈر یہ ہے کہ اگر اس نے بی ایس پی کے ساتھ لوک سبھا انتخابات میں ملک بھر میں اتحاد کیا، تو اس کے دلت ووٹر چھٹک کر مایاوتی کے پالے میں چلے جائیں گے اور پھر واپس نہیں آئیں، جیسا کہ پہلے بھی اتر پردیش میں ہو چکا ہے، وہیں دوسری طرف بی ایس پی کا ووٹ بینک بھی کانگریس کی طرف آ جائے گا۔ تاہم، کانگریس کے روایتی ووٹ بینک کا رجحان بی ایس پی کی طرف ہوگا یا نہیں، کہنا مشکل ہے۔ باوجود اس کے، کانگریس اور بی ایس پی دونوں کو ہی اس اتحاد میں فائدہ زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔
حالانکہ اتر پردیش ایک ایسی ریاست ہے، جہاں کا مسلمان یہاں کی کسی بھی سیٹ پر پکی جیت نہیں دلا سکتا، لیکن یہ ضرور ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کی جو تعداد ہے، وہ کچھ ایک سیٹوں کو چھوڑ کر باقی ہر سیٹ پر انتخابی نتائج کو متاثر کرتی ہے۔ مسلمانوں کی آبادی کے حساب سے اتر پردیش میں تقریباً 19 ضلعے ایسے ہیں، جہاں مسلمان بڑی تعداد میں رہتے ہیں، مثلاً رامپور، مرادآباد، سہارنپور، بجنور، مظفر نگر، بلرام پور، بریلی، بہرائچ، امروہہ، میرٹھ وغیرہ ضلعوں میں مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ اتنا ہی نہیں، پیلی بھیت، خلیل آباد، بدایوں، غازی آباد، لکھنؤ، بلند شہر ایسے ضلعے ہیں، جہاں ووٹروں کا ایک چوتھائی حصہ مسلم ووٹرس کا ہے اور ان سبھی جگہوں کے مسلمانوں کا زبردست جھکاؤ بی ایس پی کی طرف ہے۔ صاف ہے کہ اگر کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان اتحاد ہو جاتا ہے، تو کانگریس کو اتر پردیش میں اس کی حیثیت سے زیادہ سیٹیں مل جائیں گی۔
اسی طرح اگر مدھیہ پردیش کے اس وقت کے حالات پر غور کریں، تو پائیں گے کہ یہ حالات 2008 جیسے ہی ہیں۔ آپ 2008 کے انتخابی اعداد و شمار کو یاد کریں، تو ان کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ بی ایس پی نے مدھیہ پردیش میں تیسری طاقت کے طور پر اپنی زبردست موجودگی درج کرائی تھی اور اگر وہاں کانگریس اور بی ایس پی نے ساتھ مل کر الیکشن لڑا ہوتا، تو مدھیہ پردیش میں بی جے پی دوسری بار سرکار نہیں بنا پاتی۔ وہیں اگر بی ایس پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر لیا ہوتا، تب شاید کانگریس ریاست سے باہر ہو گئی ہوتی۔ حالانکہ مدھیہ پردیش کی 230 اسمبلی سیٹوں میں سے بی ایس پی نے محض 7 سیٹیں ہی حاصل کی تھیں، لیکن 19 اسمبلی حلقے ایسے تھے، جہاں بی ایس پی نے کہیں کانگریس کو، تو کہیں بی جے پی کو پیچھے چھوڑ کر نمبر دو پر اپنی موجودگی درج کرائی تھی۔ 14 اسمبلی حلقوں میں بی ایس پی نے 25 سے 30 ہزار ووٹ پائے تھے اور تقریباً 70 اسمبلی حلقوں میں بی ایس پی کے امیدواروں نے 10 سے 20 ہزار تک ووٹ حاصل کر لیے تھے۔ اگر اس وقت کانگریس کے لیڈروں نے زمینی حقیقت کا تجزیہ کیا ہوتا اور مایاوتی کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہوتا، تو شاید مدھیہ پردیش میں اس کی ہی حکومت ہوتی۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے 230 اسمبلی سیٹوں میں سے 143 سیٹیں حاصل کرکے اپنی حکومت بنائی تھی۔ کانگریس کو 71 سیٹیں ملی تھیں اور 7 سیٹیں جیتنے والی بی ایس پی نے 57 دیگر سیٹوں پر اپنی زبردست موجودگی درج کرائی تھی۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں اگر کانگریس اور بی ایس پی ساتھ ہوتیں، تو یہ 57 سیٹیں بی جے پی کے ہاتھ سے نکل جاتیں اور وہ حکومت بنانے کی حالت میں نہیں ہوتی۔ لیکن یہی بی ایس پی اگر بی جے پی کے ساتھ ہوتی، تو کانگریس 71 سیٹوں سے سمٹ کر 37-38 سیٹوں پر آ جاتی۔ ابھی بھی مدھیہ پردیش میں تقریباً ویسے ہی حالات ہیں اور اس بار کانگریس بی ایس پی کو ساتھ نہیں رکھنے کی غلطی دہرانا نہیں چاہتی۔
ٹھیک ایسے ہی حالات 2008 میں ہوئے دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران تھے۔ اس الیکشن میں کانگریس کو کل 39.88 فیصد ووٹ ملے تھے، بی جے پی کو 36.43 فیصد اور بی ایس پی کو 14.5 فیصد ووٹ ملے تھے۔ حالانکہ بی ایس پی کے کھاتے میں دہلی اسمبلی کی صرف دو سیٹیں ہی آئی تھیں، لیکن 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر تجزیہ کریں، تو اس بار کی تصویر کچھ الگ ہوگی۔ دہلی میں دلت اور مسلم ووٹروں کا حصہ 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ اگر ہم ان میں پوروانچل کے ووٹروں کو بھی جوڑ دیں، تو یہ 45 فیصد سے اوپر چلا جاتا ہے۔ دہلی شہر کی 70 سیٹوں میں سے 38 کا ذات پر مبنی حساب کچھ ایسا ہے کہ وہاں کل ووٹ شیئر 20 سے 60 فیصد تک کا ہے۔ یہاں 10 سیٹیں بی جے پی کے پاس ہیں، 4 دیگر پارٹیوں کے پاس اور 34 سیٹیں کانگریس کے پاس ہیں۔ گوکل پوری اور بدر پور کی سیٹیں بی ایس پی کے پاس ہیں۔ مسلم اثر والے علاقے، جیسے اوکھلا، مٹیا محل وغیرہ کی سیٹیں دیگر پارٹیوں کے حصے میں ہیں۔ سلطانپوری کی سیٹ کانگریس کے پاس ہے، جہاں دہلی میں سب سے زیادہ دلت رہتے ہیں اور جن کی آبادی 44 فیصد ہے۔ دہلی کی ایک درجن ریزروڈ سیٹوں میں سے 9 سیٹیں کانگریس کے پاس ہیں اور محض دو سیٹیں بی جے پی کے پاس، جب کہ ایک پر بی ایس پی کا قبضہ ہے۔ ان تمام اعداد و شمار کی روشنی میں کانگریس اور بی ایس پی کا اتحاد یقینا زبردست رنگ دکھا سکتا ہے۔
کم و بیش یہی صورتِ حال پنجاب میں ہے۔ پنجاب میں 35 فیصد سے زیادہ دلت آبادی ہے، لیکن بی ایس پی ابھی تک یہاں کے دلتوں میں اپنی پکڑ نہیں بنا سکی ہے۔ ابھی تک یہاں بی ایس پی کا رول ووٹ کاٹنے والی پارٹی تک ہی محدود ہے۔ پنجاب کی 37 دلت برادریاں اپنے اپنے حساب سے الگ الگ پارٹیوں کو حمایت دے کر یہاں سرکار بنواتی رہی ہیں۔ لیکن یہاں اگر بی ایس پی کا اتحاد کانگریس کے ساتھ ہوتا ہے، تو بکھرے ہوئے دلت ووٹوں کا پورا جھکاؤ ان کے حق میں ہو سکتا ہے۔
چھتیس گڑھ میں 11.61 فیصد دلت ووٹ بینک ہے، جب کہ راجستھان میں ان کی حصہ داری 17.09 فیصد ہے۔ ان تمام ریاستوں میں بی ایس پی کی وجہ سے دلت ووٹ بینک بکھراؤ کا شکار ہے، جس کا خمیازہ کانگریس کو اٹھانا پڑتا ہے۔ حالانکہ ان چاروں ریاستوں میں کانگریس کا کوئی روایتی ووٹ بینک نہیں رہا ہے، اس لیے کانگریس مایاوتی کے ساتھ کے بہانے اس بکھراؤ کو متحد کرنے کی کوشش کرے گی۔ کانگریس کا ہاتھ پڑنے سے بی ایس پی کی سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ بی جے پی کے روایتی ووٹ بینک پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، جس کا فائدہ سیدھے طور پر کانگریس کو ہی ملے گا۔ کانگریس مسلم اور برہمن ووٹوں کے سہارے نہ صرف اتر پردیش، بلکہ مرکز کا بھی اقتدار سنبھالتی رہی ہے۔ ایسے میں اگر بی ایس پی کی معرفت دلت ووٹر بھی اس کے ساتھ ہو جائیں، تو یہ بات بی جے پی کے لیڈروں کی حسرتوں کو توڑ دینے کا باعث بھی ہو سکتی ہے۔ کانگریس اور بی ایس پی کے آپس میں ہاتھ ملانے کی خبر نے ویسے بھی ان دنوں بی جے پی لیڈروں کی پیشانی پر شکن پیدا کر دی ہے۔
بہرحال، کانگریس اور بی ایس پی ہائی کمان میں جو تال میل نظر آ رہا ہے، اس سے تو یہ ڈیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، لیکن یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بی ایس پی سپریمو مایاوتی کن شرطوں پر کانگریس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں؟

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *