پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ اب پہل کرے

کمل مرارکا 
کول گیٹ گھوٹالہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔اس ضمن میں ایک نئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے، جس میں ملک کے ایک بڑے صنعتی گھرانے اور اس کے چیئرمین کمار منگلم بڑلا کا بھی نام شامل ہے۔سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پاریکھ ، جن کی شبیہ ایک ایماندار افسر کی ہے ، کا نام بھی اس ایف آئی آر میں شامل ہے۔پی سی پاریکھ نے مدلل طریقہ سے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس وقت وزارت کوئلہ کی ذمہ داری خود وزیر اعظم کے پاس تھی ، اس لئے ان کا نام بھی اس میں شامل کرنا چاہئے۔ اسے بدقسمتی ہی کہیں گے کہ ایسے واقعات کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ملکی مفاد کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس سلسلہ کو معقول طریقہ سے ختم کیا جائے اور اس کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہوگا کہ اس وقت کے نظام کے تحت کئے گئے تمام کول بلاک الاٹمنٹس کو خارج کیا جائے، بالکل نئے عمل کے تحت پھر سے ٹینڈر موصول کئے جائیں اور بولی لگائی جائے یا کسی بھی دوسرے مناسب طریقہ سے نئے سرے سے الاٹمنٹ کئے جائیں ۔ اس گھوٹالہ سے ملک کو جو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اس سے بچنے کا یہی واحد طریقہ ہے ایف آئی آر کرنا اور سی بی آئی کو بغیر خود مختار بنائے اسے اس معاملہ کی تفتیشی اتھارٹی بنانے سے ان سب کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
سبھی جانتے ہیں کہ سی بی آئی حکومت کا ہی ایک حصہ ہے اور ایسا حصہ ہے جو کہ نا اہل ہے اور بدعنوان ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ تجارتی گھرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے یا تو سی بی آئی کے افسر پیسہ بنا رہے ہیں یا تو بڑے سیاسی کھلاڑی پیسہ بنا رہے ہیں۔ کول بلاک الاٹمنٹ گھوٹالہ سے ملک کی شبیہ بین بین الاقوامی برادری میںدائو پر لگی ہوئی ہے اور اس سے نجات پانے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہماضی میں کئے گئے تمام الاٹمنٹس کو خارج کر دیا جائے۔ اگر حکومت ایسا نہیں کر سکتی ہے تو سپریم کورٹ کو ایسا کرنا چاہئے۔ روز ایک نئی ایف آئی آر درج کرنا حقیقت میں بس اخباروں کا سنسنی خیز مواد اور غیر اخلاقی خبروں کا ذریعہ بن جاتا ہے اور یہ ملک کے کسی بھی طرح مفاد میں نہیں ہے۔ایسا کر کے ہم صرف ان اخباروں کا سرکولیشن بڑھا رہے ہیں جن کے اوپر یہ شک کیا جاتا ہے کہ وہ صنعتی گھرانوں سے جڑے ہیں۔ ایسا کر کے ملک کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ مجھے نہیں پتہ کہ وزیر اعظم اس مسئلہ پر کیا سوچتے ہیں۔ حالانکہ کول بلاک کے الاٹمنٹ میں جنھوں نے پیسہ لگایا ہے ظاہری طور پر انہیں برا لگے گا لیکن ہم یہاں پر پورے ملک کے مفاد میں بات کر رہے ہیں نہ کہ کسی خاص فرد کو ذہن میں رکھ کر۔ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ کسی تفتیش کے حکم یا سی بی آئی کو کارروائی کرنے کے بجائے وہ سبھی الاٹمنٹ کو خارج کر دے اور پھر سے نئے عمل کے تحت بولی لگائی جائے۔ اس طرح جس کسی بھی صنعتی گھرانوں نے نوکر شاہوں یا حکمرانوں کو پیسہ دے کر کول بلاک حاصل کیا تھا، ان کے پیسے ڈوب جائیں گے اور حقیقت میں وہ اسی کے حقدار ہیں ، کیونکہ انھوں نے جو کیا وہ غیر منطقی طریقہ سے کیا گیا تھا۔ اس مسئلہ کے حل کو اخلاقی ، قانونی یا جو کوئی بھی مانا جائے یہی بس ایک واحد طریقہ ہے۔
دوسرا ، جیسا کہ میں نے سنا کہ اتر پردیش کے ضلع میں سونے کی تلاش میں کھدائی ہوئی۔ ایک سادھو نے خواب دیکھا کہ وہاں پرسونا گڑھا ہوا ہے ، جس کے سبب یہ کھدائی ہوئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس پورے عمل میں حکومت نے کتنا پیسہ خرچ کیا ہوگا۔ ساتھ ہی یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ 21ویں صدی کے اس دور میں صرف کسی کے خواب دیکھنے پر کہ کہیں زمین میں سونا دفن ہے ، پر بھروسہ کر لیا جاتا ہے اور حکومت اسے صحیح مانتے ہوئے اس پر کارروائی کرنے لگتی ہے۔
الیکشن نزدیک آ رہے ہیں اور ملک میں جو ماحول بن رہا ہے، اسے حقیقت میں اچھانہیں کہا جا سکتا۔ معیشت بحران میںہے، سیاسی صورتحال بگڑ رہی ہے، بدنظمی اور بدعنوانی کا ماحول بنا ہوا ہے اور ایسے میں حکومت کو چاہئے کہ وہ کوشش کرے کہ اب بدعنوانی کا کوئی نیا معاملہ سامنے نہ آپائے۔ حکومت جو بھی کر رہی ہے، حقیقت میں اسے بہتر ڈھنگ سے کرنے کی ضرورت ہے۔
مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ ایک قابل شخص ہیں اور چیزوں کو معقول طریقہ سے چلانے کے لئے انہیں اور آزادی ملنی چاہئے۔ سیاسی طاقتیں جو ایک دن یہ طے کرتی ہیں کہ آرڈیننس لایا جائے اور اور ان کے اپنے ہی لوگ عام طور سے آرڈیننس کا مذاق اڑا کر یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے وزیرا عظم اور حکومت کا مذق اڑایا ہے، حقیقت میں اپنی پارٹی کا ہی مذاق اڑا رہے ہیں۔ پارٹی کی کور کمیٹی صحیح طریقہ سے کام نہیں کر رہی ہے۔ پارٹی صدر ایک بات کہتی ہیں کہ تو پارٹی کے نائب صدر دوسری بات کرتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ عوام چاہ رہے ہیں کہ قصوروار سیاستدانوں کے خلاف کارروائی ہو۔ پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ خود اس کی پہل کرے نہ کہ کورٹ۔ پارلیمنٹ کا کام ملک کی سپریم کورٹ کر رہی ہے جو کہ جمہوری نظام کے لئے مناسب نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *