مودی جی! صرف باتیں نہیں الیکشن پلان بھی چاہئے

روبی ارون 

Mast

نریندر مودی اپنی تیز طرار اور جارحانہ تقریروں سے لوگوں کا دل جیت لیتے ہیں۔ وہ اپوزیشن پارٹیوں پر زبردست حملہ کرتے ہیں اور ان کی کمزوریوں اور کمیوں کو گناتے ہیں۔ وہ اپنی تقریروں سے ملک کے لوگوں کے سامنے ایک خوش حال، ترقی یافتہ اور مضبوط ہندوستان کا خواب پروستے ہیں۔ وہ گڈ گورننس سے ہندوستان کو پوری دنیا میں اول درجہ دلانے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے بولنے کے مؤثر انداز میں وہ سب کچھ ہوتا ہے، جو انہیں آج کے نوجوانوں کا آئیڈیل بناتا ہے۔ اگر نہیں ہوتی تو بس ایک چیز کہ اگر وہ وزیر اعظم بن جاتے ہیں، تو وہ کس طرح ان کاموں کو انجام دیں گے؟ ہندوستان کے اقتصادی نظام کو مضبوط کرنے کی خاطر ان کے کیا منصوبے ہیں؟ ملک سے بدعنوانی ختم ہو سکے، اس کے لیے وہ کون سے طریقے اپنائیں گے؟ پڑوسی ملکوں سے ہندوستان کے تعلقات درست ہو سکیں اور ملک کی سرحدیں محفوظ ہوں، اس کے لیے ان کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ دنیا کے دیگر ملکوں سے ہندوستان کے تعلقات دوستانہ ہوں، اس کے لیے ایک وزیر اعظم کے طور پر نریندر مودی کے پروگرام کیا ہوں گے؟ یہ وہ سارے سوالات ہیں، جو نریندر مودی کی تقریروں کے سبب پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے مودی کا روڈ میپ آخر ہے کیا؟

آج ہمارا ملک بے روزگاری، بھوک، غریبی، بدعنوانی، مہنگائی، سرحد پر دراندازی اور گھوٹالے جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اگر مودی وزیر اعظم بن جاتے ہیں، تو آخرکار ایسی کون سی جادو کی چھڑی گھمائیں گے، جس سے سبھی مشکلیں چٹکیوں میں حل ہو جائیں گی۔ کانگریس کی پالیسیوں سے الگ، ان کی کیا حکمت عملی ہوگی، یہ مودی کو ابھی ملک کو بتانا ہوگا۔ لیکن مودی ایسا کرتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ وہ صرف تنقید کرتے ہیں۔ مرکزی حکومت کے کام کاج کا مذاق اڑاتے ہیں، تہمتیں لگاتے ہیں۔ لیکن ان تمام بیماریوں کا علاج کیا ہے؟ مودی یہ نہیں بتاتے۔
مودی نے دہلی کے شری رام کالج آف کامرس (ایس آر سی سی) میں جوشیلے اور کچھ کر گزرنے کا خواب لیے بیٹھے نوجوان طالب علموں کے درمیان یہ کہا کہ انتخابات آ گئے ہیں اور اب ملک کا مستقبل طے ہونا ہے۔ ملک رک سا گیا ہے اور اب اسے رفتار دینی ہوگی۔ تب لگا تھا کہ مودی وہاں موجود نوجوانوں کے سامنے کوئی ایسا خاکہ کھینچیں گے، جو بھروسہ جگائے گا کہ ہاں، اسی راستے پر چل کر ہم اپنے مستقبل کو بہتر اور تابناک بنا سکتے ہیں۔ لیکن مودی نے ایسا کوئی راستہ نہیں دکھایا۔ انہوں نے بس اتنا کہا کہ ملک کا ہر شہری اگر ایک خواب بنے، تو اس کے سچ ہونے پر ہمارا ملک ایک سو پچیس قدم آگے بڑھ جائے گا۔ لیکن کیسے؟ مودی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔
بی جے پی کی انتخابی مہم کمیٹی کا چیئرمین بننے کے بعد مودی نے پہلی بار جنوبی ہند میں عوامی ریلی سے خطاب کیا، جہاں وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے مسئلے پر خوب گرجے۔ مودی نے کہا کہ سرحد پر ہمارے جوانوں کو مارا کاٹا جا رہا ہے، لیکن ووٹ بینک کی سیاست میں الجھی یو پی اے سرکار اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کے لیے ملک کی حفاظت اور فوجیوں کی زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔لیکن جب یہی نریندر مودی، بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار بنائے جا تے ہیں اور ہریانہ کے ریواڑی میں ریٹائرڈ فوجیوں کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہیں، تب پاکستان کو مخاطب کرنے کا ان کا اندازِ بیان چونکاتا ہے۔ نریندر مودی فرماتے ہیں کہ ’’میری آواز پاکستان تک جاتی ہے اور میں پاکستان سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہندوستان سے نہ لڑ کر اپنے ملک میں پائی جانے والی غریبی اور ناخواندگی سے لڑے، تو اس کی ترقی ہوگی۔‘‘ لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم کے روپ میں ان کے پاس کشمیر مسئلہ کا کیا حل ہوگا اور ہندو پاک سرحد پر پھیلی دہشت گردی اور دراندازی کے مسئلہ پر ان کی کارروائی کیا ہوگی۔
نریندر مودی ماؤو واد اور دہشت گردی کی بات کرتے ہیں۔ اس سے ہونے والے نقصانات کو بتاتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں کہتے کہ جب وہ وزیر اعظم بنیں گے، تب نکسلی سرگرمیوں کو ختم کرنے کی ان کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ وہ جل (زمین)، جنگل اور زمین کے مدعے پر لڑتے اور پستے آدیواسیوں کی ترقی کے لیے ایسا کیا کریں گے کہ وہ نکسل ازم کی راہ چھوڑ دیں۔ آئین میں آدیواسیوں کے لیے نوکری میں ریزرویشن کا انتظام تو ہے، لیکن اس نوکری کے لیے ان کے اندر جو تعلیمی لیاقت ہونی لازمی ہے، اس کے لیے بطور وزیر اعظم مودی کی کیا عملی پالیسیاں ہوں گی۔
نریندر مودی کارپوریٹ گھرانوں کے سب سے پسندیدہ لیڈروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہی کارپوریٹ گھرانے جنگلاتی علاقوں میں زمین اور معدنیاتی وسائل کو لوٹ رہے ہیں اور اربوں کھربوں کے گھوٹالے کر رہے ہیں۔ انہی گھرانوں کے دَم پر مودی کے گجرات نے ترقی کی راہ پر دوڑ لگائی ہے۔ تو کیا مودی جب وزیر اعظم بن جائیں گے، تب ان صنعتی گھرانوں کی نکیل تھام سکیں گے، جو آدیواسیوں کی زندگی اور ماحولیات کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ماؤ وادی دہشت گردی اور پونجی وادی دہشت گردی سے دبے سہمے آدیواسیوں کو وہ ترقی کی مین اسٹریم میں کیسے لے کر آئیں گے۔ نریندر مودی کی تقریروں اور یقین دہانیوں میں ان باتوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔
پُنے کے فرگوسن کالج میں طلباء و اساتذہ کی بھاری بھیڑ سے خطاب کے دوران نریندر مودی مرکزی حکومت پر جارحانہ تیور اپناتے ہوئے کہتے ہیں کہ دہلی کی سرکار میں بیٹھے لوگ فوڈ سیکورٹی بل لے کر آئے ہیں اور دعوے تو ایسے کر رہے ہیں، گویا آپ کی تھالی میں کھانا پروس دیا ہو۔ محض قانون بنانے سے آپ کی تھالی میں کھانا نہیں آنے والا۔ لیکن نریندر مودی اس بات پر بالکل روشنی نہیں ڈالتے کہ غریب کی تھالی میں کھانا آئے گا، تو کیسے آئے گا۔ مودی کے ذہن میں کون سے ایسے علاج ہیں، جن کے ذریعے غریب کی تھالی اور پیٹ خالی نہیں رہیں گے۔ مودی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ فوڈ سیکورٹی بل ملک کے لیے ضروری ہے یا نہیں۔ اگر ضروری ہے، تو اسے مؤثر طریقے سے نافذ کرنے اور ہر غریب تک اس کا فائدہ پہنچانے کے لیے اس بل میں کن ترامیم کی ضرورت ہے۔
حیدرآباد میں مودی کی تقریر سننے کے لیے لوگوں نے پانچ پانچ روپیوں کا ٹکٹ خریدا اور پورے جوش و خروش کے ساتھ انہیں سننے کے لیے جمع ہوئے۔ مودی نے مرکزی حکومت کو ہندوستانی سرحد میں چینی فوج کی دراندازی کے مسئلے پر خوب کھری کھوٹی سنائی۔ مودی نے کہا کہ چینی فوجی ہندوستانی سرحد پر قبضہ کرتے ہیں، لیکن ہندوستانی سرکار کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے، اسے تو بس اپنے تعلقات کی فکر ہے۔ لیکن نریندر مودی وہاں موجود بھاری بھیڑ کو یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتے کہ جب وہ وزیر اعظم بن جائیں گے، تو ان کی سرکار کی خارجہ پالیسی ان مدعوں پر کیا ہوگی۔ کیا وہ ان مسائل کو سلجھانے کی خاطر جنگ کا راستہ اختیار کریں گے یا پھر ان مسئلوں کو وہ سفارتی بات چیت کے ذریعے سلجھانے کا طریقہ اپنائیں گے۔
خواتین کے تحفظ کے ایشو پر مودی احمد آباد کی ایک عوامی ریلی میں کہتے ہیں کہ سیتا اور ساوتری کے ملک میں ماؤں اور بیٹیوں کی حفاظت ہندوستانی سماج میں ایک بڑا سوال ہے۔ اس بڑے سماجی اور مجرمانہ مسئلے پر مودی کوئی حل بتانے کی بجائے، الٹے ریلی میں جمع مردوں کی بھیڑ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہماری موجودگی کے بعد بھی ہماری بہنیں پرامن زندگی نہیں گزار پا رہی ہیں، تو ہمیں مرد کہلانے کا حق ہے کیا؟
کچھ اسی طرز پر نریندر مودی نے مارچ کے مہینہ میں ایک قومی روزنامہ کے سالانہ پروگرام میں کہا کہ ملک سے بے روزگاری دور کی جا سکتی ہے۔ نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ قدرتی وسائل کے بل پر ملک خوش حالی کی نئی مثال پیش کر سکتا ہے، جیسا کہ ان کی ریاست گجرات میں ہوا، جہاں انہوں نے کام کے تئیں وفادار اہل کاروں کی فوج تیار کی۔ ان کی ہدایت پر عوامی کمپنیوں کو چلانے کے لیے پیشہ ور افراد پر مبنی ایک اعلیٰ سطحی ورکنگ کلچر تیار کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہی ورکنگ کلچر پورے ملک میں لاگو کر دیاجائے، تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ لیکن مودی نے اس نام نہاد اعلیٰ سطحی ورکنگ کلچر کی تفصیل نہیں بتائی۔ کچھ ہی دنوں کے بعد گجرات اسمبلی کی میز پر گجرات کے پی ایس یو (پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ) پر آئی سی اے جی کی رپورٹ نے مودی کے دعووں کو جھٹلا دیا۔ سی اے جی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی زیادہ تر پی ایس یو کی پلاننگ اور ملی نظم و نسق میں بڑی خامی ہے، جس کی وجہ سے وہاں کل 4052 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ اگر سرکار نے دھیان دیا ہوتا، تو اس نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ اسی جلسے میں جاوید نام کے ایک شخص نے نریندر مودی سے 2002 کے گجرات فسادات سے متعلق سوال پوچھا، تو نریندر مودی نے جواب دینے سے منع کر دیا۔ دوبارہ پوچھنے پر مودی نے نہایت بے رخی سے کہا کہ اس مدعے پر میں پہلے جواب دے چکا ہوں، آپ انٹرنیٹ پر دیکھ لیجیے۔
بہرحال، کچھ اسی طرز پر نریندر مودی نے ایس آر سی سی کے پلیٹ فارم سے کہا کہ انہوں نے ملک کی پچاس فیصد جی ڈی پی کو ایک چھت کے نیچے لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کی وجہ سے گجراتیوں کی آمدنی بڑھ گئی ہے۔ ان کے جینے کا طریقہ، کھانا پینا، رہن سہن کا معیار بہت اونچا ہو گیا ہے۔ لیکن اسی ماہ، یعنی اکتوبر کی شروعات میں ہی جب سی اے جی کی رپورٹ آئی، تو مودی کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو گئے۔ سی اے جی کو گجرات کی وزیر برائے خواتین و اطفال بہبود وسو بین تریویدی کے محکمہ کی رپورٹ کی بنیاد پر جو اعداد و شمار حاصل ہوئے، اس کے مطابق گجرات سرکار کے ذریعے سال 2007 سے 2012 کے درمیان جتنے بچوں کو تغذئی عناصر سے بھرپور کھانا دینے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، اسے پورا نہیں کیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں اس سال کے اگست ماہ تک گجرات کے 14 ضلعوں میں تقریباً سوا چھ لاکھ بچے نہایت کمزور (سوئے تغذیہ کے شکار) پائے گئے۔ گجرات کی تجارتی راجدھانی احمد آباد میں سوئے تغذیہ کے شکار بچوں کی تعداد 85 ہزار سے بھی زیادہ ہے، جب کہ اس سلسلے میں گجرات کے 12 ضلعوں کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
اتنا ہی نہیں، گجرات میں محنت مزدوری کرکے اپنی زندگی چلانے والوں کی حالت بھی نہایت خستہ ہے۔ نریندر مودی ہر جگہ گجرات کی ترقی کی داستان بیان کرتے نہیں تھکتے، جب کہ ماحولیات، دیہی صحت، روزگار، تعلیم جیسے سماجی و بنیادی پیمانوں پر گجرات کئی ریاستوں سے پچھڑا ہوا ہے۔ نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن (این ایس ایس او) کی رپورٹ کے مطابق، گجرات کے شہری علاقوں میں روزانہ کی مزدوری کی شرح محض 106 روپے اور دیہی علاقوں میں یہ شرح منریگا کو چھوڑ کر صرف 83 روپے ہے، جو کہ ملک میں بارہویں مقام پر ہے۔ کیرالہ میں شہری مزدوروں کی دہاڑی کی شرح 218 روپے اور پنجاب میں 152 روپے ہے۔ لیکن نریندر مودی کبھی بھی اپنی تقریروں میں ان حقیقتوں کا ذکر نہیں کرتے۔
نریندر مودی اکثر اپنی تقریروں میں کہتے ہیں کہ جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے تھے، تو وہاں صرف 11 یونیورسٹیاں ہوا کرتی تھیں، مگر آج کل 42 یونیورسٹیاں ہیں۔ انہوں نے تعلیم کے میدان میں گجرات میں انقلابی کام کیا ہے۔ لیکن جب ہم یونائٹیڈ نیشنز ڈیولپمنٹ اور یونیسیف کے اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں، تو پتہ چلتا ہے کہ گجرات حکومت سرکاری اسکولوں کے تعلیمی معیار کو سدھارنے کی بجائے پرائیویٹ اسکولوں پر زیادہ زور دے رہی ہے۔ مودی کی 42 یونیورسٹیوں میں سے زیادہ تر پرائیویٹ ہیں، جہاں پر پروفیشنل کورسز پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ یہاں کی پڑھائی بہت مہنگی اور عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گجرات میں اسکولی بچوں کے ڈراپ آؤپ کا فیصد ملک بھر میں 18 ویں مقام پر ہے۔
دہلی کی ریلی میں عوام کے ایک بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے مودی جارحانہ انداز میں کہتے ہیں کہ کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے داغی لیڈروں کے الیکشن لڑنے سے متعلق آرڈی ننس کو پھاڑ کر وزیر اعظم منموہن سنگھ کی پگڑی اچھالی ہے۔ لیکن یہی مودی اس وقت وزیر اعظم کی عزت کرنا بھول گئے، جب انہوں نے نقلی لال قلعہ پر چڑھ کر وزیر اعظم کو للکارا تھا۔
بہرحال، نریندر مودی روزگار کو لے کر بھی بہت بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گجرات میں انہوں نے ہر ہاتھ کو کام مہیا کروایا۔ مودی یہ بھی کہتے ہیں کہ اب وہ گجرات سے دنیا بھر میں ٹیچر ایکسپورٹ کریں گے، تاکہ ہندوستان کو پھر سے عالمی گرو کا درجہ مل سکے۔ لیکن مودی اس کام کو کس طرح انجام دیں گے، اس کا کوئی ان کے پاس نہیں ہے۔
اگر ہم این ایس ایس او کی رپورٹ کو دیکھیں، تو مودی کی چمکیلی باتوں کا اندھیرا پہلو نظر آتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، گجرات میں صنعت کاری کی اندھی دوڑ نے گزشتہ دس برسوں میں ریاست میں بے روزگاروں کی فوج کھڑی کر دی ہے۔ اس دوران گجرات میں روزگار کی شرح صفر کے آس پاس پہنچ چکی ہے۔ چھوٹے چھوٹے کسانوں نے ایس ای زیڈ اور دوسری صنعتی اکائیوں کے لیے اپنی زمینیں چھوڑ دیں اور موٹی رقم لے کر بیٹھ گئے۔ نتیجتاً بے زمین اور بے روزگار لوگوں کی ایک بڑی جماعت گجرات میں جمع ہو گئی۔ نیشنل ڈیئری ڈیولپمنٹ بورڈ یہ کہتا ہے کہ دودھ کی پیداوار میں اتر پردیش پہلے مقام پرہے، جب کہ گجرات چوتھے نمبر پر۔ لیکن نریندر مودی شری رام کالج آف کامرس کے طالب علموں سے یہ کہتے ہیں کہ گجرات سنگاپور کو دودھ سپلائی کرتا ہے اور بھنڈی کی سبزی یوروپ کو گجرات ہی بھیجتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے ملک میں بھنڈی کی پیداوار اور ایکسپورٹ سب سے زیادہ آندھرا پردیش سے ہوتی ہے۔
حیرانی تب اور ہوتی ہے، جب موقع ملتے ہی اپنی حصولیابیوں کا قصیدہ پڑھنے والے نریندر مودی اپنی تقریروں میں کبھی بھی اس بات کا ذکر نہیں کرتے کہ ایک وزیر اعظم کے طور پر ان کی ملک کے لیے اقتصادی پالیسیاں کیا ہوں گی؟ بیرونی معاملوں پر ان کا رخ کیا ہوگا؟ ملک کی سیکورٹی اور دفاع سے متعلق مسئلوں پر جو خامیاں ہیں، انہیں وہ کیسے دور کریں گے؟ دنیا کے دیگر ملکوں سے ہندوستان کے مضبوط تجارتی و اقتصادی تعلقات کو بنائے رکھنے اور انہیں آگے بڑھانے کے لیے ان کا وژن کیا ہوگا؟ مودی جس ترقی یافتہ اور طاقتور ہندوستان کا خواب لوگوں کے سامنے پروستے ہیں، اسے پورا کرنے کے لیے ان کے منصوبے کیا ہیں؟ صرف یہ کہہ دینے سے کہ ملک بھر میں گجرات ماڈل لاگو کیا جائے گا، کیا اس سے ہندوستان دنیا کا سر کردہ ملک بن پائے گا؟ کیا گجرات کی طرح ہی ملک بھر میں صرف امبانی، ادانی اور ٹاٹا جیسے کارپوریٹس کے بوتے نریندر مودی گڈ گورننس لاگو کر لیں گے؟
نریندر مودی کو ان سبھی سوالوں کے جواب دینے ہوں گے، کیوں کہ ان سوالوں کا جواب دینے کا وقت اب آ چکا ہے۔ نریندر مودی نے آج تک صرف سوال اچھالے ہیں، جواب نہیں دیا ہے۔ وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر انہوں نے اپنے ایجنڈے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ کٹر قومیت کے حامی رہے مودی نے ابھی تک مظفر نگر کے فسادات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جو شخص ملک کا وزیر اعظم بننا چاہتا ہو، اس کی نگاہ میں ہر انسان برابر ہونا چاہیے، بھلے ہی وہ کسی بھی فرقہ، مسلک، نسل یا ذات کا ہو۔ اس لیے مودی کو بھی بولنا ہوگا۔
نریندر مودی اب تک گجرات میں محدود تھے۔ ملک کا ان سے زیادہ سابقہ نہیں پڑا تھا، لیکن اب وہ ملک کے اگلے وزیر اعظم کی طرح پیش آ رہے ہیں۔ اس لیے اب ملک کے لوگوں کا نریندر مودی کو جانچنے پرکھنے کا نظریہ بھی الگ ہوگا۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ مودی کی وزیر اعظم کے عہدہ کی امیدواری یقینا ان انتخابات اور ان کے نتائج پر بھی اثر ڈالے گی۔ اس لیے بھی مودی کو ہر مسئلے پر بولنا ہوگا اور خود کے اٹھائے گئے سوالوں کے جواب بھی ملک کے مسائل کے حل کے طور پر دینے ہوں گے۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *